دعائے مُجیر، [عربی: دعاء المجیر] مشہور اسلامی دعاؤں میں سے ہے۔ احادیث کے مطابق یہ دعا جبرائیل امین کے توسط سے پیغمبر اکرم(ص) تک پہنچی ہے۔ کفعمی نے اس دعا کو اپنی کتابوں المصباح اور البلد الامین میں نقل کیا ہے۔ دعائے مجیر 88 فقروں پر مشتمل ہے اور ہر فقرے میں جملہ "أَجِرْنَا مِنَ النَّارِ يَا مُجِيرُ" دہرایا گیا ہے۔ گناہوں کی مغفرت کے لئے رمضان کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں میں اس دعا کے پڑھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
سند
دعائے مجیر پیغمبر اکرم(ص) سے مروی ہے جسے جبرائیل نے اس وقت آپ(ص) تک پہنچایا جب آپ(ص) مقام ابراہیم میں نماز بجا لانے میں مصروف تھے۔ اس دعا کو کفعمی نے اپنی کتابوں البلد الامین[1] اور المصباح[2] میں اور شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں[3] نقل کیا ہے۔

لغت میں لفظ رمضان کےمعنی جلانا ہے اور یہ کلمہ «رمضاء» سے لیا گیا ہے کہ جس کے معنی حرارت کی شدت ہے، چونکہ اس مہینے میں انسانوں کے گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے ، اس لئے اسے ماہ مبارک رمضان کہا جاتا ہے۔
پیامبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہيں: «انما سمی الرمضان لانه یرمض الذنوب؛ ماہ رمضان کو رمضان اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی اس مہینہ میں گناہوں کو جلا دیتا ہے۔
رمضان قمری مہینوں میں سے ایک مہینہ کا نام ہے، یہ تنہا وہ مہینہ ہے کہ جس کا قرآن مجید میں نام آیا ہےاور ان چار مہینوں میں سے ایک ہے کہ جس میں خداوند متعال نے جنگ کو حرام قرار دیا ہے ( البتہ دفاع کی صورت ہو تو جائز ہے)۔
اس مہینہ میں آسمانی کتابیں قرآن کریم، انجیل، تورات، مختلف صحیفے اور زبور نازل ہوئی ہیں۔


شعبان یا شَعبان المُعَظّم ہجری کیلنڈر کا آٹھواں مہینہ ہے۔
یہ مہینہ اسلامی تعلیمات کی رو سے بابرکت مہینوں میں شمار ہوتا ہے اور احادیث میں اسے پیغمبر اکرم (ص) سے منسوب کیا گیا ہے۔
شعبان "شعب" سے مشتق ہوا ہے اور چونکہ اس مہینے میں مومنین کی رزق و روزی اور حسنات میں اضافہ ہوتا ہے اسلئے اس مہینے کو "شعبان" کا نام دیا گیا ہے۔

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کی زندگی پر ایک نظر/استاد حسین انصاریان

 حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی صاحبزادی، امام علی رضا علیہ السلام کی ہمشیرہ اور امام محمد تقی جواد علیہ السلام کی پھپھو ہیں۔ آپ کی ولادت یکم ذیقعد 173 ھجری قمری اور دوسری روایت کے مطابق 183 ھجری قمری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام نجمہ اور دوسری روایت کے مطابق خیزران تھا۔ آپ امام موسی کاظم علیہ السلام کی سب سے بڑی اور سب سے ممتاز صاحبزادی تھیں۔ ممتاز عالم دین شیخ عباس قمی اس بارے میں لکھتے ہیں: "

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه