حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کی زندگی پر ایک نظر/استاد حسین انصاریان

 حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی صاحبزادی، امام علی رضا علیہ السلام کی ہمشیرہ اور امام محمد تقی جواد علیہ السلام کی پھپھو ہیں۔ آپ کی ولادت یکم ذیقعد 173 ھجری قمری اور دوسری روایت کے مطابق 183 ھجری قمری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام نجمہ اور دوسری روایت کے مطابق خیزران تھا۔ آپ امام موسی کاظم علیہ السلام کی سب سے بڑی اور سب سے ممتاز صاحبزادی تھیں۔ ممتاز عالم دین شیخ عباس قمی اس بارے میں لکھتے ہیں: "

صلح امام حسن (ع) کیوں؟ صلح کے ثمرات

صلح کے دلائل؛ امام حسن علیہ السلام کی صلح نہایت مفید اور پرثمر تھی اور ہم جانتے ہیں کہ جس مصالحت سے اہداف حاصل ہوجائیں وہ مصالحت اس جنگ سے بہتر ہے جس سے مقاصد کا حصول پردہ ابہام میں ہو یا پھر اس سے نقصان کے سوا کچھ بھی نہ مل رہا ہو؛ چنانچہ امام حسن علیہ السلام آپ (ع) کی فتح ہے۔

ترجمہ وتکمیل: ف۔ح۔مہدوی

صلح امام حسن (ع) کیوں؟ صلح کے ثمرات

اللہ سے تقرب حاصل کرنے کیلئے عید قربان بہترین موقع ہے ، یہ ایسی عید ہے جس میں تمام انسان عبودیت اور بندگی کے سایہ میں فرمان خدا کی اطاعت کرتے ہیں ، لہذا سر زمین منی پر عیدقربان کے روز ''قربانی اور ذبح'' پرمبنی خداوندعالم کا حکم خود ذبح نفس اور تقوی کی اہمیت بیان کرتا ہے ، اسی وجہ سے اسلامی تعلیمات میں عیدقربان کے ابعاد و زوایا کو پہچاننا بہت ضروری ہے ۔

11 ، شعبان المعظم وہ تاریخ ہے جب امام حسین علیہ السلام کی آغوش مبارک میں علی اکبر جیسا فرزند آیا جس نے دنیا میں محض اٹھارہ بہاریں گزاریں اور اپنی پوری زندگی اپنے بابا کے مقصد پر یوں قربان کر دیں کہ آج کے جوانوں کا نمونہ بن گیا اور اسی بنیاد پر آج کی تاریخ کو اسلامی دنیا میں علی اکبر علیہ السلام سے منسوب کرتے ہوئے یوم جوان کے نام سے جانا جاتا ہے۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه