بسمہ تعالی
حسینیہ بلتستانیہ قم میں شب ولادت حضرت زھرا سلام اللہ علیھا کی مناسبت سے منعقدہ محفل میں حجت الاسلام و المسلمین شیخ مشتاق حسین حکیمی نے علما و طلاب سے خطاب کیا۔

حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا تاریخ اسلام کی ان عظیم خواتین میں سے ہیں جن کے چار فرزندوں نے واقعہ کربلا میں اسلام پر اپنی جانیں نچھاور کیں ام البنین یعنی بیٹوں کی ماں ،آپ کے چار شجاع و بہادر بیٹے عباس، جعفر، عبد اللہ اور عثمان تھے حضرت علی بن ابی طالب کے شجاع و بہادر بچے امام حسین علیہ السلام کی نصرت و مدد کرتے ہوئے کربلا میں شہادت کے درجے پر فائز ہوگئے ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
بنام خدائے رحمن و رحیم


اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ
خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے


بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ
اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے

دعائے مُجیر، [عربی: دعاء المجیر] مشہور اسلامی دعاؤں میں سے ہے۔ احادیث کے مطابق یہ دعا جبرائیل امین کے توسط سے پیغمبر اکرم(ص) تک پہنچی ہے۔ کفعمی نے اس دعا کو اپنی کتابوں المصباح اور البلد الامین میں نقل کیا ہے۔ دعائے مجیر 88 فقروں پر مشتمل ہے اور ہر فقرے میں جملہ "أَجِرْنَا مِنَ النَّارِ يَا مُجِيرُ" دہرایا گیا ہے۔ گناہوں کی مغفرت کے لئے رمضان کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں میں اس دعا کے پڑھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
سند
دعائے مجیر پیغمبر اکرم(ص) سے مروی ہے جسے جبرائیل نے اس وقت آپ(ص) تک پہنچایا جب آپ(ص) مقام ابراہیم میں نماز بجا لانے میں مصروف تھے۔ اس دعا کو کفعمی نے اپنی کتابوں البلد الامین[1] اور المصباح[2] میں اور شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں[3] نقل کیا ہے۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه