سوال :پیغمبر اسلام نے کس طرح مباھلہ کیا؟
جواب : مباہلہ “ در اصل ” بھل“ کے مادہ سے ہے ، اس کا معنی ہے ”رہا کرنا “ اور کسی کی قید و بندکو ختم کردینا ۔

فتح مکہ کے بعد پیغمبر اسلام (ص) نے نجراں کے نصاریٰ کی طرف خط لکھا جس میں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ نصاریٰ نجراں نے اس مسئلہ پر کافی غور و فکر کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ساٹھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو حقیقت کو سمجھنے اور جاننے کے لئے مدینہ روانہ ہو۔

 تاریخ اسلام میں 2 اھم اور بڑے واقعات رونما ھوئے جس کے نتیجے میں ایک سے رسالت اور دوسرے سے امامت وجود میں آئی ہے۔

 مذہب تشیع کی صداقت پر جہاں دسیوں دیگر احادیث دالت کرتی ہیں وہاں یہ دو حدیثیں بنیادی حیثیت اور مرکزیت کی حامل ہیں: ایک حدیث ثقلین [1] کہ جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نوے دن کے اندر چہار مقام پر بیان فرمائی اور دوسری حدیث غدیر کہ جسے در حقیقت پہلی حدیث یعنی حدیث ثقلین کو مکمل کرنے والی کہا جا سکتا ہے جو پیغمبر اسلام نے غدیر خم کے میدان میں حجۃ الوداع سے واپسی کے موقع پر سوا لاکھ حاجیوں کے مجمع میں ارشاد فرمائی۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه