حضرت معصومه سلام الله علیها نے پہلی ذی القعدہ ۱۷۳ ءھ کو مدینہ منورہ کی سرزمین پر اس جہان میں قدم رنجہ فرمایا اور ۲۸ سال کی مختصر سی زندگی میں دس ۱۰ یا ربیع الثانی ۲۰۱ ھ میں شہر قم میں اس دار فانی کو وداع کردیا.

اگر آج پوری دنیا کے مسلمان اور اسلامی ملکوں کی قومیں، اسلامی ولایت کا نعرہ لگانے لگيں تو اسلامی امہ کے بہت سے مسائل اور اسلامی ملکوں کی بہت سی مشکلات ختم ہو جائيں گی ۔

غدیر کا تاریخی واقعہ [1]

تاریخ اسلام میں دلچسپی رکھنے والوں کو غدیر کے واقعے کے بارے میں یہ جان لینا چاہئے کہ غدیر کا واقعہ، ایک مسلم الثبوت واقعہ ہے اور اس میں کسی بھی طرح کا شک و شبہہ نہيں ہے۔ اس واقعے کو صرف شیعوں نے نقل نہيں کیا ہے بلکہ سنی محدثین نے بھی، چاہے وہ ماضی بعید سے تعلق رکھتے ہوں یا وسطی دور سے یا پھر اس کے بعد کے ادوار سے، ان سب نے اس واقعے کو نقل کیا ہے۔ یعنی اسی واقعے کو نقل کیا ہے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آخری حج [2] کے موقع پر غدیر خم میں رونما ہوا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ حج کے فرائض انجام دینے والے مسلمانوں کے اس عظیم کاروان کے کچھ لوگ آگے بڑھ چکے تھے، آنحضرت نے کچھ لوگوں کو انہیں بلانے کے لئے بھیجا اور پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار کیا۔ وہاں ایک عظیم اجتماع عمل میں آ گیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نوے ہزار کچھ دیگر کا قول ہے کہ ایک لاکھ اور بعض مورخین نے وہاں جمع ہوئے حاجیوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار بتائی لکھی ہے۔ اس تپتے صحراء میں عرب کے باشندے بھی جن میں بہت سے صحراء کی گرمی کے عادی تھی، تمازت آفتاب کے باعث ریت پر کھڑے نہیں ہو پا رہے تھے۔ اسی لئے انہوں نے اپنے پیروں کے نیچے اپنی عبائيں بچھا لیں تاکہ زمین پر پیر رکھنا ممکن ہو سکے۔ اس بات کا ذکر اہل سنت کی کتابوں میں بھی کیا گیا ہے۔ ایسے عالم میں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی جگہ سے اٹھے، امیر المومنین علیہ السلام کو اٹھایا اور لوگوں کے سامنے ہاتھوں پر اٹھاکر کہا: «من كنت مولاه فهذا على مولاه، اللهم وال من والاه و عاد من عاداه». البتہ اس سے پہلے اور بعد میں بھی آنحضرت نے کچھ باتيں ارشاد فرمائیں تاہم سب سے اہم حصہ یہی ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس حصے میں، ولایت کے مسئلے کو، یعنی اسلامی حکومت کے مسئلے کو باضابطہ اور واضح طور پر پیش کر رہے ہيں اور امیر المومنین علیہ السلام کو اس کی اہلیت رکھنے والے شخص کی شکل میں متعارف کرا رہے ہيں۔ اسے برادران اہل سنت نے بھی اپنی معتبر کتابوں میں، ایک دو کتابوں میں نہيں بلکہ دسیوں کتابوں میں، نقل کیا ہے ۔ مرحوم علامہ امینی نے اپنی کتاب الغدیر میں ان سب کا ذکر کیا ہے اور ان کے علاوہ بھی بہت سے لوگوں نے اس سلسلے میں بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔

 

عید غدیر کی اہمیت

 

بلا شبہ غدیر کے دن کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور اسلامی روایتوں میں وارد ہوا ہے کہ اس دن کی عظمت، عید فطر اور عید الاضحی سے بھی زيادہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے اسلام کی ان دو عظیم عیدوں کی اہمیت کم ہوتی ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہيں کہ عید غدیر میں ایک اعلی مفہوم مضمر ہے۔ اسلامی روایتوں کے مطابق سب سے زيادہ با عظمت اس عید کی اہمیت اسی میں ہے کہ اس سے ولایت کا مفہوم جڑا ہوا ہے۔ شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، انبیائے الہی اور تمام عظیم رہنماؤں نے جو جد و جہد کی ہے اس کا مقصد الہی ولایت کا قیام تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اللہ کی راہ میں جہاد کے دوران دین کے لئے کئے جانے والی کوشوں کا مقصد بتاتے ہوئے فرمایا ہے: «ليخرج الناس من عبادت العبيد الى عبادت الله و من ولايت العبيد الى ولايت الله.» مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو بندوں یا غلاموں کی سرپرستی سے نکال کر اللہ کی سرپرستی میں داخل کیا جائے۔ تاہم عید غدیر کے معاملے میں یہ بات بھی ہے کہ ولایت و سرپرستی کے مسئلے میں دو اہم و بنیادی دائرے ہيں: ایک تو خود انسان اور اس کا نفس ہے۔ یعنی انسان میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ الہی ارادے کو اپنے وجود اور اپنے نفس کا فرمانروا بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو اور خود کو اللہ تعالی کی سرپرستی کے دائرے میں داخل کرنے کی اہلیت اس میں موجود ہو۔ یہ در اصل وہ اولین اور بنیادی قدم ہے کہ جس کو نظر انداز کر دیا گیا تو دوسرا قدم بھی اٹھانا ممکن نہيں ہوگا۔ دوسرا قدم یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اللہ کی سرپرستی کے سائے تلے لے آئے۔ یعنی سماج اللہ کی ولایت و سرپرستی میں آگے بڑھے اور کسی بھی طرح کی دوسری ولایت اور لگاؤ، مال و دولت، قوم و قبیلے، طاقت، آداب و رسومات اور غلط رسومات سے لگاؤ، اللہ کی ولایت کے راستے کی رکاوٹ نہ بنے اور نہ ہی اللہ کی ولایت و سرپرستی کے سامنے ان چیزوں کو کسی طرح کی اہمیت دی جائے ۔

 

آج کے دن جس (ہستی) کا تعارف کرایا گیا، یعنی مولائے متقیان حضرت امیر المومنین علیہ السلام، وہ ولایت کے دونوں دائروں اور شعبوں میں ایک مثالیہ اور منفرد شخصیت ہيں۔ اپنے نفس پر قابو اور اس پر لگام کسنے کے معاملے میں بھی کہ جو ایک بینادی عنصر ہے اور الہی ولایت کے لئے مثالیہ اور نمونہ عمل پیش کرنے کے معاملے میں بھی انہوں نے تاریخ میں ایسی مثال پیش کی ہے کہ الہی ولایت کی معرفت حاصل کرنے والے ہر شخص کے لئے ان کی کارکردگی، ایک کامل نمونہ عمل بن گئی۔

 

مثالی انتظامیہ کی اہمیت

 

غدیر کا واقعہ اور پیغمر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جانب سے امیر المومنین علیہ السلام کا ولی امر اور اسلامی امہ کے سرپرست کے طور پر تعین بہت بڑا اور معنی خیز واقعہ ہے۔ یہ در اصل سماج کے نظم و نسق میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جانب سے کردار ادا کرنا ہے۔ اٹھارہ ذی الحجہ سن دس ہجری قمری کو رونما ہونے والے اس واقعے کے معنی یہ ہیں کہ اسلام سماج کے نظم و نسق اور انتظام کو اہمیت دیتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ حکومت کا پہلو، اسلامی نظام اور اسلامی سماج میں یونہی چھوڑ دیا گیا ہے اور اسے نظرانداز کر دیا گیا۔ اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ کسی بھی سماج کا نظم و نسق، سماجی امور میں سب سے زیادہ موثر عنصر ہوتا ہے۔ امیرالمومنین کا تعین بھی کہ جو اصحاب پیغمبر میں تقوی و پرہیزگاری، علم و معرفت، شجاعت و دلیری، قربانی و ایثار اور عدل و انصاف کے مظہر ہيں، اس نظام کے خد و خال واضح کرتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نظم و نسق کے شعبے میں اسلام کی نظر میں جو چیزیں اہم ہیں وہ یہی ہيں۔ جو لوگ ، حضرت امیر المومنین کو خلیفہ بلا فصل نہيں بھی مانتے انہیں بھی آپ کے علم و زہد و تقوے و شجاعت میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہيں ہے۔ اس پر تمام مسلمانوں اور حضرت امیر المومنین کو پہچاننے والوں کا اتفاق ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے اسلامی سماج کو، اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نظر میں، اپنے مطلوبہ ہدف کے طور پر کس قسم کے نظم و نسق اور حکومت و انتظامیہ کے لئے کوشش کرنا چاہئے۔

 

غدیر کے عیاں و پنہاں حقائق

 

غدیر کے واقعے میں، بہت سے حقائق مضمر ہيں۔ معاملہ یہ ہے کہ اس دور میں نئے نئے تشکیل پانے والے اسلامی سماج میں جس کی تشکیل کو تقریبا دس برس کا عرصہ گزرا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکومت اور امامت کے معاملے کو، اس کے وسیع مفہوم و معانی کے ساتھ، طے کرنا چاہا اور حج سے واپسی کے وقت غدیر خم میں، امیر المومنین کو اپنا جانشین معین کرنا تھا۔ اس پورے عمل کی یہی ظاہری صورت حال بھی کافی اہمیت کی حامل ہے اور کسی بھی انقلابی سماج کے اہل تحقیق اور اہل فکر و نظر حضرات کے لئے ایک الہی تدبیر ہے لیکن اس ظاہری صورت کے پيچھے بہت بڑے حقائق بھی پوشیدہ ہیں کہ اگر اسلامی امت اور اسلامی سماج ان نکات پر توجہ دے تو زندگی کی راہ و روش واضح ہو جائے گي۔ بنیادی طور پر اگر غدیر کے معاملے میں تمام مسلمان، چاہے وہ شیعہ ہوں کہ جو اس مسئلے کو امامت و ولایت کا معاملہ سمجھتے ہيں اور چاہے غیر شیعہ ہوں کہ جو اصل واقعہ کو قبول کرتے ہيں لیکن اس سے امامت و ولایت کا مفہوم اخذ نہيں کرتے، ان نکات پر زیادہ توجہ دیں جو غدیر کے واقعے میں مضمر ہیں تو مسلمانوں کے مفادات اور مصلحتوں پر اس کے بہت سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

 

ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام کو پیش کرنے اور حکومت کے لئے ان کے تعین سے حکومت کے معیار اور اقدار واضح ہو گئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے، غدیر کے واقعے میں، ایسی شخصیت کو مسلمانوں اور تاریخ کے سامنے پیش کیا جس میں اسلامی اقدار اپنی مکمل صورت میں جلوہ افروز تھیں۔ یعنی ایمان کامل کی حامل ایک ایسی ہستی جس میں تقوی و پرہیزگاری، دین کی راہ میں جذبہ قربانی، دنیوی چمک دمک سے بے رغبتی اپنی کامل ترین شکل میں موجود تھی اور جسے تمام اسلامی میدانوں، خطروں کے وقت، علم و دانش، قضاوت اور اس جیسے دیگر شعبوں میں آزمایا جا چکا تھا۔ یعنی حضرت امیر المومنین کو ، اسلامی حاکم ، امام اور ولی کی حیثیت سے پیش کئے جانے سے پوری تاریخ کے تمام مسلمانوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ اسلامی حاکم کو، اس سمت میں قدم بڑھانے والا اور اس مکتب سے تعلق رکھنے والا اور اس نمونہ عمل سے شباہت رکھنے والا ہونا چاہئے۔ اس طرح اسلامی تاریخ میں جو لوگ ان اقدار سے محروم رہے، جن میں اسلامی تدبیر، اسلامی عمل، اسلامی جہاد، سخاوت، وسیع القلبی، خدا کے بندوں کے سامنے تواضع اور وہ خصوصیات جن کے امیر المومین حامل تھے، عنقا ہوں تو وہ لوگ حکومت کے اہل نہیں ہیں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسلمانوں کے سامنے یہ معیار رکھے ہیں اور یہ ایسا سبق ہے جسے کبھی بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔

 

غدیر کے واقعے سے ایک اور بات جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے، خلافت کے شروعاتی چند برسوں میں ہی یہ واضح کر دیا کہ ان کی نظر میں ترجیح، الہی و اسلامی عدل و انصاف کا قیام ہے۔ یعنی انصاف، یعنی اس مقصد کی تکمیل جسے قرآن مجید نے، انبیاء کی بعثت، آسمانی کتابوں اور شریعتوں کے نزول کی وجہ قرار دی ہے: «ليقوم الناس بالقسط.» الہی عدل و انصاف کو قائم کرنا، وہ عدل و انصاف جس کو اسلامی احکام میں بیان کیا گیا ہے، انصاف کو یقینی بنانے کا سب سے بہتر راستہ ہے۔ یہی امیر المومنین کی نظر میں اولین ترجیح تھی۔

 

غدیر میں ولایت کا مفہوم

 

غدیر کے موضوع میں ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خدا کے حکم کی پیروی اور قرآن مجید کے واضح حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایک اہم ترین فریضہ ادا کیا: «و ان لم تفعل فما بلغت رسالته.» امیر المومنین کو ولایت و خلافت کے عہدے پر متعین کرنا اتنا اہم ہے کہ اگر تم نے یہ کام نہ کیا تو کار رسالت انجام ہی نہیں دیا! یا پھر اس سے یہ مراد ہے کہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری نہيں کی کیونکہ خداوند عالم نے حکم دیا ہے کہ اس کام کو کرو، یا اس سے بڑھ کر یہ کہ اس کام کو انجام نہ دینے کی صورت میں، پیغمبر اعظم کی رسالت ہی کو خطرہ لاحق ہو جائے گا اور اس کے ستون متزلزل ہو جائيں گے۔ اس سے یہ بھی مراد ہو سکتا ہے، گویا اصلی ذمہ داری پوری ہی نہيں کی گئ! اس بات کا بھی امکان ہے کہ اس کے یہ بھی معنی ہوں اور اگر یہ معنی ہیں تو پھر یہ معاملہ کافی اہم ہو جاتا ہے یعنی حکومت کی تشکیل، ولایت و ملک کے نظم و نسق کا معاملہ، دین کے اصل ستونوں میں سے ہے اور عظیم پیغمبر اسی لئے اس امر کی خاطر اتنا اہتمام کرتے ہيں اور اپنی اس ذمہ داری کو لوگوں کے سامنے کچھ اس طرح سے ادا کرتے ہیں کہ شاید انہوں نے کسی بھی واجب پر اس طرح سے عمل نہ کیا ہو! نہ نماز، نہ زکات، نہ روزہ اور نہ جہاد۔ مختلف قبیلوں اور سماجی طبقوں سے تعلق رکھنے والوں کو مکہ اور مدینے کے درمیان ایک چوراہے پر ایک اہم کام کے لئے اکٹھا کرتے ہيں اور پھر اس امر کا اعلان کرتے ہيں کہ جس کی خبریں پورے عالم اسلام میں پھیل گئيں کہ پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک نیا پیغام پہنچایا ہے۔

 

غدیر میں امامت کا مفہوم

 

امامت کے معنی، کمزوریوں، خواہشات، نخوت و غرور اور حرص و طمع کے نتیجے میں سامنے آنے والے مختلف عالمی سماجی نظاموں کے بر خلاف سماج کے نظم و نسق کے لئے مثالی نظام کی مکمل تشکیل ہے۔ اسلام امامت کی روش، بشریت کے سامنے پیش کرتا ہے؛ یعنی ایسا انسان جس کا دل ہدایت الہی سے سرشار و فیضیاب ہوا ہو، جو دینی امور کو سمجھتا اور پہچانتا ہو، یعنی صحیح راستے کے انتخاب کی صلاحیت رکھتا ہو، عملدر آمد کی طاقت بھی اس میں ہو، یعنی «يا يحيى خذ الكتاب بقوة» اس کے ساتھ ہی اس کے لئے اپنی ذاتی زندگی اور خواہشات کو کوئی اہمیت نہ ہو لیکن لوگوں کی خواہشات، زندگی اور سعادت و کامرانی اس کے لئے سب کچھ ہو جیسا کہ امیر المومنین علیہ السلام نے پانچ سال سے بھی کم حکومت کے دوران اس کی عملی تصویر پیش کی۔ آپ غور فرمائيں کہ امیر المومنین کی پانچ برس سے بھی کم مدت کی حکومت، ایک مثالی اور بشریت کے لئے نا قابل فراموش دور کی شکل میں صدیوں سے تاريخ کے صفحات پر دمک رہی ہے۔ یہ غدیر کے واقعے کی حقیقی تفسیر اور اس کے اصل معنی ہيں۔

 

غدیر اور اسلامی اتحاد

 

غدیر کا واقعہ اتحاد کا باعث بھی ہو سکتا ہے؛ شاید یہ بات کچھ عجیب لگے لیکن حقیقت یہی ہے۔ خود غدیر کے معاملے میں، شیعوں کے عقیدتی پہلو سے ہٹ کر کہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جانب سے امیر المومنین علیہ السلام کی حکومت کے اعلان سے عبارت ہے اور جو غدیر کی حديث سے بھی ثابت ہے، ولایت و سرپرستی کا موضوع بھی پیش کیا گيا ہے اور اس میں شیعہ و سنی کی کوئی بات نہيں ہے۔

 

اگر آج پوری دنیا کے مسلمان اور اسلامی ملکوں کی قومیں، اسلامی ولایت کا نعرہ لگانے لگيں تو اسلامی امہ کے بہت سے مسائل اور اسلامی ملکوں کی بہت سی مشکلات ختم ہو جائيں گی ۔ 

 

==============

 

[1] غدیر خم مکہ و مدینہ کے درمیان واقع ایک مقام ہے جہا‎ں سے حجاج کرام کا گذر ہوتا ہے۔ اس مقام پر چونکہ ایک چھوٹا سا تالاب تھا جس میں بارش کا پانی جمع ہو جاتا تھا اس لئے اسے غدیر خم کہا جانے لگا۔ خم کے معنی تالاب کے ہیں۔

 

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حجۃ الوداع سے واپسی کے موقع پر تمام حاجیوں کو اسی مقام پر جمع کیا اور حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کو اللہ کے حکم کے مطابق اپنے وصی و جانشین کی حیثیت سے متعارف کروایا۔ اس موقع پر پیغمبر اسلام نے جو خطبہ دیا اس کا ایک جملہ "من کنت مولاہ فعلی مولاہ" شیعہ سنی دونوں کی نظر میں معتبر ہے۔

 

[2] اپنی زندگی کے آخری سال دسویں ہجری قمری کے ذیقعدہ مہینے کا آغاز ہوتے ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمام مسلمان نشین خطوں اور عرب کے تمام مسلمان قبائل کو یہ اطلاع دی کہ اس مہینے میں وہ مکہ مکرمہ تشریف لے جائیں گے اور فریضہ حج ادا کریں گے۔ نتیجے میں مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع عمل میں آیا۔ اس حج کو حجۃ الوداع کا نام دیا گيا۔

 

منبع : خامنہ ای ڈاٹ آی آر

یہ عید غدیر کا دن ہے جو خدائے تعالیٰ اور آل محمد [ص]کی عظیم ترین عیدوں میں سے ہے ہر پیغمبر نے اس دن عید منائی اور ہر نبی اس دن کی شان و عظمت کا قائل رہا ہے ۔آسمان میں اس عید کانام ’’روز عہد معہود‘‘ ہے اور زمین میں اس کانام ۔میثاق ماخوذ و جمع مشہور‘‘ ہے ایک روایت کے مطابق امام جعفر صادق - سے پوچھا گیا کہ’’ جمعہ ۔عید الفطر اور عید قربان کے علاوہ بھی مسلمانوں کیلئے کوئی عید ہے ؟حضرت نے فرمایا: ہاںان کے علاوہ بھی ایک عید ہے اور وہ بڑی عزت و شرافت کی حامل ہے ۔عرض کی گئی وہ کونسی عید ہے ؟آپ(ع) نے فرمایا وہ دن کہ جس میں حضرت رسول اعظم نے امیرالمؤمنین -کا تعارف اپنے خلیفہ کے طور پر کرایا ،آپ نے فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں علی -اس کے مولا ہیں اور یہ اٹھارویں ذی الحجہ کا دن اور روز عید غدیر ہے، راوی نے عرض کی کہ اس دن ہم کیا عمل کریں ؟حضرت (ع)نے فرمایا کہ اس دن روزہ رکھو ،خدا کی عبادت کرو ،محمد (ص)و آل محمد(ص) کا ذکر کرو اور ان پر صلوٰت بھیجو ۔

حضور نے امیرالمؤمنین - کو اس دن عید منانے کی وصیت فرمائی جیسے ہر پیغمبر (ص)اپنے اپنے وصی کو اس طرح وصیت کرتا رہا ہے:

ابن ابی نصر بزنطی نے امام علی رضا -سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا : اے ابن ابی نصر !تم جہاں کہیں بھی ہو روز غدیر نجف اشرف پہنچو اور حضرت امیرالمؤمنین -کی زیارت کرو ۔ کہ ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت اور ہر مسلم مرد اور ہر مسلمہ عورت کے ساٹھ سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ مزید یہ کہ پورے ماہ رمضان شب ہائے قدر اور عیدالفطر میں جتنے انسان جہنم کی آگ سے آزاد کیے جاتے ہیں اس ایک دن میں ان سے دوچند افراد کو جہنم سے آزاد قراردیا جاتا ہے ۔آج کے دن اپنے حاجت مند مومن بھائی کو ایک درہم بطور صدقہ دینا دوسرے دنوں میں ایک ہزار درھم دینے کے برابر ہے ۔ پس عید غدیر کے دن اپنے برادرمومن کے ساتھ احسان و نیکی کرو ،اور اپنے مومن بھائی اور مومنہ بہن کو شاد کرو ،خدا کی قسم اگر لوگوں کو ا س دن کی فضیلت کا علم ہوتا اور وہ اس کا لحاظ رکھتے تو اس روز ملائکہ ان سے دس مرتبہ مصافحہ کیا کرتے ،مختصر یہ کہ اس دن کی تعظیم کرنا لازم ہے اور اس میں چند اعمال ہیں :

﴿۱﴾اس دن کا روزہ رکھنا ساٹھ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے ،ایک روایت میں ہے کہ یوم غدیر کا روزہ مدت دنیا کے روزوں ،سوحج اور سو عمرے کے برابر ہے ۔

﴿۲﴾اس دن غسل کرنا ضروری اور باعث خیر و برکت ہے ۔

﴿۳﴾اس روز جہاں کہیں بھی ہو خود کو روضہ امیرالمؤمنین- پر پہنچائے اور آپکی زیارت کرے آج کے دن کیلئے حضرت کی تین مخصوص زیارتیں ہیں اور ان میں سب سے زیادہ مشہور زیارت امین اللہ ہے جو دور و نزدیک سے پڑھی جا سکتی ہے ۔یہ زیارت جامعہ مطلقہ ہے اور اسے باب زیارات میں ذکر کیا جائے گا ۔

﴿۴﴾حضرت رسول سے منقول تعویذ پڑھے کہ سید نے کتاب اقبال میں اس کا ذکر کیا ہے ۔

﴿۵﴾دورکعت نماز بجا لائے اور سجدہ شکر میں سو مرتبہ شکراً شکراً کہے ۔پھر سر سجدے سے اٹھائے اور یہ دعا پڑھے :

اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِٲَنَّ لَکَ الْحَمْدَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ وَٲَ نَّکَ واحِدٌ ٲَحَدٌ صَمَدٌ 

اے معبود!سوال کرتا ہوں تجھ سے اس لئے کہ صرف تیرے ہی لئے حمد تو تنہا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ تو یگانہ ویکتا بے نیاز ہے

لَمْ تَلِدْ وَلَمْ تُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَکَ کُفُواً ٲَحَدٌ، وَٲَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ صَلَواتُکَ 

نہ تو نے جنا اور نہ ہی تو جنا گیا اور تیرا کوئی ہمسر نہیں ہے اور یہ کہ حضرت محمد(ص) تیرے بندے اور تیرے رسول(ص) ہیں ان پر اور 

عَلَیْہِ وَآلِہِ، یَا مَنْ ھُوَ کُلَّ یَوْمٍ فِی شَٲْنٍ کَما کانَ مِنْ شَٲْنِکَ ٲَنْ تَفَضَّلْتَ عَلَیَّ بِٲَنْ 

ان کی آل(ع) پر تیری رحمت ہو اے وہ جو ہر روز کسی نئے کام میں ہے جو تیری شان کے لائق ہے یعنی تو نے مجھ پر فضل وکرم کیا کہ مجھ کو 

جَعَلْتَنِی مِنْ ٲَھْلِ إجابَتِکَ وَٲَھْلِ دِینِکَ وَٲَھْلِ دَعْوَتِکَ، وَوَفَّقْتَنِی لِذلِکَ فِی مُبْتَدَئ

ان میں قرار دیا جن کی دعا قبول فرمائی جو تیرے دین پر ہیں اور تیرے پیغام کے حامل ہیں اور مجھے میری پیدائش 

خَلْقِی تَفَضُّلاً مِنْکَ وَکَرَماً وَجُوداً ثُمَّ ٲَرْدَفْتَ الْفَضْلَ فَضْلاً وَالْجُودَ جُوداً وَالْکَرَمَ

کے آغاز میں اپنی مہربانی عنایت اور عطا سے اس کی توفیق دی پھر اپنی محبت اور رحمت سے تو نے متواتر مہربانی پر مہربانی عطا پر عطا 

کَرَمَاً رَٲْفَۃً مِنْکَ وَرَحْمَۃً إلی ٲَنْ جَدَّدْتَ ذلِکَ الْعَھْدَ لِی تَجْدِیداً بَعْدَ تَجْدِیدِکَ خَلْقِی 

اور نوازش پر نوازش کی یہاں تک کہ میری بندگی کے عہد کی جب میری نئی پیدائش ہوئی پھر سے تجدید کی 

وَکُنْتُ نَسْیاً مَنْسِیّاً ناسِیاً ساھِیاً غافِلاً، فَٲَ تْمَمْتَ نِعْمَتَکَ بِٲَنْ ذَکَّرْتَنِی ذلِکَ وَمَنَنْتَ 

جب میں بھولا بسرا بھولنے والا اور بے دھیان بے خبر تھا تو نے اپنی نعمت تمام کرتے ہوئے مجھے وہ عہد یاد دلایا اور یوں مجھ پر احسان 

بِہِ عَلَیَّ وَھَدَیْتَنِی لَہُ، فَلْیَکُنْ مِنْ شَٲْنِکَ یَا إلھِی وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ ٲَنْ

کیا اور اس کی طرف میری رہنمائی کی پس اے میرے معبود اے میرے سردار اور میرے مالک یہ تیری ہی شان کریمی ہے کہ اس 

تُتِمَّ لِی ذلِکَ وَلاَ تَسْلُبْنِیہِ حَتَّی تَتَوَفَّانِی عَلَی ذلِکَ وَٲَ نْتَ عَنِّی راضٍ، فَ إنَّکَ ٲَحَقُّ 

عہد کو انجام تک پہنچائے اسے مجھ سے جدا نہ کرے یہاں تک کہ اسی پر مجھے موت دے جبکہ تو مجھ سے راضی ہو کیونکہ تو نعمت دینے 

الْمُنْعِمِینَ ٲَنْ تُتِمَّ نِعْمَتَکَ عَلَیَّ ۔ اَللّٰھُمَّ سَمِعْنا وَٲَطَعْنا وَٲَجَبْنا داعِیَکَ 

والوں میں زیادہ حقدار ہے کہ مجھ پر اپنی نعمت تمام کرے اے معبود ہم نے سنا ہم نے اطاعت کی اور تیرے احسان کے ذریعے 

بِمَنِّکَ، فَلَکَ الْحَمْدُ غُفْرانَکَ رَبَّنا وَ إلَیْکَ الْمَصِیرُ، آمَنّا بِاﷲِ وَحْدَہُ لاَ 

تیرے داعی کا فرمان قبول کیا پس حمد تیرے لئے ہے تجھ سے بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور اﷲ پر ایمان رکھتے ہیں واپسی 

شَرِیکَ لَہُ، وَبِرَسُو لِہِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ، وَصَدَّقْنا وَٲَجَبْنا داعِیَ اﷲِ 

تیری طرف ہی ہے وہ یکتا ہے کوئی اسکا ثانی نہیں اور اس کے رسول محمد(ص) پر خدا کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل (ع)پر قبول کیا اﷲ کے اس 

وَاتَّبَعْنا الرَّسُولَ فِی مُوالاۃِ مَوْلانا وَمَوْلَی الْمُؤْمِنِینَ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ ٲَبِی 

داعی کو ہم نے مان لیا اور ہم نے رسول(ص) کی پیروی کی اپنے اورمومنوں کے مولا سے دوستی کرنے میں کہ وہ مومنوں کے امیرعلی(ع) ابن ابی 

طالِبٍ عَبْدِ اﷲِ، وَٲَخِی رَسُو لِہِ، وَالصِّدِّیقِ الْاََکْبَرِ، وَالْحُجَّۃِ عَلَی بَرِیَّتِہِ، الْمُؤَیِّدِ

طالب (ع)ہیں جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول کے بھائی اور سب سے بڑے صدیق اور مخلوقات پر خدا کی حجت ہیں ان کے 

بِہِ نَبِیَّہُ وَدِینَہُ الْحَقَّ الْمُبِینَ، عَلَماً لِدِینِ اﷲِ، وَخازِناً لِعِلْمِہِ، وَعَیْبَۃَ غَیْبِ اﷲِ

ذریعے خدا کے نبی اور اس کے سچے اور واضح دین کو قوت ملی وہ اللہ کے دین کے پرچم اس کے علم کے خزینہ دار اس کے غیبی علوم کا 

وَمَوْضِعَ سِرِّ اﷲِ، وَٲَمِینَ اﷲِ عَلَی خَلْقِہِ، وَشاھِدَہُ فِی بَرِیَّتِہِ ۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنا إنَّنا

گنجینہ اور اسکے راز دار ہیں وہ خدا کی مخلوق پر اسکے امانتدار اور کائنات میں اسکے گواہ ہیں اے اللہ! اے ہمارے رب یقینا ہم نے

سَمِعْنا مُنادِیاً یُنادِی لِلاْیْمانِ ٲَنْ آمِنُوا بِرَبِّکُمْ فَآمَنَّا رَبَّنا فَاغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا وَکَفِّرْ 

سنا منادی کو ایمان کی صدا دیتے ہوئے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ پس ہم اپنے رب پر ایمان لائے اب ہمارے گناہوں کو بخش دے 

عَنَّا سَیِّئاتِنا وَتَوَفَّنا مَعَ الْاَ بْرارِ، رَبَّنا وَآتِنا مَا وَعَدْتَنا عَلَی رُسُلِکَ وَلاَ تُخْزِنا یَوْمَ 

ہماری برائیوں کو مٹا دے اور ہمیں نیکوں جیسی موت دے اے ہمارے رب ہمیں عطا کر وہ جسکا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے 

الْقِیامَۃِ إنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیعادَ، فَ إنَّا یَا رَبَّنا بِمَنِّکَ وَلُطْفِکَ ٲَجَبْنا 

کیا اور قیامت کے روز ہم کو رسوا نہ کرنا بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا پس اے ہمارے رب ہم نے تیرے لطف و 

داعِیَکَ، وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ وَصَدَّقْناہُ، وَصَدَّقْنا مَوْلَی الْمُؤْمِنِینَ، وَکَفَرْنا بِالْجِبْتِ

احسان سے تیرے داعی کی بات مانی تیرے رسول(ص) کی پیروی کی اس کو سچا جانا اور مومنوں کے مولا(ع) کی بھی تصدیق کی اور ہم نے بت 

وَالطَّاغُوتِ، فَوَ لِّنا مَا تَوَلَّیْنا، وَاحْشُرْنا مَعَ ٲَئِمَّتِنا فَ إنَّا بِھِمْ مُؤْمِنُونَ 

اور شیطان کی پیروی سے انکار کیا پس ہمارا والی اسے بنا جو حقیقی والی ہے اور ہمیں ہمارے ائمہ(ع) کے ساتھ اٹھانا کہ ہم ان پر عقیدہ و 

مُوقِنُونَ، وَلَھُمْ مُسَلِّمُونَ، آمَنَّا بِسِرِّھِمْ وَعَلانِیَتِھِمْ وَشاھِدِھِمْ وَغائِبِھِمْ، وَحَیِّھِمْ 

ایمان رکھتے ہیں اور انکے فرمانبردار ہیں ہم ان کے باطن اور ان کے ظاہر پر ان میں سے حاضر پر اور غایب پر اور ان میں سے زندہ 

وَمَیِّتِھِمْ، وَرَضِینا بِھِمْ ٲَئِمَّۃً وَقادَۃً وَسادَۃً، وَحَسْبُنا بِھِمْ بَیْنَنا وَبَیْنَ اﷲ دُونَ

اور متوفی پر ایمان لائے ہیں اور ہم اس پر راضی ہیں کہ وہ ہمارے امام پیشوا و سردار ہیں اور ہمیں کافی وہ ہیں وہ ہمارے اور خدا کے درمیان

خَلْقِہِ لاَ نَبْتَغِی بِھِمْ بَدَلاً وَلاَ نَتَّخِذُ مِنْ دُونِھِمْ وَلِیجَۃً، وَبَرِئْنا إلَی اﷲِ مِنْ کُلِّ مَنْ 

ہم اس کی مخلوق میں سے ان کی جگہ کسی اور کو نہیں چاہتے اور نہ ان کے سوا ہم کسی کو واسطہ بناتے ہیں اور خدا کے حضور ہم ان سے اپنی 

نَصَبَ لَھُمْ حَرْباً مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ، وَکَفَرْنا بِالْجِبْتِ 

علیحدگی اظہار کرتے ہیں جو ائمہ طاہرین (ع)کے مقابلے میں آکر لڑے کہ وہ اولین و آخرین جنّوں انسانوں میں سے جو بھی ہیں اور ہم 

وَالطَّاغُوتِ وَالْاَوْثانِ الْاَرْبَعَۃِ وَٲَشْیاعِھِمْ وَٲَ تْباعِھِمْ وَکُلِّ مَنْ والاھُمْ مِنَ الْجِنِّ 

انکار کرتے ہیں ہر بت کا نیز ہر دور ہیں شیطان سے چاروں بتوں اور ان کے مددگاروں اور پیروکاروں سے اور ہم اس شخص سے 

وَالاِنْسِ مِنْ ٲَوَّلِ الدَّھْرِ إلی آخِرِہِ ۔ اَللّٰھُمَّ إ نَّا نُشْھِدُکَ ٲَنَّا نَدِینُ بِما 

دور ہیں جو ان سے محبت کرتا ہو جنّوں اور انسانوں میں سے زمانے کے آغاز سے اختتام تک کے عرصے میں اے اللہ ! ہم تجھے گواہ 

دانَ بِہِ مُحَمَّدٌ وَآلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ، وَقَوْلُنا مَا قالُوا، وَدِینُنا مَا

بناتے کہ ہم اس دین پر ہیں جس پر محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) تھے کہ خدا ان پر اور ان کی آل (ع)پر رحمت کرے ہمارا قول وہ ہے جو ان کا قول تھا ہمارا 

دانُوا بِہِ، مَا قالُوا بِہِ قُلْنا، وَمَا دانُوا بِہِ دِنَّا، وَمَا ٲَ نْکَرُوا ٲَ نْکَرْنا، وَمَنْ والَوْا 

دین وہ ہے جو انکا دین تھا انکا قول ہی ہمارا قول اور انکا دین ہی ہمارا دین ہے جس سے ان کو نفرت اس سے ہمیں نفرت جس سے ان کو محبت 

والَیْنا، وَمَنْ عادَوْا عادَیْنا، وَمَنْ لَعَنُوا لَعَنَّا، وَمَنْ تَبَرَّٲُوا مِنْہُ تَبَرَّٲْنا مِنْہُ، 

اس سے ہمیں محبت جس سے ان کو دشمنی اس سے ہمیں دشمنی جس پر انکی لعنت اس پر ہماری لعنت جس سے وہ دور اس سے ہم بھی دور ہیں

وَمَنْ تَرَحَّمُوا عَلَیْہِ تَرَحَّمْنا عَلَیْہِ، آمَنَّا وَسَلَّمْنا وَرَضِینا وَاتَّبَعْنا مَوالِیَنا صَلَواتُ 

جس کے لئے وہ طالب رحمت اس کے لئے ہم بھی طالب رحمت ہیں ہم ایمان لائے تسلیم کیا اور راضی ہوئے اپنے سرداروں کے 

ﷲِ عَلَیْھِمْ ۔ اَللّٰھُمَّ فَتَمِّمْ لَنا ذلِکَ وَلاَ تَسْلُبْناہُ وَاجْعَلْہُ مُسْتَقِرّاً ثابِتاً عِنْدَنا، وَلاَ

پیروکار ہیں ان پر خدا کی رحمت ہو اے معبود! ہمارا یہ عقیدہ کامل کر دے اور اسے ہم سے جدا نہ کر اور اسے ہمارا مستقل طریقہ اور 

تَجْعَلْہُ مُسْتَعاراً، وَٲَحْیِنا مَا ٲَحْیَیْتَنا عَلَیْہِ، وَٲَمِتْنا إذا ٲَمَتَّنا عَلَیْہِ، آلُ مُحَمَّدٍ ٲَئِمَّتُنا

روشن بنا اور اس کو عارضی قرار نہ دے جب تک زندہ ہیں ہمیں اس پر زندہ رکھ اور ہمیں اسی عقیدے پر موت دے کہ آل محمدہمارے 

فَبِھِمْ نَٲْ تَمُّ وَ إیَّاھُمْ نُوالِی، وَعَدُوَّھُمْ عَدُوَّ اﷲِ نُعادِی، فَاجْعَلْنا مَعَھُمْ فِی الدُّنْیا 

امام و پیشوا ہوں ہم انکی پیروی کرتے اور ان کو دوست رکھتے ہوں ان کا دشمن خدا کا دشمن ہے ہم اسکے دشمن ہیں پس ہمیں انکے ساتھ دنیا 

وَالْاَخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ، فَ إنَّا بِذلِکَ راضُونَ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔

و آخرت میں قرار دے اور ہمیں اپنے مقربوں میں داخل فرما کہ ہم اس عقیدے پر راضی ہیں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔

 

اب پھر سجدے میں جائے اور سو مرتبہ کہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ۔اور سو مرتبہ کہے: شُکْراً ﷲِ 

 

روایت ہے کہ جو شخص اس عمل کو بجا لائے وہ اجر و ثواب میں اس شخص کے برابر ہے جو عید غدیر کے دن حضرت رسول کی خدمت میں حاضر ہو اور جناب امیر- کے دست مبارک پر بیعت ولایت کی ہو بہتر ہے کہ اس نماز کو قریب زوال بجا لائے کیونکہ یہی وہ وقت ہے کہ جب حضرت رسول نے امیرالمؤمنین -کو مقام غدیر پر امامت و خلافت کے لئے منصوب فرمایا پس اس نماز کی پہلی رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد سورئہ قدر اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد سورئہ توحید کی قرائت کرے ۔

﴿۶﴾غسل کرے زوال سے آدھا گھنٹہ قبل دو رکعت نماز بجا لائے جس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورئہ توحید دس مرتبہ آیۃالکرسی اور دس مرتبہ سورئہ قدر پڑھے تو اس کو ایک لاکھ حج ایک لاکھ عمرے کا ثواب ملے گا ۔نیز اس کی دنیا و آخرت کی حاجات بآسانی پوری ہوں گی ۔مخفی نہ رہے کہ سید نے کتاب اقبال میں اس نماز میں دس مرتبہ سورئہ قدر پڑھنے کو آیۃالکرسی سے پہلے ذکر کیا ہے ،علامہ مجلسی نے بھی زاد المعاد میں کتاب اقبال کی پیروی میں یہی تحریر فرمایا اور مؤلف نے بھی اپنی دیگر کتب میں یہی ترتیب لکھی ہے ۔لیکن بعد میں جب تلاش و جستجو کی گئی تو معلوم ہوا ہے کہ آیۃالکرسی کے سورئہ قدر سے پہلے پڑھنے کا ذکر بہت زیادہ روایات میں آیا ہے ظاہراً کتاب اقبال میں سہو قلم ہوا ہے یا کاتب سے غلطی سرزد ہو گئی ہے ،یہ سہو دوگونہ ہے ،یعنی سورئہ الحمد کی تعداد اور سورئہ قدر کے آیۃالکرسی سے پہلے پڑھے جانے سے متعلق ہے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک الگ نماز ہو لیکن اس کا ایک الگ اور مستقل نماز ہونا بعید ہے ،واللہ اعلم بہتر ہو گا کہ اس نماز کے بعد رَبَّّنَا اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیا ًپڑھے: یہ ایک طویل دعا ہے ۔

﴿۷﴾آج کے دن دعائے ندبہ پڑھے ،جس کا ذکر دسویں فصل میں ہو گا ۔

﴿۸﴾اس دعا کو پڑھے جسے سید ابن طاؤس نے شیخ مفید سے نقل کیا ہے :

اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ نَبِیِّکَ وَعَلِیٍّ وَ لِیِّکَ وَالشَّٲْنِ وَالْقَدْرِ الَّذِی

اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے نبی محمد(ص) مصطفی اور تیرے ولی علی مرتضی (ع)کے اور بواسطہ اس عزت و شان کے جس 

خَصَصْتَھُما بِہِ دُونَ خَلْقِکَ ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَٲَنْ تَبْدَٲَ بِھِما فِی کُلِّ

جس سے تو نے ان دونوں کو اپنی مخلوق میں خاص کیا یہ کہ محمد(ص) و علی(ع) پر رحمت فرما اور یہ کہ ہر خیر و خوبی ان دونوں

خَیْرٍ عاجِلٍ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الْاََئِمَّۃِ الْقادَۃِ، وَالدُّعاۃِ السَّادَۃِ

کو جلد عطا فرما اے معبود! حضرت محمد(ص) اور ان کی آل (ع)پر رحمت فرما جو امام و رہبر اور داعی حق و سردار ہیں 

وَالنُّجُومِ الزَّاھِرَۃِ، وَالْأَعْلامِ الْباھِرَۃِ، وَساسَۃِ الْعِبادِ، وَٲَرْکانِ الْبِلادِ، وَالنَّاقَۃِ

وہ روشن ستارے اور چمکتے نشان ہیں وہ لوگوں کے پیشوا اور شہروں کے ستون ہیں وہ ناقہ صا(ع)لح

الْمُرْسَلَۃِ وَالسَّفِینَۃِ النَّاجِیَۃِ الْجارِیَۃِ فِی اللُّجَجِ الْغامِرَۃِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ

کی مانند اور کشتی نوح (ع)کی مثل ہیں جو پانی کی بڑی بڑی لہروں میں چل رہی تھی اے معبود! محمد(ص) و آل(ع) 

وَآلِ مُحَمَّدٍ خُزَّانِ عِلْمِکَ، وَٲَرْکانِ تَوْحِیدِکَ، وَدَعائِمِ دِینِکَ، وَمَعادِنِ کَرامَتِکَ،

محمد(ص) پر رحمت نازل فرما جو تیرے علم کے خزانے تیری توحید کے عمود و ستون تیرے دین کے سہارے تیرے احسان 

وَصَفْوَتِکَ مِنْ بَرِیَّتِکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ الْاَتْقِیائِ الْاَنْقِیائِ النُّجَبائِ الْاََ بْرارِ وَالْباب

و کرم کی کانیں تیری مخلوقات میں سے چنے ہوئے تیر ی مخلوق میں سے پسندیدہ پرہیزگار پاکیزہ بزرگوار نیکوکار اور وہ دروازہ ہیں

الْمُبْتَلیٰ بِہِ النَّاسُ مَنْ ٲَتاہُ نَجا وَمَنْ ٲَباہُ ھَویٰ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ 

جسکے ذریعے لوگ آزمائے گئے جو اس در سے گزرا نجات پا گیا جسنے انکار کیا تباہ ہوا ہے اے معبود! محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما 

ٲَھْلِ الذِّکْرِ الَّذِینَ ٲَمَرْتَ بِمَسْٲَلَتِھِمْ وَذَوِی الْقُرْبَی الَّذِینَ ٲَمَرْتَ بِمَوَدَّتِھِمْ وَفَرَضْتَ 

جو ایسے اہل ذکر ہیں کہ تو نے ان سے پوچھنے کا حکم دیا وہ وہی اقربائ پیغمبر (ص)ہیں کہ جن سے محبت کرنے کا تو نے حکم دیا ان کا حق

حَقَّھُمْ وَجَعَلْتَ الْجَنَّۃَ مَعادَ مَنِ اقْتَصَّ آثارَھُمْ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ 

واجب کر دیا اور جو ان کے نقش قدم پر چلے اس کا گھر جنت میں قرار دیا اے معبود! محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) پر رحمت نازل فرما 

کَما ٲَمَرُوا بِطاعَتِکَ وَنَھَوْا عَنْ مَعْصِیَتِکَ وَدَلُّوا عِبادَکَ عَلَی وَحْدانِیَّتِکَ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی 

جیسا کہ انہوں نے تیری فرمانبرداری کا حکم دیا تیری نافرمانی سے روکا اور تیری توحید و یکتائی کی طرف لوگوں کی رہنمائی کی اے معبود! 

ٲَسْٲَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ نَبِیِّکَ وَنَجِیبِکَ وَصَفْوَتِکَ وَٲَمِینِکَ، وَرَسُو لِکَ

میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ حضرت محمد(ص) کے جو تیرے نبی(ص) تیرے چنے ہوئے تیرے پسند کیے ہوئے تیرے امانتدار اور تیری 

إلی خَلْقِکَ وَبِحَقِّ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَیَعْسُوبِ الدِّینِ وَقائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ الْوَصِیِّ 

مخلوق کی طرف تیرے رسول(ص) ہیں اور میں سوالی ہوں بواسطہ امیرالمومنین(ع) اہل دین کے سردار نیکوکار لوگوں کے پیشوا وصی رسول

الْوَفِیِّ وَالصِّدِّیقِ الْاَ کْبَرِ وَالْفارُوقِ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْباطِلِ وَالشَّاھِدِ لَکَ وَالدَّالِّ عَلَیْکَ

وفادارسب سے بڑے تصدیق کرنے والے حق وباطل میں فرق کرنیوالے تیری گواہی دینے والے تیری طرف رہنمائی کرنیوالے 

وَالصَّادِعِ بِٲَمْرِکَ، وَالْمُجاھِدِ فِی سَبِیلِکَ، لَمْ تَٲْخُذْہُ فِیکَ لَوْمَۃُ لائِمٍ، ٲَنْ تُصَلِّیَ

تیرے حکم کو نافذ کرنے والے تیری راہ میں جہاد کرنے والے جن کو تیرے بارے میں کسی ملامت کی کچھ پروا نہیں تھی یہ کہ محمد(ص) 

عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَٲَنْ تَجْعَلَنِی فِی ھذَا الْیَوْمِ الَّذِی عَقَدْتَ فِیہِ لِوَ لِیِّکَ الْعَھْدَ 

و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور مجھ کو قرار دے آج کے دن میں جس میں تو نے اپنے ولی (ع)کے عہدہ امامت کا بندھن اپنی 

فِی ٲَعْناقِ خَلْقِکَ وَٲَکْمَلْتَ لَھُمُ الدِّینَ مِنَ الْعارِفِینَ بِحُرْمَتِہِ وَالْمُقِرِّینَ بِفَضْلِہِ مِن

مخلوق کی گردنوں میں ڈالا اور تو نے ان کے لئے دین کو مکمل کیا جو اس کی حرمت سے واقف اوراس کی بزرگی کو مانتے ہیں کہ جن کو 

عُتَقائِکَ وَطُلَقائِکَ مِنَ النَّارِ، وَلاَ تُشْمِتْ بِی حاسِدِی النِّعَمِ ۔ اَللّٰھُمَّ فَکَما جَعَلْتَہُ

تو نے جہنم سے آزاد اور رہا کر دیا ہے نیز نعمتوں پر حسد کرنے والے کو میرے بارے میں خوش نہ کر اے معبود! جیسے تو نے اس دن 

عِیدَکَ الْاَکْبَرَ وَسَمَّیْتَہُ فِی السَّمائِ یَوْمَ الْعَھْدِ الْمَعْھُودِ، وَفِی الْاَرْضِ یَوْمَ الْمِیثاق

کو اپنی طرف سے بڑی عید قرار دیا آسمان میں اس کا نام یوم عہد و پیمان مقرر کیا ہے اور زمین میں اسے یوم المیثاق بنایا 

الْمَٲْخُوذِ وَالْجَمْعِ الْمَسْؤُولِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَٲَقْرِرْ بِہِ عُیُونَنا وَاجْمَعْ 

جس کے بارے میں باز پرس ہوگی اسی طرح محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) پر رحمت فرما اور اس کے ذریعے ہماری آنکھیں ٹھنڈی کر اس سے ہمیں 

بِہِ شَمْلَنا وَلاَ تُضِلَّنا بَعْدَ إذْ ھَدَیْتَنا وَاجْعَلْنَا لاِ نْعُمِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ یَا ٲَرْحَمَ

متحد کر دے ہدایت دینے کے بعدہمیں گمراہ نہ ہونے دے اور ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرنے والے بنا دے اے سب سے زیادہ

الرَّاحِمِینَ۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی عَرَّفَنا فَضْلَ ھذَا الْیَوْمِ وَبَصَّرَنا حُرْمَتَہُ وَکَرَّمَنا بِہِ

رحم کرنے والے حمد ہے اللہ کے لئے جس نے ہمیں آج کے دن کی بزرگی سے آگاہ کیا اس کی حرمت سے با خبر کیا اس سے ہمیں 

وَشَرَّفَنا بِمَعْرِفَتِہِ، وَھَدانا بِنُورِہِ ۔ یَا رَسُولَ اﷲِ، یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، عَلَیْکُما

عزت دی اور اس کی معرفت سے بڑائی عطا کی اور اپنے نور سے ہدایت دی اے اللہ کے رسول(ص) اے مؤمنوں کے امیر(ع) آپ دونوں پر 

وَعَلَی عِتْرَتِکُما وَعَلَی مُحِبِّیکُما مِنِّی ٲَفْضَلُ السَّلامِ مَا بَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّھارُ وَبِکُما

آپ کے اہلب(ع)یت پر اور آپ کے محبوں پر میرا بہت بہت سلام ہو جب تک دن رات کی آمد و رفت قائم رہے اور بواسطہ آپ

ٲَتَوَجَّہُ إلَی اﷲِ رَبِّی وَرَبِّکُما فِی نَجاحِ طَلِبتِی وَقَضائِ حَوائِجِی وَتَیْسِیرِ ٲُمُورِی

دونوں کے میں متوجہ ہوا آپ (ع)کے اور اپنے رب کی طرف اپنے مقصد کے حصول حاجتوں کی پورا ہونے اور کاموں میں آسانی کیلئے 

اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَٲَنْ 

اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) کے واسطے سے یہ کہ محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور جو آج 

تَلْعَنَ مَنْ جَحَدَ حَقَّ ھذَا الْیَوْمِ وَٲَنْکَرَ حُرْمَتَہُ فَصَدَّ عَنْ سَبِیلِکَ لاِطْفائِ نُورِکَ فَٲَبَی 

کے دن کے حق سے انکار کرے اس پر لعنت کر اور اسکے احترام سے پھیرے پس وہ تیرے نور کو بجھانے کیلئے تیرے راستے سے روکتا 

ﷲُ إلاَّ ٲَنْ یُتِمَّ نُورَہُ اَللّٰھُمَّ فَرِّجْ عَنْ ٲَھْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ نَبِیِّکَ وَ اکْشِفْ

ہے لیکن خدا کو یہ منظور نہیں وہ تو اپنے نور کو کامل کرے گا اے معبود! اپنے نبی محمد(ص) مصطفی کے اہلب(ع)یت کے لئے کشادگی فرما ان کی مشکل 

عَنْھُمْ وَبِھِمْ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ الْکُرُباتِ اَللَّھُمَّ امْلَأَ الْاَرْضَ بِھِمْ عَدْلاً کَما

دور کردے اور ان کے وسیلے سے مومنوں کی تنگیاں برطرف کردے اے اللہ ! اس زمین کو ان کے ذریعے عدل سے بھر دے جیسا کہ 

مُلِیَتْ ظُلْماً وَجَوْراً وَٲَنْجِزْ لَھُمْ مَا وَعَدْتَھُمْ إنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیعادَ۔

وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہے اور عطا کر انہیں جس کا ان سے وعدہ کر رکھا ہے بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔

اگر ممکن ہو تو سید کی کتاب اقبال میں منقولہ دیگر بڑی بڑی دعائیں بھی پڑھے :

﴿۹﴾جب برادر مومن سے ملاقات کرے تو اسے عید غدیر کی تبریک اس طرح کہے :

الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی جَعَلَنا مِنَ الْمُتَمَسِّکینَ بِوِلایَۃِ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْاَ ئِمَّۃ عَلَیْھِمُ اَلسَّلَامُ

اس اللہ کے لئے حمد ہے جس نے ہمیں امیرالمؤمنین (ع)کی اور ان کے بعد ائمہ (ع)کی ولایت و امانت کو ماننے والوں میں سے قرار دیا ہے۔

نیز یہ بھی پڑھے: الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی ٲَکْرَمَنا بِھذَا الْیَوْمِ وَجَعَلَنا مِنَ الْمُوفِینَ

اس اللہ کے لئے حمد ہے جس نے آج کے دن کے ذریعے ہمیں عزت دی اور ہمیں اس عہد کو وفا کرنے والا بنایا

بِعَھْدِہِ إلَیْنا وَمِیثاقِہِ الَّذِی واثَقَنا بِہِ مِنْ وِلایَۃِ وُلاۃِ ٲَمْرِہِ وَالْقُوَّامِ بِقِسْطِہِ، وَلَمْ

جو ہمارے سپرد کیا اور وہ پیمان جو ہم سے ولایت امیرالمؤمنین(ع) اپنے والیان امر اور عدل پر قائم رہنے والوں کے بارے میں لیا

یَجْعَلْنا مِنَ الْجاحِدِینَ وَالْمُکَذِّبِینَ بِیَوْمِ الدِّینِ۔

اور ہمیں روز قیامت کا انکار کرنے والوں اور اسے جھٹلانے والوں میں نہیں رکھا ۔

﴿10﴾ سو مرتبہ کہے:

الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی جَعَلَ کَمالَ دِینِہِ وَتَمامَ نِعْمَتِہِ بِوِلایَۃِ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ

اس اللہ کے لئے حمد ہے جس نے اپنے دین کے کمال اور نعمت کے اتمام کو امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب [ع] کی ولایت کے 

ٲَبِی طالِبٍ عَلَیْہِ اَلسَّلَامُ

ساتھ مشروط قرار دیا ۔

واضح ہو کہ عید غدیر کے دن اچھا لباس پہنے ،خوشبو لگائے۔خوش خرم ہو مؤمنین کو راضی و خوش کرے ،ان کے قصور معاف کرے ۔ان کی حاجات پوری کرے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرے ۔اہل و عیال کے لئے عمدہ کھانے کا انتظام کرے مؤمنین کی ضیافت کرے اور ان کا روزہ افطار کرائے ۔مؤمنین سے مصافحہ کرے ۔برادران ایمانی سے خوش خوش ملے اور ان کو تحائف دے آج کی عظیم نعمت یعنی ولایت امیرالمؤمنین -پر خدا کا شکر بجا لائے ۔کثرت سے صلوات پڑھے اور اس دن خدا کی عبادت کرے کہ ان تمام امور میں سے ہر ایک کی بڑی فضیلت ہے ۔

آج کے دن اپنے مومن بھائی کو ایک روپیہ دینا دوسرے دنوں میں ایک لاکھ روپیہ دینے کے برابر ثواب رکھتا ہے اور آج کے دن مومن بھائیوں کو دعوت طعام دینا گویا تمام پیغمبروں اور مومنوں کو دعوت طعام دینے کے مانند ہے امیرالمؤمنین -کے خطبہ غدیر میں ہے جو شخص آج کے دن کسی روزہ دار کو افطاری دے گویا اس نے دس فئام کو افطاری دی ہے ایک شخص نے اٹھ کر عرض کی مولا! فئام کیا ہے ؟ فرمایا کہ فئام سے مراد ایک لاکھ پیغمبر ،صدیق اور شہید ہیں ہاں تو کتنی فضیلت ہو گی اس شخص کی جو چند مومنین و مومنات کی کفالت کر رہا ہو ؟پس میں بارگاہ الہی میں اس شخص کا ضامن ہوں کہ وہ کفر اور فقر سے امان میں رہے گا ۔خلاصہ یہ ہے کہ اس عزوشرف والے دن کی فضیلت کا بیان ہماری استطاعت سے باہر ہے یہ شیعہ مسلمانوں کے اعمال قبول ہونے اور ان کے غم دور ہونے کا دن ہے ۔اسی دن حضرت موسیٰ(ع) کو جادوگروں پر غلبہ حاصل ہوا اور حضرت ابراہیم(ع) کیلئے آگ گلزار بنی۔ اور حضرت موسیٰ(ع) نے یوشع بن نون(ع) کو وصی بنایا اور حضرت عیسیٰ (ع)کی طرف حضرت شمعون(ع) کو ولایت و وصایت ملی، حضرت سلیمان- نے آصف بن برخیا کی وزارت و نیابت پر لوگوں کو گواہ بنایا اور اسی دن حضرت رسول نے اپنے اصحاب میں اخوت قائم فرمائی پس یوم غدیر مومنین باہم صیغہ اخوت پڑھیں اور آپس میں بھائی چارہ قائم کریں ۔

ہمارے شیخ صاحب مستدرک ا لوسائل نے زادالفردوس سے عقد اخوت کی کیفیت یوں نقل کی ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ اپنے برادر مومن کے داہنے ہاتھ پر رکھے اور کہے :

واخَیْتُکَ فِی اﷲِ، وَصافَیْتُکَ فِی اﷲِ، وَصافَحْتُکَ فِی اﷲِ، وَعاھَدْتُ اﷲَ وَمَلائِکَتَہُ

میں بھائی بنا تمہارا راہ خدا میں میں مخلص ہوا تمہارا راہ خدا میں میںہاتھ ملایا تم سے راہ خدا میں اور عہد کرتا ہوں خدا سے اسکے فرشتوں 

وَکُتُبَہُ وَرُسُلَہُ وَٲَنْبِیائَہُ وَالْاَئِمَّۃَ الْمَعْصُومِینَ عَلَیْھِمُ اَلسَّلَامُ عَلَی ٲَنَّی إنْ کُنْتُ مِنْ 

سے اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اس کے نبیوں سے اور ائمہ معصومین ٪سے اس بات کا کہ اگر میں ہو جاؤں میں بہشت 

ٲَھْلِ الْجَنَّۃِ وَالشَّفاعَۃِ وَٲُذِنَ لِی بِٲَنْ ٲَدْخُلَ الْجَنَّۃَ لاَ ٲَدْخُلُھا إلاَّ وَٲَنْتَ مَعِی

والوں اور شفاعت حاصل کرنے والوں میںاور مجھے جنت میں داخلے کا حکم ہوا تو نہیں داخل ہوں گا جنت میں تجھے ساتھ لئے بغیر

دوسرا مومن بھائی اس کے جواب میں کہے: قَبِلْتُاور پھر یہ کہے: ٲَسْقَطْتُ عَنْکَ جَمِیعَ 

میں نے قبول کیا ساقط کر دئیے میں نے تجھ سے بھائی 

حُقُوقِ الْاَخُوَّۃِ مَا خَلاَ الشَّفاعَۃَ وَالدُّعائَ وَالزِّیارَۃَ ۔

چارے کے تمام حقوق سوائے شفاعت کرنے دعائے خیر کرنے اور ملاقات کرنے کے 

محد ث فیض نے بھی خلاصۃالاذکار میں صیغہ اخوت کا تقریبا یہی طریقہ لکھا ہے کہ دوسرا مومن بھا ئی خود یا اس کا وکیل ایسے الفاظ سے اخوت قبول کرے جو واضح طور پر قبولیت کا مفہوم ادا کر رہے ہوں ۔پس ساقط کریں ایک دوسرے سے تمام حقوق اخوت کو،سوائے دعا اور ملاقات کے ۔

مفاتیح الجنان 

مؤلف:    مولانا سید تقی عباس رضوی کلکتوی زید عزه

يا ايها اَلّذ ِينَ آمَنُوا کُتِبَ عَلِيکُمْ الصِّيام کَمٰاکُتِبَ عَََََلَی الَّذِ ينَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُون۔''

ا ے ایمان لانے والو! تم پر روزے فرض کردئے گئے

جیسے تم سے پہلی امتوں پر فرض تھے تاکہ تم پرہیزگا ر بن جاؤ۔''( سورہ بقرہ ١٨٣ )
مذکورہ آیہ مبارکہ اپنے بعد والی آیت کے ہمراہ ہمیں تین اہم موضوع کی طرف متوجہ کرتی ہے : روزہ ،دعا اور قرآن یہ تینوں آیت آپس میں ایسی منسجم ہیں کہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتی ہیں لہذا یہ ماہ منور ایسا بابرکت مہینہ ہے جسمیں لوگوں کا رجحان صرف اور صرف عبادات الٰہی کی طرف رہتا ہے ۔جس آیہ شریفہ کو ہم نے بیان کیا ہے وہ روزہ پر ایک محکم دلیل ہے اور مبارک مہینہ بھی روزہ اور روزہ داروں سے مخصوص ہے اس لئے ہر انسان کو ان دنوں اس پر ایک خاص توجہ دینی چاہیئے کیونکہ یہ مہینہ لوگوں کے تزکیہ نفس کا ہے ۔
قرآن مجید کے خطابات کا ایک نرالہ ہی انداز ہے کبھی اس نے ''ياايهاالناس ''کہہ کرلوگوں کو خطاب کیا ہے تو کبھی ''یا اہل الکتاب ''اور کبھی ''يا ايها الذین آمنوا ''ان تمام خطابات میں سب سے لطیف لحن قرآن کا یہ ہے کہ اس نے مومنوں کو بڑے پیارے انداز میں خطاب کیا ہے کہ ''یا ایھا الذین آمنوا''اے ایمان والو!جو سب سے بہترین لحن مانا جا تا ہے ۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه