ولادت و حسب و نسب 

سید علی موسوی ۱۹۲۸ عیسوی میں بلتستان کے گاؤں ڈورو میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد نے آپ کا نام سید علی رکھا جو بعد میں پورے پاکستان میں آغا علی موسوی کے نام سے مشہور ہوا۔

نسب : سید علی سیادت کے لحاظ سے موسوی / کاظمی ہیں ، آپ کے سلسلہ نسب امام موسیٰ کاظم علیہ السلام تک جا پہنچتا ہے ۔آپ کے والد کا نام سید حسن موسوی تھا۔ جن کا تعلق  کریس بلتستان کے سادات خاندان سے تھا ۔سید حسن کے والد سید نظام الدین موسوی تبلیغ کے سلسلے میں بلتستان کے مختلف علاقوں میں جایا کرتے تھے ۔ سید حسن  نے بھی اپنے والد کی سیرت پر چلتے ہوئے اس سلسلے کو جاری رکھا اور آپ تبلیغ کے سلسلے میں ہی ڈورو گئے اور وہیں مقیم ہوئے ۔اس لئے سید علی موسوی کی ولادت بھی ڈورو میں ہی ہوئی۔

ایران اور عراق  کا سفر :جب سید علی اس دنیا میں آئے تو اس وقت آپ کے والدگرامی نجف اشرف میں حصول علم میں مشغول تھے ۔ اس لئے آغا علی اپنے والدین کے ہمراہ چار سال کی عمر میں کشمیر اور ہندوستان کے راستے سے ایران آئے ، اس وقت حوزہ علمیہ قم کا سربراہ  آیت اللہ شیخ عبدالکریم حائری تھے ۔ سید علی موسوی  والدین کے ساتھ چھے سال قم میں رہے۔ یوں آپ کی تعلیم و تربیت کی ابتداء سر زمین مقدس قم میں ہوئی۔ دس سال کی عمر میں قم سے نجف اشرف چلے گئے جہاں پر تقریباً سترہ سال علوم محمد و آل محمد حاصل کرتے رہے ۔ 

سید علی موسوی کے اساتذہ

آپ نے مقدمات اور فقہ و اصول شیخ محمد تقی عرب ، شہید محرا ب آیت اللہ مدنی ، مدرس افغانی اور شیخ محمد ترکی کے پاس پڑھے۔بعد ازاں  آیت اللہ العظمی ابو لقاسم خوئی، آیت اللہ اشراقی اور آیت اللہ محسن الحکیم کے دروس خارج میں  بھی شرکت کیں ۔ قائد شیعان بلتستان علامہ شیخ غلام محمد اور حجت الاسلام سید احمد علی شاہ آپ کے کلاس فیلوز تھے۔ 

آپ کی پاکستان واپسی 

آپ ۱۹۴۵ءمیں نجف اشرف سے واپس آئے اور  اپنی فعالیتوں کا آغاز کیا جس کے تفصیلی ذکر بعد میں آئے گا۔

 

پاکستان میں آپ کے ہم عصر علما

پاکستان میں شیعہ اور سنی دونوں مسالک کے بڑے اور برجستہ علمائے کرام کے ساتھ آپ کے مراسم تھے اور ایک دوسرے سے علمی اور سیاسی معاملات میں تعاون بھی کیا کرتے تھے۔جن میں بعض کے نام مندرجہ ذیل ہیں : مولانا صفدر حسين نجفي ،مولانا اظهر حسين زيدي ، جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ مولانا ابوالاعلي مودودي ،مولانا عبدالستار خان نيازي، سيد محمد دهلوي ،علامه حافظ کفايت حسين ، آيت الله حافظ رياض حسين نجفي ،مفتي جعفر حسين اعلي الله مقامه، شهيد سيد عارف حسين الحسینی ،محسن ملت و مفسر قرآن علامه شيخ محسن علي نجفي  اورسربراہ تحریک جعفریہ علامه سيد ساجد علی نقوي ۔

آپ کی اولاد

آپ کےہاں پانچ بیٹے اور آٹھ بیٹیاں ہیں ،تمام بیٹوں  کا تعلق صنف روحانیت سے ہیں اور سب حوزہ علمیہ قم کے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت پاکستان میں مختلف مقامات پر دینی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

سيد حيدر موسوي(مدير مدرسه علوم اسلامي،امام جمعه و الجماعت مسجد کشمیريان موچي دروازه ،منتظم اعلي کاروان حج حيدريه)

سيد مظاهر موسوي(امام جمعه والجماعت حسين آباد بلتستان)

سيد رضي موسوي (امام مسجد ،خطيب و  ذاکر)

سيد رضا موسوي (خطيب و  ذاکر)

سيد عباس موسوي(خطيب و  ذاکر) 

آپ کی وفات

یہ بزرگ عالم دین جو واقعا فخر ملت تشیع تھے۔شیعیان پاکستان کے لئے ایک شفیق باپ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ایک عرصہ علیل رہنے کے بعد دس رمضان المبارک  ۱۴۳۳ ھ بمطابق ۳۰ جولائی۲ ۲۰۱کی صبح٤ بجے لاہور میں انتقال فرماگئے۔

آپ کے ارتحال کی خبر سن کر لاہور بھر سے مومنین جوق در جوق آپ کی تشییع جنازہ میں شرکت کرنے کی خاطر موچی دروازہ پہنچ گئے۔ جہاں آپ کی نماز جنازہ موچی گیٹ کے پاس موجود باغ میں آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی کی امامت میں ادا کر دی گئی ہے۔ جس میں لاہور کے عوام کی بڑی تعداد کے علاوہ علمائے کرام، شیعہ علما کونسل، مجلس وحدت مسلمین،  امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور تنظیم غلامان آل عمران کے کارکنوں نے شرکت کی۔ وفاق المدارس شیعہ پاکستان کے سکریٹری جنرل علامہ محمد افضل حید ری، مرکزی صدر آئی ایس او اطہر عمران، مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سکریٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی، شیعہ علما کونسل پنجاب کے نائب صدر علامہ حافظ کاظم رضا نقوی، ایس یو سی ضلع لاہور کے صدر آصف علی زیدی اور دیگر رہنما نماز جنازہ میں شریک تھے۔ نماز جنازہ کی ادائی کے بعد علامہ آغا علی موسوی کا جسد خاکی اسلام آباد  کے لیے روانہ کر دیا گیا۔ جہاں امام بارگاہ ) G/6-2 جی سیکس ٹو)میں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اسلام آباد سے منگل کی صبح پرواز کے ذریعے آپ  کا جسد خاکی سکردو ائرپورٹ لے جایا گیا۔ جہاں لاکھوں لوگوں نے آہوں اور سسکیوںمیں آپ کے جنازے کا پرتپاک استقبال کیا۔ سکردو ائر پورٹ سے لوگوں کے ہجوم میں یادگار چوک سکردو لایا گیا۔ جہاں آئی ایس او پاکستان کی جانب سے سلامی دی گئی اور نوحہ خوانی کی گئی۔ یہاں سے جامع مسجد سکردو لے گئے اور وہاں علامہ شیخ محمد حسن جعفری کی امامت میں نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ کی ادائیگی اور مجلس ترحیم کے بعد آپ کے جسد خاکی  کو آپ  کے آبائی گاؤں حسین آباد لے گئے ۔ جہاں گرلز ہائی سکول حسین آباد کے گراونڈ میں چوتھی بار نماز جنازہ ادا کی گئی ۔آخر کار آپ کو اپنے آبائی گاؤں حسین آباد میں ہزاروں سوگواروں کی دعاؤں، آہوں اور سسکیوں کے ساتھ آپ کے اپنے ہی ہاتھوں سے بنائی ہوئی قبر میں آپ کی والدہ  محترمہ کے قدموں میں سپردخاک کیاگیا۔ 

آپ بعنوان مبلغ دین 

آپ جب عراق سے واپس آئے تو اس وقت آپ کے والد محترم سید حسن موسوی موچی دروازہ لاہور میں خدمت دین میں مصروف تھے ۔ آپ بھی اپنے والد محترم کی سیرت پر چلتے  ہوئے اس سلسلے کو جاری رکھا اور تا دم مرگ ایک بہترین مبلغ دین کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ۔ لاہور میں بہت سارے لوگوں کو دینی راستے پر لے آئے ۔ آپ شیرین سخن عالم دین تھے۔  اس لئے آپ کی محفل میں موجود لوگوں کو تھکاوٹ کا احساس تک نہیں ہوتا تھا۔ اس طرح آپ نے  لاہور کے دین سے دور لوگوں کو بھی پانچ وقت کا نمازی بنایا۔

آپ بعنوان مدرس، مترجم و محقق

آپ نے اپنی حیات میں ہی جامعہ علوم اسلامی کی بنیاد ڈالی اور کئی سالوں تک اسی مدرسے میں مدیر و مدرس کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ اس وقت اس مدرسے میں آپ کے فرزند آغا سید حیدر موسوی بعنوان پرنسپل و استاد خدمت کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس وقت پاکستان میں سرکاری یا غیر سرکاری طور پر ایران اور عراق سے آنے والے مہمانوں کی تقاریر اور بیانات کا آپ ہی ترجمہ کرتے تھے ۔ جیسے  رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای ،  حجت السلام سید احمد خمینی ،آیت اللہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی اور حجت السلام شمس الدین لبنانی کی تقاریر اور بیانات کا آپ نے ہی ترجمہ کیا ۔

اس کے علاوہ نجف اشرف میں طالبعلمی کے دوران عربی میں خلاصۃ الحساب کے نام سے ایک کتاب بھی  تصنیف  کی۔ جو ابھی تک غیر مطبوعہ ہے ۔ پاکستان میں امام خمینی رح کی توضیح المسائل کا سب سے پہلے ترجمہ آپ نے سید صفدر حسین نجفی کے ساتھ ملکر کیا۔ ۱۹۷۴ میں مجلہ حبل المتین کا اجرا بھی آپ کی کاوشوں کا ثمر ہے ۔ 

آپ کی خطابت

فن خطابت میں آپ کا کوئی  ثانی نہ تھا۔ جہاں آپ کی خطابت کا پروگرام ہو تو وہاں ارادتمندوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دکھائی دیتا تھا۔ آپ نے پاکستان میں خطابت اور درس اخلاق کو نیا روپ اور حیات عطا کیا۔ تبلیغی امور اور دینی امور کے ساتھ ساتھ سیاسی خدمات میں بھی آپ کسی سے پیچھے نہ تھے۔آپ اپنی تقاریر میں آیات و روایات کے علاوہ علامہ اقبال کے اشعار سے بھی استناد کیا کرتے تھے ۔

فلاحی اداروں اور محافل و مجالس کی سرپرستی 

مختلف فلاحی ادارے بھی آپ کی زیر سرپرستی چل رہے تھے، جن میں آل عمران لاہور ، ادارہ درس عمل ، کاروان حج حیدری ، حسینہ مشن حسین آباد نمایاں ہیں۔ بلتستان میں جلوس عاشورا اور جلوس اسد عاشورا کو ترویج دینے اور پھیلانے میں آپ نے بھرپور کردار ادا کیا، اس سے پہلے صرف کھرگرنگ، گنگوپی، سکمیدان، چھومک سزگرکھور کے عوام ہی ان جلوسوں میں شرکت کرتے تھے، لیکن آپ  کی بہترین تبلیغ کی بدولت اب پورے بلتستان میں انتہائی شان و شوکت سے یہ ایام منائے جاتے ہیں۔جشن مولود کعبہ ، یوم الحسین ، ولادت امام زمانہ اور عید غدیر جیسی تقریبات کو جدید طرز پر جلسے کی صورت میں انعقاد کرنے کی بنیاد بھی آپ نے ہی ڈالی ہے۔ ورنہ اس سے قبل ان محافل کے انعقاد کا انداز صرف روایتی طرز پر تھا۔

آپ  سیاسی میدان میں 

آپ نے نہ صرف علمی ، ثقافتی اور دینی معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ سیاسی میدان میں بھی آپ کی بے شمار خدمات ہیں ۔جب  ایران میں امام خمینی قد س سرہ کی کوششوں سے انقلاب اسلامی کامیاب ہوا تو آپ نہ صرف اس کی حامی تھے بلکہ پاکستان میں فکر خمینی کی ترویج میں بھی آپ نے بھرپورکردار ادا کیا ۔ پاکستان میں سب سے فعال  شیعہ طلباء تنظیم آئی ایس او کی بنیاد گزار بھی آپ ہی ہیں ۔ آپ نے ہی قرآنی استخارے کے ذریعے اس تنظیم کا نام منتخب کیا تھا ۔ اس کے علاوہ مفتی جعفر اعلی اللہ مقامہ کی قیادت میں آپ نے تحریک حقوق جعفریہ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی وفات کے بعد شہید عارف حسین الحسینی کے دور میں بھی  آپ ان کے  دائیں بازو کی حیثیت سے کام کرتے رہے بلکہ یہاں یہ  کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ شہید کو لوگوں میں متعارف کرانے میں آپ نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ان  کے بعد میں تحریک جعفریہ پاکستان میں آپ علامہ سید ساجد علی نقوی کے ہر وقت ساتھ رہے ۔  

شعر و شاعری سے لگاؤ 

آپ   شعر و شاعری کا بھی ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ بسا اوقات اردو اور بلتی زبان میں خود شاعری بھی کرتے تھے ۔ آپ فی البدیہ شعر کہنے کے حوالے سے کافی مشہور تھے ۔ شگر میں بوا شاہ عباس کی قبر پر ایک محفل مشاعرہ منعقد ہوا۔ جس میں آپ کے اس شعر پر سب نے داد تحسین دئیے: 

جنتنگ نا يود دوسے عباس اونگمو لا دادے شمعي پروانونگ سا تهون سيد تاخنمي کا گوا رگوسيد

آپ کے  حضور شعرا کا اظہار عقیدت 

آپ کی وفات کے بعد بہت سارے شعرا ء نے مختلف زبانوں میں آپ سے اظہار عقیدت کیا ہے ۔ مختصر طور پر یہاں کچھ مثالیں پیش کرتے ہیں:

غلام مہدی شاہد اردو زبان میں یوں اظہار عقیدت کرتے ہیں:

فخر قوم،حسن چمن،سالار دين آقا علي

بلبل زهرا،گلستان حسین آقا علی

ذاکر آل محمد ،پر اثر ،پر گو خطیب

محفلوں کی جان جاں تھے بالقیں آقا علی

میر اسلم حسین سحر یوں گویا ہوئے :

تو نہیں تیری خطابت کا اثر زندہ ہے

گرچہ دنیا میں نہیں دل میں مگر زندہ ہے

موسوی تو نے لگایا جو محبت کا شجر

آج تک دیکھ وہ  شاداب شجر زندہ ہے

حاجی غلام حسین طالب نے فارسی زبان میں آپ کی وفات پر آہ و بکا کیا ہے:

واحسرتا! در شهر سکردو شد بلند آه وفغان

چون رسيد خبرش بگوش آقا علي رفت از جهان

مردمان پير و جوان خورد و کلان از فرقتش

اشک ها ريزان رسيدند جامع مسجد عيان

دهم رمضان بود و هم روز دوشنبه شد چنين

يک و هزار و چهارصد سي و سه بوده سن روان

طالب آقا مع خويشان با مغموم شد

اهل بلتستان از آقاي ما محروم شد

بابائے بلتی آخوند محمد حسین حکیم نے بلتی زبان میں یوں اظہار عقیدت کیا ہے :

غديانگ چھو دي دنيائي غدياني سکودپو چھدي گوانا

سنينگ پو چدي کھيرس آغا علي علي زيري کوانا

ساداتي ژهرينگ يانگپه گوتھوس چي يري نمزينگ

ميد سوک مله کھوانگ يود پو ايتو بين نسي هرژيانا،

منابع و مصادر:

1. حسين آبادي ،محمد يوسف ،تاريخ بلتستان،بلتستان بک ڈپو سکردو،2003م.

2. حسيني ،سيد قمر عباس ،تاريخ ورود اسلام در بلتستان از آغاز تا دوره معاصر،پايان نامه جامعه المصطفي العالميه.

3. علي رضا،علماي شيعه بلتستان در صد سال آخر،تحقيق پاياني در جامعه المصطفي،1395ش.

4. مجله حبل المتين،سال:محرم الحرام 1987م.

5. ناشاد ،فدا محمد،سفير ولايت،مجلس وحدت المسلمين پاکستان،2014م.

6. انٹرویو سيد حيدر موسوي ،فرزند ارشد سيد علي موسوي،در تاريخ 07/04/2017م.

7. انٹرویو سيد مظاهر موسوي، فرزند سيد علي موسوي،در تاريخ 05/04/2017م.

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه