بسم اللہ الرحمن الرحیم

یوں تو ہر انسان ابتدائی طور پر علم کی جانب بڑھنے کا شوق رکھتا ہے ان انسانوں میں کچھ انسان علم کی طرف بڑھنے کا زیادہ شوق رکھتا ہے پھر علوم میں بھی ہر انسان کی دلچسپی مختلف ہوتی ہے جس کی وجہ سے کوئی انجینئر بن جاتا ہے تو کوئی ڈاکٹر ،کوئی پائلیٹ بن جاتا ہے تو کوئی عالم دین البتہ ہر انسان کو عالم دین بننے کی توفیق نہیں ہوتا

مگر خدا خود انتخاب کرے دلیل یہ ہے کہ اس دور میں بھی انسان کو خود ایک وقت کا کھانا بڑی مشکل سے دستیاب ہوتا ہے اس دور میں ارض بلتستان سے بہت سارے علماء نجف اشرف(جو کہ مرکز علوم آل محمد ص تھا  ایک ہزار سال تک تشیع کا )کی طرف دین کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے ہجرت کی ان میں سے میرے والد محترم مرحوم ومغفور حجہ الاسلام والمسلمین آقای الشیخ علی نجفی تھے . جوکہ بچپن ہی سے والد کی شفقت سے محروم ہوگئے تھے اور خدا کے لطف وکرم یتیموں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے انہیں علم دین حاصل کرنے کی توفیق دی ،آپ کو علوم آل محمد سے بے حد عشق اور لگاو تھا لیکن گھر کی کی آمدنی اتنی نہیں تھی اور والد خود اپنے باپ کا بڑا بیٹا ہونے کی وجہ سے گھر کی پوری زمہ داری بھی اپنے کاندھوں پر تھی ،والدمحترم خود اکثر اوقات کہا کرتے تھے کہ گھر والوں کے مخارج زندگی کیلئے مزدوری وغیرہ کرتے تھے اور مزدوری کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف جگھوں پر اپنی علمی تشنگی بجھانے بھی جاتے تھے آپ نے ابتدائی تعلیم اسوقت کے عالم دین آخوند عباس صاحب (جو کہ طورغون کے ملا تھے )سے حاصل کی قرآن مجید ،صرف،نحو وغیرہ...اسی عالم دین سے سیکھا اس کے بعد آپ مذید تعلیم حاصل کرنے کیلئے اولڈینگ کھرمنگ کی طرف ہجرت کی وہاں پر آپ نے عالم دین حجہ الاسلام والمسلمین آقای شیخ حسین اور برولمو کے عالم دین حجہ الام والمسلمین شیخ علی صاحب سے مسلسل تین سال کسب فیض کیا اسی دوران بھی مزدوری بھی کرتے تھے تاکہ گھر کا خرچہ چلتا رہے . اس کے بعد آپ نے نجف اشرف جوار امیر المومنین ع کی طرف جانے کے ارادے سے کراچی تشریف لائے ،کراچی میں حسن ٹھکدار طورغن مشاہین آباد کے ہاں ٹھرتے تھے اور والد صاحب فرماتے تھے آپ عمارتیں تیار کرتے تھے ان عمارتوں میں پانی ڈالنے کے لیئے جاتے تھے پھر اسی مرحوم و مغفور ٹھیکدار نے انسانی ہمدردی کا دم بھرتے ہوئے کرایہ دیکر آپ کو نجف اشرف بھیجا گیا اس زمانے کا 20 ہزار روپیہ دیا گیا اور  والد صاحب اسوقت پانی کے جہاز کے زریعے مرکز علوم نجف اشرف تشریف لے گئے وہاں پر نو سال تعلیم حاصل کی ،مختلف مجتہدین و آیات عظام مثلا مرجع تقلید آیہ اللہ العظمی خوئی،محسن الحکیم وغیرہ سے فیض یاب ہوئے ،کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اپنے آبائی گاوں کے یعنی طورغن کے عمائدین نے جناب آیہ اللہ العظمی محسن الحکیم کو لیٹر لکھا جس میں بیان کیا کہ اسوقت ہمارے گاوں میں دفن و کفن ،نکاح وغیرہ کے لیئے کوئی مولانا نہیں ہے لھذا شیخ حسین علی مو جلد اجلد بھیج دیں .اسوقت آیہ اللہ العظمی محسن الحکیم  نے والد محترم کو اپنا وکیل مطلق بنا کر سر زمین بلتستان علاقہ طورغون کی جانب بھیجا ،اور والد مرحوم آج سے 44سال پہلے طورغن آئے اور آکر چالیس 40 سال تک دین کی تبلیغ و ترویج کا کام کرتے رہے والد صاحب کے دینی خدمات میں سے کچھ یہ ہیں 

1-سٹونسی تھنگ میں مدرسہ سجادیہ کے نام سے دینی تعلیم کا آغاز کیا اس مدرسے میں آپ نے سینکڑوں شاگردوں کی تعلیم و تربیت کی یہ مدرسہ اپنی زندگی کے چودہ سال تک چلایا اس کے بعد جسمانی کی کمزوری کی وجہ سے حوزہ چلا نہ سکے اس طریقے سے حوزہ افول کر گئے البتہ دینات سینٹر کی شکل میں ابھی بھی بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں 

2-دوسرا کام طورغن نرگاچو مرتضی آباد میں جمعہ و جماعت کا انعقاد کیا گیا جو ابھی تک  رایج ہے  اور اس کے علاوہ اپنے شاگردوں کو مختلف گاؤں پر دینیات سینٹر چلانے کی تشویق کرتے تھے اور ان کو کچھ شھریہ بھی دے دیتے تھے اس کے علاوہ والد صاحب کا ایک خاص امتیاز یہ بھی تھا کہ اہلبیت کی ماقورہ دعاؤں کے ذریعے لوگوں کا علاج کرتے تھے اور تعویز وغیرہ میں بھی مہارت رکھتے تھے،،،،،کے لوگ والد صاحب سے بڑی عقیدت رکھتے تھے خصوصا تعویز کے بارے میں ایک قول مشہور یہ تھا کہ شیخ حسین علی صاحب تعویز کے لئے قلم اٹھاتے ہیں ادھر مریض صحت یاب ہونا شروع ہو جاتا ہے یہ واقعا ایسا ہی تھا یہاں کے ہمارے طورغن کے علماء اس بات پر شاھد ہیں قبلہ والد صاحب کی دینداری و تقوی کی وجہ سے ہم دو بھائی طلبہ ہیں۔آخر کار سنت الھی کے تقاضے کے مطابق ہر انسان کو اللہ کی طرف پلٹ کر جانا ہے والد مرحوم بھی چند ماہ علیل رہے اور 21 رمضان المبارک 2014 کو اس دنیا فانی کو وداع کرکے رب حقیقی سے جا ملے۔ یہاں پر والد صاحب کے موت کا واقعہ ذکر کرنا اہم سمجھتا ہوں، میں بھی 2014 کے رمضان المبارک میں والد صاحب سے ملنے بلتستان گیا ہوا تھا۔ والد صاحب کی طبیعت 26 رمضان المبارک کو زیادہ خراب ہوئی 21 رمضان المبارک کو شام 5 بجے کے قریب والد محترم کی پیشانی سے بڑے بڑے پسینے رونما ہوئے اور اسی پسینے سے والد صاحب کا چھرہ نورانی ہوگی مسجد کے اندر رکھا اور صبح ہوتے ہی اولڈینگ سے لے کر کاکاش بالا تک تقریبا 10 گاؤں پر مشتمل عوام تشریح جنازہ کیلئے تشریف لائیں ہر ایک گاؤں والے مرثیہ امام حسین پڑھتے ہوئے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے تھے اور آخر کار جب سب جمع ہو گئے تو طورغن کے عالم دین آخوند الحاق آخوند صاحب نے جنازہ پر مصائب امیرالمومنین و امام حسین پڑھے اور روتے ہوئے کہا کہ ہاۓ آج طورغن والے یتیم ہوگئے جس طرح حضرت علی کی شہادت سے علم کے ستون گرگئے آج ہمارے وادی طورغن کے علم کے ستون ہم سے جدا ہو گئے اس کے بعد عوام نے نوحہ پڑھتے ہوئے جنازہ کو جلوس کی شکل میں قبرستان کی طرف لے گئے اور نماز جنازہ قم المقدس سے آۓ ہوئے اقاے حجت الاسلام و المسلمین آقا شیخ تقی ناصری نے پڑھی اس وقت والد کے شاگردوں کی بہت بڑی تعداد بھی تھی۔ شیخین میں سے آقا شیخ غلام علی متقی ، آقا آخوند اسحاق آخوندی آقا شیخ امتیاز مہدوی ، شیخ ابراہیم ناصری اور شیخ ابراہیم خلیلی موجود تھے۔

پس آخر میں دعا ہے کہ خداوند والد محترم کے تمام گناہوں کو بخش دے اور اہلبیت کے ساتھ محشور فرمائے۔

والسلام الکاتب فرزند شیخ حسین علی نجفی، محمد روح اللہ۔

تاریخ 11 مارچ 2018۔

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه