آپ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ نے علم و فضل سے سرشار سادات گھرانے میں ۱۹۳۰ءکی دہائی میں تھورگو پائین سکردو میں  آنکھیں کھولیں۔ آپ کے والد گرامی سید حسن الحسینی کا شمار اپنے وقت کے برجستہ اور نامور علما میں ہوتاہے، آپ کے والد بزرگوار   اپنے دور میں تبلیغ دین کے ساتھ ساتھ طب کے میدان میں بھی ید طولی رکھتے تھے اور غریب پروری ، مہمان نوازی تو آپ ہی کا خاصہ تھا۔

یہی وجہ ہے کہ مدت مدید گزرنے کے باوجود آج بھی آپ کا روضہ مبارکہ دن بہ دن لوگوں کی توجہ کا مرکز اور ان کی حاجات کی برآوری کا وسیلہ قرار پارہا ہے۔ سکردوسےکھرمنگ، شگر اور خپلو کی طرف جتنے لوگ روزانہ سفر کرتے ہیں وہ  آپ کی ضریح پر حاضری دیے بغیر  وہاں سے گزرجانے کو  اپنی بدبختی  کا سبب  اور سلب توفیق قرار دیتے  ہیں۔ بعض تو دنیا و مافیھا کی مصروفیات چھوڑ کر محض آپ کی بارگاہ میں حاضری کے لیے وہاں پہنچ جاتے ہیں،  آپ کی بارگاہ سے بہت ساروں کی حاجت روائی ، بہت سارے لاعلاج  مریض صحت یاب، بہت ساری مشکلیں حل اور بہت سارے اپنے سخت سے سخت امتحانات میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں  اور اب  بھی  یہ سلسلہ جاری و ساری  ہے۔ آپ کا روضہ اگر کسی بڑے شہر میں ہوتا تو شاید آج روزانہ ہزاروں کا جمع غفیر دکھائی دیتا اور آج کے مادی دور میں اطمینان و سکون کے متلاشیوں کو سکون قلب  بہم پہنچانے کا سامان ثابت ہوتا۔

آپ کے بھائی سید علی الحسینی مرحوم اور سید شمس الدین الحسینی مرحوم  دونوں بھی نجف اشرف  باب علم کی بارگاہ میں شرف تلّمذ پانے کے بعداوّل الذکر سیالکوٹ   احمد آباد قلعہ سوبھاسنگھ میں امام جماعت اور تبلیغ کے فرائض انجام دیتے رہے۔ جہاں آپ کا مدرسہ"مدرسہ قرآن و عترت" آج بھی  تشنگان علوم آل محمد کو معارف اہل بیت سے سیراب کررہا ہے۔ جبکہ آخر الذکر  نجف اشرف سے واپسی کے بعد سے اپنے آخری لمحات تک  اپنے ہی آبائی گاؤں تھورگو پائین میں دینی خدمات اور تبلیغی فرائض انجام دیتے رہے، آپ مسائل شرعیہ پر ید طولی رکھتے تھے، یوں آپ سخت سے سخت مسائل شرعیہ کی  بھی گھتیاں سلجھا دیتے تھے۔ 

ننیال میں آپ پاکستان کے مشہور و معروف  عالم دین آغا  سید حسن الموسوی (سید علی الموسوی کے والد گرامی)کے نواسے تھے۔آپ نے اپنی  ابتدائی تعلیم اپنے بابا سے ہی حاصل کی، قرآن مجید اور ابتدائی معارف دینی سے آشنائی کے بعد  آپ نے نر آغا سید مہدی کے حضور زانوئے تلمّذ خم کیا۔ اسی وقت کے رائج دینی کتابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد آپ نے اپنے گاؤں سے تبلیغ دین کا آغاز کیا۔کتاب کا مطالعہ تو آپ کا مشغلہ ہی تھا۔جب بھی فراغت ملتی تب آپ مطالعے میں مگن ہوجاتے۔ قرآن مجید میں آپ کو اتنی مہارت حاصل ہوگئی تھی کہ اگر  آپ کا کوئی شاگرد دورسے بھی کسی جگہ قرائت میں  اشتباہ کرتے تب آپ  فورا اسے ٹوک دیتے  تھے۔گوکہ آپ نے اپنے گھر کو ہی تعلیمات دینی کا مرکز بنائے رکھا تھا، یوں سینکڑوں افراد کو قرآن  و معارف دینی کی تعلیم دلائی، علاوہ ازیں   آپ قید حیات سے نجات پانے تک سرکاری سکول میں"مکتب ٹیچر" کے عنوان سے  قرآن و معارف اہل بیتؑ کی باقاعدہ کلاس لیتے رہے، بہت سارے معارف اہل  بیتؑ سے تشنہ افراد آپ کے پاس دینی مسائل پوچھنے آتے رہتے تھے۔

کئی مرتبہ ائمہ ہدی کی علیھم السلام  کی عتبات عالیات کی زیارت سے  بھی آپ مشرف ہوئے۔ اکثر دعائیں تو  آپ کو حفظ تھیں۔  آپ اپنا ذریعہ معاش خود چلاتے تھے اور گھریلو کاموں کے انجام دینے میں بھی کبھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے تھے۔ آپ تہجد گزار اور شب زندہ دار تھے۔ نماز تہجد، نافلہ صبح اور فجر کی نماز  کی ادائیگی کے بعد آپ روزانہ  دعائے توسل کا زبانی ورد کرتے تھے اور سحر خیزی تو  آپ کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی۔ آپ ہر ایک کے دکھ درد میں بھرپور شریک ہوتے۔  جو بھی بیمار پڑتا تب آپ مأثور دعاؤں کے ورد کے ذریعے ان کے لیے مسیحائےزمان ثابت ہوتے ۔ آپ نے اپنی زندگی میں حضرت علی ؑ کے اس فرمان کو عملی جامہ پہنایا:لوگوں سے اس طرح گھل مل کر رہو کہ اگر تم مرے تب لوگ  تم پر روئیں، اگر زندہ رہے تو وہ تمہاری زیارت کے مشتاق رہیں"  آپ کی بے لوث خدمات کے باعث یہاں کے باسی آپ سے بے حد محبت رکھتے تھے، شاید یوں کہیں تو مبالغہ نہ ہو کہ لوگ اپنے ماں باپ، بچوں اور عزیزوں  سے بھی زیادہ آپ کو چاہتے اور اپنے انفرادی امور کو بھی آپ کی مشورت کے بغیر انجام نہیں دیتے تھے۔ 

آپ نے اپنی پوری زندگی تبلیغ دین میں گزاری۔ آپ کی زبان کی تاثیر، خلوص اور فصاحت و بلاغت کے پہلو نے آپ کو پورے علاقے میں بے نظیر بنا دیا۔ آپ  سرفہ رنگاہ اور گمسطر کے بھی میر واعظ تھے، تبلیغ دین سے شغف کا یہ عالم تھا کہ اس زمانے میں مواصلاتی نظام کے نہ ہونے کے باوجود بھی آپ سرفہ رنگاہ، گمسطر نالہ جیسی دور افتادہ  جگہوں پر بھی بغیر کسی ہچکچاہٹ  اور حق زحمت کے ہر ولادت و شہادت ائمہ ہدی علیھم السلام  پر  گھنٹوں پیدل چلے جاتے اور لوگوں کو معارف اہل بیت ؑاور سیرہ ائمہ سے آشنائی فراہم  کرتے۔ علاوہ ازیں ہر فوتگی کے موقع  پر بھی تجہیز و تکفین کے لیے آپ وہاں   بہ نفس نفیس حاضر ہوجاتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی  آپ کی ان خدمات کی بدولت وہاں کے لوگوں میں دینی جذبہ ،دین سے آشنائی  اور اہل بیت اطہارؑ سے ان کی عقیدت مثالی ہے۔ آپ کی مقبولیت کے پیش نظر عرصہ دراز تک حسین آباد  میں بھی  آپ تبلیغ دین و خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔

 آپ امر بہ معروف و نہی از منکر کو کسی مصلحت کا شکار ہوئے  اور کسی کا خوف کھائے بغیر انجام دیتے اور معاشرتی برائیوں  کی ایک ایک کرکے نشاندہی کرتےتھے۔ آپ نے تبلیغ دین کو کبھی بھی سیاست کی بھینٹ چڑھنے نہیں دیا اور ممبر رسول کو صرف اور صرف لوگوں کی ہدایت  اور معاشرے کی اصلاح سے مختص رکھا۔ مصائب آل محمدؑ میں تو  آپ شہنشاہ مصائب تھے۔عشق آل محمد ؑ میں ہر سال شب عاشور آپ کی کیفیت ہی بدل جاتی  تھی،   دوران مصائب ممبر سے ہی  آپ اپنا چہرہ  پیٹتے اور پیشانی مبارک سے خون سرازیر ہوتے تھے۔ربط مصائب اور مرثیہ اور نوحے میں توازن کے عنصر کو مدنظر رکھ کر آپ ایسے بحر مصائب  میں وارد ہوجاتے کہ مصائب  کے اختتام تک  لوگوں پر غشی کا عالم طاری ہوجاتا تھا۔ آپ کے بعد دنیائے مصائب میں آج تک کوئی  اس خلا کو پر نہ کرسکا اور نہ ہی کوئی پر کرسکے گا۔ آپ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ جہاں آپ ایک بہترین مبلغ تھے وہاں بہترین ذاکر اہل بیتؑ بھی۔ بسااوقات ایک ہی مجلس میں آپ مرثیہ خواں بھی، خطیب بھی ، ذاکر بھی اور نوحہ خوان بھی ہوتے تھے۔ آپ جیسی  شخصیات میں نے اپنی زندگی میں بہت کم دیکھی ہے۔ 

آپ بہت ہی مہمان نواز، غریب پرور، سخی اور درد دل رکھنے والےانسان  تھے۔ آپ کا ہر کام  محض خدا  کی خوشنودی اور انسانوں کی فلاح  و بہبود کے لیے ہوتا تھا۔ائمہ ہدی علیھم السلام سے آپ کی دلی عقیدت ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ نے اپنے آخری لمحات بھی بارگاہ ملکوتی امام رضا ؑ میں گزارے،فروری۱۹۹۹ء سفر سے واپسی پر سکردو پہنچتے ہی آپ پر مرض قلب کا حملہ ہوا اور وہیں 10ذی القعدہ 1419 ہجری بمطابق 26فردوری 1999ء کو اپنے آبائی گاؤں پہنچنے سے پہلے ہی راہی ابد ہوگئے، سینکڑوں کی تعداد میں لوگ آپ کے استقبال کو آئے ، لوگوں پر ایسی کیفیت طاری ہوگئی کہ گویا ہر ایک اس دن اپنے حقیقی باپ سے جدا ہوگئے ہوں، آپ کے جنازے میں بھی کافی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی،  آہوں اور سسکیوں کے سائے میں  آپ کو اپنے آبائی گاؤں تھورگو پائین سکردو میں مرکزی امام بارگاہ کے سامنے دفنا دیا گیا، بعد ازاں آپ کی چہلم تک سینکڑوں کی تعداد میں لوگ روزانہ آپ کی قبر پر صبح سویرے  فاتحہ خوانی اور قرآن خوانی کے لیے حاضری دیتے رہے، آج بھی یہاں کے کسی بھی شخص کے سامنے جونہی آپ کا تذکرہ ہوتا ہے تو بے اختیار اس کے آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر بہنے لگتا ہے، ایسی مثالی زندگی اور مثالی موت ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔ میں خود تو سفر میں ہونے کے باعث میرے جد امجدکے غسل و تدفین میں شرکت سے محروم رہا لیکن ان کی روح کی یہ آواز میرے کانوں سے ٹکرا رہی تھی:

غسلِ میت نہ کہنا میرے غسل کو

          اُجل ملبوس کو مت کفن نام دو                                   

میں چلا ہوں علیؑ  سے ملاقات کو 

         جس کی تھی آرزو  وہ گھڑی آگئی

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه