تمہید
عالمی معاشرے کی سیاسی جدلیات کا اگر قرآن کریم کی رو سےجائزہ لیا جائے تو ایک ھی حقیقت سامنے آتی ھے جسے بجا طور پر حق وباطل کی ازلی پیکار کا نام دیا جا سکتا ھے جس کی طرف متعدد آیات میں اشارہ ملتا ھے جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر دو سو اکیاون میں، طالوت اور جالوت کے درمیان ھونے والے معرکہ کے ذیل میں ارشاد ھو رھا ھے )و لو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض و لکن اللہ ذو فضل علی العالمین((بقرہ، آیت251)۔ ترجمہ۔ (اگر اللہ لوگوں میں سے بعض کا بعض کے ذریعے دفاع نہ فرماتا رہتا تو زمین پر فساد برپا ھوجاتا لیکن خدا کا اہل عالم پر بڑا فضل ھے)۔

 

تمہید: فکروتدبرکاڈوبتاہواسورج,ہوس پرستی کی رینگتی ہوئی راتیں,موج مستی کی اٹھتی گھٹائیں ,غروروتکبرمیں تحکم کی کڑکتی بجلیاں ,غربت میں ایمان کےلڑزتےنشیمن ،ظلم واستبدادکی چلتی ہوئی سرکش آندھیاں,رقص وغناکی سجتی ہوئی محفلیں,غربت وحمیت کےچٹکتےہوئے فانوس,چراغ شرافت کی کانپتی ہوئی لو,اسلامی تہذیب وتمدن کی جلتی چتا,مگرنہ جانے یہ دلخراش وفلک شگاف نالےکسی کوسنائی کیوں نہیں دےرہےتھے? اسلام کےنام پرکوئی کیوں نہیں اٹھاتھا? کیوں کوئی بیکس کی فریادپرنہیں روکاتھا?کیوں آبادی سے بھراہواعالم قبرستان کاسناٹالئے بسیراپڑاتھا?کیوں اسلام پھرسےمحکوم اورظالم استعماری قوتیں حاکم تھیں؟

مقدمہ 

بیسویں صدی کے بڑے بڑے سیاسی و معاشرتی کارناموں اور اسلامی انقلاب کے واقعات میں مسلمان خواتین کی پوری قوت و شوکت کےساتھ شراکت نے اسلامی حلقوں میں عورتوں سے متعلق معاشرتی مباحث کے دائرے میں ایک نیا طرز فکر جنم دیا ہے آج دنیا کی آبادی کا نصف اعظم عورتوں سے تشکیل پایا ہے لہذا ان کی خصوصیات اور توانائیوں کی شناخت و پہچان انسانی حیات میں بڑا ہی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس اہمیت کے پیش نظر عصر حاضر میں خواتین کے کردار کو مثالی طور پر اجاگر کرنے والی شخصیت امام خمینی (رہ )کے فرامین اور نظریات کی روشنی میں خواتین کے مقام اور حقوق پر مختصر تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

مقام معظم رہبری فرماتے ہیں کہ!

امام خمینیؒ وہ روح اللہ تھے کہ عصاء  و ید بیضاء ، بیان و فرقان مصطفوی ؐ کے ذریعے مظلوموں کی نجات کیلئے کمر بستہ ہوگئے اور تخت فرعون کو ہلاکر رکھ دیا اور مستضعفان کے دلوں میں نورِ امید پیدا کیا۔[1]

ميرا دل درد سے پھٹاجا رہا ہے میں اس قدر دل گرفتہ ہوں کہ موت كے دن گن رہا ہوں اس شخص نے ہمیں بيچ ڈالا ہمارى عزت اور ايران كى عظمت خاک میں ملا ڈالی اہل ايران كا درجہ امريكى كتے سے بھى كم كر ديا گیا ہے اگر شاه ايران كى گاڑی كسى امريكى كتے سے ٹکرا جائے تو شاه كو تفتيش كا سامنا ہو گا ليكن كوئى امريكى خانساماں شاه ايران يا اعلى ترين عہدے داروں كو اپنى گاڑی تلے روند ڈالے تو ہم بے بس ہوں گے آخر كيوں؟ كيونكہ ان كو امريكى قرضے كى ضرورت ہے-

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه