تمہید: فکروتدبرکاڈوبتاہواسورج,ہوس پرستی کی رینگتی ہوئی راتیں,موج مستی کی اٹھتی گھٹائیں ,غروروتکبرمیں تحکم کی کڑکتی بجلیاں ,غربت میں ایمان کےلڑزتےنشیمن ،ظلم واستبدادکی چلتی ہوئی سرکش آندھیاں,رقص وغناکی سجتی ہوئی محفلیں,غربت وحمیت کےچٹکتےہوئے فانوس,چراغ شرافت کی کانپتی ہوئی لو,اسلامی تہذیب وتمدن کی جلتی چتا,مگرنہ جانے یہ دلخراش وفلک شگاف نالےکسی کوسنائی کیوں نہیں دےرہےتھے? اسلام کےنام پرکوئی کیوں نہیں اٹھاتھا? کیوں کوئی بیکس کی فریادپرنہیں روکاتھا?کیوں آبادی سے بھراہواعالم قبرستان کاسناٹالئے بسیراپڑاتھا?کیوں اسلام پھرسےمحکوم اورظالم استعماری قوتیں حاکم تھیں؟

وجہ یہی تھی کہ کسی کوبھی اللہ پرمکمل یقین نہ تھا,کسی نےبھی حقیقت کربلا کودرک نہیں کرسکاتھا,کوئی بھی انتظار کےمفھوم سے آگاہ نہ تھے.مگراسی سمے خمینی ایک الہی نمائندے کی حثیت سے دنیاکےمستضعفین کےحقوق کےلئے میدان کارذار میں کودپڑےاوردنیا کے مسلمانوں اورمستضعین کوشرف جھانی بخشااور اسلام کوایک نظامند دین کےطورپرمتعارف کروایا۔

پس عصرامام خمینی اور عصرامام حسینؑ کے حالات کاصحیح طورپرتجزیہ وتحلیل کرنے سے معلوم ہوجاتاہے کہ عصرامام خمینی میں بھی وہی عوامل واسباب موجود تھےجوکربلاکے وجودمیں آنے کاسبب بنےتھے۔

 اب ہم یہاں پرانقلاب خمینی  میں انقلاب حسینیکی جھلک کو ثابت کرنے کےلئے انقلاب خمینی کے ارکان ,عوامل واھداف اوراقدار وخصوصیات کاایک اجمالی جایزہ پیش کرنے کی کوشش کرینگےتاکہ حقیقت عیاں ہوجائے۔

ارکان انقلاب خمینی کےبنیادی

اللہ پرتوکل، کربلاشناسی، انتظارکےفلسفہ سےآگاہی   

یہ تین بنیادی ارکان ہیں کہ جن کی وجہ سےخمینی کےوجودمیں انقلاب کی روح پروش پائی ۔یہ ممکن ہی نہیں  کہایساالہی انقلاب ان تین ارکان پرآگاہی اورایمان کے بغیر رونماہو جائے۔کیونکہ یہی تین ارکان ہی ہیں کہ جن تک اگرکسی انسان کورسایی حاصل ہوجائےتووہ کبھی بھی گوارہ نہیں کرےگاکہ ایک ایسےغیرالہی حاکم اورنظام کےزیرسائے زندگی بسرکریں جس میں ظلم وبربریت کابازرگرم ہو,لھولعب معاشرے کی تمدن  اوربداخلاقی وفحاشیت معاشرے کی تہذیب بن چکی ہو۔

اللہ پرتوکل  

جب ایران کےحالات دگرگوں ہوگئےتوبڑےبڑے علما,دانشور,اورعوامی نمایندے مایوس ہوگیے,اس وقت امام خمینینے  فرمایا "گھبراونہیں اللہ کی نصرت آپ کےساتھ ہے آپ کامیابی سےہم کنارہونیگے,پس خداپرتوکل رکھنےکی ضرورت ہے جولوگ ماورائے طبیعت پرایمان رکھتےہو ان کےلئےشکست بےمعنی ہے کیونکہ موحدانسان شکست نہیں کھاتا۔(امام خمینی کی نگاہ میں تعلیم وتربیت)

کربلا شناسی 

امام خمینی انقلاب حسینی کےتمام عوامل واھداف اورحقیقت کربلاکی درست معرفت رکھتےتھے اسی لئےفرمایاجان لوکہ اس قوم کی "حیات وزندگی انہی مجالس عزا,اسلامی اجتماعات اورماتمی دستوں پرموقوف ہے" یعنی امام خمینی کا عزادری کومرکزتوجہ بنانافلسفہ سےخالی نہیں تھاکیونکہ وہ اس نکتہ کی طرف متوجہ کرناچاہتےتھےکہ امام حسین کومرکزتوجہ بناکر استعماری قوتوں کےظلم و استبدادکےخلاف قیام کرنے کی دعوت دیاجاسکتاہے یہی سیرت امام حسین کے بعد والے آئمہ اطہارکی بھی رہی ہے جیسے شرف الدین موسوی لکھتےہیں آئمہ "اطہارلوگوں کی توجہ امام حسین کی طرف مبذول کرا کےذکرامام حسین کواستعمار واستکبارکےخلاف بطورحربہ استعمال فرماتےتھے" (آمریت کے خلاف آئمہ کی جدوجہد) اس بات کی تائیدخود امام خمینی کےاس فرمان سےبھی ہوجاتی ہے"امام حسین کی یاد میں پرپاکی جانےوالی یہی مجالس ہیں کہ جو ہماری قوم کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں یہ مجالس لوگوں کی تربیت گاہ ہیں اوران سے لوگوں کی بہت زیادہ تربیت ہوئیہے۔(صحفہ امام ج11ص۴۵۳)

انتظار کے فلسفہ سے آگاہی 

قریب تھاکہ انتظارکا مفھوم خانقاہی اور گدانشینی کاروپ اپنالیتاکیونکہ بڑےبڑے علماوعرفااسلامی معاشروں میں یہ بھاورکراچکےتھے کہ زمانہ غیبت کبری میں معاشرتی اورسیاسی امورمیں حکمرانوں کے خلاف بولنایاقیام کرنا فتنہ وفسادپھیلا نے کاسبب بنے گا یہ وقت امام کی ظھورکےلئےدعاکرنے کاہے تاکہ امام خودآکرمعاشرےکےحالات کوخودسنبھال ینگے مگر امام خمینی نے انتظارکےگوشہ نشینی مفھوم کےروخ کوتحرک,آمادگی اورامام کی عالمگیر حکومت کےلئے زمینہ سازی کی سمت میں لےآیا۔ 

انقلاب خمینی کے عوامل واسباب 

اس زمانےکےایرانی حالات پرنظردورانےسے معلوم ہوجاتاہے کہ انقلاب خمینی کےلئے بہت سے عوامل کارفرماتھے مگر کچھ ایسےعوامل بھی تھے جوانقلاب حسینی کےوجود میں آنےکابھی سبب بنےتھے

جیسے امام حسین کافرمان ہے ان الدنیا قدتغیرت وتنکرت وادبرمعروفھا۔دنیاکاماحول اورحالات بدل گئےہیں اورجوسیدھے راستےتھےوالٹ گئے ہیں بھلائی,معروف اورنیکی نےپشت پھیرلی ہے اور برائیاں رہ گیی ہیں امام حسین کےاس خطبے میں انقلاب حسینی کے تمام عوامل واسباب واضح ہوجاتےہیں اسی کومدنظررکھتےہوئےہم خودبانی انقلاب کی نگاہ میں انقلاب کے عوامل واسباب میں سے دو،تین کومختصر طورپربیان کرینگے۔

اسلام کاحکومتوں کےزیراثرپنپنا

امام حسین کےقیام کابنیادی عامل یہ تھاکہ ظالم اورنااھل انسان اقتدارکی کرسی سنبھال کراسلام کواپنی مرضی کےمطابق ڈھال رہاتھاجیسے رہبرمعظم فرماتےہیں کہﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ؑﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﮐﻮ ﺍِﺳﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮯﻧﻈﺎﻡ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ’’ ﯾَﻌﻤَﻞُ ﻓِﯽ ﻋِﺒَﺎﺩِﺍﻟﻠّٰﮧِﺑِﺎﻻِﺛﻢِ ﻭَﺍﻟﻌُﺪﻭَﺍﻥِ ‘‘ ؛ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺳﺘﻢ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦؑ ﻧﮯ ﺍِﻥ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﯿﺎ.جیسے خودامام حسین نے بھی واضح طورپرفرمایاہے کہ "جب یزیدجیسا مسلمانوں کاحاکم بن جائےتواسلام پرفاتحہ پڑھ لیناچاہیے۔

اس کامطلب بھی یہی تھاکہ اب اسلام ازآدنہیں رہےگابلکہ اسلام غلامی اورپست افکار کےساتھ مخلوط ہوجائےگا یہی عامل انقلاب خمینی کابھی سبب بناکیونکہ خمینی کاانقلاب اس زمانےمیں رونماہوا جس میں اسلام مختلف حکومتوں کےزیراثرپنپ رہاتھا خاص کرایران میں اسلام کوایک حربے کےطورپراستعمال کرکےعالمی استکبار اسلامی ممالک میں اپنا پنجہ گھاڑناچاہ رہاتھا جس کاٹھیکہ آج سعودی عرب نےلےرکھا ہے۔لیکن خداوندمتعال کا وعدہ ۔یریدون ان یطفئون نوراللہ بافواھھم ۔یہ نورخداوندکوپھونکوں سےبجھادیناچاہتےہیں ،ویابی اللہ الاان یتم نورہ ولوکرہ الکافرون ۔لیکن خدااپنےنورکوپایہ تکمیل تک پہنچاےگااگرچہ کافروں کوناگوارگزرے اس وعدےکوخداوندمتعال نے خمینی کےزریعے سےپوراکیا جیسےامام خمینی خودفرماتےہیں ہماراانقلاب "انفجار نورہے۔

معاشرتی بےراہ وروی 

اس وقت کےایرانی معاشرےکی بےراہ وروی کےحوالےسے برصغیرپاک وہندمیں یہ بات مشھورہےکہ انقلاب سے پہلے دنیاجہاں کےعیاش پسند لوگ اپنی خواہشات کوپوراکرنے ایران کی طرف روخ کیاکرتےتھے جیسے امام خمینی خودبھی فرماتےہیں "آج تہران میں جتنے بھی عیاشی کےمراکزہیں ان کی تعداد یہاں پرموجود لائبریریوں اورتعلیم وتربیت کےمراکز سے کئی گناہ زیادہ ہیں اور اس کےزریعے سے یہ لوگ نوجوانوں کو مختلف طریقوں سے بےکارکردیناچاہتےہیں تاکہ ہ ہماراملک غیرملکی نافع کےسامنے بےبس اور بےطرف ہوکربیٹھ جائیں۔(صحیفہ ج نور ص۸۵۴) 

پہلوی حکومت کا اسرائل کی حمایت کرنا

عالمی استکباریہودیوں کی عالمگیرحاکمیت کی پہلی اینٹ گھاڑنے کےلئے مسلم ممالک سےتائیدلےکراسرائیل کو رسمیت دیناچاہتاتھااوراس وقت کی پہلوی حکومت پسےپردہ اس کےلئے آمادہ تھی مگرامام خمینی نے اس خطرےکوپھانب کراس رازکوعوام کےسامنے پیش کردیا اور فرمایا "شاہی حکومت نےایران کواسرائیل اخباس کی صندلی میں تبدیل کردیاہےاوردوسری درپردہ حمایتیں حاصل کرنےاورعالمی رائے عامہ کوفریب دینےکےلئے ظاہری طورپراسرائیل کی مذمت کررہی ہے ایران کی مسلمان قوم اورکوئی بھی مسلمان بلکہ ہرازآدی منشاانسان اسرائیل کوتسلیم کرنےکےلیے تیارنہیں ہےاورہمیشہ اپنے عرب وفلسطینی بھائیوں کےحامی وناصررہیں  گیے

(نورج۱ صحیفہ ص ۷۴)امام خمینی کےاس انکشاف کےبعدپہلوی حکومت مزید عوامی حمایت کوکھوبیٹھی اوریوں انقلاب کےلئے ایک کرن اور طلوع ہوگیی۔ 

انقلاب کےعاشورائی خمینی اھداف 

قیام حسینی کےاھداف کوکلی طورپردیکھا جائے توانقلاب کااصل محورومرکز دواہم بنیادی اھداف :ایک توحید کی بقاء اوردوسراسیرت پیامبراورامام علی کومعاشرے میں نافذ کرنا تھا اسی طرح انقلاب خمینی کےتمام پہلوکابغورمطالعہ کرنے کےبعدیہ بات واضح ہوجاتی ہےکہ امام خمینی بھی انہیں دواھداف کے حصول کےغرض سے اٹھےتھے جوحکومتی دباو,اقتصادی دباو,یااجتماعی دباو کےتحت عکس العمل ظاہرہواوہ انقلاب کےزمرے میں شمارہی نہیں تھے ۔بلکہ انقلاب کےاھداف ان سے کئی گنابالاترتھے۔جس کی تصدیق اس فرمان سے بھی ہوجاتی ہے "بنانیست کہ ایران بماند بنااست کہ اسلام بماند۔

لاالہ الااللہکی بقاء

انقلاب خمینی کاپہلاھدف کلمہ لاالہ الااللہ کوزبانوں سےنکال کرعملی بناناتھا.کیونکہ یہ انقلاب ایک ایسے دورمیں رونماہواجس میں طاغوت ہرسمت سے متحرک تھااور امت مسلمہ آستینوں میں بت چھپائے ۔اللہ ہو۔کےذکرمیں مشغول تھی اس وقت طاغوت مطمئن تھا۔کیونکہ اسے۔اللہ  ہو۔سےدشواری اوررکاوٹ  پیش نہیں آرہی تھی ۔بلکہ وہ اوربھی اس امت کوذکروفکرخانقاہی میں مست رکھنے میں مگن تھا۔مسلمانوں کے ایسے جمودحالات میں ۔سفمن یکفربالطاغوت ویؤمن باللہ  ۔کے مصداق بن کرخمینی نےلاالہ الااللہ کاشعاربلندکیا.اوریہ وہی درس حریت تھاجسے خمینی نےکربلاسے لیاتھاکہ حقاکہ بنالاالہ است حسین۔ 

ولایت  کےسیاسی پہلوکواجاگرکرنا     

امام حسین کی معنوی ولایت کے سب قائل تھے لھذا اماحسین سیاسی امورمیں ولایت نافذکرنے کےلئے نکلےتھے کیونکہ اسلامی معاشرے کی سیاسی بھاگ، دوڑ ایک ظالم,فاسق اورفاجر شخص کے ہاتھ میں تھی ۔المناک بات یہ تھی کہ ہرمتدین شخص گوشہ نشین تھا کسی کوبھی مسلمانوں کےسیاسی اور معاشرتی حالات کی فکرنہیں تھی اور وقت کےامام کےہوتےہوے اس فرعون صفت انسان کی حکومت کےزیرسائے زندگی گزارنے میں خوش تھے,یا پھرسہمے ہوئے تھےاورنہ  ہیامام حسین کے ساتھ دینےکےلئے تیارہوے یہی غلطی کربلاکے بعدوالی امتوں نے بھی دھرایا جس کی وجہ سے ہمارےباقی آئمہ بھی اس امورسے محروم رہے مگرانقلاب خمینی نے ولایت کوجوایک تھیوری بن کرتھی اسے کتابوں سےنکال کر سیاسی زعامت اورقیادت کےطورپر عملامتعارف کروایا جودنیاکی نظاموں کےمقابلے میں ایک الہی نظام "نظام ولایت فقیہ"کے نام پہ سامنے لےآیا۔

انقلاب خمینی کےعاشورائی اقدار 

انقلاب خمینی کے دواہم اقدار جوپوری دنیاکے مسلمانوں اوراسلامی ممالک کےلئے اسوہ عمل ہیں جن پرعمل کرکے حریت فکرکےعلمبردار بن کر جیی سکتےہیں  

ستم ناپذیری 

ستم ناپذیری اصل کربلائی اقدار ہے کیونکہ کربلایی تعلیمات نے ہی ظلم کے خلاف قیام کرنافرض اور ظلم کوبرداشت کرناجرم جاناہے۔

پس امام خمینی نےبھی ظلم سہنے کوجرم اور اس کے خلاف قیام کوواجب قراردیا تھاکیونکہ پہلوی حکومت ایرانی عوام پر ہرقسم کے ظلم ڈھانے پراترآئی تھی اس نےہرسمت سےعوام کاگہرا تنگ کیاتھا ایران تمام اقتصادی,تعلیمی اورمعاشرتی طورپرمفلوج ہوچکاتھا ظلم کی انتہا تویہ تھی کہ قریب تھا ایرانی حکومت ہی مکمل طورپراغیار کےقبضے میں چلی جاتی مگر امام خمینی نےاس سازش سےعوام کوآگاہ کرکےفرمایاکہ "ایران کی خودمختاری چھین لی گی ہے یہ ملک اغیارکےاشاروں میں چل رہاہےاس وقت 20سے ۴۰ اور ایک قول کےمطابق ۸۰ہزار امریکی مشیرموجودہیں جن کےپاس تمام قدرت وطاقت ہیں" یوں خمینی نےسہمی ہوئی قوم کوظلم کےخلاف اوآز اٹھانے اورقیام کرنے پرابھارا اور کربلا کےحقیقی وارث ہونے کاعملی ثبوت پیش کردیا۔ 

 طاغوت  سےانکار پرڈٹےرہنا 

لہوکاآخری قطرہ زمین پر ٹپکنےتک ظالم سے نبردآزما ہونےکادرس بھی تاریخ بشریت میں کربلاسے ہی منسوب ہے۔

 آج کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوریہی سمجھی جاتی ہے کہ ظالم قوتیں جب ان پرظلم ڈھاتی ہیں تو ستم ناپذیری کاثبوت دینے لگتے ہیں مگران کےپاس ایک بابصیرت,نڈر اورالہی قیادت نہ ہونے کی وجہ سےظلم کے خلاف اٹھنےوالی تحریکوں کاروخ ظالم سے سازبازاورسمجھوتہ کرنے کی طرف مڑ جاتاہے جس کی وجہ سےمعاشرہ پھرسےظلم وبربریت کاشکار رہتاہے۔مگر ایرانی قوم کےلئے ایک ایساعظیم لیڈر ملاجس نےہر ایک ایک پل میں ظالم اوران سے سمجھوتہ کرنے والوں کوٹھوکراتاگیا جب شاہ نےبعض علماکی طرف سے لکھے گیے خطوط کاجواب ہاں میں دیےکر مطالبات کی منظور کاعندیہ دےدیاتوامام خمینی نے کھلاخط لکھ کر واضح کردیاکہ "تم کتناچالاک اورمکارہوتحریک میں نےچلائی ہے مطالبات دوسروں سےپوچھتےہوتم مجھ سےپوچھوکہ میرےمطالباتکیاہیں میرامطالبہ یہ کہ تیرامنحوس وجودایران سے ہی ختم ہوجائےتیرےہوتےہوئےبات نہیں بن سکتی۔

انقلاب خمینی عاشورایی کی دواہم خصوصیات 

 اسلام اورخدا محوری 

ﺍﻧﻘﻼﺏ خمینی کی ایک اہم خصوصیت اس کااسلام اورخدامحورہوناہے۔ 

 ایران کےقانون اساسی کےآرٹیکل  چھپن میں ہےکہ عالم اورانسان پرحاکمیت مطلق  خداکی ہےاوراسی نےانسان کواس کی اجتماعی تقدیرپرحاکم بنایاہے بانی انقلاب کےوصیت نامہ میں اس طرح آیاہےہم جانتےہیں کہ اس عظیم انقلاب نےجوستمگروں اورجہاں خوارون کےوجودکوایران سےدورکردیاہےوہ الہی تائیدات کےزیرسایہ کامیانی سےہمکنارہواہے۔(صحیفہ امام ج۲۱) اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہےکہ بانی انقلاب کی نگاہ میں ایران ایک بہانہ تھااصل مقصد اسلام کی عالمگیر حاکمیت کی بنیاداور اس کےترویج کے اسباب فراہم کرکے دنیاکے مستضعین کےحقوق کےلئے اوآز بلندکرناتھا جیسے مسلمانوں کےعالمی حالات پر تبصرہ کرتےہوے امام خمینی نےدنیاکےطاغوت حکمرانوں کےنام یہ پیغام دےدیاتھاکہ "ہم تہران,بغداد,آبادان وبصرہ کےدرمیان کوئی فرق نہیں سمجھتے,دنیاکےجس خطےپرمسلمانوں کےدردکی اوآز نہیں ہے ہم پرلازم ہےکہ ان کی مددکریں اگرفرانس کےاندرکسی مسلم پرظلم ہوتوایساہی ہےجیسےایران کےاندرہمارےکسی عزیزپرہوااور فلسطینی کی حمایت میں کہتےہیں  کہہم اپنی طاقت وسائل کے زریعے غاصب اسرائیل سے اسلامی زمینوں کوازآدکرانےاوراس کےمظالم کوختم کرنےکےلئےہم ہمیشہ فلسطینی بھائیوں کی حمایت کرتےہیں" (جہان اسلام امام خمینی کےاثارمیں ص نمبرص۱۱)

مسلمانوں کوکربلائی تشخص بخشنا

مسلمان مختلف قوموں اور فرقوں میں بٹ کراپنی خودی اورپہچان کوفراموش کرچکے تھے جیسے علامہ سید جوادنقوی لکھتےہیں علامہ اقبال کےنزدیک مسلمان اپنی خودی وشناخت بھول چکے تھے مسلمانوں نےوہ ادائیں اپنالی تھی جوان کی اپنی نہیں تھی اورمغربی تہذیب یادیگرتہذیبیں ان پراثرانداز ہوئی تھیں جنہوں نےمسلمانوں سےاپنی اسلامی خودی,اسلامی شخصیت,اوراسلامی شناخت چھین لی تھی جس سے نکلنے کےلئے خودی کی شناخت کی ضرورت تھی۔

(مشرب ناب ج 40اسرار خودی کا مفھوم لیاہے یہ اصل متن نہیں ہے (

لیکن آج کےعالمی حالات سے واضح ہوجاتاہے کہ انقلاب خمینی نے جو چیز اسلام اورمسلمانوں کوبخشاہے وہ تشخص اورپہچان ہے مختلف قوموں اورفرقوں میں بٹ کراپنی خودی کو فراموش کرجانے والی امت مسلمہ انقلاب خمینی کےبعدایک متحدکربلائی اوراسلامی امت بن کرمختلف ممالک ,فلسطین ,یمن,شام بحرین,عراق ,نجیریااور پاکستان میں وقت کےیزیدیوں اورفرعونیوں کےخلاف برسرپیکارہیں اورآج جوبھی شیعہ ,سنی اسلام اور مسلمانوں کےحقیقی خیرخواہ ہیں وہ اپنے کو کربلایی اور خمینی انقلاب سے منسوب کرنے پرہی فخرمحسوس کرتےہیں۔  

انقلاب خمینی کےآفاقی اورجاویدانی اثرات  

جس طرح انقلاب حسینی نے کمزوراورمستضعین کےدلوں میں ظالم قوتوں سے نبرد آزماں ہونے کاجذبہ پروان چڑھایاہےاسی طرح انقلاب خمینی نےبھی بڑےاچھے اندازمیں رہتی دنیاتک کےلئے یہ اثرچھوڑاکہ نجات کاواحد اورابدی راستہ اسلام کےاصولوں پر عمل پیرا ہوکرہی ممکن ہےجیسے ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮﺍﯾﻦ ﮈﯼ ﺧﺎﻥ شیعہ نیوزکوانٹریودیتےہوے کہتے ہیں "حضرت امام خمینی نےکسی ایک دین،ایک زمانے،یاایک مخصوص خطےکےلئےجدوجہدنہیں کی تھی وہ توایک نظریاتی تبدیلی دےکرگئےہیں۔ان کی لائی ہوئی نظریاتی تبدیلی جاری وساری ہےاوررہےگی اورمستقبل میں بھی آ دیکھیں گےکہ اس کے مثبت اندازمین نتائج برآمدہونگے۔(شیعہ نیوز ویب سایٹ) 

تلخیص

ﺍﻧﻘﻼﺏ خمینی ﮐﮯ ارکان ,عوامل واھداف,اقدارو خصوصیات اورآفاقی نتائج کامختصر جائزیہ لینےکے بعدیہ واضح ہوجاتاہےکہ  عاشورائی تہذیب اورامام حسین ؑ کی نہضت کی جھلکیاں جیسےشہادت طلبی،باطل سےہمیشہ ٹکڑاو،طاغوت سےپیکار،رضائےکی پیروی،مصالحہ مسلمین ،اورامربالمعروف ونہی عن المنکر جیسی عاشورائی خصوصیات انقلابخمینی میں موجود تھے جس کی وجہ سے قلیل وسائل کےباوجود اپنے ھدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا اوریوں پھرایک مرتبہ جہان اسلام میں انقلاب حسینی کی ایک جھلک دیکھنےکوملی۔

وفقکم اللہ والسلام علیکم ورحمت اللہ  وبرکاتہ

مندرجہ ذیل کتابوں سے رہنماٗیی لی گیی

مصنف نام کتاب شمارہ نمبر

القرآن الکریم 111

امام خمینی صحیفہ نور(سایٹ اسلامی دانلود) 2

آقاسیدجوادنقوی اقدار عاشورا 3

جمعی ازمحققان  المصطفی رھیافتی بہ منظومہ فکری   امام خمینی ورہبرمعظم 4

غلام علی رجائی امام  خمینی بزبان امام خمینی 5

موسسہ تنظیم ونشرآثار امام خمینی امام خمینی کی نگاہ میں تعلیم وتربیت 6

انتشارات تسنیم ناشرکتب دیدگاھای امام خمینی درساھای ازامام عدالتخواہی 7

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه