آیت اللہ العظمی سید حسین طباطبائي بروجردی (بارہ سو بانوے سے تیرہ سو اسی ھجری قمری ) چودھویں صدی ہجری کے بزرگ علماء میں شمار ہوتے ہیں

آپ بروجرد کے ایک عالم و فاضل گھرانے میں پیدا ہوے آپ کے والد حاج سید علی بروجرد کے بزرگ علماء میں شمار ہوتے تھے آپ کے بزرگوں میں بہت سی ہستیاں دینی قیادت اور مرجعیت کے مقام پر فائزتھیں ان میں علامۃ سید مھدی بحرالعلوم طباطبائي ،علامہ سید علی طباطبائي صاحب ریاض المسائل اور ان کے بیٹے سید محمد مجاھد اورسید محمد کاظم طباطبائي یزدی صاحب عروۃ الوثقی اور سید محسن طباطبائي حکیم ہیں ۔

بروجردی طباطبائي خاندان کی معروف علمی خاندانوں سے رشتہ داری ہے ان خاندانوں میں علامہ محمد باقر مجلسی علیہ الرحمۃ اور علامہ وحید بھبھانی اور سید احمد قزوینی جد سادات قزوینی حلہ وغیرہ ہیں ۔

آيت اللہ بروجردی مجلسی اول مولی محمد تقی کو جد کہا کرتے تھے اور مجلسی دوم محمد باقر کو خالو کہتے تھے ۔

آیت اللہ بروجردی نے علم و تقوی کے ماحول میں تربیت پائي اور سات سال کی عمرمیں مکتب میں قرآن ،عربی ادب اور منطق کا درس حاصل کرنا شروع کیا ،اٹھارہ سال کی عمرمیں یعنی تیرہ سو دس ہجری قمری میں اس زمانے کے مشہور علمی مرکزاصفھان گۓ اور بزرگ اساتذہ سے کسب فیض کیا اصفھان میں آپ نے دس سال تک تعلیم حاصل کی اور عظیم علمی مدارج پر فائزہوئے اصفھان میں تین اساتذہ نے آپ کو اجازہ اجتھاد دیا آپ نے علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ فقہ و اصول کی تدریس بھی شروع کی آپ کے درس میں علماء و فضلاء کی ایک تعداد شرکت کیا کرتی تھی ۔

آیت اللہ بروجردی تیرہ سو بیس ھجری قمری میں نجف اشرف گۓ اور بزرگ علماء جیسے محمد کاظم خراسانی ،شیخ الشریعہ اصفھانی اور سید محمد کاظم یزدی کے سامنے زانوے ادب تہ کیا اور بہت کم مدت میں اپنی علمی صلاحیتوں کی بناپر نجف اشرف میں مشہور ہوگۓ اور طلاب و اساتذہ کی توجہ کا مرکزبن گۓ ۔

آیت اللہ بروجردی کو تیرہ سواٹھائيس قمری میں والد کے اصرارکی بناپر وطن واپس لوٹنا پڑا ،واپسی کے بعد آپ چھتیس سال تک اپنے وطن میں قیام پذیر رہے اس دوران آپ نے بے پناہ علمی و سماجی خدمات انجام دیں ۔

آیت اللہ برجردی نے اپنے وطن میں ایک حوزہ علمیہ کی بنیاد رکھی جس نے دین و ملت کی گرانقدر خدمات انجام دی ہیں بروجرد میں آپ نے سید محمد کاظم یزدی کی کتاب عروۃ الوثقی پر مختلف علماء کے حاشیے لگاے اور شاگردوں کے اصرارپر اسے طبع کروایا اس گرانقدر کتاب کے طبع ہونے کے بعد علمی حلقوں میں اس کی کافی پذیرائي ہوئي ۔

آیت اللہ بروجردی کا ایک اہم کارنامہ گمراہ فرقے بھائيت کا مقابلہ کرکے خطہ میں اس کی بیخ کنی کرنا ہے ۔

آیت اللہ بروجردی علمی وتحقیقی کاموں کے علاوہ عالم اسلام کے مسائل اور مسلمانوں کے سماجی امور سے کبھی غافل نہيں ہوۓ آپ جوان طلباء کومفید کتابوں کی تالیف و ترجمہ کی ترغیب دلایا کرتے تھے اسی طرح غیر اسلامی ملکوں میں تبلیغ کی غرض سے غیر ملکی زبانوں کوسیکھنے پر بھی زور دیا کرتے تھے آپ بہت سے ملکوں میں اپنے نمائندے بھی بھیجا کرتے تھے ۔

آیت اللہ بروجردی نے شیخ محمد تقی قمی کو مصر بھیجا جوکہ اھل سنت کا مرکزسمجھاجاتاہے ۔

مصر میں دارالتقریب کی بنیادرکھی تاکہ مذھب امامیہ سے دیگر ملکوں کے طلباء کو آشنا کرایا جاسکے اسی اقدام کا نتیجہ ہے کہ اس وقت کے شیخ الازھر شیخ محمود شلتوت نے ایک فتوی جاری کرکے شیعہ مذھب کی پیروی کو صحیح قراردیا،اس کے بعد مصر میں شیعہ علماءکی کتابیں طبع ہونا شروع ہوئيں اور اھل سنت کے بعض معروف علماء و دانشوروں نے شیعہ مسلمانوں کے تعلق سے معتدل رویہ اپنانا شروع کیا ۔

مرحوم آیت اللہ بروجردی کاکبھی نہ فراموش ہونے والاکام علماء ماسلف کی کتابوں اور آثار کا احیاء ہے ۔

آیت اللہ بروجردی نے وسائل الشیعہ جیسی عظیم کتاب کے نقائص دور کرنے کے لۓ ایک جامع منصوبہ پیش کیا اور آپ کے شاگردوں نے آپ کی رہنمائي میں جامع احادیث الشیعہ کے نام سے بے نظیر کتاب لکھنا شروع کی جس کی پہلی جلد ان کی حیات میں ہی طبع ہوئي جبکہ کئي جلدیں ان کی وفات کے بعد شايع ہوئيں اور بعض جلدیں تیار ہورہی ہیں ۔

آيت اللہ بروجردی کے علمی کارناموں میں ایک اہم کام راویوں کے حالات کی تحقیق ان کے طبقات کی شناخت اور ہرراوی کی تعدادروایات معین کرنا ہے آپ نے برسوں تک اس کام پر محنت کی ان ہی زحمتوں کے نتیجے میں علم رجال کی نہایت مفید کتاب سامنے آئي ہے جو اھل علم کے لۓ بے حد مفید ہے ۔

فقہ و اصول میں آيت اللہ بروجردی کی کتابوں کی فہرست مندرجہ ذیل ہے ۔

عروۃ الوثقی پر حاشیہ

شیخ طوسی کی کتاب الخلاف پر حاشیہ

کفایۃ الاصول کی شرح ،یہ کتاب شیخ بھاالدين بروجردی نے آيت اللہ بروجردی کے درس اصول سے مرتب کی ہے ۔

تقریرات بحث درس خمس ،سید عباس ابوترابی نے یہ کتاب مرتب کی ہے ۔

تقریرات بحث صلاۃ الجمعہ و صلاۃ المسافر

الفقہ الاستدلالی

مجمع الرسائل پر حاشیہ

توضیح المسائل ۔

آيت اللہ بروجردی نے اپنی بابرکت زندگي میں بہت مسجدیں اور امام بارگاہ اور کتب خانے تعمیر کرواے تھے جن میں سے بعض کےنام یہ ہیں ۔

حرم حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیھا سے متصل مسجد اعظم

کتب خانہ مسجد اعظم

نجف اشرف میں ایک مدرسہ جو حرم امیرالمومنین سے قریب ہے

سامرا میں ایک حمام اور ایک مدرسہ

جرمنی کے شہر ھامبورگ میں مسجد امام علی علیہ السلام

آیت اللہ بروجردی نے ایران اور دیگر ملکوں ميں بہت سے مدرسوں اور مسجدوں اور اسپتالوں کی مرمت کروائي ۔

اس عالم ربانی اور فقیہ صمدانی کا انتقال دس فروردین تیرہ سو چالیس ھجری شمسی مطابق بارہ شوال تیرہ سو اسی ھجری قمری کو ہوا اور آپ کی روح مبارک اپنے اجداد طاہرین سے جاملی

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه