حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد حضرت آیت ‌الله سید محمد علی علوی گرگانی نے نوجوان طلاب سے ملاقات میں بیان کیا : سن نوجوانی حساس منزل ہے اگر کوئی شخص کسی مقام تک پہوچنا چاہتا ہے تو اسی زمانہ سے اس کی کوشش شروع کر دینی چاہیئے ۔



انہوں نے وضاحت کی: نوجوانی وہ سن ہے کہ خدا کی تکلیف اس پر عائد ہوتی ہے ؛ شخص کو چاہیئے کہ وہ نوجوانی سے بلوغ کی منزل تک پہوچتا ہے اس وقت اپنے زندگی کے راستہ کو مشخص کر لے۔ 

قم میں حوزہ علمیہ کے مشہور استاد نے اس اشارہ کے ساتھ کہ نوجوانی کا زمانہ بہت ہی بہتر زمانہ ہے کہ انسان خاص کر علوم دینی کو حاصل کرے بیان کیا : کم عمر میں علوم دین کا حصول پتھر پر نقش بننے جیسا ہے اور بوڑھاپے میں اس علم کا حصول پانی پر نقش بننے کے جیسا ہے ۔

انہوں نے حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے وضاحت کی : جوانی کے عمر میں درس حاصل کرو اور محنت سے پڑھائی کرو ؛ کیونکہ اس عمر میں مطالب و مباحث ذہن میں باقی رہتے ہیں ۔ 

حضرت آیت ‌الله علوی گرگانی نے خداشناسی کے سلسلہ میں تاکید کرتے ہوئے بیان کیا : جہان تک ممکن ہو دینی امور کے حصول میں کوشش کیجئے اور خداشناسی و معرفت شناسی میں اضافہ کریں

انہوں نے یاد دہانی کرتے ہوئے بیان کیا : خداوند عالم کی معرفت ، مقصد خلقت کے سلسلہ میں تفکر کرنے کا سبب ہے اور شخص اس نتیجہ پر پہوچتا ہے کہ دنیا صرف کھانے ، پینے اور سونے کے لئے نہیں ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے استاد نے اس بیان کے ساتھ کہ جب شخص خدا کے حکمت کے سلسلہ میں فکر کرتا ہے تو تخلیق کی عظمت بھی حاصل کرتا ہے بیان کیا : انسان کی تخلیق کا مقصد خدا کی بندگی اور عالی مقام کا حصول ہے ، جس شخص کی معرفت جس حد تک ہوگی اس کی بندگی و اخلاص بھی اسی کے مطابق ہوگا ۔

انہوں نے وضاحت کی : خداوند عالم کے تمام امور حکمت کے مطابق ہے جس طرح اس نے انسان کے بدن کے تمام اعضاء کو بھی حکمت کے مطابق بنایا ہے جس حد تک ہمارے علم میں اضافہ ہو اسی مقدار ہمارے خدا شناسی میں بھی ترقی ہونی چاہیئے ۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه