سوال : آپ کے نزدیک ایک مسلمان نوجوان کی کیا تعریف ہے؟ اس میں کیا خصوصیات ہونی چاہئیں؟ ایک نوجوان کو اپنی زندگی کا راستہ کیسے طے کرنا چاہئے اور اپنے مقصد تک کیسے پہنچا چائے؟

جواب: یہ راستہ طےے کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے، یہ جو آپ نے سوال میں شرط لگادی ہے اس نے میرے لئے جواب کو قدرے مشکل بنادیا ہے ۔ کسی بھی سنجیدہ کام کو انجام دینا آسان نہیں ہوتا۔ اگر انسان چاہتا ہے کہ کسی قیمتی چیز کو حاصل کرے تو زحمت اور کوشش تو کرنا ہی پڑے گی جہاں تک نوجوان کے خصوصیات کا تعلق ہے تو میرے نزدیک تین خصوصیات ایسے ہیں کہ اگر ان پر توجہ ہو اور انہیں صحیح سمت دی جائے تو میرا خیال ہے کہ آپ کے سوال کا جواب ڈھونڈنا آسان ہوجائے گا۔ وہ تین خصوصیات یہ ہیں: توانائی، اچھی امید، اختراع یا ایجاد۔

یہ جوان کے نمایاں خصوصیات ہیں۔ اگر ذرایع ابلاغ خواہ وہ ٹی وی کی صورت میں ہوں یا تعلیمی اداروں کی صورت میں۔ خواہ مذہبی مقررین کی صورت میں ہوں یا علمی اور ثقافتی مفکریں کی صورت میں۔ یہ سب اگر ان تین خصوصیات کو صحیح طریقے سے سمت دیں تو میرا خیال ہے کہ جوان بڑے آرام سے اسلامی رسم و راہ کا پابند ہوجائے گا۔ کیونکہ اسلام بھی ہم سے جس چیز کا تقاضا کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو بروے کار لائیں۔

قرآن میں بھی ایک بنیادی نکتہ بیان ہوا ہے اور وہ تقوی پر توجہ دینا ہے۔

جب لوگ تقوی کا تصور کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں نماز، روزہ، عبادت، ذکر، دعا وغیرہ آتے ہیں۔ ممکن ہے یہ سب چیزیں تقوی میں شامل ہوں لیکن ان میں سے کوئی بھی تقوی کا مفہوم ادا نہیں کرتی۔ کیونکہ تقوی یعنی اپنا خیال رکھنا، تقوی یعنی ایک انسان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کیا کررہا ہے۔ اپنے ہر فعل کا ارادہ فکر اور فیصلہ کے ساتھ انتخاب کررے اس شخص کی طرح جو ایک گھوڑے پر بیٹھا ہے، گھوڑےے کی لگام اس کے ہاتھ میں ہے اور اسے معلوم ہے کہ مجھے کہاں جانا ہے۔ یہ تقوی ہے جس شخص کے پاس تقوی نہیں ہے اس کے افعال، اس کے فیصلے اور اس کا مستقبل اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔

نہج البلاغہ کے مطابق اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے ایک سرکش گھوڑےے پر بٹھادیا گیا ہو نہ کہ خود سے اس پر بیٹھا ہو اور اگر خود سے بھی بیٹھا ہوا تو اسے گھڑسواری نہیں آتی ۔ لگام اس کے ہاتھ میں ہے لیکن معلوم نہیں کہ کیا کرنا ہے۔ معلوم نہیں کہ کہاں جانا ہے، جہاں گھوڑا لے جائے یہ بھی وہیں جائے گا۔ اور کسی طرح بھی نجات ممکن نہیں۔

اگر ہم تقوی کے اس مفہوم کو ملحوظ رکھیں تو میرا خیال ہے راستہ آسانی سے طے ہوجائےے گا۔ پھر بھی بالکل آسانی سے طے ہونا۔یہ ایک عملی راستہ ہے نوجوان اسلامی زندگی بسر کرنے کا راستہ اختیار کرے۔دین کو پہچانے، دیکھے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ یہ عمل ، یہ بات، یہ دوستی، یہ فکر ٹھیک ہے یا ٹھیک نہیں؟

اس کا ہر قدم پر سوچنا کہ عمل ٹھیک ہے یا ٹھیک نہیں، یہی تقوی ہے اگر وہ دیندار نہ بھی ہو تو اس طرح سے سوچنا اسے دین تک پہنچادے گا۔ قرآن کریم میں ہے۔

ہدی للمتقین یہ کہا ہدی للمومنین کیونکہ اگر مومن کے پاس تقوی نہ ہوتو شاید یہ ایمان پائیدار نہ ہو اور آگےے ا کی قسمت ہوگی اگر اچھا ماحول میسر آگیا تو ایمان پر باقی رہے گا اور اگر اچھا ماحول نہ ملا تو چونکہ اس کے پاس تقوی نہیں ہے۔ اس لءے وہ اپنے ایمان کو بھی کھودے گا۔

پس اگر ہم ان تین خصوصیات کو تقوی کے ساتھ استعمال کریں اور انہیں صحیح سمت دیں تو میرے خیال میں جو ان آسانی سے ویسی ہی زندگی گزار سکتا ہے جیسی اسلام پسند کرتا ہے۔ خصوصا اب جبکہ ہمارا ملک بھی اسلامی ملک ہے، یہ بہت اہم چیز ہے۔

حکومت، یعنی اس قوم کا اقتدار اسلام کے ہاتھ میں ہے۔ جن لوگوں کے پاس ذمہ داریاں ہیں، اسلام پر تہ دل سے اعتقاد رکھتے ہیں عوام کے دلوں میں بھی ایمان راسخ ہے۔ لہذا مسلمان بننے اور مسلمان رہنے کیلئے فضا بالکل ہموار ہے۔

ایک اور چھوٹی سی مثال دے کر آپ کے سوال کے جواب کو ختم کرتاہوں۔ افسوس کہ آپ نے جنگ کے عروج کا زمانہ نہیں دیکھا، آپ نے جنگ نہیں دیکھی، اس پر افسوس نہیں ہے بلکہ اس بات پر افسوس ہے کہ آپ زمانہ جنگ کی چند بہترین خصوصیات کو نہیں دیکھ پائے۔ اس وقت آپ ہی کی عمر کے اٹھارہ بیس سالہ لڑکے ، لطافت اور معنوی پاکیزگی کے لحاظ سے ایک چالیس  سالہ عارف کے مقام کو حاصل  کر لیتے تھے۔

اس طرح کی کئی مثالیں زمانہ جنگ میں دیکھنے کو ملتی تھیں۔ اس زمانہ میں جب اس طرح کے جوانوں سے ہمارا سامنا ہوتا تو میں پوری عاجزی و انکساری کے ساتھ ان سے ملتا تھا۔ یہ انکساری و فروتنی ایک سچے جذبہ کے ساتھ ہوتی تھی کیونکہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایک آدمی جب کسی بڑے کے سامنے جاتا ہے اور اس کے کمالات کا مشاہدہ کرتا ہے تو تب اپنی کمزوریوں کا بھی اندازہ کرسکتا ہے۔ اسی طرح کا ماحول ہی کچھ ایسا تھا کہ ایک عام جوان اپنے آپ کو اس حد تک بدل سکتا تھا۔

آپ جانتےے ہیں کہ آج کی دنیا میں جوان طبقےے کی جو حالت ہے ریب گروپ، فلاں گروپ، فلاں گروپ، ہزاروں قسم کی اخلاقی و فکری برائیوں سے لبریز۔ آج کے دور میں ان جوانوں کو ہزاروں قسم کی مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ ہمارےے زمانے میں بھی اس قسم کی چیزیں تھیں مثلا اس دور میں "بیستل" گروپ نامی ایک گروپ تھا۔ میں نے سنا ہے کہ اس کے ممبر اب بڑھاپے میں پہنچ گئے ہیں کچھ عرصہ پہلے ایک غیر ملکی رسالے میں ان کا قصہ چھپا تھا کہ "بیستل گروپ" کے لوگ آج کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ روحانی مشکلات اور نفسیاتی پیچیدگیوں نے آج انہیں گھیر رکھا ہے۔ جن لوگوں نے پس ماندہ ممالک میں ان کی دیکھا دیکھی اندھی تقلید شروع کردی تھی، نہیں جانتے کہ وہ لوگ خود کن مشکلات میں گرفتار ہیں۔ وہ سمجھتےے ہیں کہ ان کی پیروی کرنے سے ترقی کر جائیں گےے، یہ ترقی نہیں تنزلی ہے۔ جس دور میں دنیا اس طرح کے مسائل  میں پھنسی ہوئی تھی ہمارےے نوجوان جوانی سےے سرشار، سربلندی اور حقیقی سعادت کو اپنے دل  کی گہرائیوں سے میں سموئے ، واضح اہداف لئےے اپنی ذمہ داریوں کی بجا آوری میں کوشاں نظر آتے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کس کی خاطر کر رہے ہیں۔ الحمد اللہ اس دور میں جوان اس حقیقی اور معنوی بلندی سے سرشار تھھے جو خدائےے متعال  نے انہیں عطا کی تھی۔

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location
طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه