سوال: آپ کا جوانی کا دور کیسا گزرا؟

جواب: وہ زمانہ آج کے دور کی طرح نہیں تھا، بہت بری حالت تھی۔ اس وقت جوانی کا دور کوئی اچھا دور نہیں تھا۔ صرف میرے لئے ہی نہیں کہ ایک دینی طالب علم تھا بلکہ سبھی جوانوں کیلئے وہ کوئءی اچھا دور نہیں تھا۔ کیونکہ نوجوانوں پر توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ بہت سی صلاحیتیں نوجوانوں کے اندر ہی دفن ہوجاتی تھیں یہ سب کچھ ہمارا آنکھوں دیکھا حال ہے۔ دینی مدارس کے ماحول میں بھی اور اس کے علاوہ یونیورسٹیوں مین بھی۔ عرصہ دراز سے میرا تعلق یونیورسٹی، سے بھی رہا ہے، وہاں بھی ویسا ہی ماحول تھا ممکن ہے ان طالبعلموں کی صلاحیتیں اپنے مضامین میں اس قدر زیادہ نہ ہوں لیکن دوسری بہت سی صلاحیتیں ان میں موجود تھیں لیکن کوئی ان پر توجہ نہیں دیتا تھا۔

انقلاب سے پہلے میری جوانی کا زیادہ تر حصہ نوجوانوں کے ساتھ گزرا ہے۔ انقلاب جب آیاتو میری عمر تقریبا انتالیس برس تھی۔ سترہ، اٹھارہ سال کی عمر سے لے کر اس وقت تک میرا اٹھنا، بیٹھنا جوانوں کے ساتھ تھا، خواہ ان کا تعلق حوزہ سے ہو یا یونیورستی سے جس چیز کا اس وقت شدت سے احساس ہوتا تھا یہ تھی کہ رضا شاہ پہلوی کی سیاست کچھ ایسی تھی کہ جوان پستی میں گرتے جاتے تھے، صرف اخلاقی پستی ہی میں نہیں بلکہ شخصیت اور انفرادیت بھی پستی کا شکار تھی۔

میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ شاہی حکومت نے جان بوچھ کر ایسی حکمت عملی وضع کی تھی کہ ملک کے نوجوان پستی کا شکار ہوجائیں۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو اور ممکن ہے ایسا نہ ہو۔ لیکن ایک بات بہر حال مسلم ہے وہ یہ کہ ان کی ایک حکمت عملی تھی اور حکومت کو کچھ اس انداز میں چلارہے تھے کہ جس کے نتیجہ میں نوجوان پستی کا شکار ہوجائیں اور سیاسی مسائل سے دور رہیں۔

آپ اس بات کا یقین کریں گے کہ میرے ہم عمر تقریبا بیس سال کی عمر کے جوانوں کو حکمرانوں کے نام تک معلوم نہ ہوتے تھے کہ کون کون حکومت کررہا ہے؟

آج آپ میں سے کوئی ایسا ہے جسے وزیر تعلیم کا پتہ نہ ہو؟ جو وزیر خزانہ کو نہ جانتا ہو یا اسے صدر کا علم نہ ہو؟ آج ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی سب کو یہ باتیں معلوم ہیں لیکن اس وقت سبھی طبقات جن میں جوانوں کا طبقہ بھی شامل ہے، سیاسی امور سے مکمل طور پر غافل تھے۔ جوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ روز مرہ کی زندگی تھا، کچھ روٹی کے چکر میں تھے، کچھ روزی کمانے کیلئے سخت محنت کرنے پر مجبور تھے۔ لیکن ساری کمائی صرف کھانے پینے پر ہی خرچ نہیں ہوتی تھی، ادھر ادھر کی اور بہت سی چیزیں ہوتی تھیں۔

اگر آپ لاطینی امریکہ اور افریقہ کے بارے میں لکھی گئی کتابوں پر ایک نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ ہمارا بھی حال وہی تھا لیکن یہ کہ ایران کے بارے میں لکھنے کی کسی میں جرات نہیں تھی۔ لیکن افریقہ، شیلی یا میکسیکو کے بارے میں بہت کچھ لکھاگیا ہے۔ میں جب ان کتابوں کو پڑھتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ ہماری حالت بھی ویسی ہی تھی یعنی ایک جوان مزدور جب سخت محنت کے بعد ایک شاہی (دھیلا) کماتا تو آدھا پیسہ عیاشی اور آوارہ گردی میں خرچ ہوجاتا تھا۔ ان باتوں کو ہم ان کتابوں میں پڑھتے تھے اور حقیقت میں اپنے معاشرے میں موجود پاتے تھے۔ واقعی اس زمانے میں بہت بری صورتحال تھی اس وقت جوانی کا دور بہت بر دور تھا۔ ہاں کچھ جوانوں کے دلوں کے اندر ایک دوسری صورتحال بھی تھی۔ کیونکہ نوجوان بہر حال بنیادی طور پر پاک، پاکیزہ، نیک امیدوں اور جوش و جذبہ کا حامل ہوتا ہے۔

میں خود بھی ایک جوشیلا جوان تھا۔ انقلاب شروع ہونے سے پہلے بھی ادبی اور فنکارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے میری زندگی میں جوش و خروش تھا۔ 1341 (1962) میں جب انقلابی جہاد شروع ہوا تو بھی ویسا ہی جوش تھا۔ اس وقت میری عمر 23 سال تھی 1342 (1963) میں دو مرتبہ مجھے گرفتار کیاگیا۔ گرفتاری، تفتیش اور پوچھ گچھ، یہ سب کچھ انسان کے جوش و جذبہ میں اور اضافے کا باعث ہوتے ہیں۔ پھر جب انسان آزاد ہوتا ہے اور اپنی عوام کو دیکھتا ہے جوکہ اس طرح کے مسا۴ل میں دلچسپی رکھتی ہے اور امام خمینی جیسی شخصیت کو دیکھتا ہے جو ان کی قیادت کر رہی ہے اور قدم قدم پر ان کے افکار کی اصلاح کر رہی ہے تو یہ جوش اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ تھی مجھ جیسے ان لوگوں کی زندگی جو ان حالات میں زندہ رہتے اور غور و فکر کرتے تھے ان میں بہت زیادہ جوش و خروش تھا۔ لیکن باقی سب لوگوں کو یہ جوش و جذبہ نصیب نہ تھا۔

جوان کی فطرت میں، چونکہ جوشیلا پن موجود ہے۔ یعنی ایک زندہ دلی سرشاری کی کیفیت اس میں موجود ہے، اس لئے ہر ایک چیز میں اسے مزا آتا ہ۔ ایک جوان جب کھانا کھاتا ہے تو لذت محسوس کرتاہے، گفتگو کرتا ہے تو لذت محسوس کرتا ہے، آئینہ دیکھتا ہے تو لذت محسوس کرتا ہے، سیروتفریح سے لذت محسوس کرتا ہے شاید آپ یقین نہیں کریں گے کہ انسان جب اپنی جوانی کے دن گزار چکتا ہے تو وہ مزہ جو آپ آج محسوس کرتے ہیں وہ ہرگز محسوس نہیں کرتا۔ اس جوانی کے دور میں ہمارے بزرگ کبھی کبھی کوئی بات کرتے تو ہمیں حیرت ہوتی تھی کہ یہ ایسا کیوں سوچتے ہیں؟ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ، نہیں، ان کی بات درست ہوتی تھی۔ لیکن میں نے مکمل طور پر ابھی تک اپنے آپ کو جوانی سے الگ نہیں کیا ہے۔ آج بھی اپنے اندر جوانی کی ان کیفیات کو محسوس کرتا ہوں اور کوشش کروں گا اسے قائم رکھوں۔ الحمد اللہ اب تک قائم رکھا ہے اور آئندہ بھی قائم  رکھوں گا۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو برھاپے کے حوالے کر دیا ہے وہ اپنی زندگی کے مختلف حالات میں شوق کے ساتھ کام انجام نہیں دے سکتے۔ شاہ کے دور میں کچھ ایسی ہی فضا تھی۔ ایسا نہیں کہ ہرگز افسردگی کا ماحول تھا بلکہ اس دور میں غفلت اور بے خبری کا دور دورہ تھا اور عزت نفس نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔

اس زمانے میں جبکہ ہم انقلابی جہاد جیسے مسائل میں پوری طرح ڈوبے ہوئے تھے اس بات سے غافل نہیں تھے کہ کس طرح جوانوں کو شاہی حکومت کے ثقافتی حملوں سے محفوظ رکھا جائے۔ میں خود بھی مسجد جایا کرتا تھا اور تفسیر کا درس دیتا تھا۔ نماز کے بعد تقریر کرتا تھا، کبھی کھبی چھوتے شہروں اور دیہاتوں کی طرف نکل جاتا اور وہاں تقریریں کرتا۔ ہماری توجہ کا اصل مرکز یہ تھا کہ نوجوانوں کو شہنشاہی حکومت کے ثقافتی چنگل سے رہائی دلوائی جائے۔

اس وقت ہم اس کو نظر نہ آنے والا ایسا جال کہا کرتے تھے، جوکہ سب کو ایک طرف کھنچے چلاجارہا ہے۔ ہماری کوشش یہ تھی کہ جہاں تک ہوسکے اس جال کی رسیاں کاٹی جائیں اور جوانوں کو اس سے نجات دلائی جائے۔ جو شخص بھی اس فکری جال سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوجاتا اس کی پہچان یہ تھی کہ اول تو وہ دین کا پابند ہو جاتا اور دوسرے امام خمینی کے افکار سے نزدیک ہوجاتا تھا۔ یہ دو چیزیں اب اس کے لئے ایک طرح سے برائیوں کے خلاف ڈھال بن جاتیں۔ اور انہی لوگوں کے ذریعہ سے بعد میں انقلاب کامیاب ہوا۔ آج بھی ہم ان لوگوں کو پہچانتے ہیں، کون کس کے ساتھ تھا اور کن افکار کا حامل تھا۔

بہر حال آج کے دور میں آپ کو بہتر فضا میسر ہے۔ میرے کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آج تمام سہولیات میسر ہیں اور تمام چیزیں جیسی ہونی چاہئیں ویسی ہی ہیں۔ لیکن اس زمانے کے مقابلے میں آج حالات بہت بہتر ہیں اگر ایک نواجوان اچھی زندگی گزارنا چاہے اور اپنی شخصیت اور عزت نفس کو پہچاننا چاہے تو میرے خیال میں اس کیلئے یہ سب ممکن ہے۔

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه