جنرل قاسم سلیمانی بعد از شہادت
موت تجدید مذاق زندگی کا نام ہے
خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے۔
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی
یہ ہے شام زندگی صبح دوامِ زندگی    (علامہ اقبال)
کائنات کی متفق علیہ حقیقتوں میں سے ایک بڑی حقیقت موت ہے یعنی موت کا آنا، ہر ذی روح کے لیے موت کا واقع ہونا، دنیا کا ہر انسان موت کے یقینی ہونے پر ایمان رکھتا ہے چاہے وہ کسی دین و مذہب کا قائل ہو یا نہ ہو اگرچہ ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے موت نہ آئے مگر اپنی تمام تر خواہشوں اورتمناؤں کے باوجود موت کے آنے پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ یہ کائنات کی ایک ناقابل انکار اور اٹل حقیقتوں میں سے ایک ہے جس سے کسی کو مفر ممکن نہیں۔

3جنوری 2020 کو ٹرمپ نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عراق کی سرزمین پر ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کو اپنے ساتھوں سمیت بڑی بے دردی سے شھید کروایا، پوری دنیا کے انصاف پسند لوگوں نے اپنی بساط کے مطابق امریکہ کے اس بہیمانہ اقدام کی بھرپور مزمت کی ،انہوں نے مختلف طریقوں سے وائٹ ہاوس تک یہ پیغام پہنچادیا کہ امریکہ نے اس ناروا اور احمقانہ حرکت کے ذریعے اپنے لئے موت کا گڑھا کھودا ہے ،اس مجرمانہ اقدام نے اس کی بزدلی کو ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے عیاں کردیا ہے ، ہنر یہ نہیں ہے کہ کوئی دوسرے ملک کی سرزمین پر چڑ دوڑ کر اپنے حریف کو نشانہ بنائے ، اسے بہادری نہیں کہا جاتا ہے بلکہ عقلاء عالم کی نظر میں یہ ناتوانی اور لاچاری کی انتہا ہے ، اس پر مستزاد یہ بین الاقوامی قانون کی سراسر خلاف ہے لہذا اس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہےـ

شہادت کا درجہ بہت بلند ہے، یہ ہرکس وناکس کو نصیب نہیں ہوتا، اس عظیم مقام کو پانے کے لئے انسان کو بڑی محنت اور ریاضت کرنا پڑتی ہے، تمام آلودگیوں سے اپنے نفس کو پاک کرکے راہ خدا میں اخلاص سے جہاد کرنے کے نتیجے میں ہی انسان شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوسکتا ہے، اگر کرہ ارض کے مسلمانوں کو حقیقی معنوں میں شہادت کی فضیلت اور شھید کے عظیم مقام کا ادراک ہوجائے تو وہ سارے شہادت کی آرزو لے کر میدان جہاد میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی ضرور کوشش کرتے ـ

سردار سلیمانی ایک بے نظیر اور عظیم شخصیت تھے آپ ایران کے سپاہ پاسداران کے القدس بریگیڈ کے کمانڈر تھے اس عہدے پر تقریبا 22سال یعنی شہادت تک فائز رہے۔
آپ کو زندگی میں اتنی عزت ملی جتنی عزت شاید ہی کسی کو نصیب ہوئی ہو۔ رہبر انقلاب نے آپ کو زندہ شہید کا لقب دیا تھا۔ آپ واقعی معنوں میں اشداء علی الکفار رحماء بینھم کا مصداق تھے۔ آپ نے استکباری طاقتوں کی نیند حرام کردی تھی جبکہ مسلمانوں اور دنیا کے مستضعف لوگوں کے لئے انتہائی مہربان تھے۔ ان کی آزادی اور ان کے تحفظ کی خاطر آپ نے اپنی پوری زندگی، جہاد میں گزار دی۔
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم۔
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن۔

جب زمانہ جاہلیت میں عورت کو زندہ دفن کیا جاتا تھا تو عورت کو حقارت کی نطر سے دیکھا جاتا تھا اس وقت پیامبر اکرم ص پر سب سے پہلے ایمان لانے والی ملیکہ العرب جناب سیدہ خدیجہ بنت خویلد نے اسلام کیا قبول اور اپنا سب کچھ اسلام کی خاطر قربان کر دیا.
اسلام کی دوسری خاتون جناب سیدہ فاطمہ زہرا س نے اپنے پیارے بابا اور امیرالمومنین علی ع کی اسلام کی خاطر ہر قدم پر مدد کی حتی کہ اولین شہیدہ ولایت کا قرار پائیں

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه