مقدمہ:

حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کےبارے میں کچھ لکھنا عام انسانوں کی بس کی بات نہیں اس عظیم شخصیت کےبارے میں گفتگو کرنےکے لئے  صاحب عصمت اور عالی بصیرت کا حامل ہونا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر آپؑ کے وجود کو کوئی درک نہیں کر سکتا ۔آپ کے فضائل اور مناقب خدا وندمتعال،  رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلماورائمہ معصومین علیہم السلام ہی بیان کر سکتے ہیں  ۔

کتاب فضل تراآب بحر کافی نیست

کہ تر کنم سر انگشت و صفحہ بشمارم

معاشرہ افراد سے وجود میں آتا ہے ـ معاشرے کی خوبی اور بدی کا میزان اس میں سانس لینے والے افراد ہے بنابرین جیسے افراد ہوں گے ویسا ہی معاشرہ ہوگا اس میں دورائے نہیں ـ

تجربہ طولانی پکار پکار کر یہ اعلان کررہا ہے کہ امریکہ کسی ملک کا خیر خواہ ہرگز نہیں ـ اس نے جس ملک کے ساتھ بھی دوستی کے لئے ہاتھ بڑھایا ہے بالآخر اسے سر اٹھانے کے قابل نہیں رکھا  جس کا موجودہ آشکارا نمونہ سعودی عرب ہے ـ امریکہ کی دوستی وقتی اور عارضی ہوتی ہے ، وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے مختلف ملکوں کے سربراہوں سے  اظہار محبت ضرور کرتا ہے مگر مفادات حاصل کرنے کے بعد یا اپنا مقصد پورا نہ ہونے کی صورت میں وہ انہیں نابود کرنے کو اپنا مسلمہ حق گردانتا ہے ـ

یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ الله تعالی نے ہر انسان کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت عطا کی ہے لیکن اس خداداد صلاحیت کو پروان چڑھاکر مرحلہ قوت سے مرحلہ فعلیت میں لے آنے کا اختیار پروردگار نے انسان کو دے رکھا ہے ـ یہی وجہ ہے کہ افراد بشر کی عمر آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کی استعداد میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے ، بعض بے پناہ صلاحیتوں کا مالک بن جاتے ہیں تو کچھ کی صلاحتیں بہت محدود ہوتی ہیں ، وجہ یہ ہوتی ہے کہ جن لوگوں کی صلاحیتوں کی درست تربیت ہوچکی ہوتی ہے وہ قوی ہوتے ہیں ، ان کی صلاحتیں فعال ہوتی ہیں ، وہ نت نئی چیزوں کو ایجاد اور اختراعات کرنے پر قادر ہوتے ہیں لیکن اس کا برعکس جن افراد کی صلاحیتوں کی صحیح خطوط پر تربیت نہ ہوئی ہو ان کی صلاحیتیں سکڑ جاتی ہیں ، وہ رشد ونمو کے قابل نہیں رہتی، درنتیجہ ایسے افراد کی صلاحیتیں محدود دائرے کے اندر کام کرسکتی ہیں ـ

بدا٫کے لغوی معنی مخفی اور پنہان ہونے کےبعد ظاہرو آشکار ہونا ہیں ۔جب یہ لفظ انسان کے لئے استعمال ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ کسی شخص پر کوئی شئے مخفی وپنہان ہونےکےبعد ظاہرو آشکارہوجائے۔ خداوند متعال کے لئے اس قسم  کا معنی محال ہے  کیونکہ خدواند متعال اپنی ازلی اور ناقابل تغییر علم کے ذریعے سب چیزوں کےبارے میں علم رکھتا ہے لہذا ارادہ الہی  ہمیشہ کے لئے تغیر وتبدل ناپذیر ہے ۔

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه