پاکستان کی ترقی کے خواہاں افراد کے لئے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کے رازوں کا عمیق مطالعہ کرناضروری ہے ـ ان کی کامیابی اور ترقی کے رازوں میں سرفہرست تعلیم کو اہمیت دینا ،جوانوں کی فکری صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کرنا،اداروں میں لائق وباصلاحیت افراد کا چناو کرکے بھرتی کرنا، ملک کے داخلی وبیرونی دشمن عناصر کے ناپاک عزائم سے آگاہ رہنا سمیت یہ راز بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے

 

اسحاق کندی عراق کے دانشوروں اور فلاسفہ میں سے تھا اور لوگوں میں علم،فلسفہ اور حکمت کے میدان میں شہرت رکھتا تھا لیکن اسلام قبول نہیں کرتا تھااور اُس نے اپنی ناقص عقل سے کام لیتے ہوئےفیصلہ کر لیا کہ قرآن میں موجود متضاد و مختلف امور کے بارے میں ایک کتاب لکھے کیونکہ اُس کی نظر میں قرآن کی بعض آیات بعض دوسری آیات کے ساتھ ہم آہنگ اور مطابقت نہیں رکھتے ہیں

 

نواسہ رسول ؐ نئےسال کی ابتدامیں ہی کربلا میں پہنچ کر خیمہ زن ہو چکے تھے ۔نہ صرف نواسہ رسولؐ بلکہ رسول خدا کے اہل بیت ؑ اور دیگر رشتہ دار بھی کربلا کے میدان میں پہنچ کر مستقبل قریب کے منتظر تھے ۔زمین کربلا مضطرب دکھائی دے رہا تھا جبکہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم و با وفادار اصحاب  راز و نیاز اور دعا و مناجات میں مصروف نظر آرہے تھے ۔

 

وہ ملک جس کا نظام قرضے کے سہارے چلتا ہے کھبی بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہوسکتا، ملکی پیشرفت کے لئے آذادی اور استقلال بنیادی شرط ہے جس کے بغیر ترقی ممکن نہیں ـ 

آذادی کے مقابل والی صفت کا نام غلامی ہے، یہ ایک ایسی بدترین صفت ہے جو انسان، ملک یا قوم کو قعر مذلت میں گرادیتی ہے ـ جو قوم یا ملک اغیار کی غلامی پر ناز کرتا ہے وہ کھبی بھی سربلند ہوکر سکھ کا سانس لے سکتا ـ

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے وزارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد دو بارسعودی عرب کا دورہ کیا ہےـ دوسرے دورے کے بعد وزیر اعظم نے اپنی قوم سے خطاب کیا جس میں انہوں نے اپنے سعودی دورے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا سعودی عرب ہمیں نو ارب تیل فری میں دینے کے علاوہ تین ارب ڈالر قرضہ دینے کے لئے آمادہ ہوا ہےـ یہ خبر پورے پاکستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ـ دوسرے دن یہ خبر تمام ملکی وقومی اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بن گئی اور مختلف تجزیہ نگاروں نے اس پر مختلف زاویوں سے تجزیہ وتحلیل کرنے کی کوشش کی گئی ـ

بعض نے لکھا سعودی عرب نے پاکستان کو قرضہ دے کر ایثار اور فداکاری کا مظاھرہ کیا ہےـ  کچھ نے کہا سعودی عرب پاکستان کا صمیمی دوست ملک ہونے کی وجہ سے قرضہ دیا ہےـ بعض کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ہمارا مذہبی ملک ہے وہ پاکستان کو قرضہ دے کر اسے اقتصادی بحران سے نکالنے کا خواہاں ہے وو...... یوں پاکستانی قوم کی اکثریت سعودی قرضے کو خوشحال پاکستان کی علامت قرار دے کر خوشی کا مظاھرہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ـ لیکن دنیا کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والوں کے لئے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ سعودی عرب اس وقت اپنے غلط کرتوت کے سبب پوری دنیا کے سامنے رسوا ہورہا ہےـ وہ دنیا میں سفارتی تنہائی کا شکار ہورہا ہے  ـہر باشعور انسان سمجھتا ہے کہ سعودی عرب تین سالوں سے یمن پر وحشیانہ بمباری کرکے اپنی سفاکیت اور درندگی کا مظاھرہ کررہا ہےـ ترکی میں قلمکار جمال قاشقچی کے بدن کے ٹکرے ٹکرے کرواکر سعودی عرب اپنے  امریکی آقا صدر ڈولنڈ ٹرمپ تک کی مزمت سے بچ نہیں سکا ـ خصوصا جب سے امریکی صدر کا یہ بیان منظر عام پر آیا ہے کہ سعودی عرب ہماری بیساکھیوں کے بغیر دوہفتے بھی نہیں چل سکتا ہے سعودی حکمرانوں کی پریشانیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور وہ کسی حد اس بات کی جانب متوجہ ہوگئے ہیں کہ ہم امریکہ واسرائیل کے مہرے بنے ہوئے ہیں، ان  کی دوستی ان کے اپنے مفادات سے وابستہ ہے جو کسی بھی وقت ختم ہوسکتی ہے ،جس دن انہوں نے اپنا دست شفقت ہمارے سروں سے اٹھالیا اس دن ہماری موت یقینی ہےـ

 لہذا سفارتی تنہائی سے نکلنے اور  دنیا والوں کے ذہنوں میں پیدا ہوئی نفرت کو ختم کرنے کے لئے   سعودی عرب نے پاکستان کو قرضہ دیا ہے تاکہ پاکستان سعودی عرب اور اس سے متنفر ممالک کے درمیان ثالثی کرکے اسے سفارتی تنہائی سے باہر نکالنے میں کردار ادا کرےـ اس کے علاوہ اتنی خطیر رقم قرضہ دینے کے مقاصد میں سے ایک ہدف یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر سعودی عرب نے مدارس کے نام سے جو دہشتگردی کے جال پھیلائے ہوئے ہیں انہیں حکومت آزاد رکھے اور ان مدارس سے نکلے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف کچھ کاروائی نہ کرے اس پر شاہد یہ ہے کہ وزیر اعظم کی زبانی سعودی قرضے کی نوید سنانے کے چند روز بعد ایک تکفیری گروہ نے برسر عام جلسے میں شیعہ کافر کا نعرہ لگایا ...

 اب عمران خان نے سعودی عرب سے قرضے لے کر اس کی غلامی قبول کرلی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یمن کے حوالے سے وہ کیا رد عمل دکھائیں گے؟ بہت سارے احتمالات ہیں اور ہر احتمال میں پاکستان کے لئے داخلی وخارجی نقصان مضمر ہے ـ سب سے خطرناک غیر تلافی نقصان اس صورت میں ہوگا کہ اگر وہ خدانخواستہ یمن کے اندر سعودی عرب کی مدد کے لئے پاکستان سے فوج روانہ کردئیے جائیں گےـ لہذا پاکستانی حکمرانوں کو پانی سر سے گزرنے سے قبل اس مسئلے پر بڑی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے  ـ

خان صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ تبدیلی قرضے سے نہیں بلکہ ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرکے اغیار سے بے نیاز کرنے سے آتی ہےـ  تبدیلی استقلال و آذادی سے آتی ہے دوسروں کے سامنے بھیک مانگنے سے نہیں ـ بے شک سروے کرکے دیکھ لیں کہ استقلال کسی بھی ملک کی ترقی کے اہم رازوں میں شمار ہوتا ہے اگر پاکستان میں تبدیلی لانے کے وعدے میں سچے ہو تو وہ یہ چند کام ضرورکرلیں 

۱ـ اپنے ملک کے تعلیم یافتہ جوانوں کی طاقت پر اعتماد کرتے ہوئے ان پر سب سے زیادہ توجہ دیں 

۲ـ اپنے ملک کے وسائل سے بھر پور استفادہ کرنے کے لئے ٹھوس حکمت عملی وضع کریں 

۳ـآغیار کی غلامی سے آذاد ہوکر امور مملکت چلانے کی ہمت کریں 

۴ـانصاف کے بل بوتے پر نظام مملکت استوار کرنے کو اپنی پہچان بنالیں 

۵ـ چوروں اور کرپشن کرنے والے غداروں کے خلاف عمل کو تیزتر کرکے ان گیرا تنگ کریں

۶ـ پاکستان کے اندر پاکستان سے حقیقی محبت کرنے والوں کو پہچان لیں کیونکہ یہی لوگ پاکستان کی ترقی کے لئے حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں جن میں سرفہرست خطہ امن گلگت بلتستان کے باسی ہیں لہذا گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرکے انہیں انسانی حقوق دینے میں تاخیر نہ کریں  

ہر پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے یہ سوال کررہا ہے کہ کیا سعودی عرب نے پاکستان کو قرضہ مفت میں دیا ہے؟

 

 

 کسی بھی حکومت کی پہلی فرصت کی کارکردگی اس کے زوال اور بقا کے لئے سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے - وہ حکومت جس نے اولین فرصت میں مثبت کارنامہ دکھایا، قوم کی توقع پر اترنے کی کوشش کی، انصاف کی رعایت کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کا عملی مظاہرہ کیا، الیکشن کے دوران عوام سے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کیا، قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک کے داخلی اور خارجی پالیسیاں مرتب کرنے کو یقینی بنایا،

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه