ذہنی تر بیت :

ابتدائے تولد میں بچہ ہر چیز سے بے خبر ہو تا ہے خانوادہ اس کی علم وآگاہی ، تر بیت اور صلاحیتو ں کواجاگر کرنے کا پہلا مر کز ہے ، اس مر حلے میں والدین خصوصا ما ں کا وظیفہ یہ ہے کہ اس کو محبت وعاطفت اور احساسات کے ساتھ اس کی کنجکاوی حس کا اپنی زبا ن او رعمل کے ذریعہ جواب دے جیسے قرآن مجید فرما تا ہے <واللّٰہ اخرجکم من بطون امھاتکم لا تعلمون شیئا وجعل لکم السمع والابصار والا فئدہ لعلکم تشکرون>(۱) آنکھ کان اور دل یہ تینوں شناخت اور پہچا ن کے مہم ذرائع ہیں اور یہ تینو ں خانوادہ کی فضا میں رشد پا تے ہیں۔

اگربچے کو نوزادی کے ابتدائی ایام سے ہی اس کی حالت پر چھوڑ دیاجائے ااور شنا خت کے اعتبا ر سے خانوادہ کی فضا بھی مناسب نہ ہو جیسے سر گرمی کے لئے منا سب کھیل کھلونے کا نہ ہو نا تو بہت ممکن ہے کہ بچہ عقب افتادگی کا شکا ر ہو جا ئے کیونکہ بچے کی شناخت کی صلاحیت اس کی زندگی کے پہلے مہینوں اور سالوں میں پھلتی اور پھولتی ہے اسی لئے سا لم خانوادہ اسی کو کہ سکتے ہیں جو بچوں کو ذہین اور با ہو ش تربیت کرے اس سے پہلے کہ وہ مدرسہ جا نے کے قابل ہو اس کی صلاحیتیں ثمر بخش ہو جا نا چاہیے بہت سی با تیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو بغیر مدرسہ جائے سکھائی جاسکتی ہیں۔

 

جنسی  ضرورت اور سالم خانوادہ۔

جنسی ضرورت کو انسان کی مہم ضرورتوںمیںشمار کیاجاتا ہے اگر چہ اس کے بغیر انسان کے جسم کو کوئی خطرہ در پیش نہیں ہو تا لیکن یہ روحی اعتبا ر سے بہت خطرنا ک ہے اور یہ بھی کہ نسل کی بقاء اسی پر متوقف ہے اسی وجہ سے شرعی اور قانونی اعتبار سے اس ضرورت کو پورا کرنا ایک تکوینی امر ہے  لہٰذاہربالغ شخص چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی شادی کی ضرورت کو محسوس کر تاہے ،جنسی حس کو مارنا یا اس میں مختلف طریقوں سے بالکل آزاد ہو نا جیسے ہم جنس بازی ،سیکسی فلموں کا دیکھنا وغیرہ سبب بنتا ہے کہ بہت سی جسمی بیماریاں عارض ہو جا ئیں یا روحی اور روانی بیماریا ں ظاہر ہو جا ئیں جیسے تعادل کو کھو بیٹھنا ،سماج میں فساد کا ظاہر ہو نا وغیرہ۔

جنسی تربیت کے سلسلے میں دو اہم نکا ت کو مد نظر رکھا گیا ہے۔

۱۔  جنسی تربیت کا سن کب سے شروع ہو تاہے۔

۲۔ بلوغ کے ساتھ ساتھ اس کے میلان ،تخیلات ہواہوس اورذرائع ابلاغ پر توجہ۔

جنسی تر بیت اس وقت شروع ہوتی ہے جب سے بچہ خواہ نخواہ اپنے آلہٴ تناسل سے کھیلتا ہے جو بچہ جنسی مناظر دیکھتاہے اور عورت اور مردکے اختلاط کا مشاہدہ کرتا ہے ایسا بچہ عقلی ،عاطفی اور فکری بلوغ سے پہلے جنسی طور سے بالغ ہو جاتاہے۔اور ایسے بچوںمیں جنسی بے راہ وروی ان بچوں سے زیا دہ ہوتی ہے جو ایسے مناظر نہیں دیکھتے۔

طفلی مراحل کے بعدنوجوانی انسان کی زندگی کا استمرار ہے اس مرحلہ میں انسان بہت سے ایسے مسائل سے روبرو ہو تاہے جو اس سے پہلے موجود نہیں ہوتے منجملہ وہ مسئلہ جو نوجوانون کو بچہ سے جدا کرتاہے وہ جنسی رشد ہے ایک نوجوان یاجوان جنسی رشد کے ساتھ شناخت ،سماجی ضرورت ،اجتماعی موقعیت اپنی پہچان جیسے مسائل کا بھی محتاج ہوتا ہے اگر خانوادہ  اور مربی حضرات جوان کے ذہنی تمر کز اور اس کی کو ششوں کو شناخت کی طرف منتقل کرنے میں کامیاب ہو جا ئیں تو جنسی امور ،شناخت ، اپنی پہچان اور سماجی مقام کے تحت تاثیر قرار پا ئیں گے۔اس پر بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ جنسی طور سے بالغ ہو نا حیرت انگیز جسمانی تغیرات کے ہمراہ ہو تاہے اور ممکن ہے اس مرحلے میں انسان غم واندوہ، خستگی پژمردگی اور حساسیت کا شکار ہو جا ئے ، ان حالات میں ماں باپ کو چاہیے بہت زیادہ صبر وتحمل ،اد ب اور احترام اور موقعہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کریںاور یہ بھی کوشش کریں کہ نوجوانی کے مرحلہ کے مسائل اس کو سکھائیں اور اس مسئلہ میں اس کی کمک کریں۔

نوجوان کو جنسی لذتوں سے روکنے اور دوسروں کے ساتھ بہترین روش پر روابط بر قرار کرنے کی نصیحت کریں ان کو باطنی تاثرات سے دور کریں اور ورزش ،مناسب فکری مشغولیت ، تمرکز حواس جیسی چیزوں کے ذریعہ ان کے جنسی میلان کو کم کریں۔نوجوان علمی اطلاعات کو بہت زیادہ پسند کر تاہے اور پیہم کوشش کیے ساتھ علمی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے نئے نئے وسائل سے اپنے آپ کو آزما تاہے۔والدین اور معلموں کو چاہئے اس کی اس پسند کو پہچنوائیں او  اس کی ہدایت کریں۔اس کی یہ چاہت جو اس کی جسمی اور روحی ضرورتوں کو پورا کر نے کے لئے مناسب وسیلہ ہے اس کو بہت زیادہ سکون بخشتی اور خود دار بناتی ہے۔

جب ایک نوجوان پہلے سے جنسی وضیعت سے با خبر ہو تاہے تو اس میں جنسی میلان کے بیدار ہو نے کے بعد اپنے افکا ر اور تمایلات کی وجہ سے اس کے ذہن میں معاشرتی افکا ر پر ورش پا نے لگتے ہیں کبھی کبھی ایسا ہو تا ہے کہ یا تو گھر کے حالات ایسے ہو تے ہیں کہ اس کی رہنمائی نہیں ہو سکتی یا وہ خود پو چھنے سے ڈرتاہے نتیجے میں نوجوان ان مسائل کی وجہ سے پریشان خاطر پژمردگی اور سستی کا شکا ر ہو جا تا ہے درس پڑھنے کو طبیعت نہیں چاہتی ہمیشہ ایسی کتابوں کی تلاش میں رہتا ہے جو سیکس کے مو ضوع پر لکھی گئیں ہیں ایسے دوستوںکے ساتھ رہنا پسند کر تا ہے جو اس کی اس ضرورت کو پوراکرسکیں وہ اپنے جنسی غریز ہ کو کنٹرول نہیںکر پا تا۔ اس طرح وہ اپنی ہوا ہوس کی پیروی کر نے کی وجہ سے سست ارادہ ہو جا تاہے اور دوسروں کے ارادہ کے مقابل میں مقاومت کے قابل نہیں رہتا۔(۲)

 

اقتصادی ترقی اورسالم خانوادہ :

معمولی طور سے معاشرے کی سب سے بڑی پریشانی اور ناراحتی کاسبب یہ ہے کہ لوگ مناسب مادی امکانات سے بے بہرہ ہیں اور ہمیشہ فقر سے ڈرتے رہتے ہیں جبکہ خداوند عالم نے اس پریشانی کو اپنی کتاب میں دور کردیا ہے اور فرما تا ہے شادی کروتاکہ اس کی وجہ سے فقر سے نجات پاوٴ”وانکحو الایا منکم والصالحین  من عبادکم وامائکم ان یکون فقراء یغنھم اللّٰہ من فضلہ واللّٰہ واسع علیم “ (النور :۳)

گھر چلانے کی اچھی تدبیر ، صحیح طریقے سے خرچ کرنا ،اسراف اور فضول خرچی سے پرہیز سبب ہو تے ہیں کہ زندگی اور شخصیت میں تعادل بر قرار رہے۔ اور خانوادہ کی روحی سلامت کو کا مل کر نے میں کمک کرے۔

 

اخلاقی تربیت اور سالم خانوادہ :

اخلاقی تر بیت ، صلاحیتوں کوعملی جامہ پہنانے  ،صفات حسنہ ایجاد کرنے ، ارادہ کو محکم کرنے ،آداب ورفتار کو سنوارنے اور برے صفات سے رہا ئی پانے کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے (4)

اخلاقی صفات میں سے ایک صفت عفو ودرگذرہے ، درگذرکرنا اپنے مسلّم حق سے چشم پوشی کی علامت ہے یہ صفت وسعت ظرف کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔اسی وجہ سے اگر کوئی شریفانہ اور کریمانہ اور انتقام نہ لینے کے نظریہ کے تحت دوسروں کی خطاوٴں سے درگذر کرتاہے تو وہ پہلے قدم میں اپنے نفس کو ادارہ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے اور دوسرے قدم میں سالم انسانی روابط کی داغ بیل ڈالتاہے اور تیسرے قدم میں اپنے رب سے اجر عظیم کا مستحق قرار پا تا ہے۔چوتھے قدم میں دوسروں کے لئے نمونہ عمل بن جا تا ہے۔اس راہ میں بچے اور نوجوان لطیف احساسات رکھنے کی وجہ سے اس سماجی تربیت کو زیادہ قبول کرتے ہیں لہٰذا ضروری ہے ان کو اخلاق حسنہ کی تعلیم دیں ، عفوودرگذر ،دوسروں کے ساتھ مدارات بزرگ اندیشی کو ان کی پاک وصاف فطرت میں ڈال دیں تا کہ با اخلاق بن کر ابھریں۔ ایسانہ ہو کہ شیاطین کے جال میں پھنس جا ئیں ،  ان تمام باتوں کی طرف توجہ رکھتے ہوئے ،یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک صحیح وسالم خانوادہ بچوں کو با اخلاق بنا سکتاہے۔

 

نتیجہ :

سالم خانوادہ اس کے علاوہ کہ اس کے بہت زیا دہ وظائف ہیں مہر ومحبت اورقداست کامرکز بھی ہے۔ایسے خانوادہ کا ہر فردتمام نہ ہونے والی محبتوں کا سر چشمہ ہے جس میں وہ امنیت اور سکون کا احساس کرتاہے:خانواددہ کی نفسیاتی سلامتی کے بہت سے تربیتی پہلو ہیں جیسے سماجی تربیت ،عاطفی تربیت ،اصلاحی تر بیت، جنسی تربیت۔ ان تمام کا ایک دوسرے سے ایسا محکم رابطہ ہے کہ ایک صحیح وسالم خانوادہ کا تصور بغیر ان کے ممکن نہیں ہے۔

اختتامی حدیث : 

قال رسول اللّٰہ  (صلی الله علیه و آله وسلم):جلوس المر ء عند عیالہ احب الی اللّٰہ تعالی من اعتکا ف فی مسجدی ھذا(5)

مرد کا بیوی کے پاس بیٹھناخدا کے نزدیک میری اس مسجد میں اعتکا ف سے زیادہ محبوب ہے۔

 

۱۔نحل۔۷۸۔

 ۲۔  مجلہ علمی تخصصی معرفت شمارہ ۶۹ ،تر بیت جنسی ، حافظ ثابت۔

۳۔ہمت بنا ری علی ،ما خذ شناسی تر بیت اخلاقی ، قم ، تربیت اسلامی ۱۳۸۲ ،ص۹۔

۴۔میزان الحکمةج۵ ص۲۲۶۔

 

 

source : www.taqrib.info/urdu

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location
طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه