خدا وندمتعال نے انسان کو اس زاویہ پر پیدا کیا ہے کہ وہ زندگی کے ساتھی کے بغیر ناقص ہے خواہ وہ علم وایمان اور اخلاقی فضائل میں کتنی ہی ترقی کرلے لیکن جب تک شادی نہیں کرتا اس وقت تک مطلوبہ کمال تک نہیں پہنچ سکتا( خواہ وہ مرد ہو یا عورت)شادی اور تشکیل خانوادہ کی جگہ کوئی چیز بھی پر نہیں کرسکتی،

مرد عورت ایک دوسرے کی کمزوری ہیں جسمی لحاظ سے بھی اور روحی لحاظ سے بھی تنہا دونوں دونوں ہی ناقص ہیں اور جب ایک دوسرے کے شریک بن جاتے ہیں تو ایک دوسرے کو کامل کرتے ہیں یہ نظام آفرینش کا قانون ہے اور پوری کائنات پر یہ قانون نافذ ہے۔

قرآن مرد وعورت کو ایک دوسرے کا لباس کہتا ہے:

" ھُنّ لباس لکم وانتم لباس لھنّ" [1] عورتیں تمہارے لئے لباس ہیں اور تم(مرد) عورتوں کے لئے لباس ہو۔

یعنی ایک دوسرے کو کامل کرنے والے اور ایک دوسرے کی آبرو اور راز کے محافظ ہو، دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں،انسان لباس کے بغیر معاشرہ میں سربلندی کی اندگی نہیں گزار سکتا اسے ہر وقت اپنے نقص کا احساس رہتا ہے، تنہا انسان بھی ناقص ہونے کا احساس کرتا ہے،لباس انسان کو سردی گرمی سے بچاتا ہے،زندگی کا ساتھ بھی انسان کو پریشانی لا ابالی پن ،آوارگی اور تنہائی سے نجات دلاتا ہے،لباس انسان کی زینت ہے میاں بیوی بھی ایک دوسرے کے لئے زینت ہیں۔

بیوی خدا کی عظیم نعمت

نیک اور شائستہ بیوی انسان کے لئے خدا کی بہت بڑی نعمت ہے،اس سلسلے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ کا ارشاد ہے :ما استقاد امرءٌ مسلم فائدۃ بعد الاسلامِ افضلُ من زوجۃ مسلمۃ( او صالحۃ)۔۔۔[2]  مسلمان مرد نے نعمت اسلام کے بعد نیک وشائستہ بیوی سے افضل وبہتر کوئی نعمت نہیں پائی۔۔۔

فلسفۂ ازدواج

  ممکن ہے وہ افراد جو فلسفۂ ازدواج اور مشترک زندگی کی تشکیل کی منطق کو نہیں سمجھ سکے ہیں وہ یہ کہیں: ہم اپنی جنسی پیاس کو شادی کے علاوہ دوسرے طریقوں سے بجھا لیتے ہیںاور اس خواہش کو دوسرے ذرائعے سے پورا کرلیتے ہیں،لہذا ہمیں بیوی اور شادی کی ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے!

اس کاجواب یہ ہے کہ  شادی کا ماحصل وفائدہ صرف جنسی پیا س بجھانا اور شہوت پوری کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بھی شادی کے فوائد میں سے ایک ہے بلکہ جنسی خواہش کو پورا کرنے کے علاوہ شادی کی فضیلت واہمیت، فلسفۂ ازدواج اور اس کا ماحصل ،احساس ذمہ داری، رشد وارتقاء شخصیت سازی ،سکون اور بہت سے اہم  فوائد ہیں جو کہ انسان کے لئے تحائف بخش ہیں۔

 بیوی اور خانوادہ کی ذمہ داری قبول کرنا، انسان کو بزرگی اور اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہے اور اس کے اندر بہت سی چھپی ہوئی بہت سی صلاحیتوں اور لیاقتوں کو اجاگر کرتی ہے۔شادی کے بعد انسان کی شخصیت ایک اجتماعی شخصیت میں تبدیل ہوجاتی ہے، اور وہ کود کو اپنی بیوی کی حفاظت اور اہل وعیال کی عزّت اور مستقبل میں بچوں کے اخراجات کا ذمہ دار سمجھتا ہےاسی لئے وہ اپنی صلاحیتوں، لیاقتوں اور استعداد کو کام میں لاتاہے۔۔۔[3]

نئے خاندان کی لذت وہ چیز ہے جو کسی دوسری چیز میں نہیں ہے،اس سلسلے میں استاد شہید مطہری فرماتے ہیں:

کچھ اخلاقی خصائص ہیں کہ جنہیں انسان تشکیل خانوادہ کے علاوہ کسی دوسرے مکتب سے حاصل نہیں کرسکتا،تشکیل خانوادہ یعنی دوسرں کی سرنوشت سے تعلق پیدا کرنا،ماہرین اخلاق اور ریاضت کش لوگ اس لذت سے ناآشنا ہیں،یہی وجہ ہے کہ آخری عمر تک ان میں ایک خامی اور ایک قسم کی طفلگی باقی رہتی ہے،اسی وجہ سے شادی بیاہ کو اسلام میں ایک مقدس امر اور عبادت کے نام سے یاد کیا گیا ہے،شادی انسان کی شخصیت کی وسعت کا پہلا مرحلہ ہے۔[4]

اسی طرح ازدواج کے تربیتی کردار کے متعلق فرماتے ہیں:

۔۔۔ایک پختگی ہے اور یہ پختگی صرف شادی وازدواج ہی سے پیدا ہوتی ہے۔مدرسہ مین پیدا نہیں ہوتی ، جہاد بالنفس سے پیدا نہیں ہوتی،نماز شب سے وجود میں نہیں آتی،سالح اور بزرگوں کے احترام سے پیدا نہیں ہوتی،اس کو تو صرف شادی ہی کے ذریعہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔[5]

ہم نے کتنے ہی افراد کو دیکھا ہےکہ شادی سے قبل وہ اخلاقی ،دینی، اور اجتماعی اصول کے قطعی پابند نہیں تھے  بلکہ ان مین ایک قسم کی بے پروائی اور الھڑ پن پایا جاتا تھا،لیکن شادی کے بعد ان کا اخلاق بالکل ہی بدل گیا اور متین وباوقار بن گئے ہیں،اور اب ان کے کردار سے شرافت ومتانت آشکار ہے۔

بیوی خدا کی حکمت کی نشانی اور انسان کے لئے سکون کا باعث ہے

انسان کو پیدا کرنے والا خدا ہے وہ اس کی فطرت وخواہشوں سے واقف ہے مرد وعورت کی تخلیق کو اپنی نشانی اور ان کے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنےکو اور شادی کومودت ورحمت اور انسان کے لئے باعث آرام قرار دیا ہے، ارشاد ہوتا ہے:

"مِن آیاتہ اَن خلق لکم من انفسکم اَزواجا لتسکنواالیھا وَ جعلَ بینکم مودۃ ورحمۃ انّ فی ذٰلک لآیات لقوم یتفکرون"[6] خدا کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارا جوڑا بنایا تاکہ تم ان کے دامن میں سکون حاصل کرو اور تم میں محبت ومودت پیدا کی ،بے شک اس میں گور کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

یہ سکون وآرام نیہ صرف یہ کہ معمولی اور ماہرین نفسیات کا اصطلاحی سکون نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ، وقار فکری وروحی ثبات،اپنی قدر وقیمت کا احساس،اپنی شخصیت وعزّت بنانے کی فکر اور حیثیت بڑھانے وغیرہ کو شامل ہے۔

شادی انسان کے اعمال کی قیمت بڑھاتی ہے

شادی خانہ آبادی انسان کے وجود پر اثر انداز ہوتی ہےاور اس انداز سے اس کی قیمت کو بڑھاتی اور اس کی شخصیت کو ترقی دیتی ہے کہ اس کے اعمال بھی خدا اور اس کے فرشتوں کی نگاہ مین اہمیت کے حامل ہوجاتے ہیں اور ان کی قیمت کئی گناہ بڑھ جاتی ہے،نمونہ کے طور پر اس حدیث کو ملاحظہ فرمائیں، امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے" رکعتان یُصلّیھما المتزوّج افضل من سبعین رکعۃ یُصلیھا العربُ"[7] شادی شدہ انسان کی دو رکعت نماز غیر شادی شدہ انسان کی ستر رکعت نماز سے بہتر ہے۔

خدا کے نزدیک بہترین گھر

شادی کے بعد جو گھر وجود میں آتا ہے وہ خدا کے لطف و محبت کا مرکز قرار پاتا ہے خدا اسے محبت ومہربانی کی نظر سے دیکھتا ہے اس مفہوم کو ہمارے لئے خدا کے عظیم سفیر پیغمبر اکرمؐ نے خدا کی طرف سے نقل کیا ہے۔

مَا بنی فی الاسلام بناٰءٌ احبُّ الی اللہ عزّ وجلّ واعزُّ من التزویجِ" اسلام میں رکھی جانےی والی دنیا میں خدا کے نزدیک  سب سے بہترین  شادی خانہ آبادی کی بنیاد  ہے۔

اس سے بڑھ کر کونسی نعمت وسعادت ہوگی کہ خدا کا شانۂ انسان کو محبت ومہربانی کی نگاہ سے دیکھتا ہے؟۔

نشان افتخار

 امیر المومنین علیہ السلام شادی کی قدر وقیمت سلسلے میں فرماتے ہیں:

"لم یکن احدٌ من اصحاب الرسولؐ یتزوّج الّا قال رسول اللہؐ کمل دینہ"[8]   اصحاب رسول میں سے جو بھی شادی کرتا تھا اسی کے بارے میں پیغمبرؐ فرماتے تھے اس کا دین کامل ہوگیا ہے۔

شادی کی اتنی فضیلت ہے کہ پیغمبر اسلامؐ نے شادی کرنے والوں کی پیشانی پہ نشان افتخار ثبت کردیا ہے۔

 پیغمبرؐ کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ  جب تک انسان شادی نہیں کرتا  اس وقت تک اس کا دین خطرہ میں رہتا ہے کیونکہ جنسی خواہش، روحی دباؤ، تنہائی کا احساس، پناہگاہ کا فقدان،اجتماعی ذمہ داریوں سے بے پرواہی، اور کنوارے پن کے اور بہت سے نقصانات ہیں کہ جن سے انسان کے ایمان کی بنیاد متزلزل ہوجاتی ہے لیکن شادی خانہ آبادی  اور شائستہ ومحبوب، ہمدرد بیوی کے ساتھ زندگی گزارنے میں شہوت پر قابو ہوجاتا ہے اور قلبی سکون بھی میسر آتا ہے اور خدا پر انسان کے توکل میں بھی اضافہ ہوتا ہے، وہ پریشان حالی اور لاوارثی سے نکل جاتاہے، تحفظ وشخصیت کا احساس کرتا ہے ، اس کی فکر ونظر ادہر ادہر نہیں بھٹکتی، بلکہ اس ساری توجہ اپنی زندگی کے ساتھ شریک پر مرکوز ہوجاتی ہے، جس کے نتیجہ میں وہ خدا کا زیادہ سے زیادہ تقرب حاصل کرلیتا ہےاور رحمت خدا بھی زیادہ سے زیادی اس کے شام لحال ہوجاتی ہے اور اس کا ایمان بھی کامل ہوجاتاہے۔

البتہ ہمیں اسبات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ یہ ساری خوبیاں اس وقت حاصل ہوں گی جب بیوی یا شوہر کے انتخاب میں صحیح معیاروں  کی رعایت کی جائے گی اور شادی کے مقدمات صحیح طور پر طے ہوں گے۔

جوان اور شریک حیات کا انتخاب

 

[1] بقرہ، آیہ،۱۸۷

[2] وسائل الشیعۃ، ج۱۴،ص۲۳

[3] تفسیر نمونہ ،ج۱۴،ص۴۶۵

[4] تعلیم وتربیت در اسلام،ص۲۵۱و۲۵۲

[5] حوالہ سابق، ص۳۹۸

[6] روم، آیہ،۲۱

[7] وسائل الشیعہ، ج ۱۴،ص۶

[8] مکارم الاخلاق،ص

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه