فلن تجد لسنۃاللہ تبدیلا
انسان کی حقیقت وہی انسانیت ہےباقی چیزیں رنگ قوم پارٹی گروہ سب اعتباری ہے اللہ تعالی جن اصولوں کے ذریعے عالم کوچلارہاہے
انسان کی مخصوص طبیعت کوفطرت اور اجتماعی قوانین کو سنت قرار دیایے امتحان نعمت میں عرض ہوا(افحسب اللناس ان یترکوا سدا۔۔۔)
(بلوناھم بالحسنات والسیئات)
ھم عموماامتحان میں اپنے آپکو33نمبرلیتے ہیں وہ بھی اپنےآپکودیتے ہیں والاھم نےکیاکیاہے کہ 33نمبرلےلے

مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی مثال ہے ایک عضو میں درداٹھا توباقی اعضاء کوچین نہیں آتا اسپین جب مسلمانوں سے جداہوگیا تو اقبال لاھوری نے کہا

امت من حیث امت مرچکی ہے کیونکہ کسی نے بھی زبان نہیں کھولا 
آج بھی بڑے اسلام ممالک دشمن کاحامی بن چکے ہیں 
خدا نے قسم کھاکرفرمایا(ولنبلونکم.......وبشرالصابرین)
حسنات کابھی امتحان لیگااور سیئات کابھی، یعنی امتحان تولیناہی ہے امتحان سے کوی نہیں بچےگا
امیرالمؤمنین ع کےپاس کسی نے کسی کےلیےدعاکی: 
اللہ تم کوفتنوں سے دور رکھے
امام نے فرمایا تونے اسے مرنے کی دعاکی یے ،
یعنی جبتک انسان زندہ ہے آزمایش ساتھ ہے فتنوں سے چھٹکارا مرنے کی بعدہی ملیگی، 
امتحان دینےوالے کیلیے شرط ہے :::
1:علم ھو:
مادہ امتحان سمجھ میں آجا، مصیبت ہےتو اسباب کیاہے کون مقصر یے جانے تاکہ کامیاب ہوسکے کیونکہ علم کے بغیرامتحان میں کامیاب یی نہیں ہوسکتا 
شھید صدر رحمۃ... اپنی کتاب المحنہ میں فرماتاہے صدام کے اس ظلم بربریت میں جانناچاہیے کہ ھم کس قدر مقصر ہیں؟ 
اسی طرح آج کے زمانے میں فتنہ ٹرمپ میں ھم مسلمانوں کو اس بارے فکر کرناچاہیے کہ ھم کس حد تک مقصر ییں کس حدتک اسلامی ممالک نے اسکوجری بنایاہے؟ اس ماہ مبارکہ میں اللہ تعالی نے انسان کی انسانیت کو اپنے مہمانی میں بلایاہے لھذا حیوانی خواھشات اور گناھوں کو چھوڑ کی اس مھمان سراءمیں داخل ہوناچاہیےاس دعوت کادسترخوان خداکی طرف سے ھمارے لیے قرآن کریم ہیں پس قرآن کو پڑھناچاہیے اور اسکو سمجھناچاہیے اور فھم کے ساتھ اس پرعمل کرناچاہیے ھنمیں صحیح ین شناسی کی ضرورت ہےتاکہ سمجھے کہ امت کی مصائب کیاہے 
2::اردہ کا ھوناضروری ہے:
دین شناسی اور دنیاشناسی امتحان میں کامیابی کےلیےارادہ کرناضروری ہے
3::عمل کرنا: جوکچھ سمھج چکے اسکے مطابق عمل کرناچاہیے 
امتحان نعمت میں شاکر کامیاب ہے اور امتحان مصیبت میں صابرین کامیاب ہے اناللہ وانالیہ کہناآسان ہے لیکن یہ الفاظ دل کی گہرایوں سے نکلناچاہیے اور اسی کے مطابق عمل بھی کرے باعمل لوگ عادل ہیں کیونکہ انکے ایمان قوی ہےتبھی وہ عمل کرتاہے اور صبرکاسرچشمہ ایمان قوی ہوتاہے اس وقت دنیا میں فتنہ ٹرمپ کے مقابلے میں دو موقف ہیں :
1:ایک موقف آلسعود کا ہےجوکہ سراسر امت مسلمہ کے برخلاف ہےاور امت کے ساتھ خیانت یے اور یہ موقف غلامی کا موقف ہے 
2:دوسرا موقف اسلام جھوریہ ایران کاہے جوعزت مندانہ موقف ہےیہ موقف امت کے حق میں ہے ایرانی اپنے آزادی کی قیمت شھادت ،تحریم وپابندیوں کے ذریعے دیرہاہے ایرانی سمھجتے ہیں کہ پہلے ھمارے مقدر کافیصلہ امریکی سفارت میں ہوتاتھا ابھی ھم اپنے مجلس میں کررہیں ایران ھمہ وقت بیدارہے ایک مظلوم ملک جو کفر نفاق ،شرک سب سے مقابلہ کررہاہے 
مصیبت کو خریدنانہیں ہے ھیمشہ اپنے مقصدوھدف کی طرف حرکت کرناہے اس راستے میں مصیبت جتنی بھی برداشت کرناپڑے

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه