انسانی زندگی کے کئی مراحل ہوتے ہیں جن میں سے نوجوانی اور جوانی عمر کے باقی حصوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتی ہیں، کیونکہ اللہ تعالی کی طرف سے انسان زندگی کے عروج اور تابندگی کا اسٹیج یہی ہوتا ہے، عزم و ہمت سے لیکر جسمانی قوت و طاقت اپنی آخری حدود کو چھو رہی ہوتی ہے، اسی لیے وہ تاریخ کے رخ موڑنے کے لیے پر تولنے کے ساتھ لازوال کارنامے تاریخ کے صفحات پر رقم کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جوان اور نوجوان کی اہمیت اور اس کی ذہنیت کا نہایت دقت اور ہوشیاری سے مطالعہ کریں، اب حرام و بدعت کا فتوی جاری کرنے کا زمانہ گذر گیا ہے، بلکہ ان کے دکھ درد میں شریک ہو کر ان کے مسائل سے آشنا ہونے کی ضرورت ہے، جوانوں کو جذب کرنے والے عوامل جیسے سیر و سیاحت، ٹورنامنٹ، فیسٹول، کلچرل امور کو دینی رنگ و بو دے کر ان کی سرپرستی کرنے کی ضرورت پہلے سے دو چنداں ہو چکی ہے، کیونکہ آج ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کا دور ہے، انٹرنیٹ و موبائل کے استعمال پر قدغن لگانے کی روایت اب فرسودہ ہوچکی ہے بلکہ ایسی سوچ رکھنے والے حضرات احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں کیونکہ یہ ٹیکنالوجی اب روز مرہ زندگی کا حصہ بنتی جارہی ہے، لہذا ان اوزار کے صحیح طریقہ استعمال سکھایا جانا چاہیے، اپنےفائدے اور احتیاج کو مد نظر رکھ کر ان کو ٹرین کیا جانا چاہیے۔
دین مبین اسلام کے خلاف صف آرا کفر و شرک کے الحادی نظریات و شبہات کا دفاع کرتے ہوئے جوانوں کو اسلامی اور دینی عقائد پر مشتمل مواد فراہم کرنے کی ذمہ داری اور اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی مھارت کی تعلیم دینے کی ڈیوٹی ہماری گردن پر عائد ہوتی ہے۔
جوانوں کی دوسری خصوصیت کا ذکرتے ہوئے موصوف نے کہا:
جوان کے دل شیشے کی طرح صاف، روئی کی طرح نرم ہوتے ہیں جس کے باعث حق ظاہر ہونے کے بعد وہ نہ صرف بلا چون و چرا اس کا گرویدہ ہوجاتے ہیں بلکہ حق کے حصول اور اس کی مدد کے لیے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر میدان عمل میں اتر جانا اپنے لیے فخر سمجھتے ہیں۔
لہذا ہمیں ہمیشہ ان کی سرزنش کرنے کی بجائے حق کا معیار بیان کرنے کے ساتھ اس کی طرف رہنمائی کی جانا چاہیے تاکہ وہ پلورزم جیسے لعنت پہ لات مار کر حق و صداقت کی طرف راغب ہوں۔
اگر ہم ایرانی علماء کا اپنے جوانوں کے متعلق اپنائی گئی حکمت عملی کا مشاہدہ کریں تو ہمیں اپنے جوانوں کی تربیت میں اور ان کے مشکلات کے حل میں زیادہ پیچیدگی پیش نہیں آئے گی، کیونکہ ایرانی علماء کاطرز عمل، جوانوں کی تربیت میں کانون(تربیتی مرکز) کی اہمیت، گھل مل کر کھیل کود میں حصہ لینے کا طریقہ ہمارے لیے نمونہ عمل ہے ۔
امام حسین ع کے فرزند نامدار جناب حضرت علی اکبر ع بھی ایک جوان تھے لیکن آپ رہتی دنیا تک جوانوں کے لیے نمونہ عمل ٹھہرے، کیونکہ آپ نے اپنے بابا سے کہا تھا :
" اگر ہم حق پہ ہیں تو کوئی پرواہ نہیں کہ ہم موت پر جا پڑیں یا موت ہم پہ آپڑے"
کیونکہ آپ کی نگاہ میں انسانی زندگی کی قدر و منزلت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک وہ حق کے ساتھ ہو، اور اگر اس کی زندگی حق کے بغیر ہو تو وہ انسان زندہ لاش کے سوا کچھ بھی نہیں۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه