مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : المؤمن مرآۃ المؤمن ۔ مؤمن ، مؤمن کے لئے آئینہ ہے۔

•  آئینہ: کسی کی عیب کو اس وقت بیان کرتا جب وہ خودگرد و غبارسے پاک و صاف ہو.

•  آئینہ: جو کچھ بیان کرے گا وہ سچ اور حقیقت پر مبنی ہوگا اس کو کسی سے کوئی غرض نہیں .



•  آئینہ: عیب کوبہت ہی سنجیدگی اورخاموشی سے بیان کرتا ہے.

•  آئینہ: فقط عیب ہی کو روشن نہیں کرتا بلکہ خوبصورتی اور اچھائی کو بھی بیان کرتا ہے۔

•  آئینہ: کبھی بھی عیب کو بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کرتا ،بلکہ جس مقدار میں عیب ہوتا ہے اسی حد تک بیان کرتا ہے.

•  آئینہ: عیب بیان کرنے میں مقام و منزلت کاہرگز خیال نہیں کرتا بلکہ اس کی نظر میں سب برابر ہیں.

•  آئینہ: اچھائی یا برائی بیان کرنے میں کسی سے کوئی توقع یا امید نہیں رکھتا.

•  آئینہ: فقط انسان کے ظاہری عیب کو بیان کرتا ہے اندرونی عیب کی تلاش میں نہیں رہتا.

•  آئینہ: عیب کو خود اسی کے سامنے بیان کرتا ہے دوسروں سے ہرگز بیان نہیںکرتا.

•  آئینہ: جس وقت میرے عیب کو بیان کرتا ہے توہم ہرگز اسے توڑنہیں دیتے بلکہ اپنے عیب کو دور کرتے ہیں.

•  آئینہ: ٹوٹ جانے کے بعد بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اپنا کام انجام دیتا ہے.

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه