تحریر آیة اللہ مصباح یزدی   

مقدمہ:

پہلے درس میں اس مطلب کو واضح کردیا گیا ہے کہ جہان بینی (خدا کی معرفت )کو بہ اعتبار کلی دو حصوں (الٰہی اور مادی) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، اور ان کے درمیان مہم ترین اختلاف قادر و علیم پروردگار کے وجود کا مسئلہ ہے کہ جسے ثابت کرنے کے لئے ایک طرف الٰہی جہان بینی ایک بنیادی اصل کے عنوان سے تاکید کرتی ہے اور مادی جہان بینی اس کا سرے سے انکار کرتی ہے۔

گذشتہ دروس میں اس کتاب کی گنجائش کے مطابق وجود خدا کے اثبات، صفات ثبوتیہ اور سلبیہ ،صفات ذاتیہ و فعلیہ کے تحت گفتگو کی جا چکی ہے اب اس کے بعد اس اعتقاد کے استحکام نیز مادی جہان بینی کے نقد کے لئے ،ایک مختصر بحث کا آغاز کرتے ہیں تا کہ الٰہی جہان بینی کے مقصود کے اثبات کے علاوہ مادی جہان بینی کا بطلان ثابت ہوجائے۔

لہٰذا پہلے ہم توحید سے، انحراف اور الحاد کی جانب میلان کے اسباب بیان کریں گے اور پھر مادی جہان بینی کے اہم ترین نقطہ ضعف کی جانب اشارہ کریں گے۔

 

انحراف کے اسباب۔

الحاد کی داستان تاریخ بشر میں بہت قدیمی ہے، اگر چہ ہمیشہ انسانی معاشرے میں، جہاں تک تاریخ نے بیان کیا ہے۔ خدا پر اعتقاد اور ایمان رکھنے والوں کی مثالیں زمانہ قدیم سے بے شمار ہیں، لیکن اس کے باوجود انھیں لوگوں کے درمیان ملحد گروہوں کی ٹولیاں بھی نظر آتی ہیں، لیکن اٹھارہویں صدی سییورپ میں بے دینی اور الحاد کا ایک مستقل رواج شروع ہوا اور آہستہ آہستہ پورے جہان میں یہ مرض پھیل گیا۔

اگر چہ یہ طرز تفکر کلیسا اور مسیحیت کی ضد میں اٹھا تھا لیکن اس کی موجوں نے تمام ادیان و مذاہب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور مغرب سے صنعت و ٹکنالوجی کے ہمراہ بے دینی کا یہ نظریہ دوسری سرزمینوں کی طرف بڑھتا چلا گیا،اوراس آخری صدی میں اس فکر نے ،افکار اقتصادی، اجتماعی اور مارکسیسم کے سایہ میں تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس طرح انسانیت کے لئے ایک خطرناک صورت پیدا ہو گئی۔

اس منحرف عقیدہ کی پیدائش اور اس کے رواج پانے میں بے شمار اسباب و عوامل کار فرماہیں، اگر ہم ان سب عوامل کی تحقیق کرنا چاہیں ،تو تنہا انھیں کے لئے مستقل کتاب کی ضرورت ہے(١) لیکن بطور کلی ان عوامل میں سے صرف تین  کی جانب اشار ہ کریں گے۔

………………………

(١)استاد شہید مطہر ی نے اپنی کتاب (علل گرائش مادی گری) میں بعض اسباب و عوامل کا تذکرہ کیا ہے ،اور اس پر روشنی ڈالی ہے۔

١۔روحی اسباب

بے دینی اور الحاد کی جانب بڑھتے ہوئے رجحانات کے اسباب ممکن ہے،لوگوں کے اندر موجود ہوں لیکن انسان اس کی طرف متوجہ نہ ہو جن میں سے اہم ترین راحت طلبی ، عیش پرستی بے قید و بند ، غیر ذمہ دارانہ زندگی گزارنا ہے۔

یعنی ایک طرف تحقیق کی زحمت( خصوصاً ان امور کے سلسلہ میں کہ جس میں مادی لذت کا وجود نہیں ہے) اس امر سے مانع ہے کہ سست اور کاہل افراد تحقیق کے لئے آمادہ ہوں، اور دوسری طرف حیوانی آزادی سے لگائو، اور بغیر مسولیت و پابندی کے زندگی گذارنے کی تمنا ان کو الٰہی جہان بینی کی طرف مائل ہونے سے روک دیتی ہے ، اس لئے کہ الٰہی افکار کے قبول کرنے اور حکیم پروردگار پر ایمان رکھنے کہ جس کے ضمن میں متعدد عقائد جنم لیتے ہیں، ان سب کا لازمہ، تمام اختیاری افعال میں انسان کی مسئولیت پذیری ہے، اور ایسی مسئولیت کا تقاضا یہ ہے کہ بعض مقامات پر اپنی بعض خواہشات سے چشم پوشی کی جائے، اور ذمہ داریوں کو قبول کر لیا جائے، جبکہ عیاشی کے ساتھ ان    ذمہ داریوں کا قبول کرنا سازگار نہیں ہے، اسی وجہ سے یہ حیوانی خواہش لاشعوری طور پر اس امر کا سبب بنتی ہے ان تمام مسئولیتوں  (ذمہ داریوں)کو قبول نہ کیا جائے اور سرے سے خداوند عالم کے وجود  ہی سے انکار کرد یا جائے ۔

الحاد اور بے دینی کی جانب میلانات کے اور دوسرے نفسیاتی عوامل بھی ہیں ، جو بقیہ عوامل کے تعاقب میں ظاہر ہوتے ہیں۔

٢۔اجتماعی اسباب۔

بعض معاشروں میں پیش آنے والے وہ غیر مطلوب حالات کہ جن کی پیدائش میں دینی رہبروں کا خاص کردار ہوتا ہے، ایسے حالات میں بہت سے لوگ جو تفکر عقلی کے اعتبار سے ضعیف ہوتے ہیں اور مسائل کے تجزیہ و تحلیل پر پوری طرح قادر نہیں  ہوتے،اورحوادثات کے اسباب سمجھنے میں بھی ضعیف ہیں ،حوادثات کو دین اور اس کے رہبروں کی دخالت کا نتیجہ سمجھتے ہیں، اور یہ اعتقاد پیدا کرلیتے ہیں ،کہ دینی اعتقادا ت ہی ایسے نا مطلوب حالات کو وجود میں لانے کا اصلی سبب ہیں، اسی بنا پر وہ دین و مذہب سے بیزار ہوجاتے ہیں ایسے نمو نے یورپ کے اجتماعی زندگی جو عہد رنسانس میں پیش آئے ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں، کلیسا کے سایہ میں مذہبی، حقوقی اور سیاسی عنوانات کے تحت پادریوں کی ناشائستہ حرکات مسیحیت سے بیزاری بلکہ دین و دینداری سے بطور کلی قطع تعلق  ہونے کا سبب بننے۔

دینی رہبروں کے لئے ایسے اسباب کا جاننا نہایت ضروری ہے، تا کہ وہ اپنے مقام کی حساسیت اور  اپنی ذمہ داری کی عظمت کو درک کر سکیں، اور انھیں بخوبی معلوم ہوجائے کہ ان کی معمولی ایک غفلت پورے معاشرے کی بد بختی اور گمراہی کا سبب بن سکتی ہے۔

٣۔ فکری اسباب۔

یعنی وہ شبہات جو ایک شخص کے ذہن میں آتے ہیں یا دوسروں کی زبانی سنتا ہے، استدلال اور قوت عاقلہ کے ضعیف ہونے کی وجہ سے انھیں دفع کرنے کی قوت نہیں رکھتا اور کم وبیش  وہ ان شبہات سے متاثر ہو جاتا ہے ، یا کم از کم اس کا ذہن مضطرب و  پریشان ہوجاتاہے جو (جہان بینی الھی )کے سلسلہ میں یقین و اطمنان پیدا کرنے سے مانع ہے ۔

ان عوامل کو بھی دو فرعی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جیسے وہ شبہات جو حس گرائی پر مبنی ہیں ،

وہ شبہات جو عقیدہ کے فاسد ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں وہ شبہات جو کمزور طریقہ استدلال ، اور غلط تنبہوں کا نتیجہ ہوتے ہیں ، وہ شبہات جو ناگوار حوادث کی وجہ سے ذہنوں میں خطور کرتے ہیں کہ جن کے لئے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ حکمت خدا وند اور عدل الٰہی کے خلاف ہیں ،اسی طرح  وہ علمی تحیوریاں جو عقائد دینی کے خلاف ہیں ، اور ان کی وجہ سے شبہہ پیدا ہوتا ہے ، نیز وہ شبہات جو مقررات و احکام دینی سے وابستہ ہیں ، بالخصوص مسائل حقوقی و سیاسی کے شعبہ میں ۔

اور کھبی کبھی دو یا چند عوامل مجموعاً  طور پر شک و تردید یا انکار اور الحاد کا سبب ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں شخص نفسانی مرض (فکری وسواس ) میں گرفتار ہوجاتا ہے اور پھر کسی بھی دلیل وبرھان کے قبول کرنے سے انکار کرنے لگتا ہے، اس مرض میں مبتلا انسان، اپنے ہی عمل کی صحت میںشک کر نے لگتا ہے، اور اس کے صحیح ہونے کا اطمینان نہیں کرپاتا، دسیوں بار اپنا ہاتھ دھوتا ہے لیکن پھر بھی اس کی طہارت میں شک کرتا ہے جبکہ وہ پہلی ہی مرتبہ میں پاک ہوچکا ہے یا وہ سرے سے نجس ہی نہیں ہے۔

انحرافی اسباب کا سد باب۔

انحراف کے اسباب کے مختلف ہونے کی وجہ سے ان میں سے ہر ایک سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک خاص روش، موقع و محل اور مخصوص شرائط کی ضرورت ہے، جیسے روحی و اخلاقی اسباب کا علاج صحیح تربیت اوراس راستہ میں موجود موا نع کو بر طرف کرنے کے ذریعہ کیا جائے جیسا کہ ہم نے پہلے، دوسرے اور تیسرے درس میں٫٫ دین میں تحقیق کی ضرورت اور اس سے سہل انگاری کے نقصانات میں،، بیان کرچکے ہیں۔

اسی طرح اجتماعی اسباب  کے برے اثرات کو روکنے کے لئے ایسے اسباب و عوامل کی روک ، تھام کے علاوہ دینداروں کے اخلاق و کردار  کے ناشائیستہ ہونے اور دین کے صحیح نہ ہونے کے درمیان فرق کرنا ہوگا، بہر حال روحی و اجتماعی عوامل کی طرف توجہ دینے کی وجہ سے کم از کم ایسے منحرف کرنے والے اسباب کی تاثیر سے انسان محفوظ رہتا ہے۔

اسی طرح فکر ی اسباب کی بری تاثیر سے محفوظ رہنے کے لئے مناسب طریقہ اختیار کرنا ہوگا لہٰذا فاسد عقائد کو صحیح عقائد سے جدا کرنا ہوگا،اوردینی عقائد کو ثابت کرنے کے لئے غیر منطقی اور ضعیف استدلالوں سے پرہیز کرنا ہوگا اور یہ بھی آشکار کرنا ہوگا کہ دلیل کا ضعیف ہونا، مدعی کے نادرست ہونے کی دلیل نہیں ہے۔

 

اب یہ بات روشن ہے کہ انحراف کے تمام عوامل کے سلسلہ میں تحقیق و جستجو اور ان میں سے ہر

ایک سے مقابلہ کے لئے مناسب راہ کا بیان کرنا ہماری بحث کے دائرے سے خارج ہے، اسی وجہ سے الحاد کی طرف میلانات کے فکری اسباب اور اس ضمن میں موجود شبہات کے جواب پر اکتفا کر تے ہیں

 

 

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه