ظالم کوئی بھی ہو اس سے نفرت اور اس کی مزمت کرنا اسی طرح مظلوم کی حمایت کرنا پاک فطرت انسان کی نشانی ہےکیونکہ ظلم عقلا ایک قبيح عمل ہے جس سے حکم عقلی کی طرف ارشاد کرتے ہوئے دین مبین اسلام نے سختی سے بنی آدم کو منع کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ظالمین کا ٹھکانہ جہنم ہے-

اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی حضرت محمد صلى الله عليه وسلم تک ہزاروں نبیوں و رسولوں کو اپنی کتاب اور اپنے احکام سے نوازااور انہیں انسانیت کی ہدایت کے لیے دنیا میں بھیجا۔ باوجود اس کے دنیا میں تہذیب وتمدن اور علم وفن کی ترقی نہیں ہوئی اور وہ جہالت ہی میں مبتلا رہی۔ان کتابوں نے اور نہ ان کے حاملین نے یہ دعویٰ کیا کہ ان میں دنیا کی تمام چیزوں کو جمع کردیاگیا ہے۔ انبیاءِ سابقین پر نازل کتاب اور ان کی تعلیمات کو مخصوص خطہ ،محدود افراداور ایک خاص عہد تک کے لیے موثر قرار دیتے ہوے علامہ سید سلیمان ندوی رحمة الله عليه لکھتے ہیں

:”تورات کے تمام انبیاء ملک عراق یا ملک شام یا ملک مصر سے آگے نہیں بڑھے،یعنی اپنے وطن میں جہاں وہ رہتے تھے محدود رہے اور اپنی نسل و قوم کے سوا غیروں کو انہوں نے آواز نہیں دی۔ زیادہ تر ان کی کوششوں کا مرکز صرف اسرائیل کا خاندان رہا۔عرب کے قدیم انبیاء بھی اپنی اپنی قوموں کے ذمہ دار تھے،وہ باہر نہیں گئے۔حضرت عیسیٰ کے مکتب میں بھی غیر اسرائیلی طالب علم کا وجود نہ تھا،وہ صرف اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیوں کی تلاش میں تھے(متی،باب:۷،آیت:۲۴) اور غیروں کو تعلیم دے کر وہ بچوں کی روٹی کتوں کے آگے ڈالنا پسند نہیں کرتے تھے۔ (انجیل)

 

مسلمان لیڈی

ادیان عالم کی ابتدائی تاریخ پر نظر ڈالیں بلکہ ارتقائی منازل کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس میں عورت کا کردار بالکل مفقود ہے۔ یہ تو گزشتہ ایک دو صدیوں کی بات ہے کہ حواء کی بیٹی کو عزت و احترام کے قابل تسلیم کیا گیا اور عورت کو بھی مرد کے برابر قرار دیا گیا لیکن اسلام کی ابتدائی تاریخ میں مسلم خواتین کا جو کردار رہا وہ آج سب دنیا کے لئے ایک واضح سبق بھی ہے، قابل تحسین کارنامہ بھی اور قابل فخر تاریخ بھی! بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اسلام کی تاریخ کی تو ابتدا ہی عورت کے شاندار کردار سے ہوتی ہے۔ اس دین حق کا تونقطہ آغاز ہی عورت کے عظیم الشان کردار سے عبارت ہے! یہ بات الگ ہے کہ آج ترقی یافتہ ہونے کا دعوی کرنے والی دنیا حقوق نسواں کی علمبردار بنی ہوئی ہے اور چار پانچ صدیوں سے مغرب کی معاندانہ یلغار اور مسلسل لوٹ مار کے ستائے ہوئے مسلمان معاشروں میں جہالت و پسماندگی کے باعث مسلمان عورت سے اس کا تاریخ ساز کردار بھی چھین لیا گیا ہے اور وہ اس کردار سے بھی محروم کردی گئی ہے جو اسے دین اسلام نے سونپا تھا۔

 حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی تاریخ تو شروع ہی عورت کے تعمیری و تاریخی کردار سے ہوتی ہے ہماری تاریخ تو عورت کی ہمت، دانائی، حوصلہ مندی اور دور اندیشی کے شاندار اور قابل فخر کردار سے معمور ہے۔ ہمارا نقطہ آغاز تو حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے ہوتا ہے جب ضعیف و ناتواں سمجھی جانے والی صنف نازک ہمت و عظمت کا ایک پہاڑ اور حوصلہ افزائی کا ایک سرچشمہ بن کر نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے حضور کھڑی ہوجاتی ہے اور ایک غیر متزلزل ستون کی طرح سہارا بن جاتی ہے۔ غار حراء سے اتر کر اور ایک نسخہ کیمیا ساتھ لے کر اپنی قوم کے پاس جب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  گھر تشریف لائے تو گھبراہٹ اور پریشانی کے سائے آپ کا پیچھا کر رہے تھے مگر اپنے شوہر کی پاکبازی، بلند اخلاق اور انسان دوست کردار کی گواہ بن کر نبوت پر سب سے پہلے ایمان لے آئیں اور فرمایا کہ ’’اے مجسمہ صدق و امانت! اللہ تعالیٰ آپ جیسے بلند کردار کو کبھی پریشانی اور گھبراہٹ کے سایوں کے سپرد نہیں کرے گا۔ آپ انسانی معاشرہ کے لئے اتنے بڑے بڑے کارنامے انجام دیتے ہیں۔ جس انسان کا یہ مرتبہ و کردار ہو اللہ تعالیٰ اسے بھلا تنہا چھوڑ سکتے ہیں۔ آپ یقینا اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  مبعوث ہوئے ہیں اور یہ جو پیغام آپ کو ملا ہے اس کا لانے والا وہی جبریل امین، وہی ناموس حق اور وہی فرشتہ ہے جو ابراہیم، خلیل اللہ علیہ السلام اور موسیٰ، کلیم اللہ علیہ السلام جیسے اولوالعزم نبیوں کے پاس اللہ تعالیٰ کا پیغام حق لے کر آتا رہا ہے۔ آیئے میں اس کی تصدیق آپ کو اپنے بھائی ورقہ بن نوفل سے کرائے دیتی ہوں جو مقدس صحیفوں کے عالم ہیں اور نبیوں کے احوال سے بخوبی آگاہ ہیں‘‘۔

 غار حراء میں گوشت پوست سے عبارت ایک فرد بشر کا سامنا عالم ملکوت کی دنیا کے سرخیل حضرت جبریل امین علیہ السلام سے ہوا یہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ عرش سے فرش کے ارتباط کی بنیاد پڑی تھی۔ اس کے وقوع پذیر ہونے پر سیّد وُلِدَ آدَمَ حضرت سیدنا محمد بن عبداللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی پریشانی اور گھبراہٹ ایک فطرتی بات تھی بلکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ غیر فطری بات ہوتی مگر اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ حواء کی بیٹی کی عظمت کو انسان بھول گئے ہیں اس کی عظمت رفتہ کو اجاگر کرنے اور عورت کا مرتبہ ہمیشہ کے لئے منوانے کی غرض سے ایک خدیجۃ الکبریٰ  کے کردار کی ضرورت ہے۔ ایسا کردار جس کے سامنے انسانیت ہمیشہ جھکتی رہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے حج اور عمرہ مکمل کرنے کے لئے صفا و مروہ کے درمیان سعی کو سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کی سنت کو لازم ٹھہرا دیا گیا ہے اسی طرح سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے عظیم الشان کردار سے عورت کی عظمت کو ہمیشہ کے لئے تسلیم کروا لیا جائے۔

 اس کے بعد دعوت اسلام میں سب سے زیادہ اذیت بھی خواتین نے اٹھائی۔ دعوت الی اللہ کی خاطر سب سے پہلی شہادت بھی عورت کے حصہ میں آئی جب حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا نے شہادت قبول کرکے ظلم کو ٹھکرا دیا۔ سب سے پہلے ہجرت کرنے والوں میں بھی خواتین پیش پیش تھیں۔ حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی لخت جگر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ہجرت کی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا تھا کہ حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے اہل و عیال کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ اللہ کی راہ میں پہلے ہجرت کرنے والے ہیں۔ ہجرت کے بعد قیام حبشہ کے دوران مسلم خواتین کا کردار بھی تاریخ ساز ہے۔

 ابتدائے اسلام یا دوسرے لفظوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے عہد مبارک میں مسلم خواتین نے زندگی کے ہر شعبہ میں بھرپور کردار ادا کیا اور بڑی آزادی اور خوشی کے ساتھ ادا کیا۔ علم سیکھنے سکھلانے کا میدان ہو یا معاشرتی خدمات کا میدان، اللہ کی راہ میں جہاد کا موقع ہو یا سیاست و حکومت کے معاملات ہوں، سب میں خواتین کا واضح، روشن اور اہم کردار ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی مجلس میں صحابہ کرام اور صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین سب ایک ساتھ شریک ہوتے تھے اور دین کی باتیں پوچھتے اور سمجھتے تھے۔ صحابیات رضی اللہ عنہن نے شکایت کی کہ خواتین سے متعلق کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہم اپنے باپ دادا اور بھائیوں کی موجودگی میں نہیں کرسکتیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے خواتین کے لئے ایک دن الگ سے مخصوص کردیا جس میں مرد شریک نہیں ہوتے تھے۔ اس طرح چھ دن مردوں کے ساتھ اور ایک دن الگ سے حاضر ہو کر اپنے مسائل کا حل پوچھتی تھیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے نزدیک خواتین کی تعلیم و تربیت مردوں سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔

 میدان جنگ میں مسلم خواتین، مجاہدین کو پانی پلاتی تھیں، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور اس کار خیر میں کسی بڑے یا چھوٹے کی تفریق و تمیز نہیں تھی حتی کہ غزوہ احد میں حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی اس کار خیر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے موجود تھیں۔ غزوہ خندق کے موقع پر بھی مسلم خواتین نے اپنے ایسے ہی کارہائے خیر میں بھرپور کردار ادا کیا، ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا جو طب کا علم کامل رکھتی تھیں ان کا خیمہ ایک ڈسپنسری اور ہسپتال کا کام دیتا رہا۔ اس ابتدائی عہد اسلام میں مسلم خواتین نے مشاورت میں بھی اپنا تعمیری کردار ادا کیا۔ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوا کہ جہاں کوئی حیلہ کارگر ثابت نہیں ہورہا تھا وہاں ایک مسلم خاتون کی صائب اور درست رائے نے مسئلہ کا کامیاب حل پیش کرکے حالات کا رخ ہی بدل دیا۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر مکہ مکرمہ کے قرب و جوار سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو کئی سال بعد آئے تھے مگر عمرہ و زیارت بیت اللہ کے بغیر واپس ہونے پر مجبور ہونا پڑا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے احرام کھول کر واپس جانے کا اعلان فرما دیا تھا مگر زیارت بیت اللہ کے لئے تڑپنے والی نیک روحیں جیسے بے جان ہوکر بیٹھ گئی ہوں، آپ فکر مند تھے کہ یہ غمزدہ ساتھی ٹس سے مس نہیں ہو رہے انہیں احرام کھولنے پر کیسے آمادہ کیا جائے؟ آپ اسی حال میں اپنے خیمہ میں تشریف لے گئے اور ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مشورہ لیا، اہل ایمان کی روحانی ماں اپنے فرزندوں کی نفسیات سے خوب آگاہ تھیں۔ انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  آپ جانتے ہیں کہ آپ کے جانثار تو آپ کے نقش قدم پر چلنے کے منتظر رہتے ہیں، اگر آپ احرام کھول دیں اور وضو کرکے نفل سے فارغ ہو کر تیاری کرلیں تو یہ لوگ بھی دوڑ کر آپ کے نقش قدم پر چل پڑیں گے چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ جب آپ احرام کھول کر تیار ہوئے تو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی آپ کی پیروی کی اور چند لمحوں میں غمزدہ قافلہ مدینہ منورہ کی طرف رواں دواں تھا۔

 وصال نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بعد امہات المومنین رضی اللہ عنہن نے تعلیم قرآن کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں اور بچیوں کو دینی مسائل کی تعلیم بھی دینا شروع کردی حتّٰی کہ ام المومنین رضی اللہ عنہما کا اپنا حجرہ ایک درسگاہ نظر آنے لگا۔ امہات المومنین کی پیروی میں دیگر خواتین اسلام نے بھی اشاعت علم اور فہم دین کو اپنے لئے لازم ٹھہرا لیا۔ اس طرح علم کی تدریس، تعلیم کے فروغ اور حدیث کی روایت میں ابتدائی دور کی مسلم خواتین نے سرگرم کردار ادا کیا۔ یہ سب باتیں ایک حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ ابتدائے اسلام میں مسلم خواتین نے اپنا بھرپور تعمیری اور مثبت کردار ادا کرکے آنے والے وقتوں کے لئے ایک اعلیٰ نمونہ اور قابل تقلید مثالیں قائم کردی ہیں جو آج بھی مسلمان عورت کے لئے مشعل راہ ہیں اور رہیں گی۔

 ڈاکٹر ظہور احمد اظہر (ماہنامہ دختران اسلام )

http://www.tebyan.net/ 

جہانی سازی ( GLOBALIZATION )ایک عالمی تحریک ہے ، آج یا کل سب کو اس کا سامنا کرنا ہے۔ یہ سلسلہ سب کو اپنے موقف میں نظر ثانی کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔

عالم اسلام بھی اس دنیا کا ایک عظیم پیکر ہونے کی وجہ سے ، امریکہ کے بنائے ہوئے اس عالمی منصوبہ کے خطر ناک نتائج اور نقصانات کی زد میں ہے ۔

اس تحریر میں پہلے جہانی سازی کی تعریف پیش کی گئی ہے ، خاص کر وہ تعریف جو مغربی طاقتوں خصوصا امریکہ نے پیش کی ہے ، جس میں غربی سیویلائزیشن کے علاوہ ہر تہذیب و تمدن کو ختم کرنے اور ساری دنیا پر امریکی طرز کی تہذیب کو تھوپنے پر زور دیا گیا ہے ۔

اس وضاحت کے بعد ایسی جہانی سازی کے خطر ناک نتائج اور نقصانات کی طرف روشنی ڈالی گئی ہے اور پھر اس جہانی سازی کی راہ کی رکاوٹوں کو بیان کیا گیا ہے جس کی وجہ سے امریکہ کو اپنے مستکبرانہ مقاصد کی تکمیل میں خاصی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس میں سے سب سے اہم عالم اسلام ہے ، اور اسلام کا عالمی حکومت کا تصور ، یہیں سے اس مسئلہ کو لے کر عالم اسلام کے مسائل شروع ہوتے ہیں ، مقالہ نگار کی خاص تاکید انھیں مسائل اور اس کے حل کی جانب ہے لہٰذا پہلے عالم اسلام کی موجودہ حالت کی وضاحت کرتے ہیں پھر مرحلہ وار ان مسائل کے حل کے لئے چند حکمت عملی بیان کرتے ہیں تاکہ عالمی پیمانہ پر تمام اسلامی مملک مل کر اس بھیانک یلغار کے خطر ناک نتائج اور اس کے نقصانات کی روک تھام کر سکیں۔۔۔

اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک دائرہ کار میں رہ کر انسان کو ہر چیزسے مالا مال کیا ہوا ہے۔ جس وقت اللہ تعالیٰ انسا ن کو پیدا کرتاہے تو اس سے پہلے اس کارزق سے لیکر موت تک سامان آسمان سے زمین پر اتاردیتا ہے۔ جتنی آزادی اسلام میں ہے میرا خیال ہے کہ اتنی آزادی کسی دوسرے مذہب میں نہیں ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ دنیا کی تما م آرائش کی چیزیں اللہ تعالیٰ نے مسلم ملکوں میں دی ہیں تو یہ بھی جھوٹ نہیں ہوگاکیونکہ دنیا پر سب سے زیادہ حکمرانی مسلمانوں نے کی ۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ہر میدان میں آپ کو سب سے آگے مسلمان نظر آئیں گے۔ سائنسدانوں کی تاریخ دیکھ لیں تو ان میں سب سے آگے مسلمان ملیں گے۔ سپہ سالاروں کا ذکر کریں توسب سے اچھے سپہ سالار مسلمان ملیں گے، انصاف کی بات آئے تو ان میں صف اول میں مسلمان حاکم ملیں گے۔ یہ بات آج کی نہیں کررہا یہ تاریخی باتیں ہیں یعنی پچھلے دور کی بات کررہاہوں ۔ کیا اس وقت غیر مسلم نہیں تھے؟کیا اس وقت مسلمانوں کے خلاف کوئی نہیں تھا؟اس وقت کوئی طاقت ور ملک یا غیر مسلم قومیں آباد نہیں تھیں؟ سب کچھ پہلے بھی ایسے ہی تھا مگر اس وقت کے حکمرانوں کے دل اسلام کے جذبے سے سرشار تھے۔ اب ہم صرف نام کے مسلمان ہیں درحقیقت ہمارا ذہن اب غلامی کی طر ف جا رہاہے اس وقت کے لوگ اللہ اور اس کے رسول پر یقین رکھ کر کام کرتے تھے اور اب ہم امریکہ اور غیر مسلم طاقتوں پر یقین رکھتے ہیں۔اگر ہم ایک نظر مسلم ممالک کی طرف اٹھائیں تویہ ممالک قدرتی نعمتوں سے مالا مال دکھائی دیتے ہیں اور ان پر غیر مسلموں کی نظر ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا کے مسلمان ہمارے غلام بن جائیں اور ان کے معدنیات پر ہمارا قبضہ ہوجائے۔ امریکہ کسی بھی مسلم ممالک میں انصاف کے لیے نہیں مداخلت کرتا بلکہ وہ اس ملک کی معدنیا ت پر قبضہ کرنے کے لیے داخل ہوتا ہے اور پھر اس بہانے سے اس ملک کی معیشت پر قابض ہوجاتا ہے۔ آج کویت ، عراق کے تیل کے کنویں پر کون حکمرانی کررہا ہے؟ ایران کے تیل پر کس کی نظر ہے؟

یہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ ایران اسلامی ملک ہے اس لیے اسکے ایٹمی طاقت بننے کے خلاف ہے جبکہ شمالی کوریا ایک غیرمسلم ملک ہے اس کو ایٹمی طاقت بنتے دیکھ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔دیکھا جائے تو تمام مسلم ممالک میں ابھی تک ایران وہ واحد ملک ہے جو اس وقت دنیا کی سپر پاور یعنی امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کررہاہے۔میں تو یہی کہوں گا کہ سپر پاور تو صرف ایک ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات ۔ اگر کوئی امریکہ ، اسرائیل یا کیسی اورممالک کو سپر پاور بناتاہے تو یہ اس کی اپنی سوچ ہے۔ اگرہم مسلمان ہیں تو ہم سب کا ایک عقیدہ ہے اوروہ ہے اللہ پر ایمان کا۔ اب آج کے دورپر نظر ڈالیں۔ امریکہ اور اس کے حواریوں نے تمام مسلم ممالک میں اندرون خانہ جنگیں شروع کرا رکھی ہیں۔ عراق پر امریکہ اور اس کے ساتھی قابض، افغانستان میں امریکہ ، کویت کی جنگ میں امریکہ ، فلسطین میں امریکہ گویا دنیا کے جتنے بھی اسلامی ملک ہیں اس میں امریکہ اور اسکے پٹھوں دندناتے پھررہے ہیں اور مسلمان اپنے ہی بھائیوں پر الزام لگا کر ایک دوسرے کو قتل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ آج دنیا کے تمام مسلم ممالک میں اگر کوئی ایٹمی طاقت ہے تو وہ صرف پاکستان ہے لیکن ہماری بد قسمتی دیکھئے کہ ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود غیر مسلموں کے نرغے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کبھی ہمارے ملک میں ڈرون حملے ہورہے ہیں توکہیں پر خودکش حملے ۔ ذرا سوچئے کہ امریکہ جس ملک میں ٹانگ اڑاتاہے اس کے ساتھ دینے کے لیے غیر مسلم ممالک فوراً تیار ہوجاتے ہیں ۔ لیکن یہ مسلم ممالک جوآپس میں بھائی بھائی بھی ہیں وہ ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے لیے کیوں اکٹھے نہیں ہوسکتے؟ کیوں یہ آپس میں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگے رہتے ہیں؟ اس لیے کہ یہ غیر مسلموں کی پالیسی ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر ان کے اوپر مسلط ہوکر بیٹھ جائیں۔ وہ خود حکمران نہیں بنتے بلکہ اپنے زرخرید غلاموں کو حکومت میں بیٹھا دیتے ہیں۔جو نام کے ملک کے خیرخواہ ہوتے ہیں درحقیقت وہ اپنے آقاﺅں کو خوش کرنے کے لیے اس ملک کو کھوکھلا کر رہے ہوتے ہیں۔کیونکہ اس کے بدلے میں ان کا منہ بند کرنے کے لیے ان کو دولت کی ہڈی ڈال دی جاتی ہے۔ جب کہ وہ حکمران بھول جاتے ہیں کہ ہمارا اصل آقا کون ہے؟ ہمیں کس کی بندگی کرنی چاہیے ؟ ہمارا سب کا اصل مالک کون ہے اور ہمیں کس کی غلامی قبول کرنی چاہیے؟ یہ سب ہر مسلمان جانتا ہے مگر یہ بکے ہوئے حکمران صرف اپنے فائدے کے لیے ، اپنی جائیداد اور دولت بنانے کے لیے اپنے آپ کو گروی رکھ دیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اوپر والے کی لاٹھی بے آواز ہے۔ وہ جب چاہیے جس کو چاہے نیست و نابود کرسکتا ہے۔اگر اب بھی مسلمان ممالک آنکھیں نہیں کھولیں گے تو ایک وقت آئے گا ہمارے مسلم ممالک پر غیر مسلموں کا قبضہ ہوجائے گا اور ہماری آنے والی نسلیں پھر سے غلامی کی زنجیریں پہن لیں گے۔

جیسے پچھلے دنوں غیر مسلموں کی چالوں سے عراق ، کویت اور افغانستان پر تو ہم قبضہ کرا چکے ہیں اور شام ، مصر اور یمن میں ان کے اشارے پر ملک میں انتشار پھیل چکا ہے۔ ان کے حکمران یا تو مارے گئے یا حکومت چھوڑ چکے ہیں ۔ سوال یہ ہے کبھی کسی غیرمسلم ممالک میں ایسا ہوا ہے ؟ کبھی وہاں کی حکومت میں امریکہ نے مداخلت کی ؟ اس کو صرف اسلامی ممالک ہی کیوں نظر آتے ہیں؟ کیا غیر مسلم ممالک ہر طریقے سے آزاد ہیں۔ آج بحری قزاق جہاز کے جہاز اغوا کرتے ہیں اور کئی کئی مہینے ان کو تاوان کے چکر میں قید رکھتے ہیں لیکن وہاں امریکہ کیوں حملہ نہیں کرتا؟ مسلم ممالک کی لڑائی آپس کی ہوتی ہے اور امریکہ اس میں مداخلت کرکے اس پر مسلط ہوجاتاہے۔ اب امریکہ جو ہمارے دوست کے روپ میں دشمن بنا بیٹھا ہے اور ہمیں دولخت کرنے کے در پر ہے ۔ اب اس کی چال دیکھیں کہ وہ بلوچستان میں مداخلت کرکے اس کو خدانہ کرے پاکستان سے الگ کرانے کے در پر ہے۔ امریکہ ایک طرف ڈرون حملے کررہا اور دوسری طرف بلوچستان میں بغاوت کی آگ بھڑکا رہا ہے اور ویسے وہ ہمارے دوست ہونے کا نعرہ لگا رہا ہے۔اگر ایسے دوست ہونے لگے تو پھر دشمن کس طرح کے ہونگے؟خدارا ! اے امت مسلمہ جاگ اور دیکھ تیرے پاس کتنی پاور ہے ۔ دنیا کی کتنی دولت تیرے پاس ہے۔اگر آج تمام مسلم ممالک ایک ہوجائیں تو یہ غیر مسلم اپنی اوقات میں آجائیں گے۔ جو کچھ آج مسلم ممالک ان سے مانگ رہے ہیں کل کو یہ غیر مسلم ممالک مسلمانوں سے مانگنے کے محتاج ہونگے۔

منبع : http://rizvia.net

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه