1۔عين نجس (جو چيز ذاتا ً نجس ھو) جيسے پيشاب، پاخانہ، خون اور ميت۔

2۔ غصبي مال كي خريد و فروخت حرام و باطل ھے ۔

3۔ ايسے اسباب و آلات كي خريد و فروخت جو صرف حرام ميں استعمال ھوتے ھيں جيسے موسيقى، جوئے كے آلات ۔


4۔ سودي معاملہ بھي حرام ھے ۔

5۔ شراب اور ھر مست كرنے والي چيزو ں كي خريد و فروخت ۔

6۔ ايسي چيزوں كي خريد و فروخت جو اسلام كي نگاہ ميں ماليت نھيں ركھتي ھے ۔

7۔ ان ملاوٹ والي چيزوں كا بيچنا جس كے بارے ميں خريدار كو كچھ پتہ نہ ھو جيسے گھي ميں چربي يا كوئي اور چيز ملا كر بيچنا ۔

8۔ انگور و كشمش و كھجور كو ايسے شخص كو بيچنا جو اس سے شراب بناتا ھے (يا بنائے گا)

نجس چيزيں

اسلام كچھ چيزوں كو نجس جانتا، اور مسلمانوں كو اس سے اجتناب كا حكم ديتا ھے:

1۔2۔ پيشاب و پاخانہ خواہ انسان كا ھو يا ھر حرام گوشت حيوان جو خون جھندہ ركھتا ھے يعني اگر اس كي رگ كو كاٹ ديں تو خون بڑي سرعت كے ساتھ نكلے ۔

3۔اسي طرح خون جھندہ ركھنے والے حيوان كي مني نجس ھے ۔

4۔ خون جھندہ ركھنے والے حيوان كا مردہ نجس ھے ۔

5۔ خون جھندہ ركھنے والے حيوان كا خون نجس ھے ۔

6۔ خشكي كے كتے ۔

7۔ خشكي كي سور۔

8۔ كافر جو خدا و رسول (ص) كا منكر ھے ۔

9۔ شراب ۔

10۔ فقاع (بيئر) جو، جو سے بنائي جاتي ھے ۔

مطھرات

1۔ پانى: مطلق اور پاك پاني ھر چيز كي نجاست كو پاك كر تا ھے ۔

2۔ زمين: اگر زمين پاك اور خشك ھے تو انسان كا پير، جوتے كا تلا، چھڑي كي نوك، گاڑي كا پھيہ وغيرہ كو پاك كرتي ھے شرط يہ ھے كہ چلنے كي وجہ سے ان چيزوں كي نجاست زائل ھو گئي ھو ۔

3۔ آفتاب: (سورج) آفتاب كي گرمي زمين، چھت، ديوار، دروازہ، كھڑكي اور درخت وغيرہ كو پاك كرتا ھے شرط يہ ھے كہ عين نجاست بر طرف ھوگئي ھو اور نجاست كي تري آفتاب كي گرمي سے خشك ھو جائے ۔

4۔ عين نجاست كا دور ھونا: اگر حيوان كا بدن نجس ھوجائے تو عين نجاست كے دور ھوتے ھي اس كا بدن پاك ھوجاتا ھے، اور پاني سے دھونے كي ضرورت نھيں ھے ۔

5۔ استحالہ: اگر عين نجس اس طرح متغير ھوجائے كہ اس پر اس كے سابقہ نام كا اطلاق نہ ھو بلكہ اسے كچھ اور كھاجانے لگے تو وہ نجاست پاك ھوجاتي ھے، جيسے كتا نمك كي كان ميں گر كر نمك بن جائے تو پاك ھو جائے گا يا نجس لكڑي كو آگ جلا كر خاكستر كر دے (تو وہ خاكستر پاك ھوجائيگي)

واجب غسل

چھ غسل واجب ھيں:

(۱) غسل جنابت (۲) غسل حيض (۳) غسل نفاس (۴) غسل استحاضہ (۵) غسل ميت (۶) غسل مس ميت ۔

جنابت: انسان دو چيزوں سے مجنب ھوجاتا ھے، ۱۔ جماع (جنسي آميزش) ۲۔ مني كا نكلنا

غسل كا طريقہ

غسل ميں چند چيزيں واجب ھيں:

1۔ نيت: غسل كو خدا كے لئے بجالائے اور معلوم ھونا چاھيے كہ كون سا غسل انجام دے رھاھے (يا دے رھي ھے)

2۔ نيت كے بعد پورے سر و گردن كو دھوئے اس طريقے سے كہ ايك ذرہ كھيں چھوٹنے نہ پائے ۔

3۔ سر و گردن كے بعد داھنے طرف كے پورے بدن كو دھوئے ۔

4۔ اس كے بعد بائيں طرف كے پورے بدن كو دھوئے ۔

نكتہ ۱) مجنب پر چند چيزيں حرام ھيں:

1۔ خط قرآن، اسم خدا، اور اسماء انبياء، اسماء ائمہ طاھرين (ع) كو بدن كے كسي حصہ سے مس كرنا

2۔ مساجد اور ائمہ عليھم السلام كے حرم ميں ٹھھرنا ۔

3۔ كسي چيز كو ركھنے كے لئے مسجد ميں داخل ھونا ۔

4۔ وہ سورہ جن ميں سجدہ واجب ھے ان ميں سے كسي ايك آيت كا پڑھنا (عزائم كا پڑھنا)

5۔ مسجد الحرام ميں جانا ۔

نكتہ ۲) مجنب كے لئے ضروري ھے كہ نماز اور روزہ كے لئے غسل كرے، اسي طرح وہ عورت جو خون حيض و نفاس سے فارغ ھوئي ھے، نماز و روزہ كے لئے غسل كرنا واجب ھے

تيمم كا طريقہ

تيمم ميں پانچ چيزيں واجب ھيں:

1۔ نيت ۔

2۔ دونوں ہاتھوں كو ملا كر ھتھيليوں كو زمين پر مارے ۔

3۔ دونوں ہاتھوں كي ھتھيليوں كوپوري پيشاني اور اس كے دونوں طرف جہاں سے سر كے بال اُگتے ھيں ابرو ؤں تك (اور ناك كے اوپر تك كھينچے)

4۔ بائيں ہاتھ كي ھتھيلي كو داھنے ہاتھ كي پوري پشت پر پھيرے ۔

5۔ داھنے ہاتھ كي ھتھيلي كو بائيں ہاتھ كي پوري پشت پر پھيرے ۔

نكتہ ۱: جب انسان كے لئے پاني ضرر ركھتا ھو يا پاني تك رسائي ممكن نہ ھو يا نماز كا وقت تنگ ھو تو چاھيے كہ نماز كے لئے تيمم كرے ۔

نكتہ ۲: مٹى، كنكر، ريت، ڈھيلہ، پتھر، پر تيمم كرنا صحيح ھے ۔

نكتہ ۳: اگر تيمم غسل كے بدلے ھوتو پيشاني كے مسح كے بعد ايك مرتبہ پھر دونوں ہاتھوں كو ملا كر زمين پر مار ے، بائيں ہاتھ كي ھتھيلي سے داھنے ہاتھ كي پشت كا اور داھنے ہاتھ كي ھتھيلي سے بائيں ہاتھ كي پشت كا مسح كرنا چاھيے۔

بعض حرام كام

ظلم كرنا، جھوٹ، غيبت، چاپلوسى، لوگوں كے مال كا غصب كرنا، عيب جوئى، جوا كھيلنا، سود كھانا، سود لينے كے لئے گواہ بننا، سود كے لئے رسيد كاٹنا، زنا، لواط، نا محرم كي طرف ديكھنا، زنا كي نسبت دينا، ملاوٹ كرنا، شہادت (گواھي) چھپانا، جھوٹي گواھي دينا، وعدہ خلافي كرنا، ميدان جنگ سے بھاگنا، شراب پينا، سور كا گوشت كھانا،مردہ كھانا، انسان كے بيضتين كا كھانا، خون پينا اور كھانا، نجس چيز كا كھانا و پينا، فساد پھيلانا، برے كام كو انجام دينا، مومن كا قتل كرنا، ماں اور باپ كو اذيت پھنچانا، جھوٹي قسم كھانا، كم فروشي (ناپ و تول ميں كمي كرنا)، ظالم كي مدد كرنا، خيانت كرنا، ظالم كے پاس نمامي و چغلخوري كرنا، گمراہ كرنا، دين ميں بدعت ڈالنا، مسلمانوں كي توھين كرنا، خدا كي ذات سے نا اميدى، گالي دينا، تكبر كرنا، زبان سے اذيت كرنا، رياكاري كرنا، لوگوں كو دھوكہ دينا، پڑوسي كو ستانا، لوگوں كو رنج پھنچانا (مردم آزاري) رشوت كھانا، طلبِ منى، چورى، احكام خدا كے خلاف فيصلہ كرنا، مردوں كا سونے كے زيورات سے زينت كرنا جيسے انگوٹھي اور سونے كي گھڑي پھننا سونے كے برتن كا استعمال كرنا وغيرہ ۔

بعض واجبات

نماز، روزہ، امر بہ معروف و نھي از منكر، جہاد، زكات، خمس، حج، مظلوموں كي مدد، گواھي دينا، دين كا دفاع كرنا، نفس محترم كي حفاظت، سلام كا جواب دينا، ماں و باپ كي اطاعت كرنا، احكام دين كا سيكھنا، صلہٴ رحم كرنا، عھد و نذر كا وفا كرنا ۔

تقليد

خداوند عالم نے ھماري سعادت اور دنيا و آخرت ميں نجات كے لئے تمام احكام و قوانين كو اپنے نبي (ص) كے ذريعہ لوگوں تك پھنچايا اور آپ (ص) نے اس امانت عظميٰ كو ائمہ طاھرين (ع) كووديعت اعطا فرمايا ھے اور حضرت كے جانشين اور خلفائے برحق نے اپني عمر كے تمام نشيب و فراز ميں اس ذمہ داري كو پھنچانے كي كوشش فرمائي ھے جو آج تك ان تمام ادوار كو طے كرتا ھوا ھمارے سامنے حديثوں اور روايتوں كي كتابوں ميں موجود ھے ۔

اس زمانہ ميں چونكہ امام زمانہ (ع) تك ھماري رسائي ممكن نھيں ھے كہ ھم اپني ذمہ داريوں اور وظائف كو حضرت (ع) سے دريافت كر سكيں، لہذا مجبور ھيں كہ حديثوں اور قرآني آيات سے احكام كا استنباط كريں اور اگر اس پر بھي قادر اور دست رسي نھيں ركھتے تو ضروري ھے كہ كسي مجتھد اعلم (سب سے زيادہ علم ركھنے والا) كي تقليد كريں ۔

ان روايات و احاديث ميں كھري كھوٹى، صحيح و غلط وضعي جعلي وغيرہ كے سمندر سے گوھر كا الگ كرنا ھر ايك كے بس كا ميں نھيں ھے اس لئے ضروري ھے كہ ايسے افراد كا انتخاب كيا جائے جو اس بحر بيكراں ميں غواصي كر رھے ھوں، جو اس سمندر كي طغيان اور طوفان سے خوب واقف ھوں جنھوں نے اس كو حاصل كرنے كے لئے رات و دن نہ ديكھا، عمر كے لمحات كو نہ شمار كيا ھو، علوم كے سمندر كي تہہ ميں بيٹھے ھوں اس كي راھوں سے خوب واقف ھوں اس ميں سے گوھر و موتي نكالنے ميں ان كے لئے كوئي مشكل كام نہ ھو، ايسے افراد كو مجتھد كھتے ھيں ۔

لہذا ھم مجبور ھيں كہ اپني ذمہ داريوں كو طے كرنے كے لئے ان كے دامن كو تھاميں كيونكہ اس كام كے ماھر وھي ھيں، مريض ڈاكٹر ھي كے پاس تو جائے گا، يہ ايك عقلي قاعدہ ھے جس چيز كے متعلق معلوم نھيں اس علمكے ماھر و متخصص سے پوچھو اور حضرات ائمہ طاھرين عليھم السلام نے بھي دور دراز رھنے والوں كے لئے قريب كے عالم كي طرف راھنمائي فرمائي ھے ۔

البتہ تقليد ميں يہ چيز ذھن نشين رھے، كہ ايسے مجتھد كي تقليد كي جائے جو تمام مجتھدين ميں اعلم (جو احكام خدا كو سمجھنے ميں سب سے زيادہ جاننے والا ھو) عادل و پرھيز گار ھو پس اس كے حكم كے مطابق عمل كرنا ضروري ھے، مجتھدين اكثر موارد ميں اتفاق نظر ركھتے ھيں، سوائے بعض جزئيات كے كہ جس ميں اختلاف پايا جاتا ھے، ھو سكتا ھے كہ ان جزئيات ميں ايك دوسرے كے خلاف فتويٰ ديں ۔

اس مقام پر يہ بھي ذكر كرنا ضروري ھے كہ خداوند عالم كے پاس فقط ايك حكم موجود ھے اس كے علاوہ كوئي حكم نھيں پايا جاتا وھي حق ھے، اور حكم حقيقي و واقعي فتويٰ كے بدلنے سے تبديل نھيں ھوتا ھے، مجتھدين بھي نھيں كھتے ھيں كہ خدا كے نظريات و احكام ھمارے نظريات و خيالات كے تابع ھيں يا ھمارے حكم كي تبديلي سے خدا كا حكم بدل جاتا ھے۔

پھر آپ ھم سے يہ سوال كرنے پر مجبور ھوجائيں گے: فتويٰ ميں اختلاف كي نوعيت كيا ھے؟ فقھاآپس ميں اختلاف كيوں ركھتے ھيں؟

ايسي صورت ميں آپ كے سوال كا جواب يہ ھوگا كہ: فتويٰ ميں اختلاف ان وجوہ ميںسے كسي ايك كي بنا پر ممكن ھے ۔

پھلا: كبھي ايك مجتھد حكم واقعي كو سمجھنے ميں شك كرتا ھے تو اس حال ميں قطعي حكم دينا ممكن نھيں ھوتا لہذا احتياط كي رعايت كرتے ھوئے مطابق احتياط فتويٰ ديتا ھے تاكہ حكم الٰھي محفوظ رھے، اور مصلحت واقعي بھي نہ نكلنے پائے ۔

دوسرا: كبھي اختلاف اس جھت سے ھوتا ھے، كہ دو مجتھدين جس روايت كو دليل بنا كر فتويٰ ديتے ھيں وہ روايت كو سمجھنے ميں اختلاف نظر ركھتے ھيں، ايك كھتا ھے امام اس روايت ميں يہ كھنا چاھتے ھيں اور دوسرا كھتا ھے امام كا مقصود دوسري چيز ھے، اس وجہ سے ھر ايك اپني سمجھ كے مطابق فتويٰ ديتا ھے ۔

تيسرا: حديث كي كتابوں ميں كسي مسئلہ كے اوپر كئي حديثيں موجود ھيں جو باھم تعارض ركھتي ھيں ہاں فقيہ كو چاھيے كہ ان ميں سے ايك كو دوسرے پر ترجيح دے اور اس كے مطابق فتويٰ دے۔

يہاں ممكن ھے كہ مجتھدين كا نظريہ مختلف ھو ايك كھے فلاں اور فلاں جھت سے يہ روايت اس روايت پر مقدم ھے اور دوسرا كھے، فلاں و فلاں جھت سے يہ روايت اس روايت پر ترجيح ركھتي ھے پس ھر ايك اپنے مد نظر روايت كے مطابق فتويٰ ديتا ھے ۔

البتہ اس طرح كے جزئي اختلافات كھيں پر ضرر نھيں پھونچاتے بلكہ محققين اور متخصصين و ماھرين كے نزديك ايسے اختلافي مسائل پائے جاتے ھيں آپ كئي انجينير، اور مہارت ركھنے والے كو نھيں پا سكتے جو تمام چيزوں ميں ھم عقيدہ و اتفاق راي ركھتے ھوں ۔

ھم مذكورہ مطالب سے يہ نتيجہ نكالتے ھيں:

1) تقليد كرنا كوئي نئي بات نھيں، بلكہ ھر شخص جس فن ميں مہارت نھيں ركھتا ھے اس فن ميں اس كے متخصص وماھر كے پاس رجوع كرتا ھے، جيسے گھر وغيرہ بنوانے كے معاملہ ميں انجينيراور بيماري ميں ڈاكٹر اور بازار كي قيمت كے متعلق دلال كے پاس جاتے ھيں، پس احكام الٰھي حاصل كرنے كے لئے مرجع تقليد كي طرف رجوع كريں اس لئے كہ وہ اس فن كے متخصص و ماھر ھيں ۔

2) مرجع تقليد: من ماني اور ھوا و ھوس كي پيروي ميں فتويٰ نھيں ديتے بلكہ تمام مسائل ميں ان كا مدرك قرآن كي آيات و احاديث پيغمبر (ص) اور ائمہ طاھرين (ع) ھوتي ھے ۔

3) تمام مجتھدين، اسلام كے كلي مسائل بلكہ اكثر مسائل جزئي ميں بھي ھم عقيدہ اور نظري اختلاف نھيں ركھتے ھيں ۔

4) بعض مسائلِ جزئيہ جس ميں اختلاف نظر پايا جاتا ھے وہ اس وجہ سے نھيں ھے كہ مجتھدين اختلاف كرنا چاھتے ھيں بلكہ تمام مجتھدين چاھتے ھيں كہ حكم واقعي خدا جو كہ ايك ھے اس كو حاصل كريں اور مقلدين كے لئے قرار ديں، ليكن استنباط اور حكم واقعي كے سمجھنے ميں اختلاف پيدا ھوجاتا ھے پھر چارہ ھي كوئي موجود نھيں رھتا مگر يہ كہ جو كچھ سمجھا ھوا ھے اس كو بيان كر يں ا ور لكھيں جب كہ حكم واقعي ايك حكم كے علاوہ نھيں ھے ۔ مقلدين كے لئے بھي كوئي صورت نھيں ھے مگر اعلم كے فتوے پر عمل كريں اور خدا كے نزديك معذور ھوں ۔

5) جيسا كہ پھلے بيان ھوا كہ دنيا كا ھر متخصص و محقق و ماھر چاھے جس فن كے بھي ھوں ان كے درميان اختلاف نظر پايا جاتا ھے، ليكن لوگ امر عادي سمجھتے ھوئے اس پر خاص توجہ نھيں ديتے ھيں اور اس سے اجتماعي امور ميں كوئي رخنہ اندازي بھي نھيں ھوتي ھے ۔

مجتھدين كے بعض جزئيات ميں اختلافي فتوے بھي اس طرح كے ھيں، اس كو امر غير عادي نھيں شمار كرنا چاھيے ۔

6) ھميں چاھيے كہ ايسے مجتھد كي تقليد كريں جو تمام مجتھدين سے اعلم ھو، اور احكام الٰھي كے حاصل كرنے ميں سب سے زيادہ تجرّ ركھتا ھو نيز عادل و پرھيز گار جو اپنے وظيفہ و ذمہ داري پر عمل كرتا ھو اور قانون و شريعت كي حفاظت كے لئے كوشاں ھو۔

اسلام ميں رھبري و قيادت

جمھوريہ اسلامي ايران كے رھبر فقھاو مجتھدين صاحب شرائط سے منتخب كئے جاتے ھيں جمھوريہ اسلامي ايران كے بنيادي قانون ميں رھبر كے لئے تين شرطيں بيان كي گئي ھے ۔

1۔ علمي صلاحيت ركھتا ھو جو فقہ كے كسي باب ميں فتويٰ دينا چاھے تو دے سكے ۔

2۔ امت اسلام كي رھبري كے لئے تقويٰ و عدالت ضروري ھے ۔

3۔ سياسي و اجتماعي بصيرت كا حامل ھو نيز تدبير و شجاعت و بہادري رھبري و مديريت كے لئے كافي قدرت و طاقت ركھتا ھو ۔

سب سے پھلے رھبري كي ذمہ داري اسلامي جمھوريہ كے باني آية اللہ العظميٰ امام خميني قدس سرہ كے اوپر تھى، اور پھر ان كے بعد رھبر كے انتخاب كي ذمہ داري خبرگان كے اوپر ھے (مجلس خبرگان ميں مجتھدين و فقھاھيں جو رھبري كے لئے كسي كو منتخب كرتے ھيں) حضرت امام خميني كے بعد حضرت آية اللہ خامنہ اي مدظلہ العالي ميں رھبري و قيادت كے تمام شرائط موجود پاكر آپ لوگوں كے سامنے پيش كيا، ولايت امر اور اس سے مربوط تمام تر مسائل كي ذمہ داري رھبر كے اوپر ھے ۔

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه