جو شخص مالي اور جسماني قدرت ركھتا ھو پوري عمر ميں ايك مرتبہ خانہ كعبہ كي زيارت كے لئے جانا اور دنيا كے سب سے بڑے اجتماع اور تمام مسلمانوں كے جاہ و جلال كے ساتھ شركت كرنا واجب ھے ۔



حضرت امام صادق (ع) نے فرمايا: جو شخص مر جائے اس حال ميں كہ عذر شرعي كے بغير اپنے واجبي حج كو ترك كيا ھے تو ايسا شخص دنيا سے مسلمان نھيں جاتا بلكہ وہ يھود و نصاريٰ كے ساتھ محشور ھوگا ۔ (۷۹)

حج اسلام كي بڑي عبادتوں ميں سے ايك عبادت ھے اور اپنے دامن ميں بڑے فوائد كو ركھے ھوئے ھے مسلمان چاھے تواس حج كے مراسم و مناسك ميں اپنے ايمان كي تقويت اور خدا سے اپنے رابطہ كو محكم و استوار كرلے خدا پرستي و فروتنى، برادري و بھائي چارگي اور بخشش و درگذر كرنے كا عملي شاھكار اس بڑي اسلامي درس گاہ ميں سيكھ دنيا كے تمام مسلمان ايك جگہ اور ايك مقام پر جمع اور ايك دوسرے كے رسوم و عادات سے آشنا ھوتے ھيں اور ھر ملك كے عمومي حالات كے تبادلہٴ خيالات كے نتيجہ ميں علمي سطح ميں اضافہ ھوتا ھے اور جہاں پر مسلمان اسلام كي مشكلات اور مھم خطرات سے با خبر ھوتے ھيں، اسي كے ساتھ ايك دوسرے كے اقتصادي اور سياسي و فرھنگي پروگراموں كے سلسلہ ميں باز پرس كرتے ھيں جہاں اسلام كے عمومي مصالح و فوائد پر آپس ميں گفتگو كرتے ھيں اتحاد، ھم فكري نيز آپسي دوستي كے روابط مستحكم ھوتے ھيں۔

نكتہ: حج ھر مالي استطاعت ركھنے والے شخص پر واجب ھے يعني اس كے پاس اتنا مال موجود ھو كہ اگر وہ اپنے مال سے حج كے اخراجات نكال لے تو واپس آنے پر بےچارہ حيران و سرگرداں نہ پھرے بلكہ مثل سابق اپني زندگي اور كام وغيرہ كو ويسے ھي انجام دے سكتا ھو ۔


79. وافى، ج۲، آٹھواں حصہ، ص۴۸

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه