اسلام كے مالي حقوق ميں سے خمس ھے جو تمام مسلمانوں پر فرض ھے۔

سات چيزوں پر خمس دينا واجب ھے:

1۔ كاروبار كے منافع، انسان كو زراعت و صنعت و تجارت مختلف اداروں ميں ملازمت كاريگري وغيرہ سے جو آمدني ھوتي ھے اس ميں سے (مثلاً كھانا، لباس، گھر كا برتن، گھر خريدنا، شادى، مھمان نوازى، مسافرت كے خرچ) سالانہ خرچ سے جو بچ جائے اس بچت كا پانچواں حصہ بعنوان خمس ادا كرے ۔



2۔ كان سے جو سونا، چاندى، لوھا، تانبہ، پيتل، تيل، نمك، پتھر كا كوئلہ، گندھك معدني چيز برآمد ھوتي ھے اور جو دھاتيں ملتي ھيں، ان سب پر خمس واجب ھے ۔

3۔ خزانے ۔

4۔ جنگ كي حالت ميں مال غنيمت ۔

5۔ دريا ميں غوطہ خوري كے ذريعہ حاصل ھونے والے جواھرات ۔

6۔ جو زمين مسلمان سے كافر ذمي خريد ے اس كو چاھيے كہ پانچواں حصہ اس كا يا اس كي قيمت كا بعنوان خمس ادا كرے ۔

7۔ حلال مال جو حرام مال ميں مخلوط ھوجائے اس طرح كي حرام كي مقدار معلوم نہ ھو اور نہ ھي اس مال كوپہچانتا ھو، تو اسے چاھيے ان تمام مال كا پانچواں حصہ خمس دے تاكہ باقي مال حلال ھوجائے ۔

نكتہ ۱) جو شخص خمس كے مال كا مقروض ھے اس كو چاھيے كہ مجتھد جامع الشرائط يا اس كے كسي وكيل كو دے تاكہ وہ عظمت اور ترويج اسلام اور فقير سادات كے مخارج كو اس سے پورا كرے۔

نكتہ ۲) خمس و زكوٰة كي رقوم اسلامي ماليات كا سنگين اور قابل توجہ بجٹ ھے۔

اگر صحيح طريقہ سے اس كي وصولي كي جائے اور حاكم شرع كے پاس جمع ھوتو اسے مسلمانوں كے تمام اجتماعي كاموں كو بطور احسن انجام ديا جا سكتا ھے، يا فقيري و بيكاري اور جہالت كا ڈٹ كر مقابلہ اور اس سے لاچار و فقير لوگوں كي ديكھ ريكھ كي جا سكتي ھے اور لوگوں كي ضروري امور كہ جس كا فائدہ عمومي ھوتا ھے اس كے ذريعہ كرائے جا سكتے ھيں مثلاً ہاسپيٹل، مدرسہ، مسجد، راستہ، پل اور عمومي حمام وغيرہ ۔

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه