س1608: ايک ڈرائيور نے ٹرک خريدنے کا ارادہ کيا اور ايک شخص کى طرف رجوع کيا اس شخص نے مذکورہ قيمت اسے دے دى اور ڈرائيور نے وکيل کى حيثيت سے اس کے لئے ٹرک خريد ليا۔اس کے بعد اس شخص نے اسى ڈرائيور کو وہ ٹرک قسطوں پر فروخت کر ديا۔ مذکورہ مسئلہ کا کيا حکم ہے؟
ج: اگر خريد و فروخت صاحب مال کے وکيل کى حيثيت سے انجام پائى ہو تو اگر دونوں معاملوں ميں حقيقتاً خريد و فروخت انجام پائى ہو اور مذکورہ عمل سود سے فرار کے لئے نہ ہو تو صاحب مال کا قسطوں پر اسى وکيل کو ٹرک فروخت کرنا صحيح ہے۔

 

س1609: قرضى سود کيا ہے اور آيا وہ فيصد مقدار جو کہ بينک سے منافع کے عنوان سے لى جاتى ہے سود شمار کى جائے گي؟
ج: قرضى سود يہ ہے کہ قرض لينے والا قرض کى مقدار سے بڑھکر ايک خاص اورزيادہ مقدار قرض دينے والے کو ديتا ہے ہاں اگر بينک کے پاس مال بطور امانت رکھے اور صاحب مال کى طرف سے بينک صحيح شرعى عقد کے ذريعہ کام کرنے سے حاصل شدہ منافع عطا کرے تو وہ سود نہيں ہے اور مورد اشکال نہيں ہے۔

 

س1610:  سودى کاروبار کا معيار کياہے؟ اور آيا يہ صحيح ہے کہ سود فقط قرض ميں صادق آتا ہے نہ کسى اورجگہ؟
ج: سود کبھى مکيل ( پيمانہ دار) اور موزون ( وزن دار) خريد و فروخت ميں ہوتا ہے اور کبھى قرض ميں اور جوسود قرض ميں ہوتا ہے وہ يہ ہے کہ قرض دينے والے کے لئے عرفاً عينى يا حکمى طور پر زيادہ مال واپس دينے کى شرط کى جائے جو کہ اس کے لئے منافع شمار کيا جائے اور وہ سود جو کہ خريد و فروخت ميں ہوتاہے وہ يہ ہے کہ کسى ايک جنس کو ويسى ہى جنس کے عوض کمى يا زيادتى کے ساتھ فروخت کيا جائے۔

 

س1611:  جسطرح بھوکے انسان کے جان بچانے کے لئے اتنى مقدار ميں مردار کھانا جائز ہے جس سے وہ بھوک مٹاکر جان بچا سکتا ہے اگر مردار کے علاوہ کوئى اور شيءنہ ہو اس طرح اگر کوئى شخص کسى بھى کام کى قدرت نہ رکھتا ہو اس کے لئے اضطرارى کيفيت ميں سود کھانا جائز ہے؟ اور يہ کہ اس کے پاس قليل مال ہے جسے وہ سودى معاملے ميں استعمال کرتا ہے تاکہ اس سے حاصل شدہ منافع سے زندگى گذار سکے؟
ج: سود حرام ہے اور اضطرار کى حالت ميں مردار کھانے کو سود کھانے سے قياس کرنا جائز نہيں ہے۔اس لئے کہ وہ شخص ابھى ايسى حالت ميں ہے کہ مردار کھانے کے علاوہ کسى اور شے سے جان نہيں بچا سکتا ليکن ايسا شخص جو کام نہيں کرسکتا وہ اپنے سرمايے کو عقود اسلامى ميں سے کسى ايک عنوان مثلاً مضاربہ کے تحت رکھ سکتاہے۔

 

س1612: خريد و فروخت کے بعض معاملات ميں ڈاک کے ٹکٹ معين شدہ قيمت سے زيادہ قيمت ميں فروخت کئے جاتے ہيں۔مثلاً ايک ٹکٹ جس کى قيمت 2 روپے ہے اسے 3روپے ميں فروخت کيا جاتا ہے آيا مذکورہ خريد و فروخت صحيح ہے؟
ج: مذکورہ معاملے ميں کوئى حرج نہيں ہے اور اس جيسے اضافے کو سود شمارنہيں کيا جاتا۔ جيسا کہ خريد و فروخت ميں وہ زيادتى جو کہ سود کہلاتى ہے اورمعاملے کوباطل کر ديتى ہے وہ دو ايسى چيزيں ہيں جوہم جنس ہوں اور مقدار کے اعتبار سے ايک زيادہ ہو اور ناپ تول کے ذريعے خريدى اور فروخت کى جاتى ہوں۔

 

س1613:  آيا سود کا حرام ہونا تمام افراد اور کمپنيوں کے لئے ايک جيسا ہے يا بعض خاص موارد ميں استثناءبھى پايا جاتا ہے؟
ج: سود عام طور پر حرام ہے ہاں باپ اور بيٹے ، مياں اور بيوى اور مسلمان اور غير مسلمان کے درميان سود کا لين دين جائز ہے۔

 

س1614:  اگر کسى مال کى خريد و فروخت معين قيمت پر انجام پا جائے ليکن دونوں طرف اس پر اتفاق کريں کہ اگر خريدار نے قيمت کے عنوان سے ايسا چيک ديا جو کہ مؤجل ہو تو ايسى صورت ميں خريدار کچھ مزيد رقم فروخت کرنے والے کو ادا کرے گا۔ آيا ان دونوں کے لئے ايسا کرناجائز ہے؟
ج: اگرمعين قيمت پر مال فروخت کر ديا گيا اور اضافى قيمت اصلى رقم کى تاخير کى وجہ سے اضافہ کى جا رہى ہے تو مذکورہ اضافى قيمت سود ہے اور شرعاً حرام ہے اور دونوں کے توافق کرنے سے مذکورہ اضافہ حلال نہيں ہو جاتا ہے۔

 

س1615:  اگر کسى شخص کو قرض لينے کى ضرورت ہو اور کوئى اسے قرض حسنہ دينے والا نہ ہو تو آيا وہ مندرجہ ذيل طريقے سے قرض لے سکتا ہے کہ کوئى چيز ادھار طور پر اس کى واقعى قيمت سے زيادہ قيمت پر خريدے اور پھر اسى چيز کو فروخت کرنے والے کو کم قيمت پر اسى وقت فروخت کر دے مثلاً ايک کلو گرام زعفران ايک سال کے ادھار پر ايک معين قيمت پر خريدے اور اسى وقت اسى فروخت کرنے والے کو بطور نقد دو سوم قيمت خريد پر فروخت کر دے؟
ج: اس جيسے معاملات قرضى سود سے فرار کا بہانہ ہےں جو کہ شرعاً باطل اور حرام ہے۔

 

س1616:  ميں نے مال سے فائدہ کے حصول کے لئے اور سود سے فرار کے لئے مندرجہ ذيل معاملہ انجام ديا:
   ميں نے ايک گھر 500000 روپے کا خريدا جبکہ اس کى قيمت اس سے زيادہ تھى اور معاملے کے دوران يہ شرط بھى کى کہ اگر فروخت کرنے والے نے پانچ مہينے تک معاملہ فسخ کرنا چاہا تو وہ لى ہوئى قيمت واپس کرنے کے بعد ايسا کر سکتا ہے۔ معاملے کے انجام پانے کے بعد ميں نے وہى گھر فروخت کرنےوالے کو 15000 روپے ماہانہ کرايہ پر دے ديا۔ اب چار مہينے گذرنے کے بعد مجھے حضرت امام خميني(رہ) کا يہ فتويٰ معلوم ہوا کہ سود سے فرار کرنے کے لئے کوئى طريقہ اختيار کرنا جائز نہيں ہے۔آپ کى نظر ميں مسئلہ کا حکم کيا ہے؟
ج: اساسى طور پر مذکورہ معاملہ جسے شرعاً معاملہ خيارى کہا جاتا ہے صحيح ہے اور پھر خود فروخت کرنے والے کو کرايہ پر دينا بھى صحيح ہے۔ البتہ ايسا کرنا وہاں صحيح ہے جہاں خريدار اور فروخت کرنے والے، کرايہ دار اور کرايہ پر دينے والے نے حقيقى طور پر خريد وفروخت کا عمل انجام دياہو اور کرايہ پر ديا ہو ليکن اگر دونوں نے حقيقى معنى ميں خريد و فروخت کا قصدنہ کياہو بلکہ ظاہرى طورپر معاملہ فروخت کرنے والے کے حصول قرض اور خريدار کے حصول فائدہ کے لئے انجام ديا گيا ہو تو ايسا معاملہ جو کہ قرضى سود سے فرار کے لئے انجام دياگيا ہو حرام ہے اور شرعاً باطل ہے اور اس صورت ميں خريدار کو فقط اپنا اصلى مال واپس لينے کا حق ہے جو کہ اس نے فروخت کرنے والے کو قيمت کے عنوان سے ادا کيا تھا۔

 

س1617: سود سے فرار کے لئے کسى شے کا مال کے ساتھ ضم کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:  سودى قرض کے جائز ہونے کا باعث نہيں ہے اور کسى شے کے ضم کرنے سے حلال نہيں ہوتا۔

 

س1618:  آيا ايسى پنشن لينے ميں کوئى حرج ہے جسے ملازم نوکرى کے طويل دورانيہ ميںاپنى تنخواہ کے ايک مقدار حصہ کو پنشن اکاؤنٹ ميں ڈالتارہا ہے تاکہ بڑھاپے ميں اسکے کام آئے ليکن حکومت مذکورہ تنخواہ کے ساتھ کچھ اضافى رقم بھى ريٹائرڈ ہونے والے کو ديتى ہے؟
ج:  پنشن لينے ميں کوئى حرج نہيں ہے اور وہ اضافى رقم جو کہ حکومت ادا کرتى ہے اس رقم کا منافع نہيںہے جسے اس کى تنخواہ سے کاٹا گيا تھا اور اسے سودنہيں کہا جاتا۔

 

س1619:  بعض بينک اس گھر کى مرمت کے لئے جس گھر کے قانونى کاغذات ہوں بعنوان جعالہ قرض ديتے ہيں ليکن شرط يہ ہوتى ہے کہ قرض دار جب معين مدت ميں قسطوں ميں رقم ادا کرے گا تو ايک خاص مقدار رقم اضافى طور پر بھى ادا کرے گا۔ آيا مذکورہ صورت ميں قرض لينا صحيح ہے؟ اور جعالہ کى کيفيت کيا ہوگي؟
ج: اگر گھر کے مالک کو مرمت کے لئے دى گئى رقم قرض کے عنوان سے دى گئى ہے تو جعالہ کاعنوان بے معنى ہے اور قرض ميں زائد رقم کا مطالبہ کرناجائز نہيں ہے۔ اگرچہ مذکورہ قرض بہرحال صحيح ہے اور اگر گھر کا مالک جعالہ قرار دے تو کوئى حرج نہيں ہے۔مثلاً اگر بينک گھر کى مرمت کرائے اور جعالہ وہ تمام رقم ہو جسکا تقاضا بينک گھر کى مرمت کے عوض قسطوں کى ادائيگى پر کرے نہ فقط وہ رقم جسے بينک نے مرمت کے لئے خرچ کيا ہو۔

 

س1620:  آيا کوئى شے بطور ادھار نقد قيمت سے زيادہ قيمت پر خريدنا جائز ہے ؟ اور آيا يہ سود کہلائے گا يا نہيں؟
ج:  کسى شے کا بطورادھارنقد قيمت سے زيادہ قيمت پر خريد و فروخت کرنا جائز ہے اور نقد و ادھار قيمت کے مابين فرق سودنہيں کہلاتا۔

 

س1621:  ايک شخص نے اپنا گھر خيارى معاملے کے تحت فروخت کيا ليکن وہ خريدار کو حاصل شدہ قيمت ادا نہ کر سکا۔تاکہ معاملہ فسح کيا جائے يہاں تک کہ معينہ مدت آگئي۔ ايسى صورت حال ميں ايک شخص ثالث نے بعنوان جعالہ خريدار کو قيمت ادا کر دى تاکہ فروخت کرنے والا معاملہ فسح کر سکے اور مذکورہ شحص قيمت کے علاوہ فروخت کرنے والے سے بعنوان حق جعالہ کچھ حاصل کر لے۔مذکورہ مسئلہ کا شرعاً کيا حکم ہے؟
ج:  اگر ايک تيسرا شخص بيچنے والے کى طرف سے قيمت اد کرنے اور فسخ کرنے کےلئے وکيل ہو اس طرح سے کہ اس نے پہلے فروخت کرنے والے کو قرض ديا اور پھر مذکورہ رقم خريدار کو فروخت کرنے والے کى طرف سے ادا کر دى اور اس کے بعد اس نے معاملہ فسخ کر دياتو اس کا يہ عمل صحيح ہے۔ اور اس صورت ميں مذکورہ وکالت کے عوض جعل لينے ميں کوئى حرج نہيں ہے۔ ہاں اگر اس نے خريدارکو جو قيمت ادا کى ہے وہ فروخت کرنے والے کو بعنوان قرض دى ہے تو اس صورت ميں اسے فروخت کرنے والے سے فقط ادا کردہ قيمت کے مطالبہ کا حق ہے۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه