استاد علامہ طباطبائی
قرآن مجید اور تسبیح سے استخارہ کرنے کی سند

سوال:
      کیا قرآن مجید اور تسبیح سے استخارہ کرنے کی کوئی سند ہے ؟کیا قرآن مجید فال دیکھنے کی کتا ب ہے ؟یاتسبیح کے دانے انسان کی تقدیر کو بدل سکتے ہیں ؟بعض مومنین ہر کام کے لئے، صلاح ومشورہ سے پہلے کیوں استخارہ کا سہارا لیتے ہیں ؟کیا یہ امر لوگوں کی مذہبی تعلیم وتر بیت میں خامی کا نتیجہ نہیں ہے ؟


جواب:
      قرآن مجید اور تسبیح سے استخارہ کرنے کے بارے میں ائمہ اطہار علیہم السلام سے چند روایتیں نقل ہوئی ہیں اور ان روایتوں کو مسترد کرنے کا کوئی عقلی یا نقلی مانع موجود نہیں ہے ۔ ان روایات سے قطع نظر استخارہ کا شیوہ یہ ہے کہ جب انسان ایک کام کے بارے میں اسے انجام دینے یا ترک کرنے کا فیصلہ کر نا چاہتا ہے ،تو اس کام کے اطراف میں اس کو انجام دینے اور ترک کرنے کی تر جیحات پر غور کرتا ہے اور کام کو انجام دینے یاترک کرنے کی ترجیحات میں سے ایک کو پسند کرکے اس پر عمل کرتا ہے ۔اگرغور وفکر کی راہ سے ترجیح نہ دے سکا تو اس سلسلہ میں دوسروں سے صلاح و مشورہ کر کے تر جیحات میں سے جس کے بارے میں مشورہ ملا ہو اس پر عمل کرتا ہے ۔اوراگر صلاح ومشورہ کی راہ سے بھی ترجیح نہ دے سکا اور کام کے دونوں طرف یعنی انجام اور ترک مساوی رہے اورحیرت میں پڑگیا ،تو قرآن مجید کو اٹھاکر خدا کی طرف توجہ کر کے اسے کھول کر پہلی آیت کے مضمون کو اپنے لئے ترجیح جان کر اس پر عمل کرے ،یعنی کلام اللہ کو سند قرار دے کر خد اپر توکل کرکے دومساوی ترجیحات جو دونوں اس کے لئے جائز تھے ،میں سے ایک کو تر جیح دیتا ہے ۔اور یہ کام جو توکّل کے مصادیق میں سے ہے ،نہ اس میں کسی قسم کا شرک ہے اور نہ دینی احکام میں سے کسی کو ضررپہنچاتا ہے اور نہ کسی حلال کو حرام یاحرام کو حلال کرتا ہے ۔یہ استخارہ قرآن مجید سے ہو یا تسبیح سے ،خد اکی یاد کے وسائل میں سے ایک ہے اورحقیقت میں خداپر توکل ہے نہ قرآن یا تسبیح کو خدا کا شریک قرار دیاجاتا ہے ۔

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه