مقدمہ
قرآن کریم کی آیات اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں ہرچیز کا ذکر موجود ہے اور خداوند عالم نے اس میں ہر چیز کو بیان کردیا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ذکر ہوا ہے ” وَ نَزَّلْنا عَلَیْکَ الْکِتابَ تِبْیاناً لِکُلِّ شَیْءٍ“ ۔ اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے

(۱) ۔ ”ما فَرَّطْنا فِی الْکِتابِ مِنْ شَیْءٍ“ ہم نے کتاب میں کسی شے کے بیان میں کوئی کمی نہیں کی ہے (۲) ۔ نہج البلاغہ میں بھی ذکر ہوا ہے : ”وفی القرآن نباٴ ما قبلکم وخبر ما بعدکم و حکم ما بینکم “ ۔ کتاب خدا میں گذشتہ خبریں اور آئندہ کی خبریں اور ضرورت کے احکام موجود ہیں (۳) ۔
اہل سنت نے بھی مشہور صحابی ابن مسعود سے نقل کیا ہے : ”ان فیہ علم الاولین و الآخرین “ ۔ قرآن کریم میں اولین اور آخرین کا علم ہے (۴) ۔
اس کے باوجود ہم مختلف جزئی احکام کودیکھتے ہیں جو قرآن کریم میں نہیں ہں مثلا نماز کی رکعتوں کی تعداد ،زکات کی جنس اور نصاب، بہت سے مناسک حج، صفا و مروہ میں سعی کی تعداد ، طواف کی تعداد اور حدود و دیات ،قضاوت، معاملات کے شرایط اورائمہ (علیہم السلام) کے نام وغیرہ۔
بعض اہل سنت یا وہابی ان مسائل کی طرف توجہ کئے بغیر جو قرآن کریم میں بیان نہیں ہوئے ہیں ،اس مسئلہ کو پیش کرتے ہیں کہ حضرت علی (علیہ السلام) کا نام قرآن کریم میں کیوں بیان نہیں ہوا ؟ اور اس طرح وہ کوشش کرتے ہیں کہ اس مسئلہ سے شیعوں کے ولایت کے دعوی کے خلاف استفادہ کریں ، اس مقالہ میں ہماری کوشش ہے کہ ہم اس دعوے کا جواب دیں اور ان مسائل کی وضاحت کریں ۔

قرآن کریم میں رسول اللہ (ص) کے جانشینوں کا تعارف
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے جانشین کی بحث میں سب سے اہم جو بحث ہے وہ مسلمانوں کے لئے ان کا تعارف ہے کیونکہ اپنی جگہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ مقام انتصابی ہے اور ایسا شخص خداوند عالم کی طرف سے منتخب ہوتا ہے ،لہذا اب کیا اعتراض ہے کہ یہ تعارف قرآن کریم میں اوصاف و صفات کے ساتھ ذکر ہو اور پھر رسول خدا اس شخص کو نام و نشان ذکر کرنے کے ساتھ لوگوں کے سامنے بیان کریں ۔
ہم جس وقت قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ خداوند عالم نے دو طرح سے لوگوں کا تعارف کرایا ہے ، کبھی نام لے کر تعارف کرایا ہے جیسے بعض انبیاء کہ جن کا نام سورہ مریم میں ذکر کیا ہے اورکہا ہے : ”اذکر فی الکتاب ابراھیم ․․․، و اذکر فی الکتاب موسی․․․، واذکر فی الکاب اسماعیل ․․․ و اذکر فی الکتاب ادریس ․․․“ ۔ (۵) ۔
بعض اوقات شخص کے اوصاف و صفات قرآن کریم میں ذکر کئے ہیں جیسے حضرت سلیمان (ع) کا واقعہ جس میں فرمایا ہے : ”قالَ الَّذی عِنْدَہُ عِلْمٌ مِنَ الْکِتابِ․․․“ اور ایک شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کے ایک حصہّ کا علم تھا(۶) ۔ (۷) ۔
عام لوگوں میں بھی کسی کو پہچنوانے کے یہ دو طریقہ رائج ہیں اور دوسرے طریقہ سے زیادہ استفادہ کیا جاتا ہے ۔
حضرت آیة اللہ مکارم شیرازی (دام ظلہ) فرماتے ہیں : کبھی کبھی فضائل اور خصوصیات کو ذکر کرنے کے ذریعہ افراد کا تعارف اچھے طریقہ سے ہوجاتا ہے کیونکہ افراد کے نام مخصوص نہیں ہیں اوراس میں یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ دوسرے لوگ اس سے سوء استفادہ کریں ، جیسا کہ حضرت مہدی (ع) کے بارے میں بعض لوگوں نے سوء استفادہ کیا ہے اوراپنے بچوں کانام مہدی یا محمد رکھتے تھے ”علی“ بھی صرف امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کا نام نہیں تھا ،اسی طرح ”ابوطالب “ بھی فقط آپ کے والد کی کنیت نہیں تھی ، بلکہ عرب کے درمیان متعدد افراد کا نام اورکنیت ”علی“ اور ”ابوطالب“ تھی ،اس بناء پر اگر ”علی“ کا نام صریح طور پر قرآن کریم میں ذکر ہوتا تو شاید لوگ اس کو دوسرے ”علی“ پر منطبق کرتے (۸) یا کم سے کم اس طرح کا احتمال دیا جاتا ، جب کہ دوسرے طریقہ میں ایسا احتمال نہیں دیا جاسکتا ، اس لئے بہتر ہے کہ خصوصیات، صفات ممتاز اور جو صرف حضرت امیرالمومنین علی (علیہ السلام) میں منحصر ہیں ان سے تعارف کرایا جائے تاکہ صرف آپ کے مقدس وجود کے علاوہ کسی اور پر منطبق نہ ہوسکے ۔
شاید آپ یہ کہیں : تمہارا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم نے خصوصیات اور صفات کے ذریعہ ائمہ (علیہم السلام) کاتعارف کرایا ہے تو یہ تعارف کن آیات اور کن سوروں میں ہے ؟ ہم کہتے ہیں خداوند عالم نے کتنی ہی آیات میں ان کا تعارف کرایا ہے ہم یہاں پر ان میں سے صرف تین آیات کا ذکر کریں گے :
سورہ مائدہ کی ۵۵ ویںآیت میں فرمایا ہے : ”إِنَّما وَلِیُّکُمُ اللَّہُ وَ رَسُولُہُ وَ الَّذینَ آمَنُوا الَّذینَ یُقیمُونَ الصَّلاةَ وَ یُؤْتُونَ الزَّکاةَ وَ ہُمْ راکِعُون“ ۔ ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوِٰ دیتے ہیں۔ بہت سے علماء اہل سنت کی تصریح کے مطابق یہ آیت امیرالمومنین (ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، جیسا کہ قاضی عضدالدین ایجی (متوفی ۷۵۶) اور بعض دوسرے علمائے اہل سنت نے اس متعلق کہا ہے : و اجمع ائمةالتفسیر ان المراد علی“ ۔ قرآن کریم کی تفسیر میں علماء اور راہنماؤں کا اتفاق و اجماع ہے کہ اس آیت سے مرادحضرت علی (علیہ السلام) ہیں (۹) ۔
اس آیت کا آخری حصہ جمع کی ضمیر کے ساتھ ذکر ہوا ہے جس سے سمجھ میں آتا ہے کہ اگر چہ فی الحال اس کا مصداق ایک شخص ہے لیکن مستقبل میں اس کے دوسرے مصادیق ائمہ معصومین (علیہم السلام) ہوں گے جوایک کے بعد ایک اس مقام پر فائز ہوں گے ۔
اسی طرح سورہ نساء کی ۵۹ ویں آیت میں ”اولوالامر“ کہا ہے : ”یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اٴَطیعُوا اللَّہَ وَ اٴَطیعُوا الرَّسُولَ وَ اٴُولِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ “ ۔ ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو ، رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں۔ ”اولواالامر“ سے مراد روایات کی صراحت کی بناء پر ائمہ اثناعشر ہیں (۱۰) ۔
سورہ توبہ کی ۱۱۹ ویں آیت جو کہ صادقین کے نام سے مشہور ہے ، اس امر پر دلالت کرتی ہے ، شیعہ اور سنی روایات کی تصریح کے مطابق یہ آیت بھی تمام ائمہ کی ولایت پر دلالت کرتی ہے ،خداوند عالم فرماتا ہے : ”یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَ کُونُوا مَعَ الصَّادِقینَ“ ۔ ایمان والواللہ (کے حکم کی مخالفت)سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ ہوجاؤ۔بہت سے علماء اہل سنت جیسے علامہ گنجی نے کتاب ”کفایة الطالب“ میں اور ابن جوزی نے تذکرة میں کہا ہے : ”قال علماء السیر معناہ کونوا مع علی و اھل بیتہ “ (۱۱) ۔
جو کچھ ذکر ہوا ہے اس کے علاوہ یہ جاننا بھی بہتر ہے کہ بعض روایات کی بنیاد پر لفظ ”علی“ قرآن کریم میں دو جگہ استعمال ہوا ہے جس کو حضرت علی (علیہ السلام) سے تفسیر کیا ہے :
۱۔ سورہ زخرف کی آیت نمبر ۴ : ”وانہ فی ام الکتاب لدینا لعلی حکیم (۱۲) ۔
۲۔ سورہ مریم کی آیت نمبر ۵۰ : ”وجعلنا لھم لسان صدق علیا “ (۱۳) ۔

قرآن کریم اور کلیات کا بیان
قرآن کریم میں مراجعہ کرتے وقت اس نکتہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ قرآن کریم نے بہت سے مطالب کو کلی طور پر ذکر کیا ہے اور اس کے جزئیات میں داخل ہونے سے صرف نظر کیا ہے (۱۴) مثلا خداوند عالم فرماتا ہے : ”اقیموا الصلاة“ اور نماز کی رکعات ، شرایط اور اعمال کو ذکر نہیں کیا ہے ،یا کہا ہے : ”آتوا الزکاة“ ، لیکن زکات کے واجب ہونے کی جگہ کو بیان نہیں کیا ہے ،البتہ کبھی کبھی قواعد کلیہ ، عمومات اور اطلاقات کو ذکر کیا ہے جس کے ذریعہ بہت سے ضروری مسائل کو ان سے حاصل کیا جاسکتا ہے مثلا فقہ کی معاملات کی بحث میں اس آیت ”یا ایھاالذین آمنوا اوفوا بالعقود“ سے استفادہ کرتے ہیں اور عبادات میںاس آیت ”وَ جاہِدُوا فِی اللَّہِ حَقَّ جِہادِہِ ہُوَ اجْتَباکُمْ وَ ما جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّینِ مِنْ حَرَج“ اور حقوق والدین میں اس آیت ” لا تُضَارَّ والِدَةٌ بِوَلَدِہا وَ لا مَوْلُودٌ لَہُ بِوَلَدِہِ“ سے استفادہ کرتے ہیں ،لیکن جب قرآن کریم میں مراجعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ بہت سے جزئیات قرآن کریم میں بیان نہیں ہوئے ہیں اور ان کلی قواعد سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا ۔
قرآن کریم کا کلیات کو بیان کرنا بھی واضح ہے کیونکہ قرآن کریم تمام لوگوں کے لئے الہی ہدایت کا پیغام ہے اور انسان کی مادی اور معنوی دونوں زندگیوں کو شامل ہے اور قرآن کریم نے انسانی زندگی کے تمام مادی، معنوی، فردی، اجتماعی، اخلاقی ، دنیوی اور اخروی پہلووں پر روشنی ڈالی ہے ۔
فطری سی بات ہے کہ ان تمام مطالب کو ایک کتاب میں تفصیلی طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا بلکہ کلی، معیاری اور مسئلہ کو حل کرنے والا ضروری متن لایا جاسکتا ہے ۔ اس کی فرعی شاخوں کی تفصیل اس کے انبیاء، جانشین اور ہدایت یافتہ لوگوں پر چھوڑ دی جائے (۱۸) ۔
جیسا کہ روایات میں بیان ہوا ہے کہ امام صادق (علیہ السلام) کے ایک شاگرد ابوبصیر نے امام سے یہی سوال کیا تھا (۱۹) اور آپ نے اس سوال کے جواب میں قرآن کریم کے اس خاص طریقہ کے طرف اشارہ کیا اور فرمایا : جس وقت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے لئے نماز کی آیت نازل ہوئی تو خداوندعالم نے تین یا چار رکعت نہیں بیان کی ، یہاں تک کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس کی وضاحت فرمائی۔ زکات کی آیت نازل ہوئی ، لیکن خداوند عالم نے نہیں بتایا کہ چالیس درہم میں سے ایک درہم زکات دی جائے ، لہذا بعد میں رسول خدا (ص) نے اس کی وضاحت فرمائی، جب حج کی آیت نازل ہوئی تو خدا نے نہیں فرمایا کہ طواف میں خانہ کعبہ کے ساتھ چکر لگائے جائیں ،پھر بعد میں رسول خدا (ص) نے لوگوں کے سامنے وضاحت فرمائی ۔ ”اٴَطیعُوا اللَّہَ وَ اٴَطیعُوا الرَّسُولَ وَ اٴُولِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ “علی ، حسن اور حسین (علیہم السلام) کی شان میں نازل ہوئی اور رسول خدا (ص) نے علی (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ”جس کا میں مولی اور آقا ہوں اس کے یہ علی مولی اور آقا ہیں اور فرمایا میں تمہیں کتاب خدااور اپنے خاندان کے متعلق وصیت کرتا ہوںکیونکہ میں نے خداوندعالم سے درخواست کی ہے کہ ان دونوں کے درمیان جدائی نہ ہو یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیںاور خداوند عالم نے میری یہ درخواست قبول فرمالی ہے “ (۲۰) ۔
امام محمد باقر (علیہ السلام) نے اس متعلق فرمایا ہے : خداوندعالم نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)پر نماز نازل کی ، لیکن تین یا چار رکعت کا تذکرہ نہیں کیا ،یہاں تک کہ رسول خدا (ص) نے اس کی وضاحت فرمائی ، نیز فریضہ حج کو نازل فرمایا ،لیکن طواف کی تعداد نازل نہیں کی ،پھر پیغمبر اکرم (ص) نے اس کی تفسیر کی ، اسی طرح ہماری امامت ہے ،خداوند عالم نے آیت ”اٴَطیعُوا اللَّہَ وَ اٴَطیعُوا الرَّسُولَ وَ اٴُولِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ “ نازل فرمائی اور پیغمبر اکرم (ص)نے اولوالامر کو ائمہ اثنی عشر سے تفسیر فرمایا اوراگر پیغمبر اکرم(ص) خاموش رہ جاتے اور بیان نہ کرتے تو آل عباس، آل عقیل اور دیگر لوگ مدعی ہوجاتے کہ اولی الامر سے مراد ہم ہیں ․․․(۲۱) ۔
یہ نکتہ بھی قابل اہمیت ہے کہ امامت اور ولایت کے مسئلہ میں خداوند عالم نے کلی مطالب (۲۲) بیان کرنے کے علاوہ امامت کے وجود کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے اس کی جزئیات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے مثلا اس آیت ”لا ینال عہدی الظالمین“ (۲۳)(میرا عہد و پیمان ظالمین تک نہیں پہنچ سکتا) میں کہا ہے کہ امام ظالم نہ ہو ،یا دوسری آیت میں ان کے مصداق کو صفات کے ساتھ مشخص کیا ہے : ”إِنَّما وَلِیُّکُمُ اللَّہُ وَ رَسُولُہُ وَ الَّذینَ آمَنُوا الَّذینَ یُقیمُونَ الصَّلاةَ وَ یُؤْتُونَ الزَّکاةَ وَ ہُمْ راکِعُون“ ۔ ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوِٰ دیتے ہیں(۲۴) ۔ اس آیت میں خاص طور سے حضرت علی (علیہ السلام) کو جو کہ رسول اللہ (ص) کے زمانہ میں موجود تھے ، مشخص کیا ہے اور ہم جو کہ اس زمانہ میں نہیں تھے اس مصداق کو حدیث اور تاریخ کی کتابوں سے حاصل کرتے ہیں ۔
گذشتہ آیات اور دوسری ان آیات کے ذریعہ جو اہل بیت (علیہم السلام) کی شان میں نازل ہوئی ہیں ، یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ائمہ ھدی (ع) خصوصا امیرالمومنین علی (علیہ السلام) اور ان کے خاندان کے متعلق قرآن کریم کا طریقہ یہ رہا ہے کہ ان کی ممتاز شخصیت اور ان کے برجستہ صفات کو بیان کرے جیسے : ”وَ یُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلی حُبِّہِ مِسْکیناً وَ یَتیماً وَ اٴَسیراً “ (۲۵) ۔ یہ اس کی محبت میں مسکینً یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں۔ اسی طرح آیت تطہیر اور آیہ ولایت میں آپ کے صفات و خوصیات کو بیان کیا ہے پہلی آیت میں آپ کے ایثاروسخاوت اور دوسری آیت میں آپ کو ہر طرح کی برائی اور عیب و گناہ سے پاک اورتیسری آیت میں دو بڑی عبادتوں کو آپ کے اخلاص اور خدا کی دوستی کے ساتھ بیان کیا ہے ۔
اس طریقہ کی متعدد حکمتیں ہیں ، شخصیت کا تعارف نمونہ عمل کا تعارف ہے جس کے نتیجہ میں معاشرہ کو تعقل ،غور وفکر ، ملاک و معیار، فضائل اورواقعی امتیازات کی طرف لے جاتا ہے (۲۶) ۔اور شخصیت کا تعارف معقول بات کو قبول کرنے کا راستہ بن جاتا ہے جبکہ شخص کا تعارف کچھ جگہوں پر دفاع کرنے کا سبب بنتا ہے .
یہ طریقہ خاص طور سے اس وقت جب شخص کے خلاف کچھ وجوہات کی بناء پر غلط پروپگینڈہ ہو یا معاشرہ کسی بھی دلیل کی بناء پر اس کو قبول کرنے کو تیار نہ ہو تو یہ بہترین طریقہ ہے اور یہ مسئلہ امیرالمومنین (علیہ السلام) اور اہل بیت (علیہم السلام) کے متعلق موجود ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مومنین میں سے بعض مومنین کے علاوہ صدر اسلام کی اکثریت اہل بیت (علیہم السلام) خصوصا امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کو قبول نہیں کرتی تھی اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بھی مختلف جگہوں پر بہت زیادہ مشکلات میں حضرت علی (علیہ السلام) کو پیش کرتے تھے اور اس وجہ سے لوگ ایک طرح کا منفی عکس ا لعمل ظاہر کرتے تھے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے تھے جو کچھ دن پہلے اسلام کے دشمنوں کی صفوں میں تھے اورانہوں نے امام علی (علیہ السلام) کی تلوار کو دیکھا تھا اور وہیں سے ان کے خلاف بغض و حسد اپنے دلوں میں چھپا لیا تھا ، حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) نے بھی آپ سے لوگوں کی روگردانی کی ایک وجہ یہی بیان کی ہے ۔ دوسرے یہ کہ جاہلی غلط سنتیں ابھی لوگوں کی فکروں پرحاکم تھیں، اور بہت سے امور جیسے عُمر وغیرہ کو سیاسی امور میں داخل سمجھتے تھے ،لہذا حضرت علی (علیہ السلام) کے جوان ہونے کو معاشرہ کی رہبری کے لئے بہتر نہیں سمجھتے تھے اس کے علاوہ یہ خطرناک فکریں معاشرہ میں رائج تھیں اور بہت سے لوگ اس فکر کو لوگوں میں بیان کرتے تھے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) چاہتے ہیں کہ اپنے رشتہ داروں کو ہمیشہ کے لئے مسند حکومت پر بٹھا دیںاور اس طرح پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قیمتی خدمتوں کو ایک طرح سے سیاسی کھلواڑ سے تفسیر کرتے تھے ۔ اس مسئلہ کواس قدر رائج کیا گیا کہ غدیر کے روز حضرت علی (علیہ السلام) کا تعارف کرانے کے بعد ایک شخص نے آواز لگائی ، خدایا ! ہم سے کہا کہ میں خدا کی طرف سے آیا ہوں اور کتاب خدا لایا ہوں ،ہم نے قبول کرلیا اوراب چاہتا ہے کہ اپنے داماد اور چچا زاد بھائی کو ہمارے اوپر حاکم اورمسئول بنائے ،اگر یہ سچ کہتے ہیں تو آسمان سے ایک پتھر بھیج جو مجھے قتل کردے ! اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں کس حد تک صحیح تھا کہ امام علی یا ائمہ علیہم السلام کا نام قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ بیان ہوتا ؟

سنت اور بیان جزئیات
اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ مختلف مسائل کی بہت سی جزئیات قرآن کریم میں بیان نہیں ہوئی ہیں ، یہ سوال پیش آتا ہے کہ اس طرح کے مسائل میں جزئیات کو حاصل کرنے کیلئے کیا کرنا چاہئے ؟ ہمارا مرجع و مآخذ کون ہے ؟ کیا قرآن کریم نے مسائل کے اس حصہ کی طرف کوئی توجہ کی ہے ؟
قرآن کریم ،قرآن کے مفسر اور احکام الہی و تعلیمات اسلامی کو حاصل کرنے کاایک منبع و مآخذ ”سنت پیغمبر“ کو بیان کرتا ہے اور کہتا ہے : ”وَ اٴَنْزَلْنا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَیْہِمْ “ (۲۷) ۔ اور آپ کی طرف بھی ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے تاکہ ان کے لئے ان احکام کو واضح کردیں جو ان کی طرف نازل کئے گئے ہیں۔
سیوطی نے ”اوزاعی“ سے نقل کیا ہے کہ اس آیت ”وَ نَزَّلْنا عَلَیْکَ الْکِتابَ تِبْیاناً لِکُلِّ شَیْءٍ “ (۲۸) ۔ اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے، کی تفسیر میں ”قال : بالسنة“ کہا ہے ،منظور یہ ہے کہ سنت کے وسیلہ سے تمام حقایق قرآن کریم میں موجود ہیں (۲۹) ۔
پیغمبر اکرم نے بھی ”حدیث ثقلین“ کے مطابق اپنے اہل بیت اور عترت کا احکام اور تعلیمات اسلامی کے مطمئن ترین منابع اور مآخذ کے عنوان سے تعارف کرایا ہے ، اس سلسلہ میں ا مام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”کتاب اللہ فیہ نبا ما قبلکم و خبر ما بعدکم و فصل ما بینکم و نحن نعلمہ “ ۔ کتاب خدا میںماضی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور وہ چیزیں جوموجود ہیں جن کے ذریعہ تم اپنے درمیان اختلاف کو حل کرسکو اور ہم ان سب کو جانتے ہیں (۳۰) ۔
اسلامی مختلف روایات سے اچھی طرح استفادہ ہوتا ہے کہ قرآن کا ظاہر بھی ہے او رباطن ہے ،اس کا ظاہر وہ معانی اور مفاہیم ہیں جو سب کی دسترس میں ہیں اور سب اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ،لیکن باطن وہ معانی اور مفاہیم ہیں جو صرف پیغمبر اور معصوم راہنماؤں کے اختیار میں ہیں (۳۱) ۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ خداوند عالم ، قرآن کریم میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ا طاعت کو اپنی اطاعت جانتا ہے اور اس نکتہ پر ۲۰ مرتبہ سے زیادہ تاکید کی ہے (۳۲) اور کہا ہے پیغمبر تمہارے لئے نمونہ عمل ہیں (۳۳) یعنی ہم ان کے اعمال، رفتار اور گفتار کی تائید کرتے ہیں ۔
اس کے علاوہ انسانوں کی ہدایت سے مربوط تمام مسائل چاہے وہ اہم ہوں یااہم نہ ہوں ، ایک جلد کتاب کے کتنے سو صفحوں پر آسکتے ہیں ؟ حتما ضروری ہے کہ آسمانی متن کی تفسیر کے لئے آسمانی شخص کا تعارف کرایا جائے اور جب تک تعارف نہ کرایا جائے اس وقت تک دین کامل نہیں ہوگا ،لہذا قرآن کریم کی آخری آیت میں ”الیوم اکملت لکم دینکم“ کی بات نہیں ہوئی ؟ بلکہ جس وقت قرآن کریم کے ساتھ اس کے آسمانی مفسر کا تعارف کرادیا اس وقت دین کے کام ہونے اور کفار کے ناامید ہونے کا ذکر کیا (۳۴) ۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا پیغمبر اکرم (ص) نے بھی اپنے وصی کے انتخاب کا اقدام کیا ہے ؟ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے رسالت کے آغاز ہی میں اپنی قوم کوانذار کرنے کے واقعہ میںاس مہم کی طرف قدم بڑھایا ہے جس کو خداوند عالم نے فرمایا ہے : ”وانذر عشیرتک الاقربین“ اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو ڈراؤ (۳۵) ۔ صحیح روایات اور اہل سنت کے بزرگ علماء کی شہادت کے مطابق پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اسی وقت حضرت علی (علیہ السلام) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : ”ھذا اخی و وصیی و خلیفتی من بعدی “ یہ میرے بعد میرے بھائی، میرے وصی اور میرے خلیفہ ہیں اور دوسری جگہوںپر متعدد روایات میں ائمہ کی تعداد بارہ بتائی ہیں : ”یکون بعدی اثنا عشرا امیرا کلھم من قریش “ (۳۶) ۔ یا ”اثناعشر کعدد نقباء بنی اسرائیل“ (۳۷) اور دوسری بعض روایات میں ائمہ اطہار (علیہم السلام) کی تعداد کے علاوہ ان کے ناموں کی تصریح کی ہے جو کہ فریقین کی کتابوں میں ذکر ہوئے ہیں مثلا جابر بن عبداللہ انصاری سے نقل ہوا ہے ، جس وقت خداوند عالم نے اس آیت ”یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اٴَطیعُوا اللَّہَ وَ اٴَطیعُوا الرَّسُولَ وَ اٴُولِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ “ ۔ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو ، رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں ، کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر نازل کیا تو ہم نے آنحضرت (ص)سے کہا: یا رسول اللہ ہم نے خدا اور اس کے رسول کو تو پہچان لیا لیکن ا ولی الامر جن کی اطاعت کا خداوند عالم نے آپ کی اطاعت کے ساتھ حکم دیا ہے ،کون ہیں؟ فرمایا : اے جابر ! وہ میرے جانشین ہیں اور میرے بعد مسلمانوں کے امام ہیں جن میں سب سے پہلے علی بن ابی طالب اور پھر حسن ، ان کے بعد حسین ان کے بعد علی بن الحسین، ان کے بعد محمد بن علی ہیں جو توریت میں باقر کے نام سے مشہور ہیں اور تم بہت جلد ان سے ملاقات کروگے ، جب تم ان سے ملاقات کرو تو ان کو میرا سلام کہنا ۔
ان کے بعد صادق جعفر بن محمد ،پھر موسی بن جعفر ،ان کے بعد علی بن موسی، ان کے بعد محمد بن علی ، ان کے بعد علی بن محمد ،پھر حسن بن علی اوران سب کے آخری میرے ہم نام ہیں ،ان کا نام میرا نام (محمد) ہے اور ان کی کنیت میری کنیت (ابوالقاسم) ہے وہ زمین پر خدا کی حجت ، بقیة اللہ اور خدا کے بندوں کے درمیان اللہ کی نشانی ہیں (۳۸) ۔(۳۹) ۔

ذکر نہ ہونے کا لازمہ قبول نہ کرنا نہیں ہے
اگر کسی چیز کو ثابت کرنے یا نفی کرنے میں ہمارا ملاک اس چیز کا قرآن کریم میں ذکر ہونا یا ذکر نہ ہونا بن جائے تو پھر ہمیں مسلمانوں کے درمیان رائج بہت سے مسلم اور یقینی اعتقادات کا انکار کرنا پڑے گا ،اس کے علاوہ جو کچھ مندرجہ بالا گزر گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود قرآن کریم بھی اس ملاک و معیار کا موافق نہیں ہے اورہمیں رسول اللہ کے کلام اور عمل کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے (۴۰) ۔ اس کے علاوہ اوامر الہی کی اطاعت میں لوگوں کی عبودیت کا کیسے امتحان لیا جاتا ، اگر قرار یہ ہو کہ جس کام کو بھی خداوند عالم نے ہم سے طلب کیا ہے ہم اس کی حکمت اور مصلحت کوجان لیں ، پس خدا اورغیر خدا کا فرق کیا ہے ؟ کیا بندوں کے متعلق خدا کی حکمت،اس کا علم اور اس کی مصلحت پر علامت سوال نہ لگتا؟
خداوند عالم نے قرآن کرم میں انبیاء کو تین طرح سے ذکر کیا ہے ،بعض انبیاء کانام لیا ہے اور ان کی زندگی کو بیان کیا ہے اور ان میں سے بعض انبیاء کا فقط نام لیا ہے اور کوئی بات نہیں کہی ہے اور بعض انبیاء کا فقط تذکرہ کیا ہے ، لیکن ان کا نام نہیں لیا ہے ، پس بعض انبیاء کی قرآن کریم میں صفت بیان کی گئی ہے اور ان کے نام کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہوا ہے جیسے : شموئیل (۴۱) ان کے متعلق فرمایا ہے : ”وقال لھم نبیھم “ (۴۲) ۔ اسی طرح حضرت یوشع (ع) کہ متعلق فرمایا ہے : ”واذ قال موسی لفتہ“ بہت سے مفسرین کے اعتقاد کے مطابق یہاں پر یوشع بن نون مراد ہیں ۔ ”ارمیا“ کے متعلق فرمایا ہے : ”او کالذی مر علی قریة“ (۴۳) اگر چہ بعض مفسرین نے ان کو عزیر یا خضر کہا ہے لیکن ایک روایت میں امام محمد باقر (علیہ السلام) نے ان کا نام ”ارمیا“ ذکر کیا ہے اور حضرت خضر (ع) کو سورہ کہف کی متعدد آیات منجملہ ۶۵ ویں آیت میں ”عبدا من عبادنا“ ذکر کیا ہے اگر چہ ان کا نام صریح طور ان آیات میں نہیں آیا ہے لیکن مشہور کے نظریہ کے مطابق وہ بھی ایک نبی تھے ۔ سورہ کہف کی آیات میں متعدد قرائن اس بات پر دلالت کرتے ہیں (۴۴) ۔
اس کے علاوہ بہت سے انبیاء کا قرآن کریم میں نہ ہی نام بیان ہوا ہے اور نہ ہی ان کا کوئی تذکرہ ہوا ہے لیکن اس وجہ سے ان کا انکار نہیں کیا جاسکتا ،کیونکہ خداوند عالم نے کلی طور پر فرمایا ہے : ”وَ لَقَدْ اٴَرْسَلْنا رُسُلاً مِنْ قَبْلِکَ مِنْہُمْ مَنْ قَصَصْنا عَلَیْکَ وَ مِنْہُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَیْک“ ۔اور ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں جن میں سے بعض کا تذکرہ آپ سے کیا ہے اور بعض کا تذکرہ بھی نہیں کیا ہے (۴۵) ۔ یہ واقعہ ،قرآن کریم میں ائمہ (علیہم السلام) کے نام ذکر نہ ہونے کی طرح ہے کہ آیات کی تاکید کے ساتھ کلی طور پر ان کے وجود اوراسی طرح قرآن کریم میں ان کی توصیف کے ذکر ہونے سے نام کے ذکر نہ ہونے کو بہانہ بنا کر انکار کردیا جائے ہوسکتا ہے کہ یہاں پر بھی جس طرح بعض انبیاء کا نام قرآن مجید میں ذکر نہیں ہوا ہے ،ان کے نام کو ذکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی ،اسی وجہ سے اس سے چشم پوشی کی گئی ہے ۔

قرآن کریم کی حفاظت میں خداوندعالم کی تدبیر
دوسری دلیل جس کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ خداوند عالم نے قرآن کریم کی حفاظت کرنے کا وعدہ صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے (۴۶) ، لیکن اس کی حفاظت کا راستہ بیان نہیں کیا ہے ، لہذا یہ حفاظت غیب کے راستہ سے بھی ہوسکتی ہے کہ ہرتحریف کرنے والے کا ہاتھ اور زبان کاٹ دے تاکہ وہ قرآن کریم میں کم و زیادہ نہ کرے ، یا دوسرے فطری اورعام علل و اسباب کے ذریعہ اس کی حفاظت کرسکے۔ اگر امام علی (علیہ السلام) اور تمام ائمہ (علیہم السلام) کا نام صراحت کے ساتھ قرآن کریم میں ذکر ہوتا تو دشمن، قرآن کریم کے الفاظ میں تحریف کرتے اور معصوم (علیہم السلام) کی ولایت کوقبول کرنے سے انکار کرتے ، لہذا ایسی تدبیر کرنا چاہئے تاکہ قرآن کریم تحریف سے دور رہے اور قرآن کریم کی حفاظت میں یہ خود ایک تدبیر ہے ۔
شہید مطہری ۺ نے اس سلسلہ میں لکھا ہے : کلی طور پر جو آیتیں قرآن کریم میں اہل بیت (علیہم السلام) کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں ،خاص طور سے وہ آیتیں جو کم سے کم ہم شیعوں کے نظریہ کے مطابق امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کے لئے نازل ہوئی ہیں ، ان آیات کی ایک خاص حالت ہے اور وہ یہ ہے کہ خود آیت میں بہت سے دلائل اور قرائن موجود ہیں لیکن پھر بھی ایک کوشش ہے کہ یہ مطلب دوسرے مطالب کے درمیان یا دوسرے مطالب کے ضمن میں بیان ہوتے (۴۷) ۔

ائمہ (علیہم السلام) کی حفاظت میں خداوندعالم کی تدبیر
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جن لوگوں نے خلافت کو غصب کرنے کا پروگرام بنایا تھا اور حقیقی وارثوں کو آخری اسلحہ سے خالی کرکے غلط بہانوں کے ذریعہ ان کے دنیائی اموال کو غصب کرلیا تھا ، ان سے کچھ بعیدنہیں تھا کہ اگر ان کا نام قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ موجود ہوتا اور ان کو نکالنے کا کوئی اور طریقہ آیت کی تاویل یا ایک دوسرے پر منطبق کرنے کے ذریعہ نہ ہوتا تو یہ خود ان آیتوں کو قرآ ن کریم سے نکال دیتے تاکہ اپنی نفسانی خواہشات تک پہنچ سکیں ۔
لہذا روایات میں ملتا ہے کہ جب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے لوگوں کے درمیان بغض و حسد کو دیکھا تو امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کو نصیحت کی کہ ان کے ساتھ مرنے کی حد تک مقاومت نہ کرنا کیونکہ منافقین نے ثابت کردیا ہے کہ وہ نبوت کے تمام آثار کو محو کرنے کیلئے بہت بلندہمت رکھتے ہیں (۴۸) اور یہ امکان پایا جاتا تھا کہ اصل نبوت اور قرآن کے وجود کو ایک دم سے ختم کردیں، لہذا خداوندعالم نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کو حکم دیا کہ امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کا تعارف کراک اپنی تبلیغ کو کامل کردیں، اور باقی واقعات کی طرف سے پریشان نہ ہوں اوریہ خود خداوند عالم کی طرف سے اس شجرہ مقدسہ کی حفاظت کے لئے ایک تدبیر تھی تاکہ بدخواہان سے کوئی گزند نہ پہنچ سکے ۔
حضرت آیة اللہ سبحانی نے اس سلسلہ میں فرمایا ہے : شاید ممکن تھا کہ ائمہ (علیہم السلام) کا نام ذکر ہونے سے حکومت اور ریاست کو آزمانے والے نسل کشی کرتے ،اور بعید نہیں تھا کہ وہ ائمہ (علیہم السلام) کی ولادت ہونے میں مانع ہوتے ، جیسا کہ حضرت موسی (علیہ السلام) کے متعلق پیش آیا تھا ،لہذا حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کے حسب و نسب کے متعلق احادیث میںبہت زیادہ تاکید کی گئی تھی اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت کا بادشاہ کس قدر حساس تھا اورحضرت امام حسن عسکری (علیہ السلام) کا گھر ایک مدت تک تحت تظر رہا تاکہ کوئی فرزند متولد نہ ہوسکے اور اگر متولد ہوجائے تو بہت جلد اس کو مار دیا جائے (۴۹) ۔

ہدایت یا گمراہی میں ائمہ (علیہم السلام) کے نام ذکر ہونے کا موثر نہ ہونا
شایدبعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اگر ائمہ (علیہم السلام) کا نام قرآن کریم میں ذکر ہوتا تو کوئی بھی شخص مخالفت کرنے کی جرائت نہ کرتا اور سب قبول کرلیتے لہذا اس سے معاشرہ کی ہدایت ہوتی اور امت کے منحرف ہونے کو روکا جاتا ۔ لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر ائمہ (علیہم السلام) کا نام بھی قرآن کریم میں ذکر ہوجاتا جب بھی سقیفہ کی پیروی کرنے والے ان کو قبول نہ کرتے کیونکہ خلفاء نے بہت سے احکام و مسائل میں قرآن کے خلاف عمل کیا ہے اوراس کے حکم کو قبول نہیں کیا ہے ۔
الف : خلیفہ اول نے اس حدیث کا سہارا لے کر جو صرف اسی کے سامنے صادر ہوئی تھی ، قرآن کریم کی صریح آیات (۵۰) کے خلاف انبیاء کے میراث لینے سے انکار کردیا اور فدک کو حضرت زہرا (علیہا السلام) سے واپس لے لیا ۔
ب : قرآن کریم میں صریح آیت موجودہے : ”فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہِ مِنْہُنَّ فَآتُوہُنَّ اٴُجُورَہُنَّ فَریضَةً “ ۔ پس جو بھی ان عورتوں سے متعہ کرے ان کا مہر انہیں بطور فریضہ دے دے (۵۱) ۔
بہت زیادہ روایات بھی صدر اسلام میں متعہ کے وجود پر دلالت کرتی ہیں (۵۲) جیسا کہ سنی مفسر قرطبی نے کہا ہے : ”وقال الجمھور المراد نکاح المتعة الذی کان فی صدر الاسلام “ ۔ ”فما استمتعتم“ سے مراد نکاح متعہ ہے جو صدر اسلام میں رائج تھا (۵۳) لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ خلیفہ دوم نے اس کو ممنوع قرار دیدیا ،اب آپ کی نظر میں اگر امام علی (علیہ السلام) کا نام قرآن مجید میں ذکر ہوتا تو کیا یہ احتمال نہیں تھا کہ وہ لوگ کہیں: ”ان اللہ تبارک و تعالی قد عین علیا للامامة و لکن عمر عزلہ“ !
ج : خلیفہ دوم نے آیت ”فمن تمتع بالعمرة الی الحج “ (۵۴) کو منسوخ کردیا اور حکم دیا کہ اس پر عمل نہ کریں ۔
د : قرآن کریم پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے متعلق فرماتا ہے : ”وَ ما یَنْطِقُ عَنِ الْہَوی ، إِنْ ہُوَ إِلاَّ وَحْیٌ یُوحی، عَلَّمَہُ شَدیدُ الْقُوی“۔ لیکن جب پیغمبر اکرم (صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت کو ہدایت کی غرض سے نوشتہ لکھنے کے لئے قلم و دوات مانگا تو انہوں نے کہا :یہ مرد (نعوذ باللہ) ہذیان کہہ رہا ہے (۵۶) جب کہ یہ قرآن کریم کی صریح آیت کے خلاف ہے ۔
ھ: خداوند عالم نے سورتوبہ کی ۳۴ ویں آیت میں فرمایا ہے : ”یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا إِنَّ کَثیراً مِنَ الْاٴَحْبارِ وَ الرُّہْبانِ لَیَاٴْکُلُونَ اٴَمْوالَ النَّاسِ بِالْباطِلِ وَ یَصُدُّونَ عَنْ سَبیلِ اللَّہِ وَ الَّذینَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لا یُنْفِقُونَہا فی سَبیلِ اللَّہِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذابٍ اٴَلیمٍ “ ۔ ایمان والو نصارٰی کے بہت سے علماء اور راہب ،لوگوں کے اموال کو ناجائز طریقہ سے کھاجاتے ہیں اور لوگوں کو راسِ خدا سے روکتے ہیںاور جو لوگ سونے چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے پیغمبر،آپ انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دیں۔
عثمان چونکہ خود مال جمع کرتا تھا اور راہ خدا میں اہل نفاق نہیں تھا ،قرآن کریم کے مطابق عذاب کا مستحق تھا لہذا وہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ قرآن کریم کی آیت کا آخری حصہ اس کو شامل نہ ہو ، اس کی کوشش تھی کہ اسے حذف کردے (۵۷) جس کی ابوذر (رحمة اللہ علیہ) نے شدت سے مخالفت کی ،لہذا ان کو تبعید کردیا (۵۸) اور عثمان یہ کام نہ کرسکا (۵۹) ۔
ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ غاصبان خلافت نے قرآن کریم سے کھلواڑ کرنے اوردین اسلام کو نابود کرنے میں ذر ا کمی نہیں کی ، علامہ امینی (رہ) نے اس سلسلہ میں لکھا ہے : نبی مکرم اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو خبر تھی کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو حضرت علی (علیہ السلام) سے حسد کریں گے جیسا کہ قرآن کریم میں اس کی طرف اشارہ ہوا ہے (۶۰) اور بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو آپ سے بغض و کینہ رکھیں گے اوراہل نفاق میں ایسے لوگ ہیں جو جاہلیت کی دشمنی کا بدلہ لینے کی آگ کو اپنے سینوں میںچھپائے ہوئے ہیں اور آنحضرت (ص) کے بعد جن لوگوں کے دلوں میں لالچ اور حکومت کی فکر موجود تھی وہ ناگوار حوادثوں کو ہوا دیتے اوراپنے جوش و جذبہ کو استعمال کرتے اور علی (علیہ السلام) بھی حق خواہی ا ور عدالت کی وجہ سے ان کی آرزوؤں اور لالچ کو پورا نہ ہونے دیتے اوراس طرح سے مخالفت اور اختلاف پیدا ہوجاتا (۶۱) ۔
نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کریم میں ائمہ (علیہم السلام) کا نام ذکر ہونا اس کے برابر نہیں ہے کہ لوگ ان کی ہدایت کو بھی قبول کرلیتے جیسا کہ قرآن کریم میں خداوند عالم نے قوم بنی اسرائیل کے درمیان انبیاء کا نام ذکر کرنے کے بعد بھی ان کے قبول نہ کرنے کو بیان کیا ہے ”وَ إِذْ قالَ عیسَی ابْنُ مَرْیَمَ یا بَنی إِسْرائیلَ إِنِّی رَسُولُ اللَّہِ إِلَیْکُمْ مُصَدِّقاً لِما بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْراةِ وَ مُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَاٴْتی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ اٴَحْمَدُ فَلَمَّا جاء َہُمْ بِالْبَیِّناتِ قالُوا ہذا سِحْرٌ مُبینٌ“ ۔ اور اس وقت کو یاد کرو جب عیسٰی بن مریم علیہ السّلام نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے پہلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرنے والا اور اپنے بعد کے لئے ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کا نام احمد ہے لیکن پھر بھی جب وہ معجزات لے کر آئے تو لوگوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کِھلا ہوا جادو ہے (۶۲) ۔
جیسا کہ مشاہدہ ہوا ہے کہ خداوند عالم نے فرمایا ہے ہم نے رسول خاتم کو ان کے نام کے ساتھ عیسائیوں کی آسمانی کتابوں میں ذکر کیا ہے لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا ۔ لہذا اطمینان کے ساتھ نہیں کہاجاسکتا کہ اگر نام ذکر ہوتے تو سب قبول کرلیتے ،بلکہ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ ہوی وہوس بہت سی جگہوں پر لوگوں کو حق اور حقیقت کی مخالفت پر وادار کردیتی ہے ۔

نام ذکر کرکے مخالفت کو ختم کیا جاسکتا تھا
بعض کہتے ہیں کہ اگر ان کا نام، قرآن کریم میں ذکر ہوتا تو ان تمام اختلافات اور خونریزی کو روکا جاسکتا تھا جو پوری تاریخ میں خلافت کی وجہ سے ہوئی ہے اور اگر کوئی اعتراض کرتا تواس کو قرآن کی طرف مرجعہ کرنے کا حکم دیتے اور وہ بھی ان کا نام مشاہدہ کرنے کے بعد کوئی دعوی نہ کرتا !
اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ پوری تاریخ میں بہت سے مسائل کی وجہ سے لوگوں کے درمیان خونریزی ہوئی لیکن خداوندعالم نے معین طور پران کا قرآن کریم میںتذکرہ نہیں کیا ہے جیسے خدا کے صفات اس کی عین ذات ہے یا ذات پر زائد ہیں ؟ صفات خبری کی حقیقت جیسے عرش پر استوار ہونا، خدا کے ہاتھ رکھنا وغیرہ ؟ حدوث یا قدم کلام خداوندوغیرہ۔
اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی کبھی صحابہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے صریح اوامر جن کو خداوند عالم نے اپنا حکم کہا ہے وہ بھی خود پیغمبر اکرم (ص) کی حیات میں ، مخالفت کی ہے ، جیسے جنگ احد میں ایک گروہ نے غنیمت حاصل کرنے کیلئے اس ٹیلہ کو چھوڑ دیا اور یہی وجہ ہوئی کہ دشمن ہاری ہوئی جنگ جیت گیا ،یااس سے بھی بڑھ کر اسامہ کی فوج کا واقعہ ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسامہ بن زید کی سرداری میں ایک لشکر تیار کیا اور فرمایا : خداوند عالم اس شخص پر لعنت کرے جو اسامہ کے لشکر میں نہ جائے ، لیکن بہت سے اصحاب جیسے ابوبکر ا ور عمر نے خلافت کے لالچ میں اطاعت نہیں کی اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی لعنت کو خرید لیا ۔
گذشتہ امتوں میں بھی اولیاء الہی سے اختلاف اور مخالفت کی ہے جب کہ خداوند عالم نے ان پر کوئی شک و شبہ باقی نہیں چھوڑا تھا اورالہی رہبروں کے نام بھی ذکر کئے ہیں اور قرآن کریم میں بھی ان میں سے چند موارد کی طرف اشارہ کیا ہے :
۱۔ حضرت موسی (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی دس روزہ غیبت میں مخالفت کی جب کہ آپ نے ہارون (علیہ السلام) کو اپنا جانشین منتخب کیا تھا (۶۳) ۔ اس کے باوجود اختلاف و انحراف میں مبتلا ہوگئے ،اور حضرت ہارون (علیہ السلام) ان کی مخالفت کو نہ روک سکے (۶۴) یہ نہیں بلکہ حضرت ہارون کو قتل کرنے کی کوشش کرنے لگے (۶۵) ۔
۲۔ قوم بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ خداوند عالم ہمارے اوپر فرمان روائی کیلئے کسی کو مبعوث کرے اورا ن کے نبی نے ان سے کہا : خداوند عالم نے طالوت کو تمہارے اوپر حکمرانی کے لئے مبعوث کیا ہے (۶۶) لیکن اس نے ان کے فقیر ہونے کے بہانہ سے ان کی مخالفت کی ۔
۳۔ عیسائی اور یہودی علماء پیغمبر اکرم کے آنے کی بشارت دیتے تھے اور ان کے اوصاف کو سینہ بہ سینہ منتقل کرتے اور اپنی کتابوں میں لکھتے تھے اور آپ کے اوصاف اس قدر واضح تھے کہ وہ اپنے بچوں کی طرح ان کو پہچانتے تھے (۶۷) لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپ مبعوث ہوگئے ، تو انہوں نے دنیا کے لالچ میں ان کی مخالفت کی (۶۸) اور حقیقت کو چھپا لیا ۔
نتیجہ
بحث کا خلاصہ اور نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں رسول اکرم کے بعد امام کا مصداق مشخص اور واضح ہونے کے باوجود ان کا نام ذکر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور مطالب کو پیش کرنے میں قرآن کریم کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ تمام مطالب کو پوری طرح سے بیان کرتا ہے بلکہ آیات اور روایات کا مطالعہ کرنے سے جن میں سے بہت سی آیات وروایات اس بحث کے درمیان گزرگئی ہیں ،معلوم ہوتا ہے کہ خداوند عالم نے لوگوں کو بہت سے مطالب بیان کرنے کیلئے رسول اللہ کی طرف مراجعہ کرنے کا حکم دیا ہے اور آپ بھی قرآن کریم کی تصریح بلکہ قرآن کریم کے حکم کے مطابق حضرت علی (علیہ السلام) کو مختلف جگہوں پر کبھی اشارہ سے اور کبھی نام لے کر اپنی جانشینی کا تعارف کراتے تھے اور ان کے بعد ان کے بیٹوں کو نام لے کر تعارف کرایا ہے لہذا اگر ائمہ (علیہم السلام) کا نام قرآن کریم میں ذکر ہوتا تو اس کے کچھ نقصان نہ تھے اور وہ اسلامی معاشرہ کی مصلحت کے خلاف تھے لہذا خداوند نے اس کام کو نظر انداز کیا اور ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر منصف انسان ان مطالب میں توجہ اور تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے کا بعد حقیقت کو تلاش کرلے گا ۔
والسلام علی من اتبع الھدی ۔

حوالہ جات :
۱۔ سورہ نحل ، آیت ۸۹ ۔
۲۔ سورہ انعام ،آیت ۳۸ ۔
۳۔ نہج البلاغہ،حکمت ۳۱۳ ۔
۴۔ سیوطی نے درالمنثور سے نقل کیا ہے ۔
۵۔ سورہ مریم ، آیات ۴۱، ۵۱، ۵۴ و ۵۵۔
۶۔ سورہ نمل ، آیت ۴۰ ۔
۷۔ افق حوزہ میں آیت اللہ سبحانی کے کلام سے ماخوذ اور ماہنامہ ”موعود“ شمارہ ۸۰ سے منقول ۔
۸۔ حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی کتاب ”آیات ولایت در قرآن“ ، صفحہ ۳۰۳ سے ماخوذ ۔
۹۔ المواقف فی علم الکلام ، ص ۴۰۵ ، علامہ تفتازانی و علاء الدین علی بن محمد حنفی ، معروف بہ قوشجی اور آلوسی نے بھی اسی طرح کی تعبیر بیان کی ہے ۔ دیکھئے : شرح المقاصد فی علم الکلام ، ج۵، صفحہ ۲۷۰ و شرح تجرید الاعتقاد ، صفحہ ۳۶۸ و روح المعانی ، ج ۶، صفحہ ۱۶۸ ۔
۱۰ ۔ دیکھئے : آیات ولایت در قرآن،آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی ،صفحہ ۱۰۷ ۔(ینابیع المودة میں ذکر ہوا ہے کہ ایک شخص نے امام علی بن ابی طالب علیہ السلام سے سوال کیا : سب سے چھوٹی چیز جوا نسان کو صحیح راستہ سے خارج کردیتی ہے اور اس کو گمراہوں میں لے جاتی ہے وہ کیا ہے ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا : حجت الہی کو فراموش کردے اور اس کی اطاعت نہ کرے ، جو شخص بھی حجت الہی کی پیروی نہ کرے وہ گمراہ ہے ۔ اس شخص نے دوبارہ سوال کیا : اورزیادہ تفصیل سے وضاحت فرمائیے ، آپ نے جو حجت الہی کی طرف اشارہ کیا ہے یہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا : سورہ نساء کی ۵۹ ویں آیت میں جس کو اولوالامر سے یاد کیا گیا ہے ۔ سوال کرنے والے نے تیسری مرتبہ سوال کیا : اولواالامر کون ہیں؟ امام نے جواب دیا : وہی شخص ہے جس کے متعلق پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ہے : ”انی ․․․․․․․․․․․․․․․․حدیث کی عربی․․․․․․․․․․․․․․․“ ۔
۱۱۔ احقاق الحق ، جلد ۳، صفحہ ۲۹۷ سے منقول ۔ حاکم حسکانی نے شواھد التنزیل میں مذکورہ روایت کے علاوہ ایک دوسری روایت عبداللہ بن عمر سے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : ”مع الصادقین ای مع محمد و اھل بیتہ“ (شواہد التزیل ، جلد ۱، صفحہ ۲۶۲) ۔ دیکھئے : آیات ولایت در قرآن ، آیت اللہ مکارم شیرازی ، صفحہ ۱۳۱ ۔
۱۲ ۔ دیکھئے : البرہان فی تفسیر القرآن ، علامہ بحرانی ، ج ۴، صفحہ ۸۴۵ تا ۸۴۷ ، موسسہ البعثة قم ۔
۱۳ ۔ دیکھئے : تفسیر نور الثقلین ، الحویزی ، ج ۳، صفحہ ۳۳۹ ،موسس مطبوعاتی اسماعیلیان ۔ شواہد التنزیل ، الحافظ الحاکم الحسکانی ، تحقیق و تعلیق : محمد باقر المحمودی، جلد ۱ ، صفحہ ۴۶۳ ، موسسہ الطبع و النشر ، مجمع احیا الثقافة الاسلامیة ۔
۱۴ ۔ بعض علماء اپنے کلام میں کلی اور جزئی کے بجائے مہم اور غیر مہم جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن کریم نے مہم مسائل کو بیان کیا ہے اور غیر مہم مسائل کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)پر چھوڑ دیا ہے لیکن کیا عقل تمام آسمانی تعلیمات اور ضروری وغیر ضروری دینی مسائل کو درک کرنے کی گجائش رکھتی ہے تاکہ اس وقت مہم اور غیر مہم سوال کے بارے میں سوال کیا جائے ؟ عقل بشر مسائل کے تمام پہلوؤں کو درک کرنے سے عاجز ہے اور ہمیشہ اشتباہ کرتی رہتی ہے ۔
اس کے علاوہ کیا یہ تقسیم بندی ( مہم اور غیر مہم دینی احکام) شریعت میں بیان ہوئے ہیں ؟ قرآن اوردین میں کہا ذکر ہوا ہے کہ بزرگ اور مہم مسائل کو خداوند عالم بیان کرتا ہے ، چھوٹے اور غیر مہم مسائل کی پیغمبر اکرم وضاحت کرتے ہیں؟ اس کے علاوہ اگر قبول کرلیں کہ اس تقسیم بندی کو عقل درک کرتی ہے تو خدا بہتر جانتا ہے کہ کن مسائل کو خود بیان کرے اور کن مسائل کو رسول اکرم کے اوپر چھوڑ دے ۔
۱۵ ۔ سورہ مائدہ ،آیت ۱۔
۱۶ ۔ سورہ حج ، آیت ۷۸ ۔
۱۷ ۔ سورہ بقرة ، آیت ۲۳۳ ۔
۱۸ ۔ علوم قرآن، سعیدی روش، صفحہ ۲۲۶ ۔
۱۹ ۔ ”ما بالہ لم یسم علیا و اھل بیتہ“ ؟
۲۰ ۔ اِنَّ رَسُولَ اللَّهِ نَزَلَتْ علیه الصلوةُ و لَم یُسَمّ لَهُم ثَلاثاً وَ لا اَرْبعَاً حتّى کانَ رَسُولُ اللّهِ هُوَ الذَّى فَسَّرَ لَهُمْ ذلِکَ وَ نَزَلَتْ عَلَیْه. الزَّکاةُ وَ لَمْ یُسَمِّ لَهُمْ مِنْ کُلِّ اَرْبَعینَ درهماً دِرْهَمٌ، حتّى‏ کانَ رَسولُ اللّهِ(ص) هُوَ الَّذى‏ فَسَّرَ ذلِکَ لَهُمْ وَ نَزَلَ الْحَجُّ فَلَمْ یَقُلْ لَهُم طوفوُا اُسْبُوعاً حتّى کانَ رَسُولُ اللّهِ(ص) هُوَ الَّذى فَسَّرَ ذلِک لَهُمْ وَ نَزَلَتْ «اَطیعُو اللَّهَ و اطیعُوا الرَّسُولَ وَ اوُلىِ الأمْرِ مِنْکُمْ» وَ نَزَلَتْ فى‏ عَلىٍّ والْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ، فَقالَ رَسُولُ اللَّهِ(ص) فى‏ عَلِىٍّ: مَنْ کُنْتُ مُوْلاهُ؛ و قال(ع) اوُصیکُمْ بکتابِ اللّهِ و اهل بیتى‏ فَاِنّى‏ سَأَلْتُ اللَّهَ عزَّوَجَلَّ اَنْ لا یُفَرّقَ بَیْنَهُما حتىَّ یوُرِدَهُما عَلىَّ الحوضُ فَأعْطانى‏ ذلِکَ...» ؛ اصول کافى، ج 2، ص 71.
۲۱ ۔ تفسیر عیاشی ،سورہ نساء کی ۵۹ ویں آیت کے ذیل میں ، حاکم حسکانی نے شواھد التنزیل میں اور مرحوم مجلسی نے بحارالانوار میں اورعلامہ طباطبائی نے المیزان میں اس روایت کو اس تفسیر سے نقل کیا ہے ۔
۲۲ ۔ ”وَ جَعَلْنا مِنْہُمْ اٴَئِمَّةً یَہْدُونَ بِاٴَمْرِنا لَمَّا صَبَرُوا وَ کانُوا بِآیاتِنا یُوقِنُونَ“ ۔ور ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام اور پیشوا قرار دیا ہے جو ہمارے امر سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے صبر کیا ہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے (سورہ سجدہ ، آیت ۲۴) ۔ اور یہ آیت ”یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اٴَطیعُوا اللَّہَ وَ اٴَطیعُوا الرَّسُولَ وَ اٴُولِی الْاٴَمْرِ مِنْکُم“۔ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں (سورہ نسا،آیت ۵۹) ۔ اسی طرح آیت تبلیغ ”یا اٴَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما اٴُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَہُ وَ اللَّہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاس“ ۔ اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا (سورہ مائدہ ، آیت ۶۷) ۔
۲۳۔ سورہ بقرة ، آیت ۱۲۴ ۔
۲۴ ۔ سورہ مائدہ ،آیت ۵۵ ۔
۲۵ ۔ سورہ انسان ، آیت ۹ ۔
۲۶ ۔ رہبری امام علی (علیہ السلام) از دیدگاہ قرآن و پیامبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) (ترجمہ المراجعات) ۔
۲۷ ۔ سورہ نحل ، آیت ۴۴۔
۲۸ ۔ سورہ نحل ، آیت ۸۹ ۔
۲۹ ۔ پیام امیرالمومنین علی (علیہ السلام) ، حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی ، جلد ۱، صفحہ ۶۳۲ ۔
۳۰ ۔ کافی ، جلد ۱، صفحہ ۶۱ ، ح ۹۔
۳۱ ۔ پیام امیرالمومنین علی (علیہ السلام) ، حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی ، جلد ۱، صفحہ۶۲۹ ۔
۳۲ ۔ سورہ آل عمران،آیات ۳۲ و ۱۳۲ ، سورہ نساء ، آیت ۵۲ ، سورہ مائدہ ، آیت ۹۲ ، سورہ انفال ، آیت ۱ (واطیعوااللہ والرسول) ۔
۳۳ ۔ سورہ احزاب ، ایت ۲۱ لَقَدْ کانَ لَکُمْ فی‏ رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ کانَ یَرْجُوا اللَّهَ وَ الْیَوْمَ الْآخِرَ وَ ذَکَرَ اللَّهَ کَثیرا.
۳۴ ۔ سورہ مائدہ کی تیسری آیت کی طرف اشارہ ہے جو واقعہ غدیر سے متعلق ہے اورولایت کے معین ہوجانے کے بعد یہ آیت نازل ہوئی : الْیَوْمَ یَئِسَ الَّذینَ کَفَرُوا مِنْ دینِکُمْ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْن‏ الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی‏ وَ رَضیتُ لَکُمُ الْإِسْلامَ دینا
۳۵۔ سورہ شعراء ، آیت ۲۱۴۔
۳۶ ۔ صحیح مسلم ج3،ص 1453 باب الناس تبع لقریش ازکتاب الامارة، وط. تحقیق محمّد فؤاد عبدالباقی ح1821، ص1453، هم چنین صحیح بخارى 4 / 165، کتاب الاحکام. وسنن ترمذى، باب ماجاء فى الخلفاء من ابواب الفتن 6 / 66 ـ 67 و سنن ابى داود 4 / 106 و مسندالطیالسى ح767، 1278، ومسند احمد 5 / 86 ـ 90 و93 ـ 101و106 ـ 108، و کنزالعمّال 13 / 26 ـ 27، وحلیة ابى نعیم 4 / 333.
۳۷ ۔ میثمی، مجمع الزوائد، (بیروت، دارالکتب العربی) ج5، ص 190.
۳۸۔ دیکھئے: ینابیع‌المودّه‌، سلیمان بن‌القندوزی الحنفی‌، ج 1، ص 341 ـ 351، دارالاسوة‌للطباعة و النشر.
۳۹ ۔ خوارزمی، مقتل الحسین (قم، مکتبه المفید) ج1، ص 146 و ر.ک: جوینی فرائد السمطین (بیروت، مؤسسه المحمودی) ج2، ص 134.
۴۰۔ (40) . «لَقَدْ کانَ لَکُمْ فی‏ رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَة» سوره احزاب، آیه 21
۴۱۔ بعض علماء نے ان کا نام یوشع اور بعض نے شمعون کہا ہے لیکن مفسرین کے درمیان وہی اشموئیل ہے ، مجمع البیان ، اس آیت کے ذیل میں ۔
۴۹۔ حضرت آیت اللہ سبحانی ، افق حوزہ سے ماخوذ ۔
۵۰۔ سورہ نمل کی ۱۶ ویں آیت میں حضرت داؤد سے حضرت سلیمان کا میراث لینا ذکر ہوا ہے ”وورث سلیمان داوود“ ۔ سورہ مریم کی ۵ و ۶ آیت میں حضرت یحیی کا حضرت ذکریا سے میراث لینا بیان ہوا ہے : ” فَهَبْ لِی مِن لَّدُنکَ وَلِیًّا ، یَرِثُنِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ و َاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا ۔ ان آیات میں تصریح ہوئی ہے کہ انبیاء اپنے بچوں کے لئے میراث چھوڑ تے تھے ورنہ نبوت اور پیغمبری کو میراث میں نہیں لیا جاتا جیسا کہ حضرت فاطمہ زہرا (علیہا السلام) نے اس آیت سے استفادہ کرتے ہوئے ابوبکر کے سامنے فدک پر استدلال کیا ہے جو کہ آپ کا حق اور آپ کی میراث تھی ۔
۵۱ ۔ سورہ نساء، آیت ۲۴ ۔
۵۲ ۔ (52) . « نزلت آیة المتعة فی کتاب الله ففعلناها مع رسول الله صلى الله علیه وسلم ولم ینزل قرآن یحرمه ولم ینه عنها حتى مات قال رجل برأیه ما شاء قال محمد یقال إنه عمر . متعہ کی آیت رسول خدا کے زمانہ میں نازل ہوئی اورہم رسول کے خدا کے زمانہ میں اس پر عمل کرتے تھے اور اس کی حرمت پر کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور رسول خدا نے بھی اپنی رحلت تک ہمیں اس سے منع نہیں کیا ،ایک شخص نے اپنی رائے اور مرضی سے جو چاہا وہ کہدیا اوروہ شخص عمر بن خطاب تھا ۔ (صحیح بخاری، جلد ۵، صفحہ ۱۵۸۔ اور دوسری مسانید میں دوسری روایتیں جیسے : صحیح مسلم ، ج4 ، ص131 و ص59 ، الإیضاح ، الفضل بن شاذان الأزدی ، ص 443 و مسند احمد ، الإمام احمد بن حنبل ، ج 1 ، ص 52 و ج 3 ، ص 325 و السنن الکبرى ، البیهقی ، ج 7 ، ص 206 و معرفة السنن والآثار ، البیهقی ، ج 5 ، ص 345 و الاستذکار ، ابن عبد البر ، ج 4 ، ص 95 و أحکام القرآن ، الجصاص ، ج 1 ، ص 338 و أحکام القرآن ، الجصاص ، ج 2 ، ص 191 و تفسیر الرازی ، الرازی ، ج 5 ، ص 167 و تذکرة الحفاظ ، الذهبی ، ج 1 ، ص 366 و میزان الاعتدال ، الذهبی ، ج 3 ، ص 552 و...
۵۳۔ تفسیر قرطبی ، ج5 ، ص120 و فتح القدیر ، ج1 ، ص449 و تفسیر طبری ، ج5 ، ص18
(54) . سوره بقره، آیه 192 .
(55) . سوره نجم، آیه3
۵۶ ۔ اہل سنت کی مشہورترین کتابوں یعنی صحیح بخاری میں حدیث ”قلم و دوات“ نظر آتی ہے اس کتاب کے باب ”مرض النبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) “ میں سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس سے نقل کیا ہے : جس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کا وقت قریب آیا تو ایک گروہ آپ کے اطراف میں موجود تھا ،آپ نے فرمایا : ” هَلُمُّوا أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَاباً لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ “ قلم و دوات اور کاغذ لے آؤ تاکہ تمہارے لئے ایسا نوشتہ لکھ دوں جس کی برکت سے تم ہرگز گمراہ نہیں ہوگے۔ ” فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَ عِنْدَکُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا کِتابُ اللَّهِ “ ۔ بعض حاضرین نے کہا : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر بیماری کا غلبہ ہے (اور نعوذ باللہ ، ہذیان کہہ رہے ہیں) اور تمہارے پاس قرآن کریم ہے اور قرآن کریم ہمارے لئے کافی ہے ) ۔ حاضرین کے درمیان شور و غل اور اختلاف شروع ہوگیا ، بعض کہتے تھے قلم و دوات حاضر کرو تاکہ آنحضرت لکھ دیں اور اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہوں ، اور بعض دوسری باتیں کہتے تھے، جب یہ شور وغل اوراختلاف زیادہ ہوگیا تو رسول خدا (صلی اللہ علیہ و الہ وسلم) نے شدیدناراضگی کے ساتھ فرمایا : میرے پاس سے چلے جاؤ ۔ یہ حدیث مختلف طرق اور مختلف تعبیرات کے ساتھ صحیح بخاری میں نقل ہوئی ہے (صحیح بخاری، جلد ششم، باب مرض النبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)و وفاتہ، صفحہ ۱۲، طبع دار الجیل ، بیروت ) ۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے متعلق یہ نازیبا کلام کس نے کہا ہے، صحیح مسلم میں ذکر ہوا ہے کہ یہ عمر کا کلام تھا ۔ ” « قَالَ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله علیه و آله قَدْ غَلَبَ عَلَیْهِ الْوَجَعُ وَ عِنْدَکُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا کِتَابُ اللَّه “ ۔ بعض حاضرین نے کہا : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر بیماری کا غلبہ ہے (اور نعوذ باللہ ، ہذیان کہہ رہے ہیں) اور تمہارے پاس قرآن کریم ہے اور قرآن کریم ہمارے لئے کافی ہے ) ۔ اور اسی کتاب اور صحیح بخاری میں ذکر ہوا ہے کہ ابن عباس ہمیشہ اس واقعہ پر افسوس کرتے تھے اوراس کو ایک بہت بڑی مصیبت شمار کرتے تھے اور اس کو ”رزیة یوم الخمیس“ (جمعرات کے روز بہت بڑی مصیبت) کے عنوان سے یاد کرتے تھے (صحیح مسلم، جلد ۳، کتاب الوصیة، باب ۵، صفحہ ۱۲۵۹ ، طبع دار احیاء التراث العربی) ۔ پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام، آیت اللہ مکارم ، جلد ۳، صفحہ ۱۲۲ سے منقول ۔
۵۷۔ اگر واو حذف ہو جاتا تو حقیقت میںایک گروہ ہوجاتا ،یعنی وہی علماء اہل کتاب جو سونا اور چاندی جمع کرتے تھے ، مجازات کے مستحق ہیں اوراگرمسلمان مال جمع کرتے اورخرچ نہ کرتے تو یہ آیت ان کو شامل نہ ہوتی۔
۵۸۔ شرح نهج البلاغة ابن أبی الحدید ج 3 ص 54.
۵۹۔ درالمنثور سیوطی ج 3 ص 232.
۶۰۔ خداوند عالم کے قول ” أَمْ یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلى‏ ما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ “ ۔ میں ابن مغازلی نے کتاب ”مناقب“ میں اور ابن ابی الحدید نے اس کی شرح کی دوسری جلد ، صفحہ ۲۳۶ پر حضرمی شافعی نے ”الرشفہ“ کے صفحہ ۲۷ پر شارہ کیا ہے کہ یہ آیت حضرت علی (علیہ السلام) اور ان کی علمی خصوصیات کے متعلق (جن سے حسداور رشک کیا گیا) نازل ہوئی ہے ۔
(61) . الغدیر، ج‏2، ص: 343 .
(62) . سوره صف، آیه6
(63) . سوره اعراف، آیه142
(64) . سوره بقرة، آیه51
(65) . سوره اعراف، آیه150
۶۶۔ سورہ بقرة ، آیت ۲۴۶ و ۲۴۷ ، ”اٴَ لَمْ تَرَ إِلَی الْمَلَإِ مِنْ بَنی إِسْرائیلَ مِنْ بَعْدِ مُوسی إِذْ قالُوا لِنَبِیٍّ لَہُمُ ابْعَثْ لَنا مَلِکاً نُقاتِلْ فی سَبیلِ اللَّہِ قالَ ہَلْ عَسَیْتُمْ إِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتالُ اٴَلاَّ تُقاتِلُوا قالُوا وَ ما لَنا اٴَلاَّ نُقاتِلَ فی سَبیلِ اللَّہِ وَ قَدْ اٴُخْرِجْنا مِنْ دِیارِنا وَ اٴَبْنائِنا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتالُ تَوَلَّوْا إِلاَّ قَلیلاً مِنْہُمْ وَ اللَّہُ عَلیمٌ بِالظَّالِمینَ ، وَ قالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ إِنَّ اللَّہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طالُوتَ مَلِکاً قالُوا اٴَنَّی یَکُونُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنا وَ نَحْنُ اٴَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ قالَ إِنَّ اللَّہَ اصْطَفاہُ عَلَیْکُمْ وَ زادَہُ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ وَ اللَّہُ یُؤْتی مُلْکَہُ مَنْ یَشاء ُ وَ اللَّہُ واسِعٌ عَلیم“ ۔
کیا تم نے موسیٰ علیہ السّلام کے بعد بنی اسرائیل کی اس جماعت کونہیں دیکھا جس نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے واسطے ایک بادشاہ مقرر کیجئے تاکہ ہم راسِ خدا میں جہاد کریں. نبی نے فرمایا کہ اندیشہ یہ ہے کہ تم پر جہادواجب ہوجائے توتم جہاد نہ کرو. ان لوگوں نے کہا کہ ہم کیوں کر جہاد نہ کریں گے جب کہ ہمیں ہمارے گھروں اور بال بّچوںسے الگ نکال باہر کردیا گیا ہے. اس کے بعد جب جہاد واجب کردیا گیا تو تھوڑے سے افراد کے علاوہ سب منحرف ہوگئے اور اللہ ظالمین کو خوب جانتا ہے ، ان کے پیغمبر علیہ السّلام نے کہا کہ اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو حاکم مقرر کیا ہے. ان لوگوں نے کہا کہ یہ کس طرح حکومت کریں گے ان کے پاس تو مال کی فراوانی نہیں ہے ان سے زیادہ تو ہم ہی حقدار حکومت ہیں. نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لئے منتخب کیا ہے اور علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے کہ وہ صاحبِ وسعت بھی ہے اور صاحبِ علم بھی ۔
۷۶۔ سوره بقره، آیه146 و سوره انعام، آیه20.
۶۸۔ سوره بقره، آیه174 .

 

 

 

 

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه