روزہ انسانی زندگی میں تقوی پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے جس کی فرضیت کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے:يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون{سورہ بقرہ۱۸۳ }:

صاحبان ایمان تمھارے اپر روزہ اسی طرح لکھ دیے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اسی طرح متقی بن جاوَ} اس آیت میں اللہ تعالی  نےروزے کوحصول تقوی کا زریعہ قراردیا ہے اس لئےکہ یہ عمل صرف خدا کے لئے ہوتاہے اور اس میں ریاکاری کا امکان نہیں ہے روزہ صرف نیت ہے اور نیت کا علم صرف پروردگار کو ہے پھر روزہ قوت ارادی کے استحکام کا بہترین ذریعہ ہے جہاں انسان حکم خدا کی خاطر ضروریات زندگی اور لذات سب کو ترک کردیتاہے اور یہی جذبہ تمام سال باقی رہ جائے تو تقوی کی بلندترین منزل حاصل ہوسکتی ہے۔لیکن صرف روزہ بھی تقوی کے لئے کافی نہیں ہے ،روزہ کی کیفیت کا زندگی کےتمام مرحلوں میں باقی رہنا ضروری ہے اور یہ ضروری ہے کہ سارا وجود روزہ دار رہے ،برے خیالات ،گندے افکار،بدعملی ،بد کرداری وغیرہ زندگی میں داخل نہ ہونے پائے۔اس کے علاوہ  روزہ بہترین عبادت ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیاہےتاکہ یہ لوگ قیامت کے دن خدا کی خاص نعمتوں سے مستفید ہونے کے علاوہ روزے کے دنیوی فوائد اور آثار سے فائدہ اٹھائیں۔

رمضان المبارک کی فضیلت

رمضان مبارک خدائے تعالیٰ کا مہینہ ہے اور یہ سارے مہینوں سے افضل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں آسمان جنت اور رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ اس مہینے میں ایک رات ایسی بھی ہے، جس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ انسانوں کوسوچنا چاہیئے کہ اس مہینے کے رات  اوردن  کی کتنی اہمیت ہےلہذا اپنے اعضائے بدن کو خدا کی نافرمانی سے بچائے، خبردار کوئی شخص اس مہینے کی راتوں میں سوتا نہ رہے اور اس کے دنوں میں حق تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ رہے کیونکہ ایک روایت میں آیا ہے کہ ماہِ رمضان میں افطار کے وقت اللہ تعالیٰ ایک لاکھ انسانوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے اور شبِ جمعہ یا جمعہ کے دن ہر گھڑی میں خدائے تعالیٰ ایسے ہزاروں انسانوں کو آتشِ دوزخ سے رہائی بخشتا ہے جو دوزخی بن چکے ہوتے ہیں۔نیز اس مہینے کی آخری رات اور دن میں حق تعالیٰ اپنے اتنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے جتنے کہ پورے رمضان میں آزاد کرچکا ہےرمضان کی فضیلت حوالے سے حضور اکرم {ص}اپنے مشہور خطبے میں فرماتے ہیں:  ۔یہ مہینہ خدا کے ہاں سارے مہینوں سے افضل و بہتر ہے۔ جس کے دن دوسرے مہینوں کے دنوں سے بہتر، جس کی راتیں دوسرے مہینوں کی راتوں سے بہتر اور جس کی گھڑیاں دوسرے مہینوں کی گھڑیوں سے بہتر ہیں۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں حق تعالیٰ نے تمہیں اپنی مہمان نوازی میں بلایا ہے اور اس مہینے میں خدا نے تمہیں بزرگی والے لوگوں میں قرار دیا ہے کہ اس میں تمهارا سانس لینا تسبیح اور تمہارا سونا عبادت کا درجہ پاتا ہے۔ اس میں تمہارے اعمال قبول کیے جاتے اور دعائیں منظور کی جاتی ہیں۔ پس اے عزیزو! توجہ کرو کہ مبادا یہ مبارک مہینہ تمام ہوجائے اور تمہاری گردن پر گناہوں کا بوجھ باقی رہ جائے اور جب روزہ دار اپنے روزوں کا اجر پارہے ہوں تو تم ان لوگوں میں گنے جاؤ جن کو محروم کیا جارہا ہو۔ تمہیں تلاوتِ قرآن کرکے افضل وقت میں نمازیں بجا لاکر دیگر عبادتوں میں سعی کرکے اور توبہ واستغفار کرکے خدا کا تقرب حاصل کرنا چاہیئے، کیونکہ امام جعفر صادق -سے روایت ہے کہ جو شخص اس بابرکت مہینے میں نہیں بخشا گیا تو وہ آیندہ رمضان تک نہیں بخشا جائیگا سوائے اس کے کہ وہ عرفہ میں حاضر ہوجائے۔رمضان کے مہینے میں انسان کو اس وقت بخشا جائے گا جب وہ تمام فقہی اور اخلاقی شروط کے ساتھ روزہ رکھنے کے علاوہ اس بابر کت مہینے میں اللہ سے قسم کھائے کہ تمام برایوں سے  دور ہوکر نیک اعمال کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کریں۔

روزے کی اہمیت

روزے کی اہمیت کے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے اس عظیم عبادت کو اپنے ساتھ مخصوص کیا ہے حضرت علی {ع}فرماتے ہیں:روزہ بندہ اور خالق کے در میان ہونے والی عبادت ہے جسے اس کے علاوہ کوئی اور مطلع نہیں ہوسکتا اور اسی طرح اس کا اجر بھی اس کے علاوہ کوئی نہیں دے سکتا۔نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث قدسی بیان فرمائی، جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(الصیام لی وانا اجزی بہ) روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔

روزے کے آثار اور فوائد

تقوی کی بلندترین منزل حاصل ہونے کا ذریعہ :قرآنِ حکیم میں روزہ کی فرضیت کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :

يأَيُّهاَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo’’ اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤo‘‘

گناہوں کی مغفرت کا سبب :حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِ يْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَه. مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه.

’’جس نے بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘

جہنم کی آگ سے ڈھال :حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ.

’’روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی شخص کے پاس لڑائی کی ڈھال ہو۔‘‘ بے حد ثواب: حضور  اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِها إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی مَا شَائَ اﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالَی : إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِی، وَأَنَا أَجْزِی بِهِ. ’’آدم کے بیٹے کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا اﷲ چاہے بڑھایا جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے : روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔‘مندرجہ بالا حدیث مبارکہ سے یہ چیز واضح ہوتی ہے کہ اعمال صالحہ کا ثواب صدقِ نیت اور اخلاص کی وجہ سے دس گنا سے بڑھ کر سات سو گنا تک بلکہ بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے لیکن روزہ کا ثواب بے حد اور بے اندازہ ہے۔ یہ کسی ناپ تول اور حساب کتاب کا محتاج نہیں، اس کی مقدار اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

حقیقی روزہ دار

روزہ دار حقیقی وہ ہے جس کے تمام اعضاء اور جوارح روزہ رکھیں  امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : جب تم روزہ رکھو تو اس کے ساتھ تمھارے بدن کے تمام اعضاء بھی روزہ رکھیں ،عام دنوں کے مانند نہ ہو جن میں تم بغیر روزہ کے رہتے ہو ۔امام علیہ السلام فرماتے ہیں : روزہ فقط کھانے پینے سے بچنے کا نام نہیں بلکہ روزہ کی حالت میں اپنی زبانوں کو بھی (جھوٹ ،گالی ،غیبت ،چغل خوری ،تہمت وغیرہ سے) محفوط رکھو۔آنکھوں کو حرام چیزوں کی طرف نگاہ کرنے سے محفوظ رکھو ،لڑائی جھگڑا نہ کرو ،برے لوگوں سے بچو،اپنے آپ کو اللہ کی مرضی کے مطابق رکھو آخرت کی طرف بڑھو اور ہر وقت خوف خدا کو مد نظر رکھواور اللہ کے عذاب سے ڈرو۔حضرت امام علی فرماتے ہیں: روزہ صرف کھانا پینا چھوڑدینے کا نام نہیں ہے بلکہ روزہ یعنی ہر اس چیز کو ترک کردینا جو اللہ تعالی کو ناپسند ہو،امام نے فرمایا: نفس کا روزہ  حواس خمسہ کا تمام گناہوں دور رہنا ہے اور تمام اسباب شر سے دل کو خالی رکھناہے۔

روزے کی فضیلت کے اسباب

پہلا سبب : روزہ لوگوں سے پوشیدہ ہوتا ہے اسے اﷲ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا جبکہ دوسری عبادتوں کا یہ حال نہیں ہے کیونکہ ان کا حال لوگوں کو معلوم ہو سکتا ہے۔ اس لحاظ سے روزہ خالص اﷲ تعالیٰ کے لئے ہی ہے۔

دوسرا سبب : روزے میں نفس کشی، مشقت اور جسم کو صبر و برداشت کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس میں بھوک، پیاس اور دیگر خواہشاتِ نفسانی پر صبر کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسری عبادتوں میں اس قدر مشقت اور نفس کشی نہیں ہے۔

تیسرا سبب : روزہ میں ریاکاری کا عمل دخل نہیں ہوتا جبکہ دوسری ظاہری عبادات مثلاً نماز، حج، زکوٰۃ وغیرہ میں ریاکاری کا شائبہ ہو سکتا ہے۔

چوتھا سبب : کھانے پینے سے استغناء اﷲ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔ روزہ دار اگرچہ اﷲ تعالیٰ کی اس صفت سے متشابہ تو نہیں ہو سکتا لیکن وہ ایک لحاظ سے اپنے اندر یہ خلق پیدا کر کے مقرب الٰہی بن جاتا ہے۔

پانچواں سبب : روزہ کے ثواب کا علم اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں جبکہ باقی عبادات کے ثواب کو رب تعالیٰ نے مخلوق پر ظاہر کر دیا ہے۔

چھٹا سبب : روزہ ایسی عبادت ہے جسے اﷲ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا حتی کہ فرشتے بھی معلوم نہیں کر سکتے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه