ترجمہ و تفسیر کلمات قصار  نمبر ۷

وَ قَالَ امیر المؤمنین علی علیہ السلام:  وَ الصَّدَقَةُ دَوَاءٌ مُنْجِحٌ، وَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ فِي عَاجِلِهِمْ نُصْبُ أَعْيُنِهِمْ فِي [آجِلِهِمْ] آجَالِهِمْ.

امیر المومنین علیہ السلام اس کلام میں دو نکات کو بیان فرماتے ہیں ایک صدقہ کی تاثیر اور دوسرا قیامت کے دن انسان کے دنیوی اعمال کا حضور کہ جسے ’’تجسم اعمال‘‘ یعنی خود اعمال کا مجسم ہو کر حاضر ہونا۔

💠 حصہ اول: شرح الفاظ 

۱۔ الصَّدَقَةُ: صدقہ، خیرات، نیکی، انفاق، زکات، فطرہ۔

۲۔ دَوَاءٌ: علاج، دوائی۔

۳۔ مُنْجِحٌ: کامیاب، شفا بخش، تاثیر گزار، اثر بخش۔

۴۔ أَعْمَالُ: عمل کی جمع، کام۔

۵۔ الْعِبَاد: عبد کی جمع، بندے، غلام۔

۶۔ عَاجِل: زود گزر، جلدی گزرنے والا، دنیا۔

۷۔ نُصْبُ: آگے، سامنے۔

۸۔ أَعْيُن: عین کی جمع، آنکھیں۔

۹۔ آجَال: بعض نسخوں میں کلمہ آجال کی جگہ آجل ہے اور بعض اہل لغے کے نزدیک آجل زیادہ مناسب ہے۔ اس کے معنی مدت دار، آنے والا اور قیامت کے ہیں

💠 حصہ دوم: سلیس ترجمہ 

حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا:

صدقہ کامیاب دوا ہے، اور دنیا میں بندوں کے جو اعمال ہیں وہ آخرت میں ان کی آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔

💠حصہ سوم: شرح کلام 

امیر المومنین علیہ السلام اس کلام میں دو نکات کو بیان فرماتے ہیں ایک صدقہ کی تاثیر اور دوسرا قیامت کے دن انسان کے دنیوی اعمال کا حضور کہ جسے ’’تجسم اعمال‘‘ یعنی خود اعمال کا مجسم ہو کر حاضر ہونا۔

 ۱۔ صدقہ کامیاب دوا 

اس سے پہلے کہ ہم صدقہ کے کامیاب اور اثر گزار دوا ہونے کے بارے میں بات کریں۔ کچھ نکات صدقے کی وضاحت میں عرض کریں گے۔

جیسا کہ ہم نے اس سے قبل کے دروس میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ ہمارے معاشرے میں اکثر دینی اصطلاحات اور الفاظ کے صحیح معانی رائج نہیں ہیں۔ بلکہ ناقص اور بعض اوقات غلط معنی رائج ہے۔ انہیں اصطلاحات میں سے ایک لفط صدقہ ہے۔ 

صدقہ کے بارے میں ہمارے ہاں جو تصور پایا جاتا ہے وہ یہ کہ ایک آدمی راستہ چلتے چلتے یا گھر سے نکتے وقت یا کسی اور وقت پانچ دس روپے نکال کر کسی بھیگ مانگنے والے فقیر کو دے دے۔ در حالیکہ صدقے کا مفہوم اس کہیں زیادہ وسیع و عریض ہے۔

دینی منابع میں صدقہ کی دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں۔

الف) صدقہ واجب (صدقہ واجب میں زکات اور فطرہ وغیرہ شامل ہیں۔)

ب) صدقہ مستحب۔ یعنی ہر وہ بخشش جو انسان خدا کی راہ میں کرے اور واجب بھی نہ ہو۔

مستحب صدقے کے دو طریقے ہیں۔

 اول) شخصی و فردی 

یعنی انسان بخشش ایسے کرتا ہے جس سے کسی ایک فرد یا چند افراد کو ہی فائدہ پہونچتا ہے۔ مثلا کسی یتیم، فقیر، بیوہ وغیرہ کی مالی مدد کرتا ہے یا کسی ایک اسٹوڈنٹ کو خود پڑھاتا ہے یا اس کی پڑھائی کے اخراجات برداشت کرتا ہے۔ اور اس طرح کے اور بہت ساری مثالیں۔ جن میں انسان کی بخشش کا فائدہ ایک فرد یا چند ہی افراد تک محدود رہتا ہے۔ 

 دوم) عمومی 

یعنی انسان اس طرح سے بخشش کرتا ہے کہ جس سے ایک بہت بڑی جمعیت کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے کسی ایک فرد یا افراد سے مخصوص نہیں ہے۔ مثلا اسکول، مدرسہ، مسجد، امام بارگاہ، روڈ، پل، ہسپتال، یتیم خانہ، میت خانہ، قبرستان، کلچر سینٹر، ٹریننگ اسکول وغیرہ کی تعمیر۔

ان دونوں طریقوں میں انسان کو اس بات کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ صدقہ اگر مالی ہے تو اس طرح سے دوسری کی مدد کرے کہ اس کی غربت کا خاتمہ ہوجائے یا غربت کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوجائے۔ ایسا نہ ہو غریب اور فقیر کو مزید سست اور غیر ذمہ دار بنا دے۔ جیسا کہ ہم نے اس نکتے کی طرف حکمت نمبر ۳ کی شرح میں وضاحت کی ہے۔

 ضروری نکتہ: 

مستحب صدقہ کے ان دو طریقوں میں ضروری نہیں ہے کہ انسان مال ہی خرچ کرے۔ صدقہ مال کے علاوہ بھی ہوسکتا ہے۔ آیات و روایات میں بھی اس بات کو کافی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ صدقہ فقط مال میں نہیں ہے۔ 

بلکہ روایات میں ہر نیک کام، آبرو کی حفاظت، مفید مشورے، اچھی بات، نماز کی طرف اٹھنے والے ہر قدم، گونگے کو بات سمجھانا، مسکرانا، امر بہ معروف، نہی از منک، راستہ دکھانا، راستے سے پتھر یا کانٹا وغیرہ ہٹانا، بیمار کی عیادت، سلام کا جواب، لوگوں کے درمیان مصالحت اور حلال کی کمائی وغیرہ کو بھی صدقہ سے تعبیر کیا ہے۔ 

یعنی ہر انسان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی بھی دوسرے انسان کی مدد کرنا، چاہے وہ مدد کسی بھی حوالے سے ہو صدقہ کہلاتا ہے۔ 

اور اپنی مدد یا صدقے کو کم سمجھ کے اسے ترک نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ہم میں سے بعض کم چیز صدقہ دینے سے شرماتے ہیں۔ مولا فرماتے ہیں:

’’کم چیز کی بخشش سے شرم نہ کرو، بے شک بلکل نہ دینا اس سے بھی کم ہے۔‘‘(حکمت 67)

صدقہ کے اثرات 

آیات و روایات میں صدقہ کے اثرات بہت زیادہ ذکر کئے گئے ہیں لیکن اختصار کی خاطر ہم مولا کے خود بیان کردہ کچھ اثرات پر اکتفا کریں گے۔

 الف) اثر بخش دوا 

جیسا کہ مولا نے فرمایا: ’’ صدقہ کامیاب دوا ہے‘‘

یہ کلام خود صدقہ کے اثرات کو بیان کر رہا ہے کہ صدقہ بڑی سے بڑی بیماریوں سے انسان کو نجات دلاتا اور شفا دیتا ہے۔

اور پیغمبر اکرم نے بھی اسی بات کو یوں بیان فرمایا ہے: ’’اپنی بیماریوں کا علاج کرو صدقہ کے ذریعے سے‘‘

ب) گناہ کا کفارہ 

بعض روایات میں صدقہ کو گناہوں کا کفارہ قرار دیا ہے جیسا کہ امام ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’پریشان حال کی مدد کرنا گناہان کبیرہ کے لئے کفارہ ہے۔‘‘ (حکمت: ۲۴)

ج) ایمان کی حفاظت 

صدقہ کے اثرات میں سے ایک ایمان کی حفاظت کو شمار کیا ہے۔ جیسا کہ حکمت نمبر ۱۴۶ میں فرماتے ہیں: ’’صدقہ کے ذریعے اپنے ایمان کی حفاظت کرو۔‘‘

د) وسعت رزق 

صدقے کے بارے میں بعض روایات میں آیا ہے کہ صدقہ انسان کی غربت اور فقر کو ختم کرنے اور وسعت رزق کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ مولا نے فرمایا ہے: ’’صدقہ کے ذریعے رزق کا نزول چاہو۔‘‘(حکمت: ۱۳۷)

پیامبراکرم بھی فرماتے ہیں: ’’زیادہ سے زیادہ صدقہ دو تاکہ زیادہ رزق پاو۔‘‘

پس جس کسی کے ساتھ بھی مالی مشکلات ہو، تنگدستی کا شکار ہو تو اسے صدقہ دینا چاہئے تاکہ اس کی رزق میں اضافہ ہوجائے۔ مولا ایک اور جگہ فرماتے ہیں:

’’جب تم تنگ دست ہوجاو تو صدقہ کے ذریعے خدا کے ساتھ تجارت کرو۔‘‘(حکمت: ۲۵۸)

پس کوئی یہ نہ سمجھے کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے لہذا میں صدقہ نہیں دوں گا۔ اگر اس فقر و تنگدستی سے نجات چاہتے ہیں تو ضرور ٓصدقہ دینا چاہئے کیونکہ صدقہ دینے سے مال میں کمی نہیں ہوتی بلکہ اضافہ ہوتا ہے۔

آج کے زمانے میں صدقہ و خیرات اور خدا کے راہ میں انفاق کرنے کو مادہ پرست لوگ نقصان سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ہم نے محنت و مشقت سے کمایا ہے تو کیوں مفت میں دوسروں کو دے دیں۔ اس طرح تو ہمارا مال کم ہوجائے گا۔ جبکہ یہ نظریہ بالکل قرآن اور سنت کے خلاف ہے کیونکہ قرآن نے بھی ایک کے بدلے دس دینے کا وعدہ کیا اور امیر المومنین بھی اپنے بعد کے زمانے کی برائیوں کی پیشن گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ایک ایسا زمانہ آئے گا۔۔۔۔۔ لوگ صدقے کو نقصان اور خسارہ تصور کریں گے۔‘‘(حکمت: ۱۰۲) در حالیکہ آیات و روایات نے صراحتا خدا کی راہ میں ایک کا بدلہ دس گنا قرار دیا ہے۔ 

 ۲۔ اعمال کا مجسم ہونا 

مولا فرماتے ہیں: ’’ اور دنیا میں بندوں کے جو اعمال ہیں وہ آخرت میں ان کی آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔‘‘

قرآن اور سنت کی صراحت کے مطابق قیامت کے دن انسان کے سامنے اس کے اعمال باقاعدہ مجسم ہو کر حاضر ہوں گے۔ اور وہ اپنے اچھے اعمال کو بھی اور برے اعمال کو بھی ایک جسم کی شکل میں مشاہدہ کرے گا۔ یعنی اس کی نماز، روزہ، حج، اور دیگر اچھائیاں اور اسی طرح جھوٹ، غیبت، فسق اور دیگر برائیاں ہر ایک کسی نہ کسی جسم کی شکل میں مجسم ہو کر حاضر ہوں گے۔ اب خدا کے اس عمل کا کیا فلسفہ ہے یہ اپنی جگہ لیکن ہمیں یہ معلوم ہوجانا چاہئے کہ ہمارا کوئی عمل خدا کی میزان سے بالاتر نہیں ہے ہر چیز کو انسان کی آنکھوں کے سامنے حاضر کر دیا جائے گا تاکہ انکار کرنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔ اوپر امام نے بھی خود اعمال کے حاضر ہونے کی بات کی ہے اور قرآن نے بھی خود اعمال کے مشاہدے کی بات کی ہے نہ کہ اعمال کے ثواب و عقاب کے۔

’’پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ (سورہ زلزلہ: ۷ و ۸)

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه