درس نمبر 15، ترجمہ و تفسیر کلمات قصار نمبر ۱۵
وَ قَالَ امیر المؤمنین علی علیہ السلام: مَا کُلُّ مَفْتُونٍ یُعَاتَبُ
حضرت امیر المومنین فرماتے ہیں: ہر فتنے کا شکار انسان کی سرزنش نہیں کی جاتی۔

حصہ اول: شرح الفاظ
1۔ مَفْتُونٍ: فتنے کا شکار۔
2۔ یُعَاتَبُ: سرزنش نہیں کی جاتی، عتاب نہیں کیا جاتا۔
حصہ دوم: سلیس ترجمہ
حضرت امیر المومنین فرماتے ہیں: ہر فتنے کا شکار انسان کی سرزنش نہیں کی جاتی۔
حصہ سوم: شرح کلام
جیسا کہ قارئین جانتے ہیں کہ ہم نے فتنہ کے متعلق کلمات قصار نمبر 1 کی شرح میں کسی حد تک تفصیل سے گفتگو کی تھی، جہاں ہم نے درج ذیل سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی تھیں:
فتنہ سے مراد کیا ہے؟
فتنہ میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
فتنہ سے مقابلے کی راہیں کیا ہیں؟
معنی فتنہ و مفتون
اولین کلمات قصار کی شرح میں بیان شدہ فتنہ کے معانی کا خلاصہ حاضر ہے۔
یہ کلمہ اصل میں "ف ت ن" سے مشتق ہوا ہے۔ جس کے معنی سونے کو آگ کی بھٹی میں ڈال کر پگھلا نے اور خالص سونے کو اشیائے اضافی سے الگ کرنے کے ہے۔(مفردات راغب/ 371)
اسی مناسبت سے یہ کلمہ ہر اس جگہ جہاں سختی، شدت، فشار اور مشکلات پائی جاتی ہو، استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ مصیبت، امتحان، عذاب، فریب اور شرک وغیرہ کے لئے بھی آیات اور روایات میں فتنہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
قرآن، نھج البلاغہ اور دیگر روایات و احادیث میں فتنہ کے مشتقات کے موارد استعمال کو ملاحظہ کرنے کے بعد ایک نکتہ جو سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر فتنہ دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
اول: یہ کہ فتنہ سے مراد وہ حوادث اور امور ہیں جو خداوند عالم کے حکیمانہ اور مدبرانہ نظام ھستی کا حصہ ہے۔ جسے آزمائش اور امتحان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جو مصائب، مشکلات، سختیوں اور بلاؤں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔
دوم: وہ حوادث و اتفاقات جو مختلف معاشروں میں کبھی کبھی حق و باطل کو باہم مخلوط کرنے کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔ اور ان حوادث کو وجود میں لانے والے اس طرح سے نقشہ کھینچتے ہیں کہ عام لوگوں کے لئے حق و باطل کی تشخیص مشکل ہوجائے۔ اور اس غبار آلود ماحول کو اپنی نفسانی خواہشات کا جولانگاہ بنادے، اس طرح بہت سارے انسان ان کی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
فتنہ کے انہی معانی کے پیش نظر یہاں بھی اس کلام کی دو قسم کی تفسیریں پیش کی جاتی ہیں۔ عمومی تفسیر اور خصوصی تفسیر۔
الف) عمومی تفسیر:
عمومی تفسیر سے مراد یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو مصیبتوں، سختیوں، پریشانیوں اور بلاؤں میں گرفتار ہے سب کی سرزنش نہیں کی جاتی۔ کیونکہ بعض اوقات انسان مذکورہ صورتحال میں اپنی سستی، نا اہلی اور کرتوت کی وجہ سے گرفتار ہوجاتا ہے یعنی اس صورتحال کا عامل اور سبب خود انسان ہے تو ایسے میں اس کی سرزنش کرنا درست ہے لیکن اگر اس کی وجہ وہ خود نہ ہو، کوئی دوسرا اس کا باعث بنا ہو یا امتحان الہی میں واقع ہوا ہو تو ایسی صورت میں اس کی سرزنش درست نہیں ہے۔ کیونکہ پریشانیاں اور بلائیں اس کے اپنے کرتوت کا نتیجہ نہیں ہے۔یعنی اس کا اپنا کوئی قصور نہیں ہے۔ پس بے قصور انسان کی سرزنش نہیں کی جاتی۔
بعض علمائےکرام نے اسی تفسیر کو بیان کی ہیں۔
ب) خصوصی تفسیر
آپ چاہیں یا نہ چاہیں معاشرے میں فتنے وجود میں آتے رہیں گے، کسی نہ کسی طرح سے حق و باطل کو مخلوط کر کے پیش کیا جاتا رہے گا۔ لیکن امتحان ہمارے ہنر اور صلاحیتوں کا ہے کہ ہم فتنے کے اس پرآشوب زمانے میں اپنی بصیرت، ایمان اور تقوا کے ذریعے حق و باطل کے درمیان تشخیص دے سکتے ہیں یا ہم بھی فتنوں کے سیلاب میں بہہ کر غرق ہوجاتے ہیں۔
مولا(ع) اپنے اس کلام میں ایسے ہی کسی امتحان میں ناکام ہونے والے ایک گروہ سے خطاب کر کے فرما رہے ہیں کہ جب انسان خود سے حق و باطل کے درمیان تشخیص نہ دے سکے تو سرزنش اور عتاب کے ذریعے بھلا کیسے کسی کو ہدایت دی جا سکتی ہے۔
واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ جب امیر المؤمنین علیہ السلام کی خلافت کے ابتدا میں طلحہ اور زبیر نے بصرہ میں بغاوت کا اعلان کیا اور اپنے ساتھ ام المؤمنین حضرت عائشہ کو بھی دھوکے سے ساتھ لے لیا تو مولائے متقیان(ع) نے بھی ان کے اس فتنے کو دبانے کے لئے جہاد کا اعلان کیا۔
سارے لوگ جہاد کے لئے نکلے لیکن کچھ خواص اور سرکردگان بجائے اس کے کہ اس کٹھن اور فتنہ کے پر آشوب دور میں امیر المؤمنین(ع) کا ساتھ دیتے ہوئے لوگوں کو بھی آپ کی طرف بلاتے، خود ہی خانہ نشین ہو کر بیٹھ گئے۔
ابن ابی الحدید کے مطابق یہ افراد سعد بن ابی وقاص، محمد بن مسلمہ، اسامہ بن زید اور عبد اللہ بن عمر تھے۔ حضرت علی علیہ السلام ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ تم لوگ میرا ساتھ نہیں دے رہے ہو تو میں تمہیں اس کام پر مجبور نہیں کرتا لیکن کیا تم لوگوں نے میری بیعت کی تھی یا نہیں؟ تو سب نے کہا: جی بیعت کی تھی۔ تو آپ نے فرمایا: تو پھر اپنی بیعت پر ہی عمل کرتے ہوئے میرے ساتھ نکلو اہل جمل کے ساتھ جہاد کے لئے۔ تو ان میں سے ہر کسی نے کوئی نہ کوئی عذر تراشنا شروع کیا تو اس وقت مولا نے فرمایا: "فتنے کا شکار ہر انسان کی سرزنش نہیں کی جاتی" یعنی سرزنش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ جب خود سے حق و باطل میں تشخیص نہ کر سکے یا جانتے ہوئے بھی حق کا ساتھ نہ دے تو ایسے افراد کو سرزنش کر کے حق کا ساتھی نہیں بنایا جا سکتا۔
لہذا جب امیر المؤمنین جنگ جمل سے کامیاب واپس لوٹے تو انہی لوگوں کے بارے میں فرمایا: "انہوں نے حق کو چھوڑا اور باطل کی بھی مدد نہیں کی"(نہج البلاغہ حکمت 18)
انشاءاللہ اس کلام کی تفسیر چند دنوں میں آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه