ترجمہ و تفسیر نہج البلاغہ، کلمات قصار نمبر ۱۶، درس نمبر 16
وَ قَالَ امیر المؤمنین علی علیہ السلام: تَذِلُّ الْأُمُورُ لِلْمَقَادِيرِ، حَتَّى يَكُونَ الْحَتْفُ فِي التَّدْبِيرِ.
حضرت امیر المومنین فرماتے ہیں: ’’معاملات، مقدرات کے آگے تسلیم ہوتے ہیں، یہاں تک کہ کبھی تدبیر کے نتیجہ میں موت واقع ہوجاتی ہے۔‘‘

حصہ اول: شرح الفاظ
۱۔ تَذِلُّ: رام ہوتا ہے، تسلیم ہوتا ہے۔
۲۔ الْأُمُورُ: معاملات، کام، امور۔
۳۔ لِلْمَقَادِيرِ: مقدرات، تقدیر۔
۴۔ الْحَتْفُ: موت، ہلاکت، تباہی۔
۵۔ التَّدْبِيرِ: تدبیر، چارہ، بندوبست، منصوبہ۔
حصہ دوم: سلیس ترجمہ
حضرت امیر المومنین فرماتے ہیں: ’’معاملات، مقدرات کے آگے تسلیم ہوتے ہیں، یہاں تک کہ کبھی تدبیر کے نتیجہ میں موت واقع ہوجاتی ہے۔‘‘
حصہ سوم: شرح کلام
بعض اوقات انسان اپنے توان اور علم کے مطابق کسی کام کے لئے اپنے تئیں بہت ہی اچھا اور بہترین منصوبہ تیار کرتا ہے اور قبل از وقت اس کام میں کامیابی کا اعلان بھی کرتا ہے۔ لیکن عین اس وقت جب وہ کامیابی کے زینے پر سوار ہی ہوا چاہتا ہے، وہی منصوبہ اسے لے ڈوبتا ہے اور اسے ناکام بنا دیتا ہے۔
مولا علیہ السلام کا یہ کلام ایسے ہی مواقع کی طرف انسان کی توجہ کو مرکوز کر رہا ہے۔ کیونکہ عقلمند انسان ہمیشہ اپنی علم و قدرت کے مطابق بہت کامیاب اور عالمانہ تدبیر، منصوبہ بندی اور پلاننگ کرتا ہے لیکن کبھی یہی تدبیر اس کے گلے کا پھندا بن جاتی ہے۔ دور حاضر میں اس کی مثالیں بہت ہی واضح اور آشکار ہیں۔
مثلاً آپ کسی بیماری سے نجات پانے کے ارادے سے مشہور اور حاذق ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور اپنی پوری بیماری انہیں بیان کرنے کے بعد ڈاکٹر آپ کے لئے علاج تجویز کرتا ہے، چاہے اس کی تجویز دوائیاں ہوں یا آپریشن یا پرہیزی۔ لیکن ابھی آپ موجودہ بیماری سے نجات پانا ہی چاہتے تھے کہ آپ دیکھتے ہیں کہ کسی مہلک بیماری آپ کے دامن گیر ہوگئی ہے۔ چیک اپ کے بعد جب رپورٹ آتا ہے تو دنیا آپ کی آنکھوں کے سامنے تاریک ہوجاتی ہے، کیونکہ معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ معمولی بیماری کے علاج کی وجہ سے آپ ایک جدید مہلک بیماری کا شکار ہوگئے ہیں۔ یعنی آپ اس معمولی بیماری سے نجات چاہتے تھے لیکن اب مہلک بیماری کا شکار ہوگئے ہیں، اسی کو کہتے ہیں لینے کے دینے پڑ جانا۔ اور یہی تدبیر پر تقدیر کا غالب آجانا ہے۔ آپ نے تدبیر اور منصوبہ بندی کی تھی لیکن تقدیر نے اپنا فیصلہ کیا۔
قابل توجہ نکتہ:
ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ایجاد ہوجائے کہ اس کا مطلب ہے کہ انسان کو کسی بھی کام کے لئے کوئی تدبیر اور منصوبہ بندی یا پلاننگ نہیں کرنا چاہئے اور معاملے کو خدا اور اس کی تقدیر کے حوالے کرنا چاہئے، جو ہوجائے سو ہوجائے!
یہ بلکل ہی غلط تصور اور سوچ ہے۔ کیونکہ مولا کے اس کلام کا مقصد یہ نہیں ہے کہ خداوند عالم نے انسان سے اختیار ہی چھین لیا ہے اور انسان اس کی قدرت اور تقدیر کے آگے مجبور ہے۔ نہیں ہرگز ایسا نہیں ہے۔ اس کلام کا مطلب اور مقصد یہ ہے کہ انسان کو ’’ وَأَنْ لَیْسَ لِلاِنْسانِ إِلاّ ما سَعى‘‘ کے قاعدے کے مطابق اپنی پوری کوشش اور علم و قدرت کو بروئے کار لانا چاہئے۔ لیکن اپنے علم و قدرت پر اسے گھمنڈ نہیں ہونا چاہئے کہ میں اپنی ہی کوششوں کے نتیجے میں کامیاب ہوجاؤں گا۔ کوئی میرا راستہ نہیں روک سکتا، حتی خدا! (نعوذ باللہ)
پس انسان کو اپنے معاملات میں دو چیزوں پر ہمیشہ توجہ رکھنا چاہئے
1۔ تدبیر: یعنی کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے اس کے بارے میں مکمل منصوبہ بندی، سوچ و بچار، فوائد و نقصانات کا اندازہ اور عوامل و رکاوٹوں کی شناخت ضروری ہے۔
2۔ تقدیر: یعنی اس کو اپنی کاوشون اور کوششوں پر اس قدر اعتماد نہیں ہونا چاہئے کہ تقدیر الہی اور قدرت مافوق الہی کو مکمل ہی بھول جائے۔ اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اگر اللہ کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرے تو ایک ’’کُن‘‘ کے ارادے سے ’’فَیَکُون‘‘ کا نتیجہ دے سکتا ہے۔
یعنی اللہ کسی چیز کا فقط ارادہ ہی کر لے تو اس کے وجود میں آنے یا نابود ہونے کے لئے وہی ارادہ الہی ہی کافی ہے۔
تقدیر کے اقسام
یہاں اس نکتے کی طرف بھی ایک مختصر اشارہ کرنا ضروری ہے کہ علمائے اعتقادات قضا و قدر کی بحث میں تقدیر کی ایک تقسیم بیان کرتے ہیں اس کو ملاحظہ کرنے کے بعد قارئین مذکورہ کلام کو بہتر سمجھ سکتے ہیں۔
تقدیر کی دو قسمیں ہیں۔
1۔ تقدیر حتمی
حتمی تقدیر وہ امور اور معاملات ہیں جس کا خداوند عالم نے اٹل فیصلہ کر رکھا ہے۔ اور اس میں کسی قسم کا رد و بدل ممکن نہیں ہے۔ ایسے معاملات کے مقابلے میں انسان کی تدبیر کچھ کام نہیں آتی۔
مثلا موت کے بارے میں کہتے ہیں کہ بعض انسانوں کے لئے خداوند عالم نے دو قسم کے موت مقدر کیا ہے حتمی موت اور مشروط موت۔
یعنی ایک عمر معین اور مشخص ہے اس کے بعد اس انسان کو مرنا ہی مرنا ہے۔ اس میں کوئی رد و بدل ممکن نہیں ہے۔ لیکن ایک مشروط موت ہے۔ مشروط موت کا وقت حتمی موت سے پہلے ہے لیکن کسی کام کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ انسان اس کام کو انجام دے تو اسے حتمی موت تک مزید زندگی ملے گی ورنہ وہ اسی وقت مر جائے گا۔ پس غیر حتمی اور مشروط موت کو تو انسان ٹال سکتا ہے۔ لیکن حتمی اور یقینی موت کو نہیں ٹال سکتا۔
2۔ غیر حتمی تقدیر
مذکورہ بالا وضاحت کے بعد تقریبا غیر حتمی تقدیر کا مطلب بھی کسی حد تک واضح ہوچکا ہے۔ یعنی وہ امور اور معاملات جس پر خدا نے کوئی حتمی اور اٹل فیصلہ نہیں کیا ہے۔ یہاں انسان اپنی مرضی اور تدبیر سے رد و بدل کر سکتا ہے۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه