درس نمبر 17

ترجمہ و تفسیر کلمات قصار نمبر ۱۷
وَ قَالَ امیر المؤمنین علی علیہ السلام
وَ سُئِلَ (ع) عَنْ قَوْلِ الرَّسُولِ (ص) غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَ لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ فَقَالَ (ع) إِنَّمَا قَالَ ص ذَلِكَ وَ الدِّينُ قُلٌّ فَأَمَّا الْآنَ وَ قَدِ اتَّسَعَ نِطَاقُهُ وَ ضَرَبَ بِجِرَانِهِ فَامْرُؤٌ وَ مَا اخْتَار

حصہ اول: شرح الفاظ
۱۔ سُئِلَ: سوال کیا گیا، پوچھا گیا۔
۲۔ غَيِّرُوا: بدل دو، تبدیل کرو۔
۳۔ الشَّيْبَ: بوڑھاپا۔
۴۔ لَا تَشَبَّهُوا: مشہابہت اختیار مت کرو، شبیہ مت بناؤ۔
۵۔ قُلٌّ: کم تعداد۔
۶۔ اتَّسَعَ: پھیل گیا ہے۔
۷۔ نِطَاقُ: کا اصل معنی کمر بند کے ہیں لیکن یہاں بطور استعارہ حدود اور وسعت کے معنی میں آیا ہے۔
۸۔ ضَرَبَ: کا اصلی معنی مارنا ہے لیکن یہاں اس کا معنی پائدار ہونے اور مستحکم ہونے کے ہیں۔
۹۔ جِرَانِ: اونٹ کے سینہ کا وہ حصہ جو بیٹھتے وقت زمین سے لگ جاتا ہے۔
۱۰۔ امْرُؤٌ: آدمی، مرد۔
۱۱۔ اخْتَار: اختیار کرے۔
حصہ دوم: سلیس ترجمہ
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’پیغمبر (ص) کی حدیث کے متعلق کہ ’’بڑھاپے کو (خضاب کے ذریعے) بدل دو، اور یہود سے مشہابہت اختیار نہ کرو۔‘‘ ا ٓپ سے سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا کہ پیغمبر اسلام(ص) نے یہ اس موقع کے لئے فرمایا تھا جب کہ دین (والے) کم تھے، اور اب جبکہ اس کا دامن پھیل چکا ہے اور سینہ ٹیک کر جم چکا ہے تو ہر شخص کو اختیار ہے۔‘‘
حصہ سوم: شرح کلام
جب بھی کسی معاشرے میں کوئی کام پہلے سے لوگوں کے درمیان رائج ہو اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ رائج شدہ کام ختم ہوجائے یا کوئی کام پہلے رائج نہ ہو لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ رائج ہوجائے تو عموما لوگوں کے ذہنوں میں سوال اٹھتا ہے کہ یہ پہلے سے رائج شدہ کام ختم کیوں ہوا یا یہ نیا کام کیوں رائج ہوگیاْ؟
یہاں پر بھی ایک آدمی کے دماغ میں سوال اٹھا کہ داڑھی کو حضاب یا مہندی لگانا، جو پیغمبر اسلامؐ کے زمانے میں لوگوں میں اپنے آب و تاب کے ساتھ رائج تھا، آج یہ کام کیوں متروک ہوگیا ہے؟ لہذا اس نے یہی سوال امیر المومنینؑ سے کیا۔ تو آپ نے اس کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ پیغمبر نے اس کام کی تاکید اس لئے کی تھی کونکہ اس زمانے میں اہل اسلام کی تعداد کم تھی اور کفار و مشرکین کی تعداد زیادہ اور آج معاملہ برعکس ہے کہ اسلام ومسلمین مضبوط اور مستحکم ہوچکے ہیں اور اسلام پھیل چکا ہے اس لئے اب اس عمل کی ضرورت نہیں ہے۔
پیغمبر اکرمؐ کے زمانے میں عمر رسیدہ مسلمانوں کو خضاب یا مہندی کے ذریعے بالوں کو رنگ کرنے کے دو قسم کے علل اور فلسفے بیان کئے جاتے ہیں۔
۱۔ تاکہ کفار و مشرکین اور دشمن کے مقابلے اور آمنے سامنے ہوتے وقت جوان نظر آئیں اور دشمن پر رعب و وحشت کا باعث بنیں۔
۲۔ دوسری علت یہ بتائی جاتی ہے کہ کیونکہ یہودی اپنے سفید بالوں کو نہیں رنگتے تھے تو مسلمانوں کو یہودیوں سے مستقل ایک شناخت دینے کے لئے پیغمبر نے فرمایا تھا کہ اپنے بالوں کو رنگ کرو تاکہ ملت یہود سے الگ نظر آؤ۔ کیونکہ اسلام، یہود کے آئین و تہذیب کے مقابلے میں ایک مستقل تہذیب کا حامل ہے۔ اس لئے اسلامی احادیث اور روایات میں مسلمانوں کے کفار کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے کی شدید مذمت ہوئی ہے۔ اور اسلامی فقہ میں اس عمل کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
ایک سوال
یہاں ممکن ہے کہ کوئی سوال کرنے والا سوال کرے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی ہی ایک حدیث میں آیا ہے کہ ’’حلالِ محمد قیامت تک حلال اور حرامِ محمد قیامت تک حرام ہوگا۔‘‘ یعنی پیغمبر کے دستورات اور قوانین میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی۔ تو پھر یہ داڑھی کو رنگ کرنے کے معاملے میں یہ تبدیلی کیسے آئی؟ کیا نہج البلاغہ میں موجود یہ مذکورہ کلام پیغمبر اکرمؐ کی اس حدیث کے ساتھ ٹکراتا نہیں ہے؟
جواب:
اولاً: داڑھی کو خضاب یا مہندی کے ذریعے رنگ کرنا پیغمبر کے زمانے میں کوئی واجب امر نہیں تھا بلکہ ایک مستحبی عمل تھا جس کی تاکید کی گئی تھی۔ اور پھر امیر المومنین یا بعد کے زمانے میں یہ عمل حرام نہیں ہوا کہ ایک حلال کام حرام میں بدلنا شمار ہوجائے۔ پس مذکورہ سوال ہی بے جا ہے۔
ثانیاً: اسلامی شریعت کے احکام کی دو قسمیں ہیں:
ثابت احکام: یعنی وہ احکام جو انسان کی طبیعت اور فطرت سے مربوط ہیں۔ یعنی انسانی فطرت اور طبیعت کے عین مطابق ہیں۔ ایسے احکام اور قوانین قابل تغییر نہیں ہیں۔ پس پیغمبر کی مشہور حدیث جو سوال میں ذکر ہوا، سے مراد اس نوع کے احکام ہیں۔
متغیر احکام: یعنی وہ احکام جو انسان کی سماجی اور اجتماعی زندگی سے مربوط ہیں۔ پس ایسے احکام سماج اور معاشرے میں حالات کی تبدیلی سے بدل جاتے ہیں۔ کیونکہ ایسی حالت میں حکم کا موضوع اور اس کے وجود میں آنے کا سبب بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔ اور داڑھی کو خضاب کرنے یا نہ کرنے کا حکم بھی اسی قسم کے احکام میں شمار ہوتا ہے۔ ( فی ضلال نہج البلاغہ، ج 4 ص 226)

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه