مقدمہ :
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےانسان کو خلق فرمایااوراسے اپنابنائے رکھنے کیلئے ہادی وراہنمابھی انتخاب فرمائے اللہ نے ان ہادیوں کو یہ فرض سونپاکہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائیں ،اللہ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجاتوبھی اسی دعوت کوبعثت کی وجہ قراردیا :
،،اورتجھے اللہ کےحکم سے اسی کی طرف دعوت دینے والااورروشنی عطاکرنے والاچراغ قراردیاہے ،،(احزاب 33:45)

ایک دن حضرت علی علیہ السلام گھر سے باہر تھے جبکہ موسم بھی بہت گرم تھا سعدابن قیس نے حضرت کو دیکھا اور پوچھا:
یاامیرالمومنین ! اس سخت گرمی میں کیوں گھر سے باہر آئے ہو؟؟
فرمایا: اس لئے کہ کسی مظلوم کی مدد کروں یا کسی دل شکستہ کو پناہ دے سکوں اسی وقت ایک سہمی ہوئی عورت اضطراب کی حالت میں آئی اور امام کے سامنے کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی : یاامیرالمومنین میرا شوہر مجھ پر ظلم وستم کرتاہے اور اس نے قسم کھائی ہے کہ مجھے مار دےگا۔

ان قلمکاروں اور تجزیہ نگاروں کی زندگی پر ترس آتا ہے جو قلمی طاقت کے ذریعے حقائق سے پردہ اٹھانے کے بجائے اسے چھپانے کی کوشش میں وقت ضائع کرتے ہیں ـ جاوید چودھری صاحب کسی تعارف کا محتاج نہیں ، وہ کالم نگاری کی دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں، فن تحریر میں اس کی نظیر کم ہے، لیکن اس کے باوجود موصوف کی تحریروں میں مغالطہ کاری کی باتیں، عصبیت پر مبنی جملے اور حقائق کو توڑ مڑوڑ کر پڑھنے والوں کو سرگردان کرنے والے الفاظ فراون دکھائی دیتے ہیں ، بے شک ان کا مطالعہ وسیع ہے، لکھنے میں وہ طولانی تجربہ رکھتے ہیں، مگر ابھی تک اس حقیقت پر ان کا ایمان اور عقیدہ کمزور لگتا ہے کہ صداقت ہی کسی تحریر کی جان ہوتی ہے ، دانا کی نظر الفاظ سے ذیادہ مفاہیم پر ہوتی ہے ،حقیقت پر مبنی تخیل لفاظی کا حسن ہوتا ہے ، قلم کا تقدس حقائق کو نمایاں کرنے سے باقی رہتا ہے ، مغالطہ کاری دانشمند کو زیب نہیں دیتی ، پریپیگنڈہ پھیلانا تعلیم یافتہ انسانوں کا شیوہ نہیں ہوتا، عصبیت سے کام لینا کم ظرف گھٹیا آدمی کی نشانی ہوتا ہے ، مقیس ومقس علیہ میں پائدار نسبت کا پایا جانا ضروری ہے اور اسی طرح مشبہ ومشبہ بہ میں وجہ شبہ کا ہونا ناگزیر ہے ـ

انسان کے لئے بعض مواقع ایسے آتے ہیں جن میں وہ صحیح معنوں میں خدا کی خوشنودی اور قرب کو حاصل کر سکتا ہے اور یہی ہر انسان کی دلی تمنا ہوتی ہے۔ہر انسان فطرتا نیک اور خدا جو ہوتا ہے لیکن زمانے اور حالات کے سبب انسان اپنے خالق حقیقی کو فراموش کر لیتے ہیں لیکن زندگی کے کسی موڑ پر جب اسے ہوش آ جاتا ہے تو وہ یہ جان چکا ہوتا ہے کہ خدا کے سوا اس کا کوئی نہیں۔انسان کی شروع سے ہی یہی کوشش رہتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقہ سے خدا کی خوشنودی حاصل کرے اوراعمال و عبادات کے ذریعہ اپنے خالق کے حضور بڑا مقام حاصل کر لے۔

خلاصہ
والدین کی گردن پر جو عظیم ذمہ داری ہے وہ قرآن اور تعلیمات اہلبیت کی روشنی میں اولاد کی تربیت اور معاشرے کو اچھے اور نیک افراد پیش کرنا ہے والدین پر یہ ذمہ داری اولاد کی پیدائش سے پہلےبھی اور پیدائش کے بعد بھی عائد ہوتی ہے۔ نطفہ ٹھہرتے وقت اور حمل کے دوران بھی والدین کو چاہئے کہ اسلامی آداب کا خیال رکھیں اور اپنےکردار اور گفتار و رفتار کو اسلامی بنائیں ۔ پیدائش کے بعد والدین پر یہ ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ بزرگان نے بچے کی زندگی کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے: ۱۔ ایک سے سات سال تک ۔ سات سے چودہ سال تک ۳۔ چودہ سے اکیس سال تک کہ جن میں سے ہر ایک مرحلہ میں والدین کو بچے کےساتھ ایک خاص طریقے سے زندگی کرنے کی ضرورت ہے۔گھر کا ماحول ،والدین کی طرز زندگی اور رہن سہن بچے کی تربیت پر بہت اثر انداز ہوتے ہیں ۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه