کشمیر اور گلگت بلتستان وہ خوبصورت خطے ہیں جن کی نظیر بہت کم ہے ، قدرت نے انہیں بے پناہ حسن سے نوازا ہے ، یہی وجہ ہے کہ یہ خطے آج دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں، روز بروز جدید ذرائع اور سوشل میڈیا کی بدولت ان خطوں کے وہ مقامات جو دنیا والوں کی نگاہوں سے اوجہل تھیں آہستہ آہستہ نمایاں ہورہی ہیں، جس کے سبب ہرسال سیاحوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جو یقینا روشن مستقبل کی نوید ہے ـ

سوال :پیغمبر اسلام نے کس طرح مباھلہ کیا؟
جواب : مباہلہ “ در اصل ” بھل“ کے مادہ سے ہے ، اس کا معنی ہے ”رہا کرنا “ اور کسی کی قید و بندکو ختم کردینا ۔ اسی بناء پر جب کسی جانور کو اس کے حال پر چھوڑ دیں اور اس کے
پستان کسی تھیلی میں نہ باندھیں تاکہ اس کا نو زائیدہ بچہ آزادی سے اس کا دودھ پی سکے تو اسے ” باھل “ کہتے ہیں ۔ دعا میں ” ابتھال“ تضرع و زاری اور کام خدا کے سپرد کرنے کے معنی میں آتا ہے ۔
کبھی کبہار یہ لفظ ہلاکت ، لعنت اورخدا سے دوری کے معنی میں اس لئے استعمال ہوتا ہے کہ بندے کو اس کے حال پر چھوڑدینا منفی نتائج کا حامل ہوتا ہے ۔ یہ تو تھا ” مباہلہ “ کا مفہوم اصل لغت کے لحاظ سے لیکن اس مروج مفہوم کے لحاظ سے جو اوپر والی آیت میں مراد لیا گیا ہے یہ دو اشخاص کے درمیان ایک دوسرے پر نفرین کرنے کو کہتے ہیں اور وہ ببھی اس طرح کہ دو گروہ جو کسی اہم مذہبی مسئلے میں اختلافَ رائے رکھتے ہوں ، ایک جگہ جمع ہو جائیں ، بار گاہ الہٰی میں تضرع کریں اور اس سے دعا کریں کہ وہ جھوٹے کو رسوا و ذلیل کرے اور اسے سزا و عذاب دے ۔

حدیث غدیر خم اسلام کے متواتراحادیث میں سے ہے جسے ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے اصحاب سے نقل کیا ہے اور یہ تعداد تعجب آور نہیں کیونکہ غدیر خم میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان شریک تھے ۔۱۔حدیث متواتر، وہ حدیث ہے جس کے سلسلۂ سند میں آخری راوی سے لے کر معصوم تک یعنی ہر طبقے میں راویوں کی تعداد اس قدر ہو کہ عادی اور عام حالت میں ان کامعصوم کی طرف جھوٹی نسبت دینے کے لئے سازباز کرنا محال ہو اور ان کی نقل شدہ خبر یقین اور علم کا سبب بنے۔۲۔ خبر متواتر یا(حدیث متواتر) کے مقابلے میں خبر واحدآتی ہے یعنی جو متواتر نہ ہو وہ خبر واحد ہے۔ تواتر کی دو قسمیں ہیں:الف :متواتر لفظی ۔ب:متواتر معنوی۳۔

شیعہ سنی اختلاف کی بنیاد سقیفہ اور غدیر   کے  دو واقعات  میں مضمر ہے  :

 امت  محمدی کے  دو گروہوں میں بٹنے  میں  دو  واقعات  کا بہت ہی نمایاں کردار ہے .ان جن میں  سے ایک حضور کی  حیات  میں ،  دوسرا  آپ کے  کفن دفن سے پہلے  پیش آیا .جہاں ایک طرف سے  سقیفہ  کا واقعہ خلافت  اور امامت   کے مسئلہ میں اکثر مسلمانوں کے عقائد  کی بنیاد ہے تو دوسری طرف  سے  غدیر خم  میں رسول پاک کا تاریخی خطبہ   اکثریت کے مقابلے میں اقلیت  کے عقیدے کی بنیاد ہے .  اسی  لئے

عزت اور ذلت کا مالک خدا ہے ، وہ جسے چاہئے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے زلت ، البتہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان بے بس ہے اسے کوئی اختیار نہیں ،بلکہ اللہ تعالی نے انسان کو صاحب اختیار وارادہ بنایا ہے، اسے عزت اور ذلت کے راستوں کی نشاندہی کرائی ہے، اسے عزت اور ذلت کے اسباب وعوامل کی بھی تعلیم دلوائی ہے ،اس کے باوجود بعض لوگ ذلت کے راستے اختیار کرتے ہیں، وہ ذلیل ہونے کے اسباب فراہم کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ زلیل وخوار ہوکر رہ جاتے ہیں ، زلت کے مراتب اور درجات ہوتے ہیں ، بدترین ذلت وہ ہے جو دوسروں پر بے جا ظلم وستم کرنے کے سبب انسان کے حصے میں آتی ہےـ

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه