۱-«طلوع فجر صادق»
طلوع فجرصادق کی ابتدا سے نماز صبح کےآخروقت تک یعنی
«طلوع آفتاب» اسکے وقت کی انتہا ہے
ان دونوں طلوعین کے درمیان جو زمانہ ہے ۔ اس کو
«بین الطلوعین» کہتے ہیں ۔۔
قرآن کریم اس عبارت کےساتھ۔۔۔۔
«وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْس»[۱]
اسی وقت میں خدا کی تسبیح کی تاکید ھوئی ہے اور اسی طرح بہت ساری روایات بھی ہیں ۔بین طلوعین میں مخصوص اذکار اور دعائیں بھی وارد ھوئیں ہیں : 

ہماری نظر میں امتیازی سلوک سے بالاتر ہوکر عوام کے ساتھ مساوات اور انصاف کا برتاؤ کرنا کسی بھی خطے اور علاقے کے نمائندے کی ذمہ داریوں میں سرفہرست شامل ہے ،انسان کی فردی اور اجتماعی زندگی میں انصاف کی رعایت کرنا ہی وہ اعلی وصف ہے جو انسانیت کی پہچان قرار پاتا ہے ،گھر ،رشتہ دار ،کوچے، محلے، حلقہ احباب غرض تمام انسانی معاشرے میں انسان کی محبوبیت انصاف پسندی سے جڑی ہوئی ہوتی ہے، جو افراد منصف نہیں ہوتے انہیں لوگ نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،

کریمہ اہل بیت سلام اللہ علیہا
حضرت فاطمہ معصومہ بنت امام موسی کاظم علیہ السلام
القاب کریمہ اہل بیت. طاہرہ. حمیدہ برہ ۔ رشیدہ. تقیہ ۔ نقیہ ۔ رضیہ ۔ مرضیہ. سیدہ. اخت الرضا. معصومہ. شفیعہ روز جزا. عالمہ آل عبا. محدثہ آل طٰہٰ.
والد بزرگوار حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام
والدہ ماجدہ حضرت نجمہ خاتون
تاریخ ولادت یکم ذی القعد173 ہجری میں مدینہ منورہ میں تشریف لائیں
وفات 10 ربیع الثانی 201 ہجری ایران کے شہر قم مقدس میں مدفون ہیں

وہ احادیث جو حضرت معصومہ(س) سے منقول ہیں

حدثتنی فاطمة و زینب و ام کلثوم بنات موسی بن جعفر قلن : ۔۔۔ عن فاطمة بنت رسول الله صلی الله علیه و آله وسلم و رضی عنها : قالت : ”انسیتم قول رسول الله صلی الله علیه و آله و سلم یوم غدیر خم ، من کنت مولاه فعلی مولاه و قوله صلی الله علیه و آله وسلم ، انت منی بمنزلة هارون من موسی“
اس حدیث کو حضرت فاطمہ معصومہ(س) امام صادق(ع) کی بیٹی سے نقل کرتی ہیں ۔ اس حدیث کی سند کا سلسلہ حضرت زہرا(س) پر اختتام پزیر ہوتا ہے ۔
حضرت فاطمہ زہرا(س) نے فرمایا : کیا تم نے فراموش کردیا رسول خدا(ص) کے اس قول کو جسے آپ نے غدیر کے دن ارشاد فرمایا تھا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی(ع) مولا ہیں ۔
اور کیا تم نے رسول خدا(ص) کے اس قول کو فراموش کردیا کہ آپ(ص) نے علی(ع) کے لئے فرمایا تھا کہ آپ(ع) میرے لئے ایسے ہیں جیسے موسی(ع) کے لئے ہارون(ع) تھے۔(عوالم العلوم، ج/۲۱ ، ص/353)

عن فاطمة بنت موسی بن جعفر علیه السلام :
۔۔۔ عن فاطمة بنت رسول الله صلی الله علیه و آله و سلم : قالت :
قال رسول الله صلی اللہ علیه و آله وسلم :
«اٴلا من مات علی حب آل محمد مات شهیداً »
حضرت فاطمہ معصومہ(س) اسی طرح ایک اور حدیث حضرت امام صادق(س) کی بیٹی سے نقل کرتی ہیں اور اس حدیث کا سلسلہ سند بھی حضرت زہرا(س) پر اختتام پزیر ہوتا ہے ۔
حضرت زہرا(س) نے فرمایا کہ رسول خدا(ص) فرماتے ہیں: آگاہ ہوجاوٴ کہ جو اہل بیت (ع) کی محبت پر اس دنیا سے اٹھتا ہے وہ شہید اٹھتا ہے ۔
مرحوم علامہ مجلسی شیخ صدوق سے حضرت معصومہ(س) کی زیارت کی فضیلت کے بارے میں روایت نقل فرماتے ہیں :
قال ساٴلت ابا الحسن الرضا علیه السلام عن فاطمة بنت موسی ابن جعفر علیه السلام قال : ” من زارها فلة الجنة
راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت فاطمہ معصومہ(س) کے بارے میں امام رضا (ع) سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ جو شخص ان کی قبر اطہر کی زیارت کرے گا اس پر جنت واجب ہوجائے گی

درست مدیریت کسی بھی ملک کی ترقی اور اس کے نظام کی مضبوطی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، وہ ممالک جن کے حکمران سہل انگاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خط مستقیم پر اپنے اداروں کی مدیریت کرنے سے قاصر وناتواں رہتے ہیں ان میں ترقی خواب بن کر رہ جاتی ہے ـ
آج نظری دنیا میں دوطرح کی مدیریت کا چرچا ہے جنہیں محقیقین اسلامی مدیریت اور غربی مدیریت کے نام سے جانے جاتے ہیں ـ وہ اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کی اپنی الگ پہچان ہے، لیکن عملی میدان میں دیکھا جائے تو آج مختلف وجوہات کی بناء پر انگشت شمار ممالک کو چھوڑ کر سارے اسلامی ملکوں میں اسلامی مدیریت کے بجائے غربی مدیریت ہی حاکم دکھائی دیتی ہے ،جس کے نتیجے میں عزت نفس کی پائمالی، بدترین غلامی اور زلت ورسوائی ان کی تقدیر کا حصہ بنی ہوئی ہےـ

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه