ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد( جو آجکل مسجد النبی یا مسجد مدینہ سے معروف ہے) تشریف لے گئے آپ کی نگاہ دو گروہوں پر پڑی۔
ایک گروہ عبادت و ذکر میں مصروف تھا جبکہ دوسرا گروہ تعلیم و تعلم میں مصروف تھا۔
آپ(ص) ان دو گروہوں کو دیکھ کر مسرور ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا۔یہ دونوں گروہ نیک کام کر رہے ہیں۔
اور سعادتمند ہیں۔ پھر آپ نے مزید فرمایا لیکن مجھے تعلیم دینے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اور آپ(ص) اس گروہ میں شامل ہوگئے جو تعلیم و تعلم میں مصروف تھا۔
داستان راستان، ج1، ص1،2۔

مقدمہ :
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےانسان کو خلق فرمایااوراسے اپنابنائے رکھنے کیلئے ہادی وراہنمابھی انتخاب فرمائے اللہ نے ان ہادیوں کو یہ فرض سونپاکہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائیں ،اللہ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجاتوبھی اسی دعوت کوبعثت کی وجہ قراردیا :
،،اورتجھے اللہ کےحکم سے اسی کی طرف دعوت دینے والااورروشنی عطاکرنے والاچراغ قراردیاہے ،،(احزاب 33:45)

انسان کے لئے بعض مواقع ایسے آتے ہیں جن میں وہ صحیح معنوں میں خدا کی خوشنودی اور قرب کو حاصل کر سکتا ہے اور یہی ہر انسان کی دلی تمنا ہوتی ہے۔ہر انسان فطرتا نیک اور خدا جو ہوتا ہے لیکن زمانے اور حالات کے سبب انسان اپنے خالق حقیقی کو فراموش کر لیتے ہیں لیکن زندگی کے کسی موڑ پر جب اسے ہوش آ جاتا ہے تو وہ یہ جان چکا ہوتا ہے کہ خدا کے سوا اس کا کوئی نہیں۔انسان کی شروع سے ہی یہی کوشش رہتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقہ سے خدا کی خوشنودی حاصل کرے اوراعمال و عبادات کے ذریعہ اپنے خالق کے حضور بڑا مقام حاصل کر لے۔

ایک دن حضرت علی علیہ السلام گھر سے باہر تھے جبکہ موسم بھی بہت گرم تھا سعدابن قیس نے حضرت کو دیکھا اور پوچھا:
یاامیرالمومنین ! اس سخت گرمی میں کیوں گھر سے باہر آئے ہو؟؟
فرمایا: اس لئے کہ کسی مظلوم کی مدد کروں یا کسی دل شکستہ کو پناہ دے سکوں اسی وقت ایک سہمی ہوئی عورت اضطراب کی حالت میں آئی اور امام کے سامنے کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی : یاامیرالمومنین میرا شوہر مجھ پر ظلم وستم کرتاہے اور اس نے قسم کھائی ہے کہ مجھے مار دےگا۔

ان قلمکاروں اور تجزیہ نگاروں کی زندگی پر ترس آتا ہے جو قلمی طاقت کے ذریعے حقائق سے پردہ اٹھانے کے بجائے اسے چھپانے کی کوشش میں وقت ضائع کرتے ہیں ـ جاوید چودھری صاحب کسی تعارف کا محتاج نہیں ، وہ کالم نگاری کی دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں، فن تحریر میں اس کی نظیر کم ہے، لیکن اس کے باوجود موصوف کی تحریروں میں مغالطہ کاری کی باتیں، عصبیت پر مبنی جملے اور حقائق کو توڑ مڑوڑ کر پڑھنے والوں کو سرگردان کرنے والے الفاظ فراون دکھائی دیتے ہیں ، بے شک ان کا مطالعہ وسیع ہے، لکھنے میں وہ طولانی تجربہ رکھتے ہیں، مگر ابھی تک اس حقیقت پر ان کا ایمان اور عقیدہ کمزور لگتا ہے کہ صداقت ہی کسی تحریر کی جان ہوتی ہے ، دانا کی نظر الفاظ سے ذیادہ مفاہیم پر ہوتی ہے ،حقیقت پر مبنی تخیل لفاظی کا حسن ہوتا ہے ، قلم کا تقدس حقائق کو نمایاں کرنے سے باقی رہتا ہے ، مغالطہ کاری دانشمند کو زیب نہیں دیتی ، پریپیگنڈہ پھیلانا تعلیم یافتہ انسانوں کا شیوہ نہیں ہوتا، عصبیت سے کام لینا کم ظرف گھٹیا آدمی کی نشانی ہوتا ہے ، مقیس ومقس علیہ میں پائدار نسبت کا پایا جانا ضروری ہے اور اسی طرح مشبہ ومشبہ بہ میں وجہ شبہ کا ہونا ناگزیر ہے ـ

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه