تفصیلی سوال: 

صدقہ (زکوۃ اور خمس کے سوا) دینے کی کیفیت کیا ہے، صدقے کے مستحقین کون ہیں؟ کونسی چیزیں بطور صدقہ دی جا سکتی ہیں؟ کم از کم صدقہ کتنا ہونا چاہئے؟ 

۔۔۔۔۔

مختصر جواب:

اسلام میں مستحب صدقہ اللہ کی رضا کے لئے ہے، 

شرطیں:  

جس کو صدقہ دیتے ہو اس پر احسان نہ جتاؤ، 

صدقہ دیتے ہوئے ریاکاری اور دکھاوے سے پرہیز کرو، 

صدقہ ایسے محتاج کو دو جو اس کو گناہ میں خرچ نہ کرتا ہو، 

صدقہ پاک اور حلال اموال سے نکالا جاسکتا ہے،

صدقے میں افراط اور تفریط [Two Extremes] سے پرہیز کرنا چاہئے، [نہ ہاتھ جیب پر رکھنا اور نہ ہی ہاتھ مکمل طور پر کھولنا] یعنی نہ تو صدقہ دینے میں کوتاہی کرو اور نہ ہی اپنی پوری دولت کو بطور صدقہ دے دو، کہ بعد میں خود محتاج ہوجاؤ،

یہ صدقہ انسان کی اپنی صلاحیت پر منحصر ہے اور بعض روایات میں ہے کہ صدقہ دے دو خواہ وہ ایک گھونٹ پانی ہی کی صورت میں کیوں نہ ہو۔ 

صدقے کے مستحقین میں اقارب اور رشتہ داروں کو ترجیح حاصل ہے۔ 

۔۔۔۔۔ 

تفصیلی جواب

تمہید

اسلام کی شرع مقدسہ میں صدقے کی اہمیت کے بارے میں قرآنی آیات اور احادیث خاندانِ عصمت و طہارت میں بہت زیادہ سفارشات ہوئی ہیں۔ 

اسلام میں صدقے کی دو قسمیں ہیں: ایک واجب صدقہ ہے جو درحقیقت "زکوۃ" [زکوۃِ مال اور زکوۃِ فطرہ] ہی ہے اور آیات و روایات میں اس زکوۃ کی مقدار بھی بیان ہوئی ہے اور اس کے مستحقین بھی متعین ہیں۔ (1) لیکن ہم یہاں اختصار کا لحاظ رکھتے ہوئے صرف مستحب صدقے پر بحث کررہے ہیں اور سوال بھی اسی صدقے کے بارے میں ہوا ہے۔ 

۔۔۔۔۔الف۔ صدقے کی اہمیت 

صدقے کی اہمیت میں احادیث بکثرت نقل ہوئی ہیں جن کے فوائد بہت زیادہ ہیں؛ مثلاً یہ کہ: 

صدقہ رزق میں برکت کا سبب ہے

صدقہ بیماریوں کی شفاء ہے

صدقہ جہنم کی آگ سے دوری کا سبب ہے

صدقہ دنیا میں ستر بلاؤں اور میبتوں کو دفع کردیتا ہے

ستر شیطانوں کو دفع کرتا ہے

صدقہ عمر کے طویل ہونے کا سبب ہے و۔۔۔۔ (2)

۔۔۔۔۔

ب۔ صدقے کی آفات

خداوند متعال صدقہ دینے کی تعریف فرماتا ہے لیکن صدقے کی دو روشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا: 

ایک وہ صدقہ جس میں ریا اور دکھاوے کا عنصر شامل ہو جو ابتداء ہی سے باطل ہے اور اس کا کوئی بھی مثبت ثمرہ نہیں ہے

دوسرا وہ جس کا ثواب محتاج شخص پر منت و احسان جتانے اور اذیت و آزار کی وجہ سے محو ہوکر رہ جاتا ہے، 

صدقے کی یہ دو روشیں صدقے کے ضائع ہونے کا سبب بنتے ہیں اور اس کی قدر و قیمت نیست و نابود ہوجاتی ہے اور وجہ بھی یہ ہے کہ "یہ صدقہ رضائے الہی کے لئے نہیں دیا گیا"، اور اگر پھر اللہ کی رضا کے لئے ہو بھی، صدقہ دینے والا اپنی الہی نیت کو خالص نہيں رکھ سکا ہے اور ریا کی وجہ سے یا احسان جتانے کے بموجب یا پھر اذیت دینے کے باعث اس کو باطل کرچکا ہے۔ (3) 

صدقہ دینے میں ایک بہت ہی اہم نکتہ یہ ہے اس کو خفیہ طور پر دیا جائے۔ 

صدقہ دینے کی کیفیت:

خداوند متعال نے صدقے کی دو قسمیں بیان کی ہیں: 

1۔ آشکار اور اعلانیہ صدقہ

2۔ خفیہ اور رازداری سے دیا گیا صدقہ

اللہ نے ان دونوں قسموں کی تعریف فرمائی ہے کیونکہ ان دنوں قسموں کے صدقے کے اچھے اور اہم نتائج اور اثرات ہیں۔

اول الذکر صدقے کی تعریف ہوئی ہے اس لئے کہ جب آپ اعلانیہ صدقہ دیتے ہیں تو یہ درحقیقت لوگوں کو نیک کاموں کی عملی دعوت ہے اور اس سے بہت سے لوگوں کو ترغیب دلائی جاتی ہے کہ وہ بھی صدقہ دیں اور دوسری طرف سے اس سے محتاجوں اور مسکینوں کو دلاسہ ملتا ہے۔

محتاجوں کو دلاسہ ملتا ہے، وہ کیسے؟ وہ یوں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں مہربان اور نیکوکار لوگ موجود ہیں جو ان کو تنہا نہیں چھوڑتے اور انہيں گرتے ہوا نہیں دیکھ سکتے اور معاشرے میں ان کے لئے اپنے کچھ اموال مختص کردیتے ہیں تا کہ ان کی ضروریات پوری ہوں اور یہ وہ مہربان لوگ ہیں جو محتاجوں کی مدد کرکے اپنی آخرت کے لئے ذخیرہ بنانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ 

یہ عمل [اعلانیہ صدقہ دینا] اس لحاظ سے بھی بہت اہم ہے کہ محتاج اور مسکین افراد کی ناامیدی امید میں بدل جاتی ہے، اور اپنے گھر میں اور معاشرتی کردار ادا کرنے کے سلسلے میں، نشاط و طراوت کی نعمت سے بہرہ ور ہوجاتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ اگر سرمایہ دار لین دین اور تجارت کرتا ہے، تو صرف اپنے مفاد ہی کے لئے نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے اموال میں محرومین اور سائلوں کے لئے معلوم اور متعین حق قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ اس عمل کے بہت سے معاشرتی اور نہایت اہم اثرات ہیں۔ (4)

سورہ معارج کی چند آیات کا اردو ترجمہ ملاحظہ ہو:

إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعاً (19) إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعاً  (20) وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعاً (21) إِلَّا الْمُصَلِّينَ (22) الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ (23) وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ (24) لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (25) وَالَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ (26) وَالَّذِينَ هُم مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ (27) 

ترجمہ: یقینا انسان بہت چھوٹے دل والا پیدا ہوا ہے ٭ جب اس پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ بے قرار ہو جاتا ہے  ٭ اور جب کچھ بھی دولت ہاتھ آتی ہے تو بخل سے کام لیتا ہے  ٭ سوا ان نماز گزاروں کے  ٭ جو ہمیشہ نماز کے پابند رہتے ہیں  ٭ اور جن کے مال میں ایک مقرر حق ہے  ٭ سوال کرنے والے اور نہ سوال کرنے والے محتاج کے لئے  ٭ اور جو جزاء وسزا کے دن کو سچ مانتے ہیں  ٭  اور جو اپنے پروردگار کی طرف سے سزا سے ڈرتے رہتے ہیں۔   

اب دیکھتے ہیں کہ مؤخر الذکر والے [غیر اعلانیہ اور خفیہ] صدقے کے اثرات کیا ہیں:

خفیہ طور پر دیئے جانے والے صدقے کے اثرات یہ ہیں کہ: 

یہ صدقہ ریا اور دکھاوے سے دور ہے

محتاج و مسکین کی آبرو محفوظ رہتی ہے اور 

محتاج اور مسکین شخص ذلت و خفت محسوس نہيں کرتا؛ 

چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ اعلانیہ صدقے کے اثرات اور فوائد کچھ زیادہ ہی ہیں لیکن خفیہ صدقہ دینا زیادہ خالص اور پاک انداز سے انجام پاتا ہے اور اس کی فضیلت زیادہ ہے۔ 

چونکہ دین اسلام اخلاص پر بہت زیادہ تاکید کرتا ہے لہذا کوئی عمل جس قدر کہ خالص تر ہوگا اس کی فضیلت اسی قدر زیادہ ہوگی چنانچہ اگرچہ اللہ تعالی نے دونوں قسموں کے صدقے کو ممدوح جانا ہے لیکن وہ خفیہ صدقے کو ترجیح دیتا ہے اور سورہ بقرہ کی آیت 271 میں فرماتا ہے: 

"إِن تُبْدُواْ الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاء فَهُوَ خَيْرٌ لُّكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ"۔ 

ترجمہ: اگر تم ظاہر کرو خیرات کو تو یہ بھی اچھا ہے، اور اگر اسے پوشیدہ رکھو اور محتاجوں کو دے دو تو وہ بہتر ہے تمہارے لیے اور تمہارے کچھ گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا اوراللہ تمہارے اعمال سے با خبر ہے ہی۔ 

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:  

"جو کچھ  اللہ نے تم پر واجب کیا ہے اس کی اعلانیہ بجا آوری بہتر ہے اس کی خفیہ بجا آوری سے اور جو کچھ اللہ نے مستحب قرار دیا ہے اس کی خفیہ بجاآوری بہتر ہے اس کی اعلانیہ بجا آوری سے"۔ (5) 

البتہ صدقہ دینے والا صدقہ دینے میں اعتدال کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے یعنی ایسا نہ ہو کہ صدقے میں کنجوسی برتے اور ایسا بھی نہ ہو کہ اس طرح سے صدقہ دے کہ خود دشواریوں سے دوچار ہوجائے۔ 

خداوند متعال کا ارشاد ہے:

"وَلاَ تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ وَلاَ تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوماً مَّحْسُوراً"؛ (6)

ترجمہ: اور اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ اسے بالکل پھیلا ہی دو، کہ اس صورت میں لعنت ملامت میں گرفتار، رنج و غم، پریشانی میں مبتلا بیٹھو گے۔  

ج۔ صدقہ کس چیز سے دیں؟ 

کچھ تاریخی روایات میں ہے کہ بعض افراد چوری کرکے اس میں سے صدقہ دیا کرتے تھے لیکن قرآن و حدیث نے صدقہ دینے کے لئے ضوابط کا تعین کیا ہے۔

خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: 

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَنفِقُواْ مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ"؛ (سورہ بقرہ، آیت 267)

ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی کمائی کی اچھی، پاک و حلال چیزوں سے خیرات کرو۔ 

یعنی یہ کہ پاک اور حلال اموال میں سے ـ تمہاری اس کمائی میں سے جو تم حاصل کرتے ہو ـ صدقہ دے سکتے ہو؛

علاوہ ازیں تمہاری کوشش یہ ہونا چاہئے کہ پست اور ناچیز اموال میں سے صدقہ نہ دیا جائے؛ کیونکہ صدقہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے دیا جاتا ہے؛ صدقے میں ایک کردار صدقہ دینے والے کا ہے اور ایک طرف خدا کی ذات ہے اور دوسری طرف سے بےنوا اور محتاج افراد ہیں اور اگر مؤمنین ان مسائل کا لحاظ نہ رکھیں تو [معاذ اللہ] خدا کی بھی توہین ہوگی اور محتاجوں اور مساکین کی بھی تذلیل لازم آئے گی۔ (7) 

اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: 

"لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ"؛ (سورہ آل عمران، آیت 92)

د۔ صدقه کس کو دیں؟

عمرو بن جموح ایک مالدار بزرگ تھے۔ ایک دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت میں عرض گزار ہوئے:

میں کس چیز میں سے صدقہ دوں اور کن لوگوں کو دوں؟

آیت کریمہ نازل ہوئی: 

"يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ"؛ (8)

ترجمہ: لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خیرات کریں [اور صدقہ دیں]؟ کہہ دیجئے کہ جو مال بھی تم صرف کرنا چاہو ، وہ ->"ماں، باپ، عزیزوں"<-، یتیموں اور غریبوں اور مسافروں کا حق ہے، اور جو بھی نیک کام کرو اللہ اس سے با خبر ہے۔ [یعنی صدقے میں سب سے پہلا اور ترجیحی حق والدین کا ہے اور پھر دوسرے رشتہ داروں کا اور پھر دوسروں کا]

 امر مُسَلَّم یہ ہے کہ یہاں جو کچھ بیان ہوا یہ واضح مصادیق ہیں لیکن موضوع ان ہی مصادیق تک محدود نہیں بلکہ حقیقت میں انسان ہر اس چیز سے صدقہ اور خیرات دے سکتا ہے جن سے صدقہ اور خیرات دینا ممکن ہے اور جن کو صدقہ دیا جاسکتا ہے ان کا دائرہ بھی بہت وسیع ہے۔ ہم نے یہاں اختصار کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔

کچھ آیات کریمہ سورہ بقرہ سے:

... وَمَا تُنفِقُواْ مِنْ خَيْرٍ فَلأنفُسِكُمْ وَمَا تُنفِقُونَ إِلاَّ ابْتِغَاء وَجْهِ اللّهِ وَمَا تُنفِقُواْ مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لاَ تُظْلَمُونَ (272) لِلْفُقَرَاء الَّذِينَ أُحصِرُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ لاَ يَسْتَطِيعُونَ ضَرْباً فِي الأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاء مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافاً وَمَا تُنفِقُواْ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ (273) الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرّاً وَعَلاَنِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ (274) (سورہ بقرہ)

ترجمہ: آپ پر انہیں ٹھیک راستے پرلگا دینے کی ذمہ داری نہیں ہے۔ وہ تواللہ جسے چاہتا ہے ٹھیک راستے پر لگاتا ہے اور جو تم لوگ مال و دولت خیرات میں دو گے وہ اپنے ہی لیے اور نہیں خیرات کرو گے مگر اللہ کی خوشنودی کے لیے اور جو مال و دولت خیرات میں دو گے وہ پورا پورا تمہیں ادا کر دیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا (٭) ان تنگ دست افراد کا حق ہے جو اللہ کی راہ میں بے چارہ و تدبیر ہو گئے ہیں اس طرح کہ روئے زمین پر سفر نہیں کر سکتے نا واقف انہیں رکھ رکھاؤ کی وجہ سے مال دار سمجھے گا، تم انہیں ان کے قیافہ سے پہچان سکتے ہو، وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے اور جو کچھ مال ودولت تم پر خرچ کرو تو بلاشبہ اللہ اس کا جاننے والا ہے (٭) وہ جو اپنے اموال رات اور دن میں، خفیہ اور اعلانیہ خیرات میں دیتے ہیں، ان کے لیے ان کا اجر ہے ان کے پروردگار کے یہاں اور انہیں کوئی کھٹکا نہیں ہو گا اور نہ افسوس ہو گا۔ 

لہذا، اگرچہ انفاق اور صدقہ و خیرات کا دائرہ بہت وسیع ہے لیکن اسلام نے اس کے لئے کچھ ترجیحات بھی بیان کی ہیں:

بےشک والدین اگر محتاج ہیں تو پہلی ترجیح والدین ہی ہیں

اس کے بعد رشتہ دار اور اقارب و اعزاء کی باری آتی ہے 

بعدازاں یتیموں کی باری ہے اور پھر 

وہ لوگ جو درحقیقت محتاج نہیں ہیں لیکن کسی حادثے کی وجہ سے، سفر خرچ ختم ہونے کی بنا پر، یا گھریلو اخراجات بڑھنے اور رقم ختم ہونے اور مقروض ہونے کی وجہ سے محتاج ہوجاتے ہیں۔ (9) 

اب اس سوال کا جواب ـ کہ کم از کم صدقہ کس قدر ہونا چاہئے ـ یہ ہے کہ آپ کی قوت جس قدر ہو، اتنا ہی صدقہ دے دیا کریں، حتی کہ بعض روایات میں پانی کا ایک گھونٹ ہی بطور صدقہ بیان ہوا ہے۔ (10) 

 نتیجہ:

آیات و روایات کے مطابق، صدقہ دینا ایک نہایت اہم کام ہے، لیکن صدقہ دینے والا صرف رضائے الہی کو ہی مد نظر رکھے اور احتیاط رہے کہ کہیں محتاج فرد پر احسان جتانے یا اسے اذیت پہنچانے یا ریاکاری اور دکھاوے کے ذریعے اپنا اجر ضائع نہ کرے۔ جتنا ممکن ہو صدقہ و خیرات دے، اور صدقات میں والدین اور اقرباء کو ترجیح دے۔ 

۔۔۔۔۔۔

1۔ سوره توبہ، آیت 60۔

2۔ شیخ حر عاملی، وسائل الشیعة، ج 6، ص 257، موسسة آل البیت، قم، 1409ق۔

3۔ طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان، ترجمه، موسوی همدانی، ج 2، ص 601، جامعه مدرسین، قم، 1374۔

4۔ همان، ج 2، ص 610۔ 

5۔ کلینی، فروع کافی، ج 1، ص 7، دارالکتب الاسلامیة، تهران، 1365۔

6۔ سورہ بنی اسرائیل [اسراء]، آیت 29۔ 

7۔ داور پناه، ابوالفضل، انوار العرفان فی تفسیر القرآن، ج 4، ص 500،انتشارات صدر، تهران، 1375۔

8۔ سورہ بقرہ، آیت 215۔

9۔ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج2، ص104۔

10۔ طیب، سید عبد الحسین، تفسیر اطیب البیان، ج 1، ص 230،انتشارات اسلام، تهران، 1378۔

عرب ـ اسلام ـ امریکہ اتحاد یا "امریکی اسلام"

ایک روشن بین با بصیرت بزرگ، ایک مجتہد، حوزہ علمیہ کے ایک استاد اور اسلامی انقلاب کے رہبر معظم اور اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہ) نے 40 سال محمدی اسلام اور امریکی اسلام کا نظریہ پیش کیا تو چالیس سال تک کروڑوں خرچ کرکے اس نظریئے کو جھٹلانے کی کوشش کی گئی لیکن یا للعجب، کہ امریکہ کی قیادت میں عرب اور مسلمان حکمران اکٹھے ہوئے، 250 ارب ڈالر کی لاگت کی ایک کانفرنس ہوئی، 150 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کے سودے ہوئے، 500 ارب ڈالر کے معاہدے ہوئے، ڈیڑھ ارب ڈالر کے تحائف دیئے گئے، کیا یہ صرف اس لئے تھا کہ ثابت ہوجائے کہ امام کا نظریہ 100 فیصد درست تھا! 

امریکی اسلام کا باقاعدہ اعلان ہوا۔

امریکی اسلام یعنی پاکستانی اسلام، بنگلہ دیشی اسلامی، سعودی اسلام، عربی اسلام وغیرہ وغیرہ، امریکی اسلام کے لئے اٹھائے گئے اخراجات میں پاکستان کا حصہ بھی بہت بڑا تھا، اس ملک نے وہاں پیسے خرچ نہیں کئے بلکہ ایک جرنیل خرچ کیا، ایک آرمی چیف، جوہری ہتھیاروں کے مالک واحد اسلامی ملک کی افواج کا سابق سپہ سالار۔

سعودیوں نے اپنے راحیل شریف کو ایک نوکر کی اوقات خوب یاد دلا دی اور انہیں کفر و شرک و استکبار کے سرغنۂ اعظم جناب ڈونلڈ ٹرمپ ـ جس کی بہت سی نشانیاں دجال سے ملتی جلتی ہیں ـ  کے شیطانی دورے کے لئے ایک ذیلی افسر کے طور پر حفاظتی منصوبہ تیار کرنے کا ٹاسک دیا اور جناب نے تندہی سے منصوبہ تیار کیا جس کو ایک سعودی جرنیل نے ان کے ہاتھ سے چھین کر امریکی سفارتخانے پہنچایا اور پھر واپس آکر منصوبہ ان کی میز پر پھینکتے ہوئے کہا: آپ کا منصوبہ منظور نہیں ہوا، اور پھر بڑے احترام سے ایک منصوبہ ان کے سامنے رکھتے ہوئے کہا: یہ منصوبہ امریکی سی آئی نے خود تیار کیا ہے اس پر عمل درآمد کرو!!!

ویسے تو یہ راحیل صاحب کی طرف سے نوکری چھوڑ کر پاکستان واپس جانے کا بہترین موقع تھا لیکن انھوں نے پھر بھی ایک مطیع سپاہی اور ایک فرمانبردار نوکر کی طرح اپنا فریضہ تن من دہن سے سرانجام دیا لیکن اب کیا وہ آرہے ہیں پاکستان!!! انہیں آنا تو چاہئے لیکن اتنے بڑے ریالات سے دست کشی شاید آسان نہیں ہے اور پھر جو کچھ نہیں کرنا چاہئے تھا وہ تو کربیٹھے ہیں اگر غیرت جاگی تھی بھی اب تو دوبارہ سوئی ہوئی ہوگی مزید ریالات اور دورے کے بعد کے انعام و اکرام کی گولی لے کر!

بہر صورت امریکی اسلام ابھر کر سامنے آیا ہے اور دفاع حرمین شریفین کے پاس بھی اب مزید کوئی جواز نہیں ہوگا سعودی پرستی کے لئے لیکن دکان بند کرنا بھی تو ایک مسئلہ ہے، ورنہ کس کو معلوم نہ تھا کہ سعودیوں نے گذشتہ سات سالوں کے دوران یہود و نصاری کے ساتھ اپنے تمام خفیہ روابط کو برملا کردیا تھا لیکن اس کے باوجود  سرکار پاکستان بھی اور آل سعود کی خوشنودی کو اللہ کی خوشنودی پر مقدم رکھنے والی تکفیری تنظیمیں بھی، آل سعود کی مفت کی نمائندگی کرتے ہوئے حقائق کی پردہ پوشی کا فریضہ بطور احسن نبھاتی رہیں۔ 

گو کہ اس وقت مذکورہ سعودی پرستوں کے پاس سعودی نوازی کا کوئی جواز نہیں رہا اور ریاض میں بیٹھ کر کفر کے سرغنے نے یہودی ـ نصرانی ـ وہابی اتحاد کا باقاعدہ اعلان کیا اور اس کا نام عرب ـ اسلامی ـ امریکی اتحاد رکھا یعنی امریکی اسلام بالکل الگ تھلگ ہوکر ـ بغیر کسی اشتباہی مسئلے کے ـ علی الاعلان محمدی اسلام کے مد مقابل آکھڑا ہوا اور تمام عرب و مسلمان ممالک کے بادشاہ و صدور و سربراہان نے اس اتحاد کی حمایت کا اعلان کیا اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا لیکن اس کا ایک بہت اہم پہلو اور بھی ہے جو تکفیر کے دکانداروں کے لئے مزید الجھن کا سبب ہے۔ 

امریکی اسلام کی ترجمانی کرتے ہوئے سعودی بادشاہ اور اس کے بونے وزیروں نے ایک قوت کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان بھی کیا اور ہم سب کو یقین ہے کہ کفر و نفاق و یہودیت و نصرانیت اور وہابیت کا یہ منحوس اتحاد اپنے ہم مسلکوں کے خلاف ہرگز اعلان جنگ نہیں کرسکتا۔ 

یہودی ـ نصرانی لابی نے 9/11 کے واقعے میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کے باقاعدہ اعلان کردیا تھا اور ہزاروں ارب ڈالر کا تاوان وصول کرنے کی باتیں ہورہی تھیں لیکن عظیم تر مقصد یعنی محمدی اسلام کو نقصان پہنچانا کئی ہزار ڈالر سے کہیں زیادہ اہم تھا۔

اتحاد کے قیام کا مقصد ہی اس عظیم قوت کا مقابلہ کرنا تھا چنانچہ امریکی اسلام نے رازداری کو ہرگز ضروری نہیں سمجھا اور ولایت فقیہ کے نظام کے تحت چلنے والے ملک "اسلامی جمہوریہ ایران" کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان کیا اور مسلمان ممالک کے سربراہان نے ـ جو سعودیوں کی کانفرنس ایک طرف سے امریکی موجودگی میں جذبات سے مغلوب ہوکر اور دوسری طرف سے سعودیوں کے ندی کی طرح بہائے جانے والے ریالات سے محظوظ ہوکر ـ خوشی خوشی امریکی اسلام کی سیاہ ترین تاریخی سند پر دستخط کردیئے، گوکہ ہمارے ملک کا سعودی نواز وزیر اعظم نواز شریف بھی وہاں موجود تھے اور اطلاعات کے مطابق انہیں کافی خفت اٹھانی پڑی بالکل راحیل خاں کی طرح، اور انہیں کسی نے بادشاہ کے قریب ہی نہیں آنے دیا ـ گوکہ ممکن ہے کہ ان کو خصوصی ملاقات میں الزایمر کے مارے بادشاہ کی پابوسی کا شرف عطا کیا گیا ہو ـ اور جناب نواز شریف نے بھی ـ سعودیوں کی بھارت نوازی کو یکسر فراموش کرکے ایران دشمنی کی اس سند کو اپنے لئے فخر کی دستاویز قرار دیا۔ 

ایک بہت اہم سوال:

کیا اس سے پہلے یہ سارے ممالک امریکہ کی خوشنودی کے حصول کے لئے دنیا بھر میں ایران کے خلاف برسرپیکار نہ تھے؟

کیا انھوں نے اس جنگ میں شکست کھائی؟ اگر ہاں تو کیوں؟ 

یا بالفاظ دیگر یہ سارے عرب ممالک امریکہ اور اسرائیل اور یورپ کی مدد سے ایران کے خلاف چالیس سالہ طویل جنگ میں اسے شکست کیوں نہیں دے سکے؟ اور اب انہیں ایران کے خلاف اتنا بڑا اتحاد بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا ایران سے عرب اور اسلامی ممالک کو کوئی خطرہ ہے؟ 

اگر عرب اور اسلامی ممالک کو ایران سے خطرہ ہے بھی تو امریکہ، اسرائیل اور یورپ ان کی مدد کے لئے کیوں ہردم تیار نظر آتے ہیں اور اپنی سرکردگی میں ایران کے خلاف اتحاد کے قیام کی ضرورت کیوں محسوس کرتے ہیں؟ 

ایک طرف سے عرب اور اسلامی ممالک اور دوسری طرف سے امریکہ اور یورپ کے درمیان کون سے ایسے مشترکہ مفادات ہیں جن کی بنا پر یہ سب مل کر ایران کے خلاف اتحاد کے قیام پر متفق ہوئے ہیں؟ 

یقینا کوئی بھی یہ ثابت نہيں کرسکتا کہ ایران کسی اسلامی یا عرب ملک کے لئے خطرہ ہے، جبکہ امریکہ ـ یورپ ـ اسرائیل یا یوں کہئے کہ یہودیت و نصرانیت ایران کو اپنا دشمن سمجھتی ہے اور ایران بھی ان کے اس تصور کو کبھی جھٹلاتا نہیں ہے، تو پھر عرب ـ اسلامی ـ امریکی اتحاد یا ادارہ بنام "امریکی اسلام" میں عربوں اور مسلمانوں کی شمولیت کا فائدہ کس کو پہنچے گا؟ کیا یہ اتحاد خالصتا یہود و نصاری کے مفاد کے لئے نہیں بنا؟ کیا ٹرمپ نے 150 ارب ڈالر کے ہتھیار بیچ کر اور 500 ڈالر کے تعاون کے معاہدوں پر دستخط کرکے اور سعودی بادشاہ سے ڈیڑھ ارب ڈالر کے تحائف لے کر، کس ملک کے خزآنے کو سنبھالا دیا؟ 

کچھ سوالات ہتھیاروں کے بارے میں

کیا آج تک دوسرے ممالک سے خریدے گئے ہتھیاروں کے سہارے کوئی ملک بڑی طاقت بن سکا ہے؟ کیا آل سعود کے عیش پرست حکمران کھربوں ڈالر کا اسلحہ خرید کر ایران کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں؟ جبکہ ایران تو کیا جہاں تک ہم نے دیکھا یمن کے پابرہنہ انقلابی نوجوانوں نے بھی آل سعود کے نئے سودوں سے خوف محسوس نہیں کیا ہے اور پھر ایران کی طرف سے بھی آل سعود کے ہاتھوں امریکی ہتھیاروں کی خریداری پر کوئی سنجیدہ تنقید یا تشویش، مجھ جیسوں کو دیکھنے کو نہیں ملی۔ بایں وجود یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا امریکی معیشت کی نجات کے لئے عالم اسلام کو بازیچۂ اطفال بنانا اسلامی تعلیمات کا نتیجہ ہے؟ کیا سعودی تعلیمات اسلامی ہیں؟ کیا سعودی عرب کے قیام کا مقصد اسلام اور حرمین کی خدمت کرنا اور کرانا تھا جبکہ برطانوی وزارت خارجہ [سابقہ وزارت نوآبادیات] نے اسرائیل اور سعودی عرب کو ایک ہی زمانے میں قائم کیا تھا؟

۔۔۔۔۔ 

دیکھتے ہیں کہ رہبر انقلاب امام سید علی خامنہ ای عرب ـ اسلامی ـ امریکی اتحاد یا ادارہ بنام "امریکی اسلام" کے بارے میں کیا فرماتے ہیں: 

اُنس با قرآن" رہبر کا سالانہ پروگرام ہے جو ہر سال ماہ مبارک رمضان کے آغاز سے آخر تک تہران کی حسینیہ امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہ) میں منعقد ہوتا ہے اور ملک کے بھر کے حفاظ اور قراء قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔

آج ماہ مبارک رمضان سنہ 1338 ہجری کا پہلا دن تھا اور انس با قرآن کی محفل کی پہلی نشست منعقد ہوئی جس سے رہبر انقلاب نے مختصر سا خطاب کیا اور فرمایا: 

انھوں نے ٹرمپ کی قیادت میں نام نہاد عرب ـ اسلامی ـ امریکی کانفرنس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

٭ آج کچھ نالائق افراد کچھ اسلامی معاشروں کے مقدرات پر قابض ہوئے ہیں، سعودی حکومت کی مانند، جو بظاہر قرآن کے معتقد ہیں لیکن قرآن کے مندرجات و تعلیمات پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ "اشدّاء مع المؤمنین اور رحماء علی الکفار" ہیں [مؤمنین کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں اور کفار کے ساتھ بڑے ترس والے اور رحم والے ہیں]؛ وہ کفار کے ہم نشین اور ان کے ساتھ مانوس ہیں اور سمجھتے ہیں کہ گویا بڑی رقوم دے کر اسلام کے دشمنوں کے خلوص اور محبت حاصل کی جاسکتی ہے۔ حالانکہ وہ شیردہ [دودھ دینے والی] گائے کی مانند اس کا دودھ دوہتے ہیں  اور جب اس گائے کے تھنوں میں دودھ نہ ہو تو اس کو ذبح کرتے ہیں۔ 

٭ قرآن کے ساتھ انسیت بنی نوع انسان کو درپیش بےشمار سوالات کا صحیح جواب پانے کا وسیلہ ہے، اور جو معاشرہ اعلی اہداف کی طرف سفر کرتا ہے اس کو روابط، طرز سلوک، موقف کے انتخاب، دوستیوں اور دشمنیوں اور دنیاوی معاملات کے سلسلے میں ہزاروں سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور قرآن ان تمام سوالات کا جواب دیتا ہے۔ 

٭ آج کی دنیا اور بنی نوع انسان کی بدبختیوں اور گمراہیوں کا سبب یہ ہے کہ ان سوالات کا انحرافی اور غلط جواب دیا جاتا ہے۔ خداوند متعال نے انسان کو آپس کے رابطے، محبت اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لئے خلق فرمایا ہے لیکن آج بدقسمتی سے دنیا کے ہر گوشے میں جنگ، بدامنی، خوف و ہراس اور گمراہی کا دور دورہ ہے۔

٭ انسان کی نجات قرآنی ہدایت و راہنمائی کے مرہون منت ہے، لیکن آج اسلامی معاشرے دوسرے معاشروں کی مانند مشکلات سے دوچار ہیں اور نالائق افراد نے سعودی حکومت سمیت بعض حکومتوں میں اسلامی معاشرے کے مقدرات پر قبضہ کرلیا ہے۔ 

٭ یہ صورت حال ایمان اور قرآنی حقائق سے دوری کا نتیجہ ہے، یہ لوگ بظاہر تو قرآن پر یقین اعتقاد رکھنے والے ہیں، اور حتی ہر سال قرآن کریم کے لاکھوں نسخے بھی شائع کرتے ہیں لیکن عمل میں وہ قرآن کے احکام و تعلیمات کر برعکس، کفار کے ساتھ زیادہ انسیت رھکتے ہیں اور وہ دولت جو انہیں اپنے عوام کے لئے خرچ کرنا چاہئے تھی، کفار اور عوام کے دشمنوں کے سپرد کررہے ہیں۔ 

٭ بعض رجعت پسند ممالک کے حکام کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ رقوم اور اموال دے کر دشمنان اسلام کی محبت جیتی جاسکتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح کہ امریکیوں نے خود بھی کہا وہ ان کا دودھ دوہتے ہیں اور جب ان کے تھنوں میں دودھ ناپید ہوگا تو انہیں ذبح کرتے ہیں۔ 

٭ انھوں نے یمن اور بحرین میں ہونے والے دین دشمنی پر مبنی اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: قرآن کا وعدہ ہے کہ باطل نیست و نابود ہوگا، اور جو لوگ مسلمانوں کے خلاف اس قسم کے اقدامات کرتے ہیں وہ باطل ہیں اور باطل قطعی طور پر زوال اور سقوط کا شکار ہوگا البتہ ان کی نابودی کا وقت مؤمنین کے عمل پر منتحصر ہے اور اگر مؤمنین کی جماعت صحیح عمل کرے تو باطل کی نابودی جلد از جلد عمل میں آئے گی۔ 

٭ مستقبل اسلام اور قرآن اور مؤمن نوجوانوں کے لئے ہے، خداوند متعال نے وعدہ دیا ہے کہ مستقبل مؤمنین اور اس کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لئے ہے، تاہم اگر اللہ کا یہ وعدہ نہ بھی ہوتا تب بھی ملت ایران کے چالیس سالہ تجربات کی روشنی میں یہ پیشنگوئی صحیح اور منطقی و معقول ہوتی۔ 

٭ ایران میں پہلوی حکمران امریکیوں کے ساتھ بہت قریبی تعلقات میں جڑے ہوئے تھے اور ہمارے ملک میں ایک حکومت قائم تھی جس کو امریکی علی الاعلان خلیج فارس کا پولیس مین کا عنوان دیتے تھے لیکن ان تمام بین الاقوامی حمایتوں کے باوجود ملت ایران نے ایمان کی قوت اور جہاد و جانفشانی سے پہلوی حکومت کو سرنگون کیا اور اس کی جگہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بنیاد رکھی جو آج استکباری طاقتوں کو ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی۔ 

٭ رہبر انقلاب نے مسلط کردہ جنگ میں ملت ایران کے تجربے اور کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملت ایران خالی ہاتھوں اس جنگ میں کامیاب ہوئی، جبکہ ابھی سیاسی اور بین الاقوامی مسائل میں نو وارد تھی لیکن دشمنوں کی سازش پر غالب آئی، ملت ایران چالیس سال کے عرصے سے ایک طاقتور مادی قوت کے مد مقابل کھڑی ہے جس نے اس کے خلاف تلوار کھینچ لی ہے، اور ہمارے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ قوت کے ساتھ ‏عزت مندانہ اور کامیاب پیشرفت کا راستہ قرآن کے ساتھ تعلق کا راستہ ہے۔

٭ ملت ایران کا یہ قابل قدر اور قیمتی تجربہ محاذِ حق کی کامیابی کی اہم نشانی ہے کیونکہ قرآن کریم میں خداوند متعال نے فرمایا ہے کہ "وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ"؛ [ترجمہ: اور کمزوری نہ دکھاؤ اور رنجیدہ نہ ہو اور تم برتر ہو اگر تم صاحب ایمان ہو؛ سورہ آل عمران، آیت 139] چنانچہ آپ ایمان کی راہ میں قوی، دوٹوک اور ثابت قدم رہیں، میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ ملت کے تمام افراد بھی اور حکام بھی، دین کے اصولوں کو دو ٹوک انداز سے بیان کریں، دو ٹوک بیان ضروری ہے۔۔۔ میرا بھی یہی خیال ہے کہ ایک حکومت کو عالمی روابط رکھنا چاہئیں، لیکن یہ ضرورت اصولوں کے دوٹوک بیان سے متصادم نہیں ہے، یقینا عالمی سطح پر تعلقات بھی رکھے جاسکتے ہیں، اور اصولوں کو بھی بیان کیا جاسکتا ہے، ترقی بھی کی جاسکتی ہے اور کامیابی بھی حاصل کی جاسکتی ہے؛ میدان عمل میں اترنا چاہئے اور اللہ پر توکل کرنا چاہئے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

قطر کے حکمرانوں نے آل سعود کی صف میں کھڑے ہوکر برسوں تک شام و عراق کے نہتے عوام کے خون کے ساتھ ہولی کھیلی لیکن اخوان المسلمین کے ساتھ اس کا تعلق، اس کے لئے بلائے جان بنا ہوا ہے جبکہ امریکی اسلام کے عنوان سے قائل نئے اتحاد نے اس کو اخوان اور حماس کے ساتھ تعلق کے خاتمے کا پابند بنایا ہے لیکن قطر کے حکام ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور انھوں نے اتحاد کے خلاف کچھ متنازعہ سا موقف اپنایا ہے جبکہ ایران کے صدر حسن روحانی سے بھی قطر کے امیر نے ٹیلی فونک گفتگو کی ہے، ترکی کے اخوانی صدر اردوگان نے کچھ عرصہ قبل قطر میں ایک فوجی اڈا قائم کیا ہے جبکہ العدیدہ کا فوجی اڈا امریکیوں کے ہاتھ میں ہے اور امریکی صدر امریکی اسلامی کا جھوٹا پیغمبر ہے اور اس کے دو بلا ارادہ حلیف یعنی آل سعود اور آل نہیان اس کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ گویا امریکی اسلام کا پہلا نشانہ ان کا کل حلیف "قطر" ہے جس کے ساتھ جنگ کے بادل رمضان المبارک میں دکھائی دینے لگے ہیں اور اب قطریوں کو بھی فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایران، شام اور عراق کے محاذ میں جاکر کھڑا ہونا چاہتا ہے، یا سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کی طرح 200 ارب ڈالر کا چیک لے کر ٹرمپ کی دلجوئی کے لئے واشنگٹن یاترا کو ترجیح دیتے ہیں، یا پھر ترکی کے ساتھ مل کر اپنے بچاؤ کا کوئی راستہ نکال دیتے ہیں لیکن لگتا ہے کہ ان کے پاس بہت زیادہ آپشنز نہیں ہیں۔

بہرحال امریکی اسلام سعودی نوازوں کو مبارک ہو، اور محمدی اسلام کا واضح طور پر ابھر کر سامنے آنا، مسلمانوں کو مبارک ہو۔

ایک اہم بات: 

اس وقت جبکہ امریکی اسلام کے قیام پر سعودی دارالحکومت ریاض میں جشن کا سماں ہے، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے سعودی عرب کی کئی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کے بارے میں 2013 کے شائع شدہ کچھ نقشے چند روز قبل شائع کئے کہیں جو رہبر معظم کے اس قول کی غمازی کرتے ہیں کہ "یہ شیردہ گائے جب دودھ دینے کے قابل نہ رہے گی تو اس کو ذبح کیا جائے گا"۔ 

اللہ تعالی کی ذات بابرکت قابل شناخت نہیں۔ اس کی پاکیزہ  اسماء و صفات ہی اس ذات کی حکایت کرتی ہیں۔ صفات اور افعال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول ہوتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت، تعظیم اور توحید کے اقرار کا باعث ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ’الوہاب‘ اور اس کی ایک صفت ’الکرم‘ ہے۔ اسی صفت کے ساتھ اللہ تعالیٰ لوگوں کو نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو ایسی نعمتوں سےسرفراز کرتاہے جسے وہ مانگتے ہیں۔ بسا اوقات  اسے بن مانگے نعمتیں بھی عطا کی جاتی ہیں۔ ارشاد رب العزت ہے: وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوه ٗ ٗ۔ ترجمہ : اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں نے تم کو عنایت کیا۔ (1) 

????مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ سوال آسکتا ہے کہ مسلمان مشکلات میں جبکہ کافر کیوں آسائش میں ہوتے ہیں؟ 

جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ:   

  وَلَوْ اٴَنَّ اٴَہْلَ الْقُرَی آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکَاتٍ مِنْ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ۔۔(2)

ترجمہ :اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کر لےتے تو ہم ان کے لئے زمین و آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔" 

عام طور پر لوگوں میں یہ تصور بھی پایا جاتا ہے کہ جس قوم و ملت کے پاس ترقی یافتہ ٹیکنیک ہے یا بہت زیادہ مال و دولت ہے وہی خوش بخت ہے، حقیقت میں ایسا نہیں۔ اگر ان اقوام کو نزدیک   سے دیکھیں تو ان کے یہاں نفسیاتی اور جسمانی بے پناہ درد اور مشکلات پائی جا تی ہیں۔پھر ہمیں یہ باور ہوجائے گا کہ ان میں سے متعدد لوگ دنیا کے سب سے ناچار افراد ہیں، قطع نظر اس بات سے کہ یہی نسبی ترقی ان کی سعی و کوشش، نظم و نسق اور ذمہ داری کے احساس جیسے اصول پر عمل کا نتیجہ ہے، جو انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات میں بیان ہوئےہیں۔  

دنیا میں ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے بارے میں تاثر ہے کہ وہاں کے عوام معاشی بدحالی کی بدولت دباؤ کا شکار ہوں گے اور و ہ پریشانی کے باعث دنیا سے جلد نجات پانے کا آرزومند ہوں گے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک کے بارے میں عموماً یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہاں پر معاشی خوشحالی کی بدولت خوشیوں کا راج ہو گا، ہر فرد خوش و خرم زندگی بسر کر رہا ہو گا۔جبکہ  امریکہ میں حالات اس کے برعکس ہیں۔ امریکہ جو دنیا کی واحد سپر پاور ہے اسے عموماً ہر حوالے سے رول ماڈل تصور کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ میڈیا کے پروپیگنڈے کے باعث ممکن ہوا ہے۔ نیویارک، واشنگٹن، کیلی فورنیا وغیرہ امریکی ریاستوں کی میڈیا ایسی تصویر کشی کرتی ہے جس سے تصور ابھر کر سامنے آتا ہے کہ امریکی عوام ”سپر نیشن“ ہیں۔ جبکہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے بارے میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ معاشی بدحالی کی وجہ سے وہاں کے عوام ہر قسم کے دباؤ کا شکار ہیں اور ان کے لئے یہ دنیا جہنم سے کم نہیں ہے، وہ اس دنیا سے جلد از جلد نجات پانا چاہتے ہیں، مگر اس کا  حیران کن پہلو یہ ہے کہ تمام تر مادی خوشحالی کے باوجود امریکی شہریوں میں خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی واضح دلیل ہے  کہ ان کی مادی ترقی اور خوشحالی کے باوجود ان کے شہری پرمسرت زندگی نہیں گزار رہے ہیں۔ بہت سارے مایوسی کی دنیا میں غرق ہوکر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔  

????????ا مریکہ ایک جدید ترقی یافتہ مُلک ہونے کے باوجود تمام ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے  میں وہاں خودکشی کا رجحان بہت زیادہ پایا جاتاہے۔ خودکشی کا سبب غربت ہوتی تو سب سے زیادہ خودکشیاں غریب ممالک میں ہوتیں۔ ایک مادہ پرست سوسائٹی، جس میں روحانی تسکین کے سامان کا  فراہم نہ ہونا خودکشی کا بنیادی سبب ہے۔ مشکلات سے فرار اور تلخ حقائق سے گریز انسان کو موت کی طرف لے جاتا ہے۔ مادہ پرستی نے انسان کی روحانی خوشی کو چھین لیا ہے۔ مادہ پرست سوسائٹی کے شہری کو جب مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو اسے اس مشکل سے رہائی پانے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔  تسکین کے لیے منشیات کا راستہ اپنا تھا، اس سے بھی معاملہ بن نہیں پاتا کیونکہ  جب نشہ اترتا ہے تو اضطراب اور بے چینی دوبارہ اسے اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ایک تجزیاتی رپورٹ امریکہ کے بارے میں شائع ہوئی ہے، جس کے تحت امریکہ میں روزانہ سابق فوجی موت کو گلے لگارہےہیں(3)   

البتہ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ جن معاشروں میں ایمان اور پرہیز گاری پائی جاتی ہے وہ پسماندہ ہیں ۔ اگر ایمان اور پرہیزگاری سے مراد صرف دعوائے  اسلام اور تعلیمات ا نبیاء  کی پابندی کا نعرہ ہو تو اس بات کو تسلیم کرنا  پڑئے گا  کہ ایسے افراد پسماندہ ہیں۔ اسلام، طہارت، صحیح عمل، امانت، عدل و انصاف، امن و امان، برادری، مساوات، مسلسل کوشش، حصول علم، صنعت میں ترقی، اسرار کائنات میں غور و فکر اور تحقیق کا حکم دیتا ہے۔ علاوہ ازیں رشوت ستانی، کرپشن ، فتنہ و فساد، دہشت گردی، اختلافات ، تعصب ، تنگ نظری سے روکتا بھی ہے۔  ہمارے مسلمان معاشرے میں یہ تمام مذکورہ خوبیاں غائب ہیں۔جبکہ  تمام خرابیاں موجود ہیں جو ترقی کی راہ میں رکادٹ ہیں، پس ہمارا معاشرہ مسلمانوں کا معاشرہ تو ہے لیکن صحیح اسلامی معاشرہ نہیں۔  ادھر کافر ممالک نے اگر ترقی کی ہے تو اس کے پیچھے بھی بہت اچھے اصول پر عمل کارفرما ہیں۔ جن اصولوں کو عملی کرنے کا اسلام نے حکم دیا ہے۔ مثلا علم و حکمت کو عام کرنا ، اسرار کائنات میں غور و خوض  اورتحقیق کرنا ، فکری آزادی پر اعتقاد رکھنا،محنت و مشقت سے کام انجام دینا، صنعت و حرفت کو عام کرنے کے لیے  جدو جہدکرنا، ہر شعبے میں قابل لوگوں کا انتخاب کرنا، ہر اہم کام میں صحیح اسلام تو علم و دانش اور بیداری و ہوشیاری کی دعوت دیتا ہے، لیکن مسلمان ان سے عاری دکھائی دیتے ہیں۔   

????اسلام اتحاد و فدارکاری کی دعوت دیتا ہے،کیا اسلامی معاشروں میں ان اصول پر عمل کیا جارہا ہے؟     

ایسا نہیں تو پھر انہیں پسماندہ ہونا ہی چاہیے ۔  بنابریں ہمیں یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ اسلام ایک الگ حقیقت کا نام ہے جبکہ ہم مسلمان ایک الگ چیز،  

ورنہ اگر اسلام کے اصول و قواعد عملی جامہ پہنایا جائے تو اسلام اس جامع نظام الٰہی کا نام ہے جس کے اصول پر عمل کرتے ہوئے مسلمان خوش حال نظر آئیں گے۔ 

حوالہ جات: 

1  ۔ سورہ   ابراہیم : 34      

2-  سورہ اعراف ، آیت۹۶  

3:روزنامہ پاکستان(  15 اگست 2015)

ٹیکنالوجی اور انسانی مسائل ایک ساتھ ترقی کر رہے ہیں۔ دنیا جہاں پر گلوبل ویلج کی شکل اختیار کرچکی ہے، وہیں پر پورا انسانی معاشرہ باہمی خلفشار اور ابتری کا شکار بھی ہے۔ بھوک، افلاس، بیروز گاری، مہنگائی، کرپشن، دھونس دھاندلی اور مکر و فریب کے سرطان نے ہر ملک اور ہر معاشرے کے قلب و جگر میں اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ وہ ادارے جو بین الاقوامی برادری کو اِن مسائل سے نجات دلانے کیلئے معرض وجود میں آئے تھے، آج خود انہی مسائل کا شکار ہیں۔ انسانی معاشرے کے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ آج کے دور میں انسان پر مسائل کا بوجھ اس قدر زیادہ ہے کہ بہت سارے لوگوں کی معاشرتی حالت ہزاروں سال پرانے غلاموں کی حالت سے بھی بدتر ہے۔ ماضی کا غلام انسان خود کو غلام سمجھ کر ظالموں اور جابروں کی غلامی کرتا تھا، لیکن آج کا انسان اپنے آپ کو آزاد سمجھ کر بھی دوسروں کی  غلامی کر رہا ہے۔ انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال اس بات کا ثبوت ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل تو بڑھے ہیں، لیکن مسائل کم نہیں ہوئے اور اس کاباعث یہ ہے کہ انسانی وسائل پر ماضی کی طرح آج بھی فرعونوں، ظالموں اور جابروں کا قبضہ ہے۔ ہم تاریخ عالم کا جتنا بھی مطالعہ کریں اور انسانی مسائل پر جتنی بھی تحقیق کریں، کتاب تاریخ میں جہاں جہاں انسان نظر آئے گا، وہاں وہاں انسانی وسائل پر قابض فرعون، شدّاد اور نمرود بھی نظر آئیں گے۔

چنانچہ انسانی مسائل کے حل کیلئے ضروری ہے کہ ہر مظلوم انسان کو یہ شعور دیا جائے کہ اُسے درپیش مشکلات کی اصلی جڑیں کہاں ہیں؟ اس کے حقوق کو سامراج کس طرح پامال کر رہا ہے؟ سامراج کس طرف مورچہ زن ہے؟ سامراج کے پاس کیا کچھ اسباب و وسائل اور ہتھیار ہیں؟ اور کون لوگ سامراج کے مدد گار ہیں۔؟ اگر لوگوں کو سامراج کی مکمل طور پر شناخت نہ ہو تو نہ صرف یہ کہ سامراج کو پسپا نہیں کیا جاسکتا بلکہ سامراج کی چالوں سے لوگوں کو بھی محفوظ نہیں رکھا جاسکتا۔ زمان و مکان اور دین و مذہب کی قید نہیں، جس بھی زمانے میں، جس جگہ پر بھی، جو شخص بھی کسی کا حق غصب کرتا ہے، وہ سامراج ہے یا  سامراج کا ایجنٹ ہے۔ طاقتور مختلف حیلوں اور حربوں کے ساتھ ہر دور میں کمزور لوگوں پر حکومت کرتے، ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے رہے اور اسی سوچ نے آگے چل کر سامراجیّت کے مکتب کو جنم دیا۔ اب آیئے دیکھتے ہیں کہ علمی دنیا میں سامراجیّت کسے کہتے ہیں: ”مستکبرین کے دیگر ریاستوں کو مفتوح کرنے کے عمل کو علم سیاسیات میں سامراجیت کہا جاتا ہے“  مفکر سیاسیات چارلس اے برڈ کے مطابق سامراجیت وہ طریقہ کار ہے، جس کے تحت حکومت کی مشینری اور ڈپلومیسی کو دوسری اقوام یا نسلوں کے ماتحت علاقوں پر قبضہ کرنے، زیر حمایت رکھنے یا حلقہ اثر میں لانے کیلئے استعمال میں لایا جائے، تاکہ صنعتی تجارت کی ترقی اور سرمایہ لگانے کے مواقع حاصل ہوسکیں۔

سامراجیّت بطور مکتب:

تاریخ بشریّت میں ابلیسیت باقاعدہ ایک مکتب کی صورت میں سامراج کے نام سے پندرہویں صدی میں منظم ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرق وسطٰی اور ایشیاء کے بارے میں اہل یورپ نہ ہونے کے برابر معلومات رکھتے تھے۔ ان کی معلومات کی کہکشاں زیادہ تر مارکو پولو کے سفرنامے کے گرد ہی گردش کرتی رہتی تھی۔ پھر جیسے جیسے ان کی معلومات بڑھتی گئیں، یہ دوسرے ممالک کو مفتوح کرتے آگے بڑھتے چلے گئے۔ سولہویں و سترہویں صدی میں سائنسی ایجادات اور صنعتی انقلاب نے سامراجی قوتوں میں نئی روح پھونکی اور ہالینڈ، برطانیہ، فرانس، سپین اور پرتگال نے دیگر ریاستوں کو مفتوح کرنے پر کمر کس لی۔ یاد رہے کہ صاحبان علم و دانش سامراجیّت کو اس کی عمر کے لحاظ سے دو حصوں سامراجیّت قدیم اور سامراجیّت جدید میں تقسیم کرتے ہیں۔

 

قدیم سامراج اور اسکا طریقہ واردات :

پندرہویں صدی سے لے کر انیسویں صدی میلادی تک کے زمانے کو سامراجیّت قدیم کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں سامراجیّت کا طریقہ واردات کچھ اس طرح تھا:

1۔ بغیر کوئی بہانہ ڈھونڈے دوسری ریاستوں پر قبضہ کر لیا جاتا تھا۔

2۔ قبضہ براہ راست کیا جاتا تھا۔

3۔ مفتوحہ ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجادی جاتی تھی، قتل عام کیا جاتا تھا اور بستیوں کو آگ لگا دی جاتی تھی۔

سامراجی طاقتیں جلد ہی اس نتیجے پر پہنچ گئیں کہ یہ طریقہ ان کے لئے زیادہ سود مند نہیں ہے، چونکہ اس طرح انہیں مندرجہ ذیل دو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

1۔ مفتوحہ ریاستوں میں پائی جانے والی عوامی نفرت انہیں بے چین کئے رکھتی تھی۔

2۔ کھلم کھلا لشکر کشی خود ان کی اپنی فوج کے تلف ہونے اور بھاری جنگی اخراجات کا باعث بنتی تھی۔

صنعتی انقلاب، نہر سویز کھلنے اور ریلوے کی ترقی کے بعد سامراجی ممالک نے دیگر ممالک کو مفتوحہ بنانے اور مقبوضہ رکھنے کیلئے نئے انداز اور طریقے وضع کئے، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

1۔ ترقی پذیر ممالک کو امداد دے کر من مانی شرائط منوائی جائیں اور ان کے علاقوں کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا جائے۔

2۔ دنیا بھر میں ایسا تعلیم یافتہ طبقہ تیار کیا جائے جو سامراجی پالیسیوں کا ہمنوا ہو۔

3۔ غیر ترقی یافتہ علاقوں میں اپنی منڈیاں قائم کی جائیں۔

4۔ جمہوریت اور آزادی کے نام پر دیگر ممالک میں اپنی فوجیں داخل کرکے وہاں کے وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی سیاسی و معاشی مفادات حاصل کئے جائیں۔

سامراجیت کے چوتھے طریقہ واردات یعنی جمہوریت و آزادی اور خوشحال و ترقی کے نام پر کسی ملک میں فوجیں داخل کرنے کے عمل کو سیاسیات میں استعماریت یا نو آبادیات کہتے ہیں۔ یعنی سامراجیت اصل ہے اور استعماریت اس کی ایک شاخ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں بھی سامراجی طاقتیں جن ممالک کو مفتوح کرتی تھیں، اُنہیں ”نو آبادی“ کہا جاتا تھا۔ تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ سامراجی قوتیں کچھ اس طرح کے بہانوں سے دیگر ممالک کو زیر تسلط لاتی تھیں کہ ترقی پذیر ممالک کے لوگ کاروبار حکومت چلانے نیز علمی و فنی پیشرفت کی صلاحیت نہیں رکھتے، لہٰذا اُنہیں علوم و فنون سے آراستہ کرنے اور فلاح و بہبود کی شاہراہ پر گامزن کرنے کیلئے اور ان کی سیاسی فکر میں ارتقاء کیلئے ضروری ہے کہ انہیں مغلوب رکھ کر اُن پر کام کیا جائے۔

اس طرح کے لیبل لگا کر مختلف بہانوں سے طاقتور قومیں کمزور اقوام کا استحصال کرتی رہی ہیں ،بالآخر 1945ء میں اقوام متحدہ نے اپنے منشور میں یہ شق شامل کی کہ کوئی ریاست کسی دوسری ریاست کو اپنی نو آبادی نہیں بنائے گی، لیکن اس کے باوجود سامراجی طاقتوں نے بعد ازاں کئی دوسری ریاستوں کو اپنی نو آبادی بنایا ہے۔ مثلاً ماضی قریب میں روس نے افغانستان کو اپنی نو آبادی بنانے کیلئے حملہ کر دیا تھا اور تقریباً افغانستان کو اپنی نو آبادی بنا لیا تھا، بعد میں امریکہ نے افغانستان اور عراق کو غیر اعلانیہ طور پر اپنی نو آبادی بنالیا ہے،  اِسی طرح اسرائیل نے فلسطین اور لبنان کے بیشتر علاقے کو اور ہندوستان نے کشمیر کے ایک بڑے حصے کو اور روس نے چیکو سلاویہ، ہنگری اور بلغاریہ وغیرہ کو آج بھی اپنی نو آبادی بنا رکھا ہے۔ آج بھی دنیا میں بہت سارے ایسے ممالک موجود ہیں، جو بظاہر سامراجی افواج سے خالی ہیں، لیکن سامراج اُن پر مالی کمک، منڈیوں اور صنعتوں کے ذریعے قبضہ جمائے ہوئے ہے اور دنیا کے تمام تر سیاسی و معاشی مسائل سامراج کے ناجائز تسلط اور غیر قانونی قبضے کی وجہ سے ہیں۔ سامراجی طاقتوں نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے مختلف اقوام کو آج بھی دبوچ رکھا ہے۔ مثلاً اگر فلسطین کا مسئلہ حل ہو جائے تو سامراج، عربوں کی دولت کو نہیں لوٹ سکتا، اگر عراق و افغانستان کا مسئلہ حل ہو جائے تو امریکہ اور اس کے حواری اِس خطے کی دیگر ریاستوں کی نگرانی کرنے سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ عراق کے تیل سے بھی محروم ہوجائیں گے، اگر کشمیر سے بھارتی فوجیں نکل جائیں تو کشمیر کے آبی ذخائر، جنگلات اور معدنی ذخائر سے بھارت کو ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔

چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مذکورہ علاقوں میں سامراجی عناصر اپنے مفادات کے حصول کیلئے انسانی خون کو پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔ ان علاقوں میں کسی بھی طرح کی انسانی یا اخلاقی حدود کا احترام نہیں کیا جاتا۔ یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ سامراجی طاقتوں نے اپنے معاشی مفادات کیلئے ایڈز، ہیپاٹائٹس اور امریکی سونڈی کے وائرس تک دنیا میں عام کئے، تاکہ اُن کی دوائیاں اور انجکشن بڑے پیمانے پر فروخت ہوں۔ ساری دنیا کو سامراجی طاقتوں نے اپنے سیاسی و معاشی مفادات کی خاطر بدامنی اور عدم استحکام کی آگ میں جھونکا ہوا ہے۔ اگر دنیا میں امن بحال ہو جائے تو سامراجیوں کا جنگی ساز و سامان اور اسلحہ کس سیارے پر فروخت ہوگا، چنانچہ سامراجی طاقتیں پوری دنیا میں ایک دوسرے کی مدد اور حمایت سے اپنے  اپنے مفادات حاصل کر رہی ہیں۔ مثلاً امریکہ، اسرائیل کے مفادات پورے کرتا ہے، اسرائیل، بھارت کے مفادات کو پورا کرتا ہے، بھارت، سعودی عرب کے مفادات کی تکمیل کرتا ہے، سعودی عرب، پاکستان کو فوائد پہنچاتا اور پاکستان، امریکہ کے ہر حکم کی تعمیل کرتا ہے۔۔۔۔ یوں مفادات کی یہ زنجیر پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔

اس کے بعد آیئے سامراجِ جدیدکا بھی ایک جائزہ لیتے ہیں:

سامراج ِجدید:

سامراج جدید کا آغاز بیسویں صدی میں ہوا اور یہ اصطلاح پہلی مرتبہ 1955ء میں افریقی و ایشیائی ممالک کی ایک کانفرنس میں انڈونیشیا کے صدر "احمد سوکارنو" نے استعمال کی۔ جدید سامراج کا طریقہ واردات ملاحظہ فرمائیں:

جدید سامراج کا طریقہ واردات:

1۔ قبضہ غیر محسوس ہو۔ میڈیا کے ذریعے لوگوں کو مختلف ایشوز میں الجھا کر غیر محسوس انداز میں پہلے نفوذ کیا جائے، پھر مستقل طور پر نظام کو اپنے زیر اثر لایا جائے۔

2۔ کسی بھی ملک کے مقامی افراد کو اپنے افکار کے مطابق تعلیم و تربیت دے کر فکری طور پر اپنا غلام بنایا جائے اور پھر انہی کے ذریعے حکومت کی جائے۔ جیسا کہ آج پاکستان میں ہو رہا ہے۔ پاکستان کے حکمران سامراجی نظام تعلیم کے لکھے پڑھے ہیں، لہذا وہ امریکہ و یورپ کی محبت کا سرعام دم بھی بھرتے ہیں اور ان کے مفادات کی خاطر سب کچھ کرتے بھی ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے باصلاحیت نوجوان تعلیم اور روزگار کے حصول کے لئے سامراجی ممالک کا رخ کرتے ہیں اور پھر اسی رنگ میں رنگے جاتے ہیں، ان میں سے پھر بہت کم ہوتے ہیں جو اپنے ملک و ملت کی فکر کریں۔

اس کے بعد آیئے جدید سامراج کے طریقہ واردات پر بھی ایک نگاہ ڈالتے ہیں:

جدید سامراج اور اس کا طریقہ واردات:

جدید سامراج کی زندہ مثال نیٹو ہے۔ نیٹو سامراج، قدیم سامراج کے مذکورہ ہتھکنڈوں سے بھی لیس ہے اور اس کے علاوہ مندرجہ ذیل پالیسیوں پر بھی پابندی سے عمل پیراہے؛

1۔ کسی بھی ملک پر باہر سے خود حملہ آور ہونا اور داخلی طور پر اس ملک میں مخصوص شدّت پسند ٹولے تشکیل دے کر ممالک کو عدم استحکام اور عوام کو عدم تحفظ میں مبتلا کرنا۔ جیسے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے ذریعے کیا گیا۔

2۔ دیگر ممالک میں کرپٹ سیاستدانوں، نام نہاد مفکرین، بزدل حکمرانوں، ڈکٹیٹر سلطانوں اور ناسمجھ خطباء و علماء کے ذریعے پہلے مقامی سطح پر سامراجی گروہ تشکیل دینا اور پھر  خود لڑنے کے بجائے ان سامراجی گروہوں کے ذریعے اپنے مفادات کو حاصل کرنا۔ جیسا کہ پاکستان میں ہمیں خود نیٹو کے فوجی آکر نہیں مارتے بلکہ ان کے تربیت یافتہ خودکش بمبار ہم پر حملے کرتے ہیں۔ اسی طرح برصغیر پر قبضے کے بعد انگریزوں نے مقامی غنڈوں کو جاگیریں اور خطابات دے کر مقامی استعمار کو تشکیل دیا۔

یہ مقامی استعمار بدمعاشی اور غنڈہ گردی کے ذریعے لوگوں کی رگوں سے خون نچوڑ کر انگریزوں کو پلاتا تھا اور برصغیر کے عوام ان بدمعاشوں اور غنڈوں کو اپنا مسیحا اور ہمدرد اور اپنے حقوق کے محافظ سمجھتے تھے۔ آج بھی ہمارے ہاں اکثر اسی طرح کے لوگ ہی سیاستدان کہلاتے ہیں اور اسمبلیوں میں نظر آتے ہیں۔ آج بھی ہمارے ہاں جو سکول اور کالج کے زمانے میں جتنا بڑا قانون شکن، بدمعاش اور غنڈہ ہوتا ہے، مستقبل میں اس کے سیاستدان بننے کے امکانات اتنے زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں  سامراج نے صرف سیاست اور مذہب کو جدا نہیں کیا بلکہ سیاست اور شرافت کو بھی جدا کیا ہے۔ تفصیلات کے لئے وکیل انجم کی کتاب فقط سیاست کے فرعون بھی ایک مرتبہ پڑھ لیں تو کافی ہے، اس کے علاوہ اپنے ہاں پائے جانے والے سیاستدانوں کی اخلاقی حالت کا خود سے بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

ہمارے ہاں پائے جانیوالے مقامی سامراج کا طریقہ واردات:

1۔ عوام کو تعلیمی و معاشی طور پر ضعیف اور کمزور رکھا جائے۔ اس مقصد کے لئے تعلیمی نصاب کو بھی طبقاتی طور پر تقسیم کیا گیا ہے اور عام لوگوں کے بچے غیر معیاری تعلیم کے باعث کولہو کے بیل ہی بنے رہتے ہیں۔

 2۔ لوگ آپس میں متحد نہ ہوں اور ایک دوسرے سے دشمنی کریں۔ اس مقصد کے لئے یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بڑے بڑے بیانات دے کر اور ایک دوسرے پر الزامات لگا کر خود تو باڈی گارڈز اور پروٹوکول کے ہمراہ نقل و حرکت کرتے ہیں اور اہم موقعوں پر باہم شیروشکر ہو جاتے ہیں، جبکہ عام لوگ ان کے بیانات کو بنیاد بنا کر آپس میں لڑتے ہیں اور ایک دوسرے سے دشمنیاں اور ناراضگیاں مول لیتے ہیں۔ بعض اوقات تو مختلف پارٹیوں کے جیالے ایک دوسرے کو قتل بھی کر دیتے ہیں۔

3۔ تھانے، ایجنسیاں اور میڈیا مکمل طور پر ان کا مطیع ہو۔ یہ خود چونکہ کسی میرٹ اور قانون کے پابند نہیں ہوتے اور بعض اوقات تو ان کی ڈگریاں بھی جعلی ہوتی ہیں، اس لئے یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا کو بھی اپنی لونڈی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں، اس مقصد کے لئے یہ دھونس اور رشوت ہر طرح کے حربے آزماتے ہیں۔

  4۔ لوگ فوج، پولیس، ایجنسیوں اور میڈیا سے مایوس ہو جائیں۔

یہ اپنے خلاف تو میڈیا میں قبل از وقت کوئی خبر نہیں چھپنے دیتے، یاد رہے کہ اکثر سیاستدانوں کی خبریں اس وقت چھپتی ہیں، جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے، لیکن فوج، پولیس اور ایجنسیز  کے خلاف ماحول کو گرم رکھتے ہیں اور لوگوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ فوج، پولیس، ایجنسیز تو عوام کی دشمن ہیں۔ چونکہ اگر یہ ادارے عام عوام کا اعتماد حاصل کر لیں اور عوام میں اپنے قدم مضبوطی سے جمالیں تو پھر سیاست کے نام پر غنڈہ گردی اور بدمعاشی بالکل نہیں چل سکتی۔

 5۔ لوگوں میں ان کے نام کا خوف قائم رہے۔

یہ لوگوں کو ڈرا کر رکھنے کے لئے گینگز اور غنڈے پالتے ہیں، اسمبلیوں میں بیٹھ کر دہشت گردوں کی سرپرستی کرتے ہیں، موقع ملنے پر پولیس اور فوج کے اہلکاروں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں، مخالفین کو عبرتناک طریقے سے قتل کرواتے ہیں، مثال کے طور پر ہم پرانے واقعات کے بجائے اپنے موجودہ سیاستدانوں کے  کچھ حربے آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں:

کچھ عرصہ پہلے ہمارے ایک بڑے معروف سیاستدان نے  اسلام آباد میں عدالت کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار کو تھپڑ رسید کیا۔ یہ واقعہ کسی دورافتادہ گاوں میں پیش نہیں آیا بلکہ  پاکستان کے دارالحکومت میں پیش آیا۔[1] یہ سب عوام کو قانون کے بجائے اپنی شخصیت سے مرعوب کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ  مشعال خان کو دردناک طریقے سے قتل کروانے میں، ایک  عزت ماب تحصیل کونسلر پیش پیش تھا۔[2] یہ واقعہ بھی کسی جنگل میں نہیں بلکہ مردان یونیورسٹی میں پیش آیا، اس طرح کی سینکڑوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، لیکن ہم موضوع کی طوالت سے بچنے کے لئے صرف ایک مثال مزید پیش کرتے ہیں۔ ابھی اسی ہفتے کی بات ہے کہ عمر کوٹ میں بڑی معروف سیاسی شخصیت نے بجلی چوروں کو گرفتار کرنے پر تھانے میں جا کر ایس ایچ او  کی درگت بنائی۔[3] جس پر اب چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے۔[4]

اس کے بعد آیئے استعمار کے خلاف عوامی جدوجہد کے لئے ایک منصوبہ بندی کے حوالے سے غوروفکر کرتے ہیں:

سامراج کیخلاف عوامی جدوجہد کیلئے مجوزہ منصوبہ بندی:

جب تک ہم سامراج کو نہیں پہچانتے اور اس کے چنگل سے نہیں نکلتے، اس وقت تک ہماری ملکی و قومی حالت بہتر نہیں ہوسکتی اور ہمارے سرکاری ادارے، فوج، پولیس اور ایجنسیاں عوامی توقعات پر بھی پوری نہیں اتر سکتیں، چونکہ جب تک یہ ادارے خود سامراج کے  کھینچے گئے دائرے کے پابند ہیں، تب تک یہ حقیقی معنوں میں اپنے فرائض انجام نہیں دے سکتے۔ لہذا ضروری ہے کہ ان مسائل کے حل کئے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے۔

مجوزہ منصوبہ بندی

1۔ ریسرچ سنٹرز اور تھنک ٹینکس کی تشکیل کی جائے

سب سے پہلے ہمیں عالمی اور مقامی سامراج کی مکمل منصوبہ بندی پر عبور حاصل کرنا چاہیے، ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ عالمی سامراج نے ہر شعبہ زندگی کے حوالے سے الگ ریسرچ سنٹرز اور تھنک ٹینکس تشکیل دے رکھے ہیں، جو دن رات اپنی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہیں۔ مثلاً سامراج نے میڈیا، تجارت، نظام تعلیم و تربیّت، تہذیب و تمدّن و ثقافت، آرمی، خفیہ ایجنسیز، این جی اوز، منبر و محراب اور سیاست سمیت ہر میدان کے لئے الگ سے ریسرچ سنٹرز قائم کر رکھے ہیں، چونکہ میڈیا کا میدان تجارت و اقتصاد سے مختلف ہے، تجارت و اقتصاد کا میدان آرمی سے مختلف ہے، آرمی کی دنیا خفیہ ایجنسیوں سے مختلف ہے۔ لہذا ہمیں بھی سامراج کے مقابلے کے لئے اسی شعبے کے ماہرین کے تجربات کی خدمات درکار ہیں۔ لہذا ہر شعبے سے متعلقہ ماہرین پر ہی ریسرچ سنٹرز تشکیل پانے چاہیے، جو اپنی متعلقہ دنیا سے سامراج کے خاتمے کے لئے منصوبہ بندی کریں اور سامراجیت کے تمام پہلووں کا جائزہ لیکر اقوامِ عالم کو عصر حاضر کے سامراج کی سازشوں سے آگاہ بھی کریں اور ان سازشوں کا توڑ بھی بتائیں۔ اسی طرح مقامی سامراج کے خلاف بھی علمائے کرام اور دانشمندوں کو بولنا چاہیے اور اپنے اور ریاستی اداروں کے تحفظ کے لئے  غنڈوں اور بدمعاشوں کے خلاف عوام کو منظم طریقے سے باشعور کیا جانا چاہیے۔

2۔ سامراج کی شناخت کروائی جائے

عالمی اور مقامی سامراج کے چنگل سے نجات کیلئے ضروری ہے کہ عوام کو سامراج کی صحیح شناخت کروائی جائے، لوگوں کو عالمی اور مقامی سامراج کا ٹھیک تعارف کروایا جائے، اس کے ساتھ ساتھ سامراج کے جاسوس ٹولوں، تنظیموں اور پارٹیوں نیز وظیفہ خور سیاستدانوں سے آگاہ کیا جائے اور لوگوں کو یہ شعور دیا جائے کہ وہ اپنی مشکلات کے حل کے لئے بے دین اور بدمعاش لوگوں کے بجائے دیندار اور شریف لوگوں کی طرف رجوع کریں۔

3۔ تہذیب و تمدن کا تحفظ کیا جائے

مستکبرین لوگوں کی سیاسی و ملی شعور کی ناپختگی سے فائدہ اُٹھا کر لوگوں کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کرکے اُن پر اپنی تہذیب اور تمدن کو نافذ کرتے ہیں۔ لوگوں کو تہذیب و تمدن کے نام پر فحاشی و عریانی سکھائی جاتی ہے، لہذا اس صورت حال سے نجات کیلئے ضروری ہے کہ کسی بھی طور پر لوگوں کا رابطہ اپنی تہذیب و تمدن اور اپنے دانشمندوں سے نہیں کٹنے دینا چاہیے اور انہیں سامراج کی چالوں سے فوری طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے۔

 4۔ سامراج کیخلاف لوگ ایک دوسرے کیساتھ تعاون کریں

ضروری ہے کہ دانشمند حضرات لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے میں اپنا کردار ادا کریں،  غنڈہ گردی اور بدمعاشی کرنے والی تنظیموں کے خلاف سب لوگ مل کر جدوجہد کریں، اس طرح کے سیاستدان کہلانے والے لوگوں کے خلاف نفرت کا اظہار کریں اور دیگر علاقوں کے عوام سے اس سلسلے میں تعاون کریں۔ یاد رکھیں کہ مذہبی منافرت پھیلانے، دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے، اپنے سیاسی ووٹ بینک کے لئے لوگوں کو مذہبی فرقوں میں تقسیم کرنے کے پیچھے بھی انہی بدمعاشی اور غنڈہ گردی کرنے والے سیاستدانوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ لہذا ہمیں ایک دوسرے کے خلاف کافر کافر کے نعرے لگانے کے بجائے اپنے علاقے کے سیاسی بدمعاشوں کو پہچاننا چاہیے اور ان کی چالوں میں نہیں آنا چاہیے۔

5۔ میڈیا سامراج کیخلاف فیصلہ کن کردار ادا کرے

ریڈیو، ٹیلی ویژن، اخبارات اور مجلات میں ہر سطح کے لوگوں کے ذہنی معیارات کے مطابق عالمی اور مقامی سامراج کی سازشوں، مظالم کے خلاف بریکنگ نیوز چلنی چاہیے، عوامی شعور کو بدمعاشوں کی غلامی سے نکالنے کے لئے، سیاسی تجزیہ و تحلیل پر مشتمل  پروگرام نشر کئے جانے چاہیے، نیز اس موضوع پر باقاعدگی سے مقالات، کالمز اور اداریے لکھے جانے چاہیے۔ سامراجیت کے موضوع پر جا بجا تحقیقی کانفرنسیں منعقد کرکے اُنہیں میڈیا میں بھرپور کوریج دی جائے۔ اسی طرح عوام اور صحافیوں کو سیاست دانوں کے بارے میں اندھا دھند نعرے لگانے اور دھمال ڈالنے اور ڈانس کرنے کے بجائے سوچنے، تنقید و تبصرہ کرنے، اپنی رائے بیان کرنے، سامراج کے خلاف زبان کھولنے، الیکشن کے موقع پر بدمعاشوں کے بجائے شرفا کی حمایت کرنے کی جرات دی جانی چاہیے۔

 6۔ تعلیمی ادارے  اور نظام تعلیم

دینی مدارس، سکولز، کالجز الغرض ہر سطح کے طالب علموں کے سامنے، ان کی سطح کے مطابق انہیں سیاسی شعور دیا جائے اور نیک و امین سیاستدانوں کو ان کے لئے آئیڈیل بنا کر پیش کیا جائے، تاکہ ہمارے طالب علم مستقبل میں اچھے اور امین سیاستدان بن سکیں۔ اسی طرح ہمارے دانشمندوں کو داخلی استعمار کے بنائے ہوئے طبقاتی نظام تعلیم کا توڑ سوچنا چاہیے اور ملک میں یکساں اور معیاری نظام تعلیم کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے۔

 7۔ پبلک پلیٹ فارم، سیاسی و مذہبی اجتماعات کو آگاہی کا ذریعہ بنایا جائے

مختلف فرہنگی و ثقافتی تقاریب کا انعقاد کیا جائے، جن میں مختلف فنون کے ذریعہ سامراج کے مظالم سے پردہ اُٹھایا جائے، شعر و شاعری اور مزاح نگاری نیز سیاسی و مذہبی اجتماعات میں سامراج کی تازہ ترین سازشوں سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے، مسجد و منبر و محراب سے سامراج کے خلاف آواز اٹھائی جائے، ظلم، نا انصافی اور پسماندگی، جہالت اور غیر معیاری سکولوں کے خلاف لوگوں کو میدان میں لایا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ ان کے انسانی و ریاستی حقوق کیا ہیں، ہینڈ بلز اور پمفلٹس نیز چھوٹے چھوٹے کتابچوں کی صورت میں گلی،  محلوں اور قصبوں کی سطح تک عالمی اور مقامی سامراج سے متعلق ضروری مواد اور شعور و آگاہی پہنچائی جائے۔

 8۔ اقتصادی و صنعتی مسائل کا حل سوچا جائے

سامراج کے اقتصادی و صنعتی ڈھانچوں کی درست رپورٹس اکٹھی کرکے ماہرین اقتصادیات کو فراہم کی جائیں اور ان سے گزارش کی جائے کہ وہ سامراج کے چنگل سے نکلنے کیلئے مستضعف اقوام کے لئے ٹھوس اقتصادی و صنعتی لائحہ عمل تیار کریں۔ علاقوں کو پسماندہ رکھنے والے سیاستدانوں کا زور توڑا جائے اور پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو بہترین معاشی امکانات فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے۔

 9۔ کمزور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے

کمزور اور پسماندہ لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے اور صاحب ثروت حضرات کی طرف سے کمزور لوگوں کی مختلف امور میں حوصلہ افزائی کی جائے، ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت اور نوکریوں کے حوالے سے سکالر شپ سسٹم اور جاب سیل بنائے جائیں اور انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ اُن کا اور اس ملک کا مستقبل وڈیروں اور جاگیرداروں کے بجائے ان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

 10۔ اچھی سیاست سے عشق پیدا کیا جائے

لوگوں کو یہ سمجھایا جائے کہ دینِ اسلام میں سیاست بھی عین عبادت اور ایک مقدس عمل ہے، دین اسلام میں حکومت اور جمہوریت سے مراد لوگوں پر اللہ کے نیک اور صالح افراد کے ذریعے اللہ کی حکومت  قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لئے لوگوں کو سامراج کے غلیظ لٹریچر اور کرپٹ سیاستدانوں کی خبروں اور بیانات  کے بجائے دین اسلام کے سیاسی ا فکار، سلف صالحین کے سیاسی کارناموں اور پاکستان نیز دنیائے اسلام کے بہترین اور نیک سیاستدانوں کے کارناموں سے آشنا کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں الٰہی اور حقیقی مسلمان سیاستدان بننے، ایک نیک اور دیانتدار سیاستدان کو منتخب کرنے کا عشق پیدا کیا جائے۔ آخر میں عرض یہ ہے کہ علمی دنیا میں کوئی بھی منصوبہ بندی حرف آخر نہیں ہوتی، یہ ایک مجوزہ منصوبہ بندی ہے، اس کا مقصد منصوبہ بندی کا آغاز ہے، حالات اور ضرورت کے پیش نظر اس میں ترمیم کی گنجائش موجود ہے۔ ہم نے دس نکات پیش کئے ہیں کہ اگر ان پر کام کیا جائے تو ہمارے نزدیک ملک کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ آج ہمارے ہاں جتنی بھی غربت، پسماندگی، کرپشن، بدنظمی اور ملی مشکلات ہیں اور ہمارے سرکاری ادارے عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہوچکے ہیں، اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ آزاد نہیں ہیں، بلکہ ہم لوگ مقامی استعمار کے غلام ہیں اور عالمی استعمار مقامی استعمار کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کر رہا ہے۔ اگر ہم نے اپنی ملی حالت کو بہتر کرنا ہے تو یہ کام منصوبہ بندی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ آیئے ہم سب اپنے ملک کو بین الاقوامی اور مقامی سامراج کی غلامی سے نکالنے کے لئے اپنے اپنے وسائل اور ہمت کے مطابق اپنا اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کریں۔

پاکستان پائندہ باد۔۔

[1]http://www.urdutimes.com/news/15718.html

[2]http://dailyqudrat.com/pakistan/18-Apr-2017/95039

[3]http://www.nawaiwaqt.com.pk/regional/03-May-2017/597789

[4]http://www.nawaiwaqt.com.pk/islamabad/06-May-2017/599

تمہید:    

  حضرت عباس علیہ السلام کی ذات بابرکت، فضائل اوربرکات کاوہ موج زن سمندر ہے کہ ایک  یا چند مقالوں سے اس  عظیم شخصیت کے کسی ایک پہلو پر بھی سیر حاصل بحث نہیں کی جاسکتی، لیکن عربی کےاس معروف موکلہ«مالا یدرک کله لا یترک  کله» کومدنظررکھتےہوۓ  اس مقالہ میں کوشش کی گئی ہے کہ حضرت عباس علمدار کی ایک اہم ترین صفت( وفاء) کےذیل میں کچھ مطالب بیان کریں ، البتہ یہ اعتراف کرتے ہوے کہ حضرت عباس (ع) کی زندگی تحلیل کرنا ایک معمولی کام نہیں ، اور مجھ جیسے بے بضاعت کے بس میں نہیں کہ ایک سیر حاصل بحث کر سکوں فقط اس امیدکے ساتھ  کہ میرا نام بھی محبان خاندان عترت و طہارت کی فهرست میں شامل ہوجاے آنحضرت (ع)کے فضائل و کمالات کے کچھ موتی اپنے پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کیے دیتا ہوں اورنیز اپنے اس مقالے کو یوم جانباز(غازیوں کادن) کی مناسبت سے اسلام کےتمام غازیوں کےنام منسوب کرتا ہوں۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه