آپ کی ولادت باسعادت

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام بتاریخ یکم رجب المرجب ۵۷ ھ یوم جمعہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے(1) علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تشریف لائے تو آباؤ اجداد کی طرح آپ کے گھرمیں آوازغیب آنے لگی اورجب نوماہ کے ہوئے تو فرشتوں کی بے انتہا آوازیں آنے لگیں اورشب ولادت ایک نورساطع ہوا، ولادت کے بعد قبلہ رو ہو کرآسمان کی طرف رخ فرمایا،اور(آدم کی مانند) تین بار چھینکنے کے بعد حمد خدا بجا لائے،ایک شبانہ روز دست مبارک سے نور ساطع رہا، آپ ختنہ کردہ ،ناف بریدہ، تمام آلائشوں سے پاک اورصاف متولد ہوئے(2)

اسم گرامی ،کنیت اور القاب

آپ کا اسم گرامی ”لوح محفوظ“ کے مطابق اورسرورکائنات کی تعیین کے موافق ”محمد“تھا۔ آپ کی کنیت ”ابوجعفر“ تھی، اورآپ کے القاب کثیرتھے، جن میں باقر،شاکر،ہادی زیادہ مشہورہیں(3)

بادشاہان وقت

آپ ۵۷ ھ میں معاویہ بن ابی سفیان کے عہد میں پیدا ہوئے ۔ ۶۰ ھ میں یزید بن معاویہ بادشاہ وقت رہا، ۶۴ ھ میں معاویہ بن یزیداورمروان بن حکم بادشاہ رہے ۶۵ ھ تک عبدالملک بن مروان خلیفہ وقت رہا ۔ پھر ۸۶ ھ سے ۹۶ ھ تک ولید بن عبدالملک نے حکمرانی کی، اسی نے ۹۵ ھ میں آپ کے والد ماجد کو درجہ شہادت پرفائز کر دیا، اسی ۹۵ ھ سے آپ کی امامت کا آغاز ہوا، اور ۱۱۴ ھ تک آپ فرائض امامت ادا فرماتے رہے، اسی دور میں ولید بن عبدالملک کے بعد سلیمان بن عبدالملک ،عمربن عبدالعزیز، یزید بن عبدالملک اورہشام بن عبدالملک بادشاہ وقت رہے(4)

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی حیثیت

کسی معصوم کی علمی حیثیت پر روشنی ڈالنا اور وضاحت کرنا ناممکن ہے۔

علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ حضرت کا خود ارشاد ہے کہ” علمنامنطق الطیر و اوتینا من کل شئی “ ہمیں طائروں تک کی زبان سکھا گئی ہے اور ہمیں ہرچیز کا علم عطا کیا گیا ہے(5)

روضة الصفاء میں ہے : خداکی قسم! ہم زمین اورآسمان میں خداوند عالم کے خازن علم ہیں اور ہم ہی شجرہ نبوت اورمعدن حکمت ہیں ،وحی ہمارے یہاں آتی رہی اور فرشتے ہمارے یہاں آتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ظاہری ارباب اقتدار ہم سے جلتے اورحسد کرتے ہیں۔

علامہ شبلنجی فرماتے ہیں کہ علم دین، علم احادیث،علم سنن اورتفسیر قرآن وعلم السیرت وعلوم وفنون ،ادب وغیرہ کے ذخیرے جس قدرامام محمد باقرعلیہ السلام سے ظاہر ہوئے اتنے امام حسین و امام حسین کی اولاد میں سے کسی اورسے ظاہرنہیں ہوئے(6)

صاحب صواعق محرقہ لکھتے ہیں : عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار راسخ اورگہرے نشانات نمایاں ہو گئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اورعاجز و ماندہ ہیں ۔ آپ کے ہدایات وکلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا احصاء اس کتاب میں ناممکن ہے(7)

علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں کہ امام محمد باقرعلامہ زمان اور سردار کبیرالشان تھے آپ علوم میں بڑے تبحراور وسیع الاطلاق تھے(8)

علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ آپ بنی ہاشم کے سرداراورمتبحر علمی کی وجہ سے باقرمشہورتھے ۔ آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اورآپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا(9)

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی دمشق میں طلبی

علامہ مجلسی اورسیدابن طاؤس لکتھے ہیں کہ جب ہشام بن عبدالملک اپنے عہدحکومت کے آخری ایام میں حج بیت اللہ کے لیے مکہ معظمہ میں پہنچا تو وہاں حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام اورحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام بھی موجودتھے ایک دن حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے مجمع عام میں ایک خطبہ ارشادفرمایاجس میں یہ بھی کہاکہ ہم روئے زمین پرخداکے خلیفہ اورا سکی حجت ہیں ، ہمارادشمن جہنم میں جائے گا،اورہمارادوست نعمات جنت سے متنعم ہوگا ۔

اس خطبہ کی اطلاع ہشام کودی گئی ،وہ وہاں توخاموش رہا،لیکن دمشق پہنچنے کے بعدوالی مدینہ کوفرمان بھیجاکہ محمدبن علی اورجعفربن محمدکومیرے پاس بھیجدے ، چنانچہ آپ حضرات دمشق پہنچے ۔۔۔ اس کے بعدامام نے فرمایا: بادشاہ ہم معدن رسالت ہیں، کسی امرمیں ہمارامقابلہ کوئی نہیں کرسکتا،یہ سن کرہشام کوغصہ آگیا،اور بولاکہ آب لوگ بہت بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں آپ کے دادا علی بن ابی طالب نے غیب کادعوی کیاہے ، آپ نے فرمایا: بادشاہ قرآن مجید میں سب کچھ موجود ہے اورحضرت علی امام مبین تھے انہیں کیانہیں معلوم تھا(10)

علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعدہشام نے والی مدینہ ابراہیم بن عبدالملک کولکھاکہ امام محمدباقرکوزہرسے شہیدکردے(11)

کتاب الخرائج والبحرائح میں علامہ راوندی لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعدہشام بن عبدالملک نے زیدبن حسن کے ساتھ باہمی سازش کے ذریعہ امام علیہ السلام کودوبارہ دمشق میںطلب کرناچاہالیکن والی مدینہ کی ہمنوائی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ارادہ سے بازآیا اس نے تبرکات رسالت جبرا طلب کئے اورامام علیہ السلام نے بروایتے ارسال فرمادئیے۔

امام محمدباقر علیہ السلام کی شہادت

آپ اگرچہ اپنے علمی فیوض وبرکات کی وجہ سے اسلام کوبرابرفروغ دے رہے تھے لیکن اس کے باوجودہشام بن عبدالملک نے آپ کوزہرکے ذریعہ سے شہیدکرادیا اورآپ بتاریخ ۷/ ذی الحجہ ۱۱۴ ھ یوم دوشنبہ مدینہ منورہ میں انتقال فرماگئے اس وقت آپ کی عمر ۵۷/ سال کی تھی آپ جنت البقیع میںدفن ہوئے(12)

علامہ شبلنجی اورعلامہ ابن حجرمکی فرماتے ہیں ”مات مسموماکابیہ“ آپ اپنے پدربزرگوارامام زین العابدین علیہ السلام کی طرح زہرسے شہیدکردیئے گئے(13)

ازواج و اولاد

آپ کی چاربیویاں تھیں اورانہیں سے اولادہوئیں ۔ام فروہ،ام حکیم،لیلی،اور ایک اوربیوی ام فروہ بنت قاسم بن محمدبن ابی بکرجن سے حضرات امام جعفرصادق علیہ السلام اورعبداللہ افطح پیداہوئے اورام حکیم بنت اسدبن مغیرہ ثقفی سے ابراہیم وعبداللہ اورلیلی سے علی اورزینب پیداہوئے اورچوتھی بیوی سے ام سلمی متولدہوئے(14)

علامہ محمدباقربہبھانی ،علامہ محمدرضاآل کاشف الغطاء اورعلامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ حضرت امام باقرعلیہ السلام کی نسل صرف امام جعفر صادق علیہ السلام سے بڑھی ہے ان کے علاوہ کسی کی اولادزندہ اورباقی نہیں رہی(15)

وصلی اللہ علی محمد و آلہ الطاہرین

(1) اعلام الوری ص ۱۵۵ ،جلاء العیون ص ۲۶۰ ،جنات الخلود ص ۲۵

(2) جلاء العیون ص ۲۵۹

(3) مطالب السؤال ص ۳۶۹ ،شواہدالنبوت ص ۱۸۱

(4) اعلام الوری ص ۱۵۶

(5) مناقب شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱

(6) کتاب الارشاد ص ۲۸۶ ،نورالابصار ص ۱۳۱ ،ارجح المطالب ص ۴۴۷

(7) صواعق محرقہ ص ۱۲۰

(8) وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۴۵۰

(9) تذکرةالحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱

(10) جلاء العیون

(11) جلاء العیون ص ۲۶۲

(12) کشف الغمہ ص ۹۳ ،جلاء العیون ص ۲۶۴ ،جنات الخلودص ۲۶ ،دمعہ ساکبہ ص ۴۴۹ ،انوارالحسینہ ص ۴۸ ، شواہدالنبوت ص ۱۸۱ ، روضة الشہداء ص ۴۳۴

(13) نورالابصار ص ۳۱ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۰

(14) ارشادمفید ص ۲۹۴ ، مناقب جلد ۵ ص ۱۹ ،نورالابصارص ۱۳۲

(15) دمعہ ساکبہ جلد ۲ ص ۴۷۹ ،انوارالحسینیہ جلد ۲ ص ۴۸ ،روضة الشہداء ص ۴۳۴ طبع لکھنؤ ۱۲۸۵

امام اول اور خليفہ چہارم حضرت علي ابن ابيطالب عليہم السلام کي تيسري پشت اور ھدايت کے پانچويں امام، حجت خدا حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کي ولادت پہلي رجب57 قمري ميں مدينہ منورہ ميں ہوئي، اور94 ہجري قمري ميں امام علي ابن الحسين زين العابدين عليہم السلام کي شہادت کے بعد امامت تفويض ہوئي اور 114 ہجري قمري کو 18 سال کي عمر ميں درجہ شہادت پر فائز ہوئے-

آپ (ع)  کي والدہ دوسرے امام حضرت حسن بن علي عليہ السلام کي بيٹي تھيں اور والد علي بن حسين بن علي عليہم السلام تھے ،اس اعتبار سے آپ (ع)  پہلے شخص ہيں جو ماں اور باپ کي طرف سے علوي (ع)  فاطمي (ع)  ہيں-

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کا دور امويوں اور عباسيوں کے سياسي اختلافات اور اسلام کا مختلف فرقوںميں تقسيم ہونے کے زمانے سے مصادف تھا جس دور ميں مادي اور يوناني فلسفہ اسلامي ملکوں ميں داخل ہوا جس سے ايک علمي تحريک وجود ميں آئي- جس تحريک کي بنياد مستحکم اصولوں پر استوار تھي - اس تحريک کے لئے ضروري تھا کہ ديني حقايق کو ظاہر کرے اور خرافات اور نقلي احاديث کو نکال باہر کرے - ساتھ ہي زنديقوں اور ماديوں کا منطق اور استدلال کے ساتھ مقابلہ کرکے انکے کمزور خيالات کي اصلاح کرنا- نامور دھري اور مادہ پرست علماء کے ساتھ علمي مناظرہ و مذاکرہ کرنا تھا يہ کام امام وقت حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کے بغير کسي اور سے ممکن نہ تھا - آپ عليہ السلام نے حقيقي عقايد اسلامي کي تشہيرکي راہ ميں علم کے دريچوں اور درازوں کو کھول ديا اور اس علمي تحريک کو پہلي اسلاي يونورسٹي کے قيام کے طور پر ديکھا جاتا ہے -آپ کے بارے ميں امام حنبل اور امام شافعي جيسے اسلام شناس کہتے ہيں:

ابن عباد حنبلي کہتے ہيں : ابو جعفر بن محمد(ع)  مدينہ کے فقہا ميں سے ہيں -آپ (ع)  کو باقر کہا جاتا ہے اس لئےکہ آپ (ع)  نے علم کو شکافتہ کيا اور اس کي حقيقت اور جوہر کو پہچانا ہے-(الامام الصادق و المذاہب الاربعہ -ج -1-ص 149)-

محمدبن طلحہ شافعي کہتے ہيں: محمد بن علي (ع) ، دانش کو شکافتہ کرنے والے اور تمام علوم کے جامع ہيں آپ کي حکمت آشکار اورعلم آپ کے ذريعہ سر بلند ہے-آپ (ع)  کے سرچشمہ و جود سے دانش عطا کرنے والا دريا پر ہے-آپ کي حکمت کے لعل و گہر زيبا و دلپذير ہيں- آپ (ع)  کا دل صاف اور عمل پاکيزہ ہے- آپ مطمئن روح اور نيک اخلاق کے مالک ہيں- اپنے اوقات کو عبادت خداوندميں بسر کرتے ہيں- پرہيز گاري و ورع ميں ثابت قدم ہيں- بارگاہ پرور دگار پروردگار ميں مقرب اور برگذيدہ ہونے کي علامت آپ (ع)  کي پيشاني سے آشکار ہے-آپ (ع) کے حضور ميں مناقب و فضائل ايک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا چاہتے ہيں- نيک خصلتوں اور شرافت نے آپ سے عزت پائي ہے-(الامام الصادق و المذاہب الاربعہ -ج -1- ص 149)-

پانچويں امام (ع)  نے پانچ خليفوں( اسلامي بادشاہوں ) کا دور ديکھا:

1. وليدبن عبد الملک 86-96ھ-

2. سليمان بن عبدالملک 96-99 ھ-

3. عمر بن عبد العزيز 99-101ھ-

4. يزيد بن عبد الملک 101-105 ھ-

5. ھشام بن عبد الملک 105-125 ھ-

مذکورہ اسلامي ممالک کے حاکموں( خليفوں) ميں عمر بن عبد العزيز جو کہ نسبتاً انصاف پسند اور خاندان رسول اï·² (ص) وآلہ کے ساتھ نيکي کے ساتھ رفتار کرنے والا منفرد اسلامي بادشاہ (خليفہ) تھا جس نے معاويہ عليہ ہاويہ کي سنت يعني”‌ معصوم دوم(ع) ،امام اول(ع)  اور خليفہ چہارم حضرت علي ابن ابيطالب (ع) کے نام 69 سال تک خطبوںميں لعنت کہنے کي شرمسار بدعت اور گناہ کبيرہ کو ممنوع کيا -

پانچويں امام اور پہلي اسلامي دانشگاہ کے باني حضرت محمد باقر عليہ السلام سے اصحاب پيغمبر اسلام(ص)  ميں سے جابر بن عبداï·² انصاري اور تابعين ميں سے جابر بن جعفي، کيسان سجستاني،اور فقہا ميں سے ابن مبارک،زھري، اوزاعي، ابو حنيفہ، مالک، شافعي اور زياد بن منزر نھدي آپ (ع)  سے علمي استفادہ کرتے رہے-معروف اسلامي مورخوں جيسے طبري، بلاذري، سلامي، خطيب بغداداي، ابو نعيم اصفہاني و مولفات و کتب جيسے موطا مالک ، سنن ابي داوود، مسند ابي حنيفہ، مسند مروزي، تفسير نقاش،تفسير زمخشري جيسے سينکڈوں کتابوں ميں پانچويں امام (ع)  کي درياي علم کي دُرّبي بہا باتيں جگہ جگہ نقل کي گئي ہيں اور جملہ قال محمد بن علي يا قال محمد الباقر ديکھنے کو ملتا ہے-(ابن شھر آشوب ج 4 ص 195)-

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کي قايم کردہ اسلامي مرکز علم(يونيورسٹي) ميں سے مايہ ناز علمي شخصيتيں فقہ، تفسير اور ديگر علوم ميں تربيت حاصل کر گئے جيسے محمد بن مسلم، ذرارہ بن اعين، ابو بصير ، بُريد بن معاويہ عجلي، جابر بن يزيد، حمران بن اعين اور ھشام بن سالم قابل ذکر ہيں-

پانچويں امام (ع)  نے دوسرے ائمہ کے مانند اپني زندگي کو نہ صرف عبادت اور علمي مصروفيت ميں بسر کي بلکہ زندگي کے دوسرے کاموں ميں بھي سرگرم تھے، جبکہ کچھ سادہ لوح مسلمان جيسے محمد بن مُنکَدِر ايسے اعمال کوامام (ع)  کي دنيا پرستي تصور کرتے تھے ، موصوف کہتا ہے”‌ امام کا کھيت ميں زياد کام کرتے ديکھنے کي وجہ سے ميں نے اپنے آپ سے کہا کرتا تھا کہ حضرت (ع)  دنيا کے پيچھے پڑے ہيں لہٰذاميں نے سوچا کہ ايک دن انہيں ايسا کرنے سے روکنےکي نصيحت کروں گا، چنانچہ ميں نے ايک دن سخت گرمي ميں ديکھا کہ محمد بن علي زيادہ کام کرنيکي وجہ سے تھک چکے تھے اور پسينہ جاري تھا ميں آگے بڑھا اور سلام کيا اور کہنے لگا اے فرزند رسول (ص)  آپ مال دنياکي اتني کيوں جستجو کرتے ہيں؟ اگر اس حال ميں آپ پر موت آجائے تو کيا کرينگے، آپ (ع)  نے فرمايا يہ بھترين وقت ہے کيونکہ ميں کام کرتا ہوں تاکہ ميں دوسروں کا محتاج نہ رہوں اور دوسروں کي کمائي سے نہ کھاوں اگرمجھ پر اس حالت ميں موت آئے توميں بہت خوش ہونگا، چونکہ ميں خدا کي اطاعت و عبادت کي حالت ميں تھا-

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام ديگر ائمہ ھدي کے مانند تمام علوم و فنون کے استاد تھے- ايک دن خليفہ ھشام بن عبد الملک نے امام (ع)  کو اپني ايک فوجي محفل ميں شرکت کي دعوت دي جب امام(ع)  وہاں پہنچے وہاں فوجي افسران سے محفل مذين تھي کچھ فوجي افسران تيرکمانوں کو ہاتھوں ميں لئے ايک مخصوص نشانے پر اپنا اپنا نشانہ سادتے تھے، چھٹے امام حضرت جعفر صادق عليہ السلام اس واقعے کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہيں :"جب ہم دربار ميں پہنچے تو ھشام نے احترام کيا اور کہا آپ نذديک تشريف لائيں اور تير اندازي کريں ميرے والد گرامي نے فرمايا ميں بوڈھا ہو چکا ہوں لہٰذا مجھے رہنے دے، ھشام نے قسم کھائي ميں آپ سے ہاتھ اٹھانے والا نہيں ہوں- ميرے والد بذرگوار (ع)  نے مجبور ہو کر کمان پکڑي اور نشانہ ليا تير عين نشانہ کے وسط ميں جاکر لگا آپ (ع)  نے پھر تير ليا اور نشانہ پر جاکر تير مارا جو پہلے تير کو دو ٹکڑے کرديئے اور اصل نشانہ پر جا لگا آپ تير چلاتے رہے يہاں تک کہ 9 تير ہوگئے ھشام کہنے لگا بس کريں اے ابو جعفر آپ تمام لوگوں سے تير اندازي ميں ماہر ہيں"-

آخر ميں امام محمد باقر (ع) کي جابر بن جعفي کو کئے وصيت کا مختصر حصہ آپ قارئين محترم کے نذر کرنے کي سعادت حاصل کرتے ہوئے اميد کرتا ہوں امام کے اقوال ہمارے لئے مشعل راہ اور نمونہ عمل قرار دے-

1. ميں تمہيں پانچ چيزوں کے متعلق وصيت کترا ہوں:

2. اگر تم پر ستم ہو تو تم ستم نہ کرنا-

3. اگرتمہارے ساتھ خيانت ہو تم خائن نہ بنو -

4. اگر تم کو جھٹلايا گيا تو تم غضبناک نہ ہو-

5. اگر تمہاري تعريف ہوئي تو خوشحال نہ ہو اگر تمہاري مذمت ہوئي تو شکوہ مت کرو-تمہارے متعلق لوگ جو کہتے ہيں اس پر غور کرو-پس اگر واقعاً ويسے ہي ہو جيسا لوگ خيال کرتے ہيں -تو اس صورت ميں اگر تم حق بات سے غضبناک ہوئے تو ياد رکھو خدا کي نظر سے گرگئے- اور خدا کي نظر سے گرنا لوگوں کہ نظر ميں گرنےسے کہيں بڑي مصيبت ہے- ليکن اگر تم نے اپنے کولوگوں کے کہنے کے برخلاف پايا تو اس صورت ميں تم نے بغير کسي زحمت کے ثواب حاصل کيا-

يقين جا نو! تم ميرے دوستوں ميں صرف اسي صورت ميں ہو سکتے ہو کہ اگر تمام شہر کے لوگ تم کو برا کہيں اور تم غمغين نہ ہو، اور سب کے سب کہيں تم نيک ہو تو شادمان نہ ہو، اور لوگوں کے برائي کرنے پر خوف زدہ مت ہو، اس لئے کہ وہ جو کچھ کہيں گے اس سے تم کو کوئي نقصان نہ پہنچے گا ، اور اگر لوگ تمہاري تعريف کريں جبکہ تم قرآن کي مخالفت کر رہے ہو بھر کس چيز نے تم کو فريفتہ کر رکھا ہے؟ بندہ مومن ہميشہ نفس سے جہاد ميں مشغول رہتا ہے تا کہ خواہشات پر غالب ہو جائے اور اس امر کيلئے اہتمام کرتا ہے---------

حضرت امام محمد باقر 411ھ ميں خليفہ ھشام بن عبد الملک کے حکم پر زہر دے کر شہيد کردئےگئے- آپ (ع)  57 سال تک وحي الہٰي کي ترجماني کرتے رہے- آپ کے بعد آٹھويں معصوم اور چھٹے امام حضرت جعفر صادق (ع)  آپکے جانشيني پر فائز ہوئے اور آپ (ع)  کے قائم کردہ اسلامي مرکز علم کو وسعت عطا کرکے اسلام ناب محمدي (ص)  کي توضيع و تفسير بيان فرمائي اور ديني محفل ميں قال الصادق قال الصادق کي گونج سنائي دي اورامام جعفر صادق کي بتائي ہوئي اسلام کي تشريح پر چلنے والوں کو جعفري کہا گيا-

خداوند ہميں ان علوم کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کي توفيق عطا فرمائے،(آمين)                                     

بشکریہ: الحسنین ڈاٹ کام

تحریر: ایس ایم شاہ

انسانی زندگی خوشی و غم، مشکلات و آسائشیں، فقر و دولتمندی، بیماری و صحت، خوشحالی و بدحالی، سکون و اضطراب کا مجموعہ ہے۔ زندگی کے بعض مراحل میں انسان  آرام و آسائش میں ہوتا ہے تو دوسرے بعض مراحل میں تنگ دستی و کسمپرسی کے عالم میں لمحات گزار رہا ہوتا ہے۔ کبھی صحت و تندرستی اس کے قدم چومتی ہے تو بسا اوقات بیماریاں اس کی راہ میں آڑے آتی ہیں۔ کبھی خوشیوں سے پھولا نہیں سماتا ہے تو کبھی غم سے نڈھال دکھائی دیتا ہے۔ آج اگر اس کے ہاں مال و دولت کی بھرمار ہے تو کل وہی شخص روٹی کے ایک ٹکڑے کے لئے ترس رہا ہوتا ہے۔ آج اگر اقتدار کے نشے میں مست دکھائی دیتا ہے تو کل کروٹیں بدلنے کے لئے بھی وہ کسی کا محتاج دکھائی دیتا ہے۔ بسا اوقات تو حالات کی نزاکت اور امن و امان کے ناپید ہونے کے سبب مضطرب لمحات گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور پرسکون زندگی خواب بن کررہ جاتی ہے، تو بسا اوقات امن و سکون کی فضا میں لطف اندوز ہونے کا اسے موقع  نصیب ہوتا ہے۔

پس یہ زندگی کے لوازمات ہیں، نہ ان نعمتوں کے ملنے سے انسان کو مغرور و سرکش ہونا چاہیے اور نہ ہی ان سے محرومی پر ناامیدی کے بھنور میں پھنسنا چاہیے، نہ ایوان اقتدار پر قابض ہونے کی صورت میں کسی پر ظلم روا رکھنا چاہیے اور نہ ہی اقتدار کے ہاتھ سے جانے یا اقتدار کے نہ ملنے اور نعمتوں کے سلب ہونے پر گردن جھکا کر مظلوم بن کر ہر کسی کے ظلم کو سہنے اور سہمے سہمے زندگی گزارنے کا عادی بننا چاہیے، نہ مال و ثروت کی بھرمار ہونے پر قارون ثانی بننا چاہیے اور نہ ہی تنگدستی میں مبتلا ہونے کی صورت میں گداگری کو اپنا شیوہ بنانا چاہیے، نہ صحت و تندرستی کے ایام میں عیش و نوش اور لہو و لعب کو اپنا وتیرہ بنانا چاہیے اور نہ ہی بیمار پڑنے پر کفریہ جملوں کا ورد کرنے والا۔ غرض اس دنیا کی ہر نعمت سے ہمکنار ہونا یا ان سے محروم رہنا، دونوں امتحان کے دو متفاوت طریقے ہیں۔

بعض افراد کو اللہ تعالٰی نعمتوں کی کثرت سے آزماتا ہے تو دوسرے بعض کو ان سے محروم رکھ کر آزمائش میں ڈالتا ہے۔ بعض کو تندرستی کے ذریعے ابتلا میں ڈالا جاتا ہے تو دوسرے بعض کو موت و حیات کی کش مکش میں رکھ کر پرکھ لیتا ہے۔ بعض کے ہاتھوں  طناب اقتدار تھما کر آزمائش میں ڈالتا ہے تو دوسرے بعض کو اس سے محروم رکھ کر آزماتا ہے۔ نہ یہاں کی نعمتیں ابدی ہیں اور نہ ہی بلائیں دائمی، بلکہ دونوں گزرا اور وقتی ہیں۔ خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان دونوں حالتوں میں اس اہم امتحان میں کامیاب قرار پائے۔ ہمیں چاہیے کہ دونوں صورتوں میں  اللہ کی رضامندی کو ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے عبادات میں ہمیشہ اپنے سے برتر لوگوں کی طرف دیکھنا چاہیے، جبکہ مال و دولت وغیرہ کی نسبت سے ہمیشہ اپنے سے کمتر لوگوں پر نظر رکھنا چاہیے۔ یوں ہر حالت میں اسے زندگی میں لطف محسوس ہوگا۔

حضرت علیؑ نے فرمایا: اے لوگو! بے شک یہ دنیا جلد گزرنے والی ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والی۔ پس اس گزرنے والی جگہ سے تم ہمیشہ رہنے والی جگہ کے لئے زاد راہ لے کے جانا۔ پس تم اپنے دل سے دنیا کی محبت کو نکال پھینکو، اس سے پہلے کہ تم خود اس سے نکل جاؤ! پس درحقیقت تم آخرت کے لئے خلق کئے گئے ہو، جبکہ دنیا میں تم قید حیات میں ہو۔ جو بھی اس دنیا سے جاتا ہے، تب ملائکہ کہتے ہیں کہ اس نے اپنے لئے آگے کیا بھیجا ہے، جبکہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے کیا چھوڑا ہے۔ پس تم نے خدا کے پاس حاضر ہونا ہے۔ تم اپنے وہاں پہنچنے سے پہلے زاد راہ بھیجو، تاکہ وہاں پہنچنے کے بعد تمہارے لئے فائدہ مند ثابت ہو، ایسا نہ ہو کہ کچھ بھیجے بغیر تم خود وہاں پہنچ جاؤ تو تم دھوکہ کھاؤ گے۔ جان لو کہ دنیا اس زہر کہ مانند ہے، جسے ان جانے میں بھی کوئی پی لیتا ہے تو بھی یہ اس کی جان لے لیتا ہے، ورنہ عاقل تو اس کی طرف ہاتھ ہی نہیں بڑھاتا ہے۔﴿۱﴾ ایک عارف باللہ کے بقول تمام برائیوں کی جڑ ہمارا خدا کو حاضر و ناظر نہ  ماننا ہے۔ اگر کہیں خفیہ کیمرا لگا ہوا ہونے کا احتمال ہو تو ہم ہر وقت محتاط رویہ اپناتے ہیں، جبکہ خدا کے حاضر و ناظر ہونے کا اعتقاد تو ہم رکھتے ہیں، لیکن مقام عمل میں ہم ہر وقت اس سے غافل رہتے ہیں۔

چونکہ انسان کی اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے، لٰہذا اس چند روزہ دنیاوی زندگی کو ابدی زندگی کے لئے زاد راہ فراہم کرنے کا وسیلہ بنانا چاہیے۔ آخرت کی نعمتیں بھی ابدی ہیں اور وہاں کا عذاب بھی ہمیشگی۔ ہوسکتا ہے یہاں کا ایک چھوٹا سا کام اس ابدی زندگی کے سنورنے کا پیش خیمہ بن جائے یا ہلاکت ابدی کا موجب ثابت ہو۔ بے وقوف اور کم عقل ہیں وہ افراد جو آخرت کی ابدی زندگی کو دنیا کی چند روزہ زندگی پر قربان کر دیتے ہیں۔ یہ سودا ایسوں کے لئے بہت ہی مہنگا پڑے گا۔ احادیث کی رو سے اس زندگی کے لمحات بادل کی مانند گزر جاتے ہیں جبکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔﴿۲﴾ رسول اکرمؐ کے فرمان کی رو سے دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔(3) مرنے کے بعد صرف اور صرف انسان کا نیک عمل ہی اس کا کام آئے گا۔ آیئے عہد کیجئے کہ ہم اپنی دنیاوی زندگی کو اخروی زندگی کے لئے پیش خیمہ قرار دیں گے، انسانیت کی خدمت کو اپنا وطیرہ، مسلمانوں کے باہمی اتحاد کے فروغ کی کوشش کو اپنی عادت، ملک اور انسان دشمن عناصر کی سرکوبی کو اپنا شیوہ  اور دوسروں کے دکھ درد بانٹنے کو اپنی فطرت ثانیہ بنا دیں گے۔ یوں ہم دنیا میں بھی سرخرو رہیں گے اور آخرت میں بھی کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔

مآخذ:

1۔ إرشاد القلوب إلى الصواب (للديلمي) / ج‏1 / 19 / الباب الثاني في الزهد في الدنيا ..... ص:16

2۔ نهج البلاغة (للصبحي صالح) / 471 / 21 - ..... ص:471 

3۔ مجموعة ورام/ج‏1/183/ بيان ما يحمد من الجاه ..... ص:183

امام محمّد باقر عليہ السلام ہميشہ اپنے پيروۆں کو اس بات سے خبردار کرتے تھے کہ کہيں وہ راہ حق کي سختيوں کي بنا پر اس سے دست بردار نہ ہوجائيں -آپ فرماتے تھے : حق اور حقيقت کے بيان کي راہ ميں استوار اور ثابت قدم رہئے کيونکہ اگر کسي نے " مشکلات کي بنا پر " حق کا انکار کيا اور اس سے چشم پوشي کي تو وہ " باطل راستے ميں " زيادہ مشکلات سے دوچار ہوجائے گا- امام کي تعبير کے مطابق جادۂ حق روشن اور سيدھا راستہ ہے -اگر انسان اس سيدھے راستے سے ہٹ گيا تو وہ باطل کي بھول بھليوں ميں بھٹک کر بے پناہ مشکلات کا شکار ہو جائے گا -

امام محمّد باقر عليہ السلام کي نظر ميں دانشور دانائي کے مظہر اور حکمران انتظامي طاقتوں کي حيثيت سے قوموں کے سعادت يا شقاوت کے راستے تک پہنچنے کے اہم عوامل ہيں -آپ فرماتے ہيں کہ رسول خدا (ص) نے فرمايا کہ جب بھي ميري امت کے دو گروہ نيک و صالح ہوئے تو ميري پوري امت نيک و صالح ہوگي اور اگر يہ دوگروہ برے اور بدعنوان ہوئے تو ميري تمام امت کو برائي اور بدعنواني کي طرف لے جائيں گے -ان ميں سے ايک گروہ فقہا اور دانشور ہيں اور دوسرا گروہ حکمران اور فرمانروا ہيں -

اموي حکمراں لوگوں ميں امام محمّد باقر عليہ السلام کي مقبوليت سے ہميشہ پريشان اور خوفزدہ رہتے تھے -امام عليہ السلام کے دور ميں کئي اموي حکمران گزرے جن ميں سے ہشام بن عبدالملک نے آپ سے سب سے زيادہ سخت رويہ اور سلوک روا رکھا -اس کے مقابلے ميں امام عليہ السلام نے بھي خاموشي کا راستہ اختيار نہيں کيا اور خوف و وحشت کي فضا کے باوجود حکمرانوں کي برائيوں کو حتيٰ ان کے سامنے بھي آشکار کيا -امام محمّد باقر عليہ السلام ستمگروں اور ظالموں کے ساتھ رويے اور سلوک کے بارے ميں فرماتے ہيں-

اقتدار و طاقت کے ہتھيار کو ان کے خلاف استعمال کرنا چاہئے جو لوگوں پر ظلم اور زمين ميں سرکشي کرتے ہيں -  ان عناصر کے سامنے جان کے ساتھ جہاد کا پختہ عزم رکھنا چاہئے جيسا کہ دل ميں بھي ان کے ساتھ بغض و عداوت رکھني چاہئے -آپ فرماتے ہيں :

جو بھي خدا پر توکل کرے مغلوب نہيں ہوگا اور جس نے بھي گناہ سے خدا کي پناہ مانگي وہ شکست نہيں کھائے گا -

ايک اور مقام پر آپ ارشاد فرماتے ہيں -

بردباري اور شکيبائي دانا اورعالم شخص کا لباس ہے -

امام محمّد باقر عليہ السلام کا ايک اور زريں قول ہے :

خدا کي جانب سے نعمتوں کي فراواني کا سلسلہ نہيں ٹوٹتا ہے مگر يہ کہ بندے شکر کرنا چھوڑديں - (ختم ہوا)

تحریر: ایس ایم شاہ

28 ہزار مربع میل پر مشتمل جنت نظیر گلگت بلتستان قدرتی حسن میں اپنی مثال آپ ہے۔ دنیا کا بلند ترین میدان دیوسائی کا میدان یہاں واقع ہے، دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں دوسرے نمبر پر کے ٹو ہے، یہ بھی یہاں واقع ہے، پاکستان کو چین کا ہمسایہ قرار دینے والا بارڈر بھی یہاں واقع ہے، جہاں سے اقتصادی راہداری کے عنوان سے اب 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سارے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کا سنگم بھی یہاں واقع ہے، معدنیات میں تو یہ ایریا اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں کی معدنیات سے اگر کماحقہ استفادہ کیا جائے تو شاید ہی یہاں کوئی غریب باقی رہ جائے، پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ بھی یہاں ہی سے گزر کر دوسری جگہوں کو سیراب کرتا ہے، یہاں کی آبادی لگ بھگ 20 لاکھ ہے۔ یہاں کے لوگ سادہ زیست، مہمان نواز، شریف النفس، متدین اور اعلٰی درجے کے محب وطن ہیں۔ جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، پاکستان کا سب سے پرامن ترین ایریا یہی ہے، پورے پاکستان میں سب سے کم قیدی یہاں کی جیلوں میں ہیں، محرم الحرام وغیرہ میں وعظ و نصیحت کے ذریعے روحانی اور نفسیاتی علاج کا سلسلہ ہونے کے باعث بہت سارے قیدی جیل سے ہی توبہ کرکے نکل جاتے ہیں، جس کے بعد وہ کبھی بھی کسی جرم کا مرتکب نہیں ہوتا، پاک بھارت مختلف جنگوں میں نہ صرف یہاں کے لوگوں نے ہر قسم کی قربانیاں پیش کی ہیں بلکہ یہاں کے پہاڑوں نے سپر کا اور یہاں کے چٹیل میدانوں نے پاک فوج کی تربیت گاہ کا رول ادا کیا ہے۔

دفاعی اعتبار سے سب سے اہم اور بلند ترین جنگی محاذ "سیاچن" بھی یہاں واقع ہے، ہر مشکل مرحلے پر یہاں کے باسیوں نے مملکت خداداد کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ جہاں یہاں کے باسیوں کی وفاداریاں اور قربانیاں بے شمار ہیں، وہیں یہاں کی محرومیاں بھی ناقابل شمار ہیں۔ پاکستان کو بنے 70 سال بیت جانے کے باوجود ابھی تک 18 سربراہان مملکت بدل چکے ہیں، لیکن ہر حکومت یہاں کے لوگوں کو لالی پاپ اور طفل تسلیوں پر ہی کام چلاتی رہی، ابھی تک آئینی حقوق کا خواب پورا نہ ہوسکا، جس کی بنا پر آج تک اتنا بڑا ایریا نصف وفاقی وزیر (کشمیر+گلگت بلتستان) اور ایک چیف سیکرٹری کے ہاتھوں اسیر ہے، ظاہری طور پر ایک حکومتی سیٹ اپ ہے، لیکن درحقیقت تمام اختیارات کی بازگشت انہی دو افراد کی طرف ہے، بدقسمتی سے آج تک یہاں کے باسیوں میں سے کسی کو بھی ان دونوں عہدوں کے قریب جانے کا بھی موقع فراہم نہیں ہوا، جب بھی حقوق کی بات چلتی ہے تو کشمیر کے مسئلے کو آگے لایا جاتا ہے، حال ہی میں سینیٹ چیئرمین کا بیان بھی بہت ہی افسوسناک ہے۔

یہاں پر وہی سوالات آتے ہیں جو درد دل رکھنے والے یہاں کے باسی کیا کرتے آئے ہیں۔ کیا بھارت سے الگ ہونے کے بعد بھی پاکستان بھارت سے منسلک ہے؟ کیا بنگال کی جدائی کے بعد بھی بنگال کے حقوق کا مسئلہ پاکستان سے مربوط ہے؟ کیا گلگت بلتستان کی آزادی میں کشمیری عوام کا بھی کوئی ہاتھ ہے؟ کیا پاکستان کے بننے کے بعد آج تک کسی کشمیری حکمران نے باضابطہ یہاں کا دورہ کیا ہے؟ کیا آج تک کسی بھی کشمیری حکمران نے یہاں کے حقوق کے لئے کوئی ایک بات بھی کی ہے؟ 73 کے آئین میں  جب کشمیر کے لئے الگ قانونی حیثیت مل رہی تھی تو کیا اس میں گلگت بلتستان کو شامل کیا گیا ہے؟ جب ان  سب کا جواب یقیناً نفی میں ہے تو پھر گلگت بلتستان کا کشمیر کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اگر کبھی بھی مسئلہ کشمیر حل نہ ہو تو گلگت بلتستان کو بھی اس حالت میں رکھا جائے گا؟ یہ کہاں کی منطق ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جسے ایک چھوٹا بچہ بھی سمجھ سکتا ہے۔

چین کی جانب سے راہداری منصوبے کے باعث پریشر بڑھنے کے سبب گذشتہ سال مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں یہاں کی قانونی حیثیت کی تعیین کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، بدقسمتی سے یہاں کے محرومین میں سے کسی کے حصے میں اس کمیٹی کی رکنیت بھی نہیں آئی، ستم بالائے ستم یہ کہ ایک سال سے زیادہ عرصے کے گزرجانے کے باوجود حال ہی میں وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان نے برملا کہا کہ ابھی تک اس کمیٹی کا فیصلہ مجھ تک بھی نہیں پہنچ پایا تو وزیراعظم تک تو دور کی بات ہے۔ در اصل نہ 73 کے آئین میں یہاں کے لئے کوئی شق موجود ہے اور نہ ہی بعد میں جو ترامیم کی گئی ہیں، ان میں کہیں گلگت بلتستان کا نام ہے۔ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے تو آئین میں ترامیم کی جاتی ہیں، لیکن اتنے اہم مسئلے کے لئے آج تک کوئی ایک ترمیم عمل میں نہ آسکی۔

اب تو فاٹا کو بھی قومی دھارے میں لانے کا اعلان ہوگیا۔ قانونی طور پر پانچ سال کی مدت میں وہ باقاعدہ صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ شمار کیا جائے گا۔ وہاں کے عوام کے حوالے سے یہ خبر خوش کن ہے، لیکن یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ پاک فوج کے لئے جتنی مشکلات اس ایریے میں پیش آئیں، شاید ہی کہیں اور آئی ہوں، یہاں سے دہشتگردوں کو مار بھگانے کی خاطر پاک فوج کے 500 سے زائد جوان جام شہادت نوش کرچکے ہیں اور بہت سارے زندگی اور موت کی کشمش میں ہیں۔ جب ان کو آئینی حقوق دیئے جا رہے ہیں تو گلگت بلتستان کو کیوں ان حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ جب تک آئین پاکستان میں ترمیم کے ذریعے گلگت بلتستان کو مستقل صوبہ قرار نہ دیا جائے، باقی تمام صورتیں ناقابل قبول ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں کے عوام، عوامی نمائندے، علماء و عمائدین سب مل کر آئینی حقوق کے لئے یک زبان ہوکر صدائے احتجاج بلند کریں، کیونکہ اب ہمارے لئے آئینی حقوق کا مسئلہ موت و حیات کا مسئلہ ہے۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه