تحریر: ثاقب اکبر

جب ہم نے ایک وسیع تر پلیٹ فارم اور حکمت عملی کی تشکیل پر بات شروع کی تو ایران اور پاکستان میں کئی نشستیں ہوئیں۔ دلائل سے قائل ہو جاتے تھے اور یہی ایک صاف دل انسان کی خوبی ہے کہ وہ جب دلیل کو درست اور قوی پاتا ہے تو اسے تسلیم کرلیتا ہے، لیکن پھر ایک روز کہنے لگے کہ اس پروگرام کو نتیجہ خیز کرنے کے لئے بیس سال مزید درکارہوں گے۔ یہ رفیق فقید روح سعید برادر عزیز ڈاکٹر محمد علی شہید کی بات ہو رہی ہے۔ انھوں نے سچ کہا تھا ’’بیس سال‘‘ بالکل درست، اس لئے کہ جب میں نے پلٹ کر ماضی میں جھانکا تو بیس سال گزر چکے تھے۔ شاید ہم 1974ء میں ملے تھے۔ 1974ء میں جب رجب المرجب کا مہینہ آیا تو بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کے جوار میں واقع علی پارک میں یوم علی ؑ کی مناسبت سے جلسوں کا سلسلہ جاری تھا۔ وہاں پہلی مرتبہ برادر فیض بخش سے ملاقات ہوئی تھی۔ ملک فیض بخش جو بعد میں مفتی جعفر حسین اعلٰی اللہ مقامہ کے داماد ہوگئے اور حال ہی میں ان کی اہلیہ محترمہ کا لاہور میں انتقال پرملال ہوا ہے۔ اللہ ان پر اپنی رحمت فرمائے بحق طٰہٰ و یٰسین و آلہ الطیبین۔ فیض بخش نے مجھ سے آئی ایس او کا ذکر کیا اور اس میں شامل ہونے کی دعوت دی اور پھر جلد ہی ڈاکٹر محمد علی شہید سے ملاقات ہوگئی۔

یہ ملاقات آئی ایس او کے دفتر میں ہوئی، جو اس وقت دربار داتا صاحب کے عقب میں ریٹی گن روڈ پر ہوتا تھا۔ وہاں ’’انجمن وظیفہ سادات و مومنین‘‘ کی ایک بلڈنگ تھی۔ اسی میں یہ دفتر واقع تھا۔ عہدے دار تو اور بھی بہت تھے لیکن اس دفتر اور تنظیم کی روح بے قرار اور ہمہ دم آمادہ و جہد و پیکار ڈاکٹر محمد علی ہی تھے۔ اپنا بنانے کا ہنر انہیں ودیعت کیا گیا تھا۔ وہ خود تو بے آرام و بے قرار رہتے ہی تھے، دوسروں کے دل کو بھی دھڑکنا اور لہو گرم رکھنا سکھا دیتے تھے۔ وہ ہمیشہ بغیر کسی عہدے کے بھی سب سے اہم رہے۔ 1975ء میں راقم نے ایم اے او کالج لاہور میں آئی ایس او کا یونٹ قائم کیا۔ پھر رفاقتوں اور عزیمتوں کا یہ سلسلہ شروع ہوا، جو بیس سال کی بھرپور تاریخ پر مشتمل ہے۔ جب 1994ء کے آخر میں قم المقدسہ میں آئندہ کی حکمت عملی کی بات ہو رہی تھی تو انہی بیس برسوں پر ان کی نظر تھی۔ بیس برس رفاقت اور مشترکہ جدوجہد کو گزر چکے تھے۔

اس دوران میں آئی ایس او پھیل کر ملک گیر ہوگئی۔ جب طلبہ تنظیموں پر بابندیاں عائد کی گئیں اور مارشل لاء اپنی استبدادی اور جبروتی شکل میں ہر طرف پنجے گاڑے جا رہا تھا، جب رسم چلی تھی کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے تو ایسے میں ڈاکٹر محمد علی نقوی آئی ایس او کے صدر تھے۔ آئی ایس او کی توسیع کا مرحلہ تو تھا ہی مشکل، جہاں جہاں موجود تھی وہاں اسے باقی رکھنا اور تنظیم کے نام سے کام کرنا بھی مشکل ہوگیا تھا۔ اس کے لئے ہم نے مشورے کئے اور متبادل راستے تلاش کئے۔ ساتھیوں سے کہا گیا کہ وہ امامیہ لائبیریری یا امامیہ کتاب خانہ جیسے ناموں سے استفادہ کریں۔ ڈاکٹر صاحب نے مختلف ڈویژنوں کے عہدے داروں اور ڈویژنل صدور سے کام جاری رکھنے کا کہا۔ مسجد جعفریہ ملتان روڈ لاہور میں مجلس عاملہ کا اجلاس بلایا گیا۔ راقم اس وقت لاہور ڈویژن کا جنرل سیکرٹری تھا اور انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں زیر تعلیم تھا۔ ھو کے عالم میں تو ’’آہ‘‘ بھی چیخ لگتی ہے، مارشل لاء کی چنگھاڑ کے خوف سے سب پرندے سہم کر اپنے اپنے گھونسلوں میں دبے بیٹھے تھے، ایسے میں آئی ایس او کو قائم رکھنا اور مختلف انداز سے اس کی سرگرمیوں کو جاری رکھنا جتنا مشکل ہوسکتا ہے، اس کا اندازہ کرنا اہل نظر پر چھوڑتا ہوں، لیکن ایسے مشکل دور کے لئے اللہ تعالٰی نے ڈاکٹر محمد علی نقوی کا انتخاب کر رکھا تھا۔

بیس برس کے دوران ہم طرح طرح کی اونچ نیچ سے گزرتے رہے۔ 1978ء میں جب مرکزی صدارت کی ذمہ داری میرے کندھے پر آئی تو یہی وہ سال تھا، جب آئی ایس او ملک گیر ہوگئی۔ کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان، سکھر، حیدرآباد اور کراچی جیسے ڈویژنز میں آئی ایس او کی داغ بیل ڈالی گئی۔ یہی وہ سال ہے جب حضرت امام خمینی کی تحریک رفتہ رفتہ بام عروج کی طرف بڑھنے لگی۔ ادھر شاہی استبداد بھی پورے کروفر سے معرکہ آزما تھا۔ شاہ ایران کے پاکستان آنے کا اعلان ہوا تو ہم نے ایک اشتہار شائع کیا، جس کا عنوان تھا ’’ہم قاتل شاہ کا استقبال نہیں کرتے۔‘‘ یہی سال امام خمینی کے بڑے فرزند آیت اللہ سید مصطفٰی خمینی کی شہادت کا سال ہے۔ اس کے بعد امام خمینی نجف اشرف میں نہ رہ سکے اور وہاں سے ہجرت کرکے فرانس کے نواح میں ایک گاؤں میں جا پہنچے۔ ہم نے پاکستان میں شاہ کے مظالم کے خلاف اور امام خمینی کی تحریک کے حق میں مظاہرے کئے۔ ایک جلوس کربلا گامے شاہ سے نکالا گیا۔ اس خیال سے کہ پولیس اور انتظامیہ ہمیں یہاں سے آگے نہیں جانے دے گی اور ہمیں اسمبلی ہال کے سامنے تک پہنچنا ہے، ڈاکٹر محمد علی کی تجویز پر جلوس کو مختلف مرحلوں میں تقسیم کیا گیا۔ بظاہر یہ جلوس کربلا گامے شاہ میں موجود تھا لیکن کچھ افراد کو گول باغ جسے ناصر باغ بھی کہتے ہیں، پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی اور کچھ سے کہا گیا تھا کہ وہ پہلے ہی سے اسمبلی ہال کے سامنے موجود ہوں۔

راقم چونکہ آئی ایس او کا صدر تھا تو یہ فیصلہ ہوا کہ میں جلوس میں کربلا گامے شاہ میں موجود رہوں گا۔ یہ وہ دن تھے کہ جب عام شیعہ بھی امام خمینی کی تحریک کی حقیقت کو نہ سمجھتے تھے۔ لہٰذا ہمیں خود کربلا گامے شاہ کے اندر سے مخالفت بلکہ معرکہ آرائی کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف ڈاکٹر صاحب آہستہ آہستہ ساتھیوں کو اس جلوس سے نکل کر اسمبلی ہال پہنچنے کی ہدایت کر رہے تھے۔ پھر وہ خود بھی یہاں سے روانہ ہوگئے، ناصر باغ میں موجود ساتھیوں کو بھی اسمبلی ہال پہنچنے کی ہدایت کی گئی اور پولیس کربلا گامے شاہ میں جلوس کو روک کر کھڑی تھی اور لوئر مال پر نکلنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی، جبکہ ایک جلوس ڈاکٹر محمد علی کی قیادت میں اسمبلی ہال کے سامنے پہنچ چکا تھا اور وہ امام خمینی کی حمایت میں اور شاہ ایران کے خلاف نعرے بلند کر رہا تھا۔ ایک پولیس آفیسر نے ڈاکٹر محمد علی سے پوچھا: آپ نے یہ جلوس کہاں سے نکالا، تو انھوں نے بتایا کہ کربلا گامے شاہ سے، پولیس افسر نے پوچھا کہ آپ کو راستے میں کسی نے نہیں روکا؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا: روکا ہوتا تو ہم یہاں کیسے پہنچ جاتے۔

 

بیس برس کی رفاقت اور وہ بھی جو شب و روز ’’ادھر ڈوبے اُدھر نکلے‘‘ کی شکل میں رہی ہو، اسے بیان کرنے کے لئے اور اس کی ترجیحات کو طے کرنے کے لئے بہت فرصت درکار ہے، لیکن شاید ڈاکٹر صاحب اپنے قریبی رفیق سے فرصت کی نہیں فعالیت کی توقع رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یادوں اور تاریخ کا ایک خزانہ سینے میں رکھنے والے ڈاکٹر صاحب کے اس رفیق نے اس موضوع پر بہت کم لکھا جب کہ زندگی کا بڑا حصہ لکھنے پڑھنے میں ہی صرف ہوا ہے۔ البتہ اس بات کا مجھے کھلے دل سے اعتراف ہے کہ اس بیس سالہ رفاقت میں جتنے بڑے معرکے سر ہوئے، وہ ڈاکٹر صاحب کی مخلصانہ اور شجاعانہ ہمراہی کے بغیر ممکن نہ تھے۔ ایک مرحلہ آیا جب مجھے یوں لگا کہ جن حدود کے اندر ہم ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مل کر جدوجہد کر رہے ہیں، ان میں اب شاید زیادہ پھیلاؤ کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ علاوہ ازیں لیڈر شپ کے تصور نے جو نئی شکلیں اختیار کرلی ہیں، ان میں ڈاکٹر صاحب اور ان کے ساتھیوں کے لئے نئی محدودیتیں بھی ایجاد ہوگئی ہیں۔ صفحۂ ذہن پر یہ خیال بھی ابھرا کہ اگر میدان وسیع ہوتا اور بعض محدودیتیں نہ ہوتیں تو ہم اس ملک میں کہیں بہتر اور نتیجہ خیز جدوجہد کرسکتے تھے۔ اللہ تعالٰی نے ڈاکٹر صاحب کو جس درجے کی صلاحیتوں سے نوازا تھا، ان کے لئے میدان کہیں فراخ درکار تھا۔ کبھی اپنے ہی بنائے ہوئے رولز آف بزنس پر نظرثانی کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ ہم اس مرحلے سے بہت حد تک گزر چکے تھے۔

جو میدان ڈاکٹر صاحب شہید نے اپنی نوجوانی سے چن لیا تھا اور جسے ان کے ساتھیوں نے ذوق و شوق سے انتخاب کر لیا تھا، اس کی حدود کو سامنے رکھ کر ابھی کامیابیوں کا صحیح اندازہ نہیں کیا جاسکا۔ طلبہ کی ملک گیر تنظیم یونیورسٹیوں اور کالجوں سے گزرتی ہوئی علاقوں اور محلوں تک جا پہنچی۔ علامہ سید عارف حسین حسینی کی قیادت میں ابھرنے والی نئی تحریک اپنی عوامی مقبولیت میں اہل تشیع کی برصغیر کی ماضی کی تمام تحریکوں سے بازی لے جا چکی تھی۔ اساتذہ، وکلا، مزدوروں اور سرکاری ملازمین، ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر شعبوں کی کئی ایک تنظیمیں فعال ہوچکی تھیں۔ بہت سے سکول اور تعلیمی ادارے ملک کے مختلف حصوں میں نظریاتی اور عصری تعلیم و تربیت کے مراکز کی حیثیت سے معرض وجود میں آچکے تھے۔ علماء کی ایک بڑی تعداد ایک قیادت اور ایک تنظیم کے ساتھ کھڑی ہوچکی تھی۔ عالمی مسائل میں شیعہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے فعالیت کر رہے تھے۔ پاکستان کی سیاست کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی کی جا چکی تھی۔ اس جدوجہد کے اور بھی کئی کہے ان کہے شعبے اور پہلو ہیں، بہت کم وسائل اور امکانات کے ساتھ یہ جو کچھ ہوچکا تھا، کام نہ تھے بلکہ کرامات تھیں جو ظہور میں آچکی تھیں اور کرامات ایمان، للہیت اور ریاضت کے بغیر ظہور میں نہیں آتیں۔ جتنے خوبصورت پھول اس چمنستان میں کھلے تھے، اس کے گل سرسبد کا نام یقینی طور پر ڈاکٹر محمد علی نقوی تھا، لیکن ابھی حیات کا ماحول سازگار نہیں کہ ساری سچائیاں حرفوں اور لفظوں میں پرو کر مالا کی شکل میں عروس وقت کے زیب گلو کر دی جائیں۔

7مارچ 1995ء کی لہو رنگ صبح ڈاکٹر محمد علی سرخرو ہو کر جب عالم بالا کو سدھارے تو اس سے دو روز پہلے 5 مارچ کو انہوں نے اسلام آباد میں اخوت اکادمی کی بنیاد اپنے ہاتھوں سے رکھی اور اپنی جیب سے پیسے نکال کر ایک دوست کو دیئے کہ وہ مٹھائی لے کر آئے، تاکہ مل کر کام و دھن شیریں کرتے ہوئے اخوت اکادمی کا افتتاح کرسکیں۔ یہ اخوت اکادمی دراصل نئی حکمت عملی کی بنیاد کا نام تھا۔ ابھی تو اس کی کونپلیں نکلنا تھیں، ابھی تو نئی دنیا آباد کرنے کے منصوبے ڈاکٹر صاحب اور ان کے قریبی رفقاء کے دل و دماغ میں تھے کہ اچانک سانحہ ہجر رونما ہوگیا۔ پھر جب 2015ء آیا اور میں نے پلٹ کر دیکھا تو ڈاکٹر صاحب کی جدائی کو بیس برس گزر چکے تھے۔ میں نے زیر لب ڈاکٹر صاحب کو پکارا اور کہا: ڈاکٹر صاحب! آپ سچ کہتے تھے پورے بیس برس لگ گئے، اپنوں اور پرایوں کو نئی حکمت عملی کی اصابت اور ضرورت کے لئے قائل کرتے کرتے۔ ہر قدم پر آپ کی ضرورت کا احساس رہا اور ہر قدم پر آپ کی یاد حوصلہ بڑھاتی رہی اور ہر وقت زباں پر اس طرح کے زمزمے ابھرتے رہے کہ ڈاکٹر محمد علی ایک ایسا رفیق راہ تھا کہ جو آنکھوں سے دُور جا کے بھی دل سے نہ جا سکا۔

تحریر: ارشاد حسین ناصر

وہ ہم سب کیلئے نمونہ عمل تھے اور نمونہ عمل وہی ہوسکتا ہے، جس کا کردار و عمل اس کی زبان کی گواہی دے۔ وہ واقعاً کردار کے غازی تھے، ان کی متحرک، فعال تنظیمی و تحریکی زندگی کا جائزہ لیں تو ہر ایک جانتا ہے کہ ان کا اوڑھنا بچھونا، سونا جاگنا، چلنا پھرنا سب کچھ اسلام ناب محمدی کی تبلیغ، ترویج اور عملی نفاذ کیلئے تھا۔ وہ بت شکن زمان حضرت امام خمینی کے سچے اور عملی فدائی تھے۔ وہ ایسے پاکستانی تھے، جنہوں نے اپنے عمل سے انقلاب اسلامی اور نظریہ ولایت فقیہ سے اپنے اخلاص کو دوسروں پر ثابت کیا۔ بانی انقلاب اسلامی امام خمینی کی ذات سے ان کے عشق اور محبت کیلئے ان کی زندگی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ نوزائیدہ انقلاب اسلامی ایران پر جب امریکہ نے اپنے ایجنٹ صدام کے ذریعے حملہ کیا تو اسے امریکہ، نیٹو سمیت تمام عرب ممالک کی مدد حاصل تھی، بتایا جاتا ہے کہ ستاون ممالک صدام کے ساتھ ملکر ایران کو فتح کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے، اس موقعہ پر امام خمینی کی الہٰی شخصیت کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اسلام محمدی سے عشق کرنے والوں کیلئے صبح امید کی حیثیت رکھتے تھے۔ ڈاکٹر شہید ایران اور ایران سے باہر امام خمینی کے کسی بھی بڑے سے بڑے سچے اور کھرے عاشق اور فدائی کی طرح اگلی صف میں شمار ہوتے تھے۔ آٹھ سالہ جنگ تحمیلی کے دوران امام خمینی نے جہاد کی فرضیت کے بارے کوئی فتوٰی نہیں دیا، ہاں بس اتنا کہا کہ جو بھی استطاعت یا طاقت رکھتا ہے، وہ جبھہ یعنی محاذ پر جائے، پاکستان جو ایران کا ہمسایہ ملک ہے اور انقلاب اسلامی ایران کو پسند کرنے والوں کی یہاں بھی بڑی تعداد موجود تھی، ان پاکستانیوں میں سے جس شخصیت نے امام خمینی کی اس خواہش کو سنا اور اسے پورا کرنے کی کوشش کی، وہ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید تھے۔ جو اپنے چند رفقاء کے ہمراہ جبھہ پر پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے محاذ جنگ پر بے انتہا خدمات سرانجام دیں، وہ ڈاکٹر تھے جن کی محاذ جنگ پر اشد ضرورت ہوتی ہے، ان کی خدمات کو اہل ایران ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ان کا زندگی نامہ بحساب عمر بہت مختصر ہے، مگر اس میں کارناموں کا شمار اب بائیس برس گذر جانے کے باوجود نہیں کیا جا سکا، 28 ستمبر 1952ء کو ولادت ہوئی، والد محترم بزرگ عالم دین اور گھر کا ماحول بھی دینی تھا، لہذا ابتدائے زندگی میں ہی دینی رجحان اور قومی افکار و سوچ کو پروان چڑھنے میں مدد ملی۔ قبلہ مولانا سید امیر حسین نقوی والد محترم اور علامہ سید صفدر حسین نجفی سے گہرا رشتہ تھا۔ 1971ء میں ایف ایس سی کا امتحان نمایاں نمبروں سے معروف تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج لاہور سے پاس کیا اور پاکستان کے معروف میڈیکل کالج کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں طب کی تعلیم کیلئے داخل ہوئے جہاں سے 1977ء میں ایم بی بی ایس کیا۔ اسی دوران آپ نے ملک گیر طلباء تنظیم امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی بنیاد سے لیکر قیادت سنبھالی اور اس کی توسیع کئی ایک ڈویژنز تک ممکن بنائی۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سے تا زندگی اپنا تعلق نبھاتے رہے۔ 7 مارچ 1995ء کی دم صبح انہیں لاہور کے معروف یتیم خانہ چوک میں اپنے محافظ تقی حیدر سمیت شہید کر دیا گیا۔ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کئی ایک علماء جن میں مولانا قبلہ مرتضٰی حسین صدر الافاضل، جناب مفتی جعفر حسین قبلہ اور آغا سید علی الموسوی بھی شامل ہیں، سے بہت زیادہ مربوط اور قربت میں رہے۔ ان میں بھی آغا سید علی الموسوی کہ جنہوں نے ساری زندگی امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ساتھ ایک مستقل رکن نظارت اور بانی رہنما کے طور پر گذار دی، ان سے بے حد محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ آغا سید علی الموسوی مرحوم بھی ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کو علماء کی طرح احترام دیتے تھے، وہ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کو صحیح معنوں میں پہچانتے تھے۔

ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کو حضرت امام خمینی کی ذات سے عشق تھا اور وہ انہی کے عشق میں قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی کی ذات میں بھی کھو چکے تھے۔ قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کو اگر پاکستان میں کسی سے اپنا درد بیان کرنا ہوتا تھا تو ان کا اعتماد شہید ڈاکٹر پر ہی تھا۔ سانحہ مکہ (جب حج کے موقعہ پر1987ء میں امام خمینی کے حکم پر برات از مشرکین کے جلوس پر آل سعود کے غنڈوں نے حملہ کیا اور چار سو سے زائد حجاج، مہمانان خدا کو شہید کرکے سرزمین امن کو خاک و خون میں غلطاں کیا) ہوا تو آل سعود کی طرف سے اہل ایران پر حج کی پابندی لگا دی گئی۔ لبنان کے جوانوں پر بھی عمر کے حساب سے پابندیاں لگائی گئیں، امام خمینی کی خواہش تھی کہ حج پر حسب دستور دنیا بھر سے آئے ہوئے حجاج کرام کو اصل حج یعنی براءت از مشرکین کا پیغام یاد کروایا جائے، وہ پیغام جس کو پہنچاتے ہوئے چار سو سے زیادہ ایرانی حجاج نے اپنے خون کی قربانی دی تھی اور جائے امن پر جہاں ایک چیونٹی کو مارنا بھی منع کیا گیا ہے، کو بلا جواز، بلا جرم و خطا خاک و خون میں غلطاں کیا گیا تھا، اس پیغام کو پہنچانے کا انتظام و انصرام اور ذمہ داری فدائے امام خمینی ڈاکٹر محمد علی نقوی کے حصہ میں آئی۔ ڈاکٹر محمد علی نقوی نے تمام تر رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود اس پیغام امام کو احسن طریقہ سے حجاج کرام تک پہنچایا اور اس موقعہ پر اسیر ہوئے، انہیں سزائے موت کا حکم ہوا، مگر انہیں خدا نے مزید کام کا موقعہ دیا اور وہ رہا ہوگئے، انہوں نے رہا ہونے کے بعد بھرپور کام کیا۔

ہمارے بعد بھی رونق رہے گی مقتل میں

ہم اہل دل کو بڑے حوصلے میں چھوڑ آئے

ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لئے نمونہء عمل اور رہنمائی کا ذریعہ ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کا اخلاق، کردار، عمل، میل جول، برتاؤ، اٹھنا بیٹھنا، فلاحی امور کا نیٹ ورک، خدمت خلق سے سرشار معمولات، تعلیمی ترقی و پیشرفت کیلئے اسکول سسٹم کا نیٹ ورک، تنظیمی و تربیتی نشستوں کا احیاء، نوجوانوں کی مختلف میدانوں میں مکمل مدد و تعاون، ذاتی و نجی معاملات میں لوگوں کی درست رہنمائی، دختران ملت کی فعالیت و قومی اجتماعی امور میں ان کی شرکت، ملت کے دفاع و بقا کیلئے خدمات، الغرض ہر حوالے سے ان کی خدمات قابل تقلید نمونہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر شہید نے اپنی زندگی میں امداد فاؤنڈیشن کے نام سے بھی ایک ادارہ بنایا تھا، وہ مستحق اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کرتے تھے، قوم کی بچیوں کی شادی اخراجات سے لیکر اسیران ملت و دہشت گردی سے متاثرہ خانوادوں کی امداد و بحالی کا سلسلہ بھی ان کی کاوشوں سے جاری رہتا تھا اور کئی ایک لوگوں کو چھوٹے پیمانے پر کاروبار کروا کر ان کی مدد کی جاتی تھی، تاکہ وہ اپنے پاؤں پہ کھڑے ہو جائیں۔ ڈاکٹر شہید نے ایک اسکول سسٹم المصطفٰے اسکول کے نام سے قائم کیا، جس کی کئی ایک برانچز ملک کے کئی ایک شہروں میں قائم کی گئی تھیں۔ انہوں نے مختلف سرکاری اسپتالوں میں خدمات سرانجام دیں، وقت شہادت بھی وہ معروف شیخ زہد اسپتال لاہور میں بطور رجسٹرار خدمات سرانجام دے رہے تھے اور صبح اپنے دفتر جانے کیلئے ہی نکلے تھے کہ نشانہ بن گئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے زینبیہ ہسپتال میں بھی بہت معمولی مشاہرہ پر خدمات سرانجام دیں۔ بعد ازاں اسی زینبیہ کمپیکس کے سامنے الزہرا کلینک کے نام سے اپنا فری اسپتال بھی قائم کیا، جہاں بہت ہی غریب اور مستحق لوگ علاج کیلئے آتے تھے، یہ اسپتال آج بھی قائم ہے، جسے ایک معرف سرجن ڈاکٹر شہید کے شہادت سے لیکر آج تک دیکھ رہے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں یہ اسپتال اس علاقے کے لوگوں کیلئے ایک نعمت سے کم نہیں۔

ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید ایک طالبعلم رہنما سے لیکر پروفیشنل سرجن و ڈاکٹر تک اور ایک فلاحی و رفاحی کردار سے لیکر ملت کے زخموں کی مسیحائی تک ہر جگہ اپنی قابلیت و اہلیت کو ثابت کرتے دیکھے گئے۔ انہیں ایک استعمار دشمن کے طور پر سڑکوں و شاہراہوں پہ احتجاج و مظاہرے کرتے بھی دیکھا گیا اور بارگاہ خداوندی میں شب کی تاریکی میں دعا و مناجات اور قول و قرار، توبہ و استغفار کرتے بھی دیکھا گیا۔ وہ ایک مرد مجاہد کے طور پر بھی نظر آئے اور ایک قومی کارکن اور رہنما کے روپ میں بھی انہیں دیکھا گیا۔ وہ جس شعبہ اور جس ذمہ داری پر بھی نظر آتے، کامل اور پرفیکٹ دیکھے جاتے۔ ان کی تقریر بہت لمبی نہیں ہوتی تھی، ہاں مختصر ہونے کے ساتھ بہت ہی پر اثر ضرور ہوتی تھی۔ وہ جس کے ساتھ بھی ملتے اسے اپنا گرویدہ بنا لیتے۔ انہوں نے محبتیں بانٹیں، دکھ بانٹے، درد بانٹے اور پوری زندگی اور شہادت کے بعد بھی محبتیں سمیٹیں، عقیدتیں پائیں، ایک شہید کو جس طرح زندہ نظر آنا چاہیئے، آج وہ محسوس کئے جاتے ہیں۔ ان کی شہادت کو بائیس برس ہو رہے ہیں، مگر دوستوں کی محبت کو دیکھ ایسا لگتا ہے۔۔۔

فصیلِ جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں

حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی

ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید منکسرمزاج، انصاف پسند، دیانت دار، شجر سایہ دار، مقرر اثر پذیر، مفکر عمل گیر، اخلاق حسنہ کی عملی تصویر تھے۔ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید ہمدرد، غمگسار، معاون، مددگار، محسن، متقی پرہیز گار اور بہت ہی ملنسار تھے۔

وہ کربلا کے حقیقی پیرو تھے۔ انہیں صادق و سچا عاشق کربلا کہا جا سکتا ہے۔ جو اے کاش ہم کربلا میں ہوتے نہیں بلکہ اس کا عمل و کردار بتائے کہ جیسے ہم کربلا میں ہیں اور اپنا کردار ادا کرنے کا موقعہ ہے، وہ راہ حسینؑ کا مسافر تھا، جس نے خمینی کی کربلا میں حسینی دعوت پر لبیک کہا اور ایک لمحہ کیلئے بھی اپنی جان کی فکر نہیں کی اور نہ ہی کسی اور رکاوٹ اور بہانے کو سد راہ بنایا۔ کاروان عشاقان امام مہدی، سربازان بت شکن خمینی، پیروان ولایت امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی شکل میں ان کا لگایا ہوا پودا اب تناور درخت کی شکل میں ملت کو چھاؤں فراہم کر رہا ہے۔ مظلوموں و ستم رسیدہ عوام کے درد کو محسوس کرتے ہوئے اس پلیٹ فارم سے ڈاکٹر صاحب کی زندگی، مشن اور اہداف کو حاصل کرنے کی کاوشیں قوم و ملت کے سامنے ہیں۔ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید زندگی میں ایک ایسے محور کی حیثیت رکھتے تھے، جس کے گرد ملک بھر کے تنظیمی، انقلابی، بیدار نوجوان کھنچے چلے آتے تھے۔ ان کی مقناطیسی شخصیت کی کشش سے ہر کوئی ان سے مربوط رہتا تھا اور ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کا یہ کمال تھا کہ وہ مردم شناس ہونے کے ناتے ہر ایک سے اس کی صلاحیتوں کے مطابق کام لیتے تھے، کسی کو بیکار نہ رہنے دیتے تھا۔ ان کی شہادت کے بعد ہم اس مقناطیسیت سے محروم ہوگئے، وقت آج بھی ہمیں پکار رہا ہے۔ آج بھی کام کرنے کی شدید ضرورت ہے، آج بھی سعادت و خوشبختی کا اور شہداء کا راستہ منتظر ہے کہ کوئی محمد علی نقوی بن کر آئے اور ملت کے دردوں کی دوا کرے۔ ان کی برسی کا پروگرام منعقد کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے ان اہداف کو حاصل کرنے کی جدوجہد سے پیہم مربوط رہا جائے، جو شہید نے مقرر فرمائے تھے۔ شہید کی زندگی، خدمات، کمالات، خصوصیات اور اثرات کا احاطہ کرنا نا ممکن ہے۔۔۔۔ بس یہ کہیں گے کہ

میرے خیال نے جتنے بھی لفظ سوچے ہیں

تیرے مقام، تیری عظمتوں سے چھوٹے ہیں

تاریخ اسلام میں ایک ایسی عظیم المرتبت خاتون کا نام افق فضل و کمال پر جگمگا رہا ہے کہ جس کی شخصیت اعلیٰ ترین اخلاقی فضائل کا کامل نمونہ ہے ۔ایسی خاتون جس نے اپنے نرم و مہربان دل کے ساتھ مصائب کے بارگراں کوتحمل کیا ۔لیکن اس بی بی کا عزم محکم حق و حقیقت کے دفاع کی راہ میں ذرّہ برابر متزلزل نہ ہوا ۔جی ہاں گفتگو ثانی زہرا(س) حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے سلسلے میں ہورہی ہے جنہوں نے اپنی گرانقدر حیات طیبہ اسلام اور اس کی حقیقی اقدار کے تحفظ میں گزاردی ۔ خدا کا درود و سلام ہو اس باعظمت خاتون پر جس نے اپنے خطبوں سے اپنے دور میں ناانصافی کی بنیادوں کو ہلاک کررکھ دیا ۔حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی تاریخ وفات و شہادت کے موقع پرآپ سب کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہوئے دین اسلام کی اس عظیم خاتون کے سلسلے میں یہ مقالہ قارئین کی نذر ہے ۔

شہزادی کائناتؑ کے تذکروں کا دائرہ کائنات میں نور کی پہلی کرن پھوٹنے سے لیکر آپ کی فانوس حیات کی روشنی کے گل ہونے والے لمحہ کے در میان موجود وسعتوں سے کہیں زیادہ ہے۔آپ اس عظیم نبی کی بیٹی ہیں جنہوں نے انسانیت کی فکروں کو ترقی سے سرفراز کرکے منزل معراج پر پہنچادیا نیز آپ ایسے مرد الہٰی کی زوجہ ہیں جو حق کا ایک اہم رکن اور تاریخ بشر یت کے سب سے عظیم نبی ؐ کے وجود کا استمرار تھے ۔آپ کمال عقل ،جمال روح،پاکیزہ صفات اور اصل کرم کی آخری منزلوں پر فائز تھیں آپ نے جس معاشرہ میں زندگی بسر کی اسے اپنی ضوفشانیوں سے منور کردیا اور یہی نہیں بلکہ اپنے افکار وخیالات کے نتیجہ میں آپ اس سے کہیں آگے نظر آئیں ،آپ نے رسالت الہٰیہ کے بر پا کردہ انقلاب میں ایسا مقام و مرتبہ حاصل کرلیا اور اس کا اتنا اہم رکن (حصہ)بن گئیں کہ جس کو سمجھے بغیر تاریخ رسالت کو سمجھنا قطعاً ناممکن ہے۔

تحریر: ایس ایم شاه

گنبد خضریٰ سے چند قدم کے فاصلے پر ہی "بقیع قبرستان" ہے۔ جب آپ باب جبریل سے باہر نکلیں گے تو سامنے ہی بقیع قبرستان دکھائی دے گا۔ مسجد نبوی اور بقیع کے درمیان ایک چھوٹی سی سڑک ہے۔ بقیع ہی وہ پہلا قبرستان ہے، جسے صدر اسلام میں پیغمبر اکرم (ص) کے حکم پر مدینہ منورہ میں بنایا گیا۔ یہاں ازواج مطہرات، اصحاب کرام، پیغمبر اکرمؐ کے چچا جناب عباس، حضرت فاطمہ بنت اسد والدہ ماجدہ حضرت علیؑ، حضرت عباسؑ کی مادر گرامی حضرت ام البنین اور  چار ائمہ؛ امام حسن مجتبٰیؑ، امام زین العابدینؑ، امام محمد باقرؑ و امام جعفر صادق ؑ اور بعض تواریخ کے مطابق حضرت عثمان بن عفان بھی یہاں مدفون ہیں۔ مدینے کی طرف ہجرت کے بعد بقیع مسلمانوں کا واحد قبرستان تھا۔ مدینے کے لوگ اسلام سے پہلے اپنے مُردوں کو "بنی حرام" اور "بنی سالم" اور کبھی اپنے گھروں میں ہی دفناتے تھے۔ سب سے پہلی شخصیت جو رسول مقبولؐ کے حکم سے یہاں دفن ہوئیں، وہ عثمان بن مظنون ؓہیں۔ جو حضرت رسول خدا اور حضرت علیؑ کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه