تاریخ بشریت   میں بہت سے ایسی شخصیات آئی  ہیں کہ   جنہوں  نے معصو مانہ  زندگی    گزاری ہیں اگر چہ  بہت سارے لوگ پیغمبر یا امام نہیں تھے لہذا معصومین بھی  ان کے  زندگی   پر فخر اور مباہات کرتے ہوئے  نظر آتے ہیں   ان ذوات میں سے  ایک  حضرت ابولفضل عباس ہے کہ آپ نے ایک معصومانہ زندگی گزاری ہے لہذا  ائمہ علیہم سلام نے  آپ کی بہت ہی مدح و ثنا بیان کی ہیں   چنانچہ حضرت امام جعفر  صادق  آپ کے اوصاف حمیدہ کو ایک حدیث میں سمیٹ کرارشاد فر ماتے ہیں 

 تحریر: سید بشارت حسین تھگسوی

مقدمہ  

جب مذہب کو ظلم کی سیاست کا لباس پہنا کر الٰہی سیاست کا نام دیا جانے لگے ، بادشاہی کے زور پر ظلم و تشدد کا بازار گرم کیا جانے لگے ، پیسے کے زور پر عوام کو ایسے اندھیرے میں دھکیلا جائے کہ وہ حق کی شناخت کھو بیٹھے ،جب حق کو باطل اور باطل کو حق کہا جانے لگے ، ہر طرف عدم مساوات کا ماحول پیدا ہو، ایک طرف دولت و ثروت کی ریل پیل اور دوسری جانب غربت و افلاس عام ہو ، جب بھوکے کو روٹی اور بیمار کو دوا نہ ملے ، کمزوروں سے زندگی کرنے کا حق چھین لیا جائے ۔ تو اس طرح کے ماحول کے بارے میں لوگوں کے کیا تائثرات ہوں گے ؟ یقینا دنیا کے دانشور اور صاحب عقل و شعور اس طرح کے تاریک دور کو ظلم و تعدی ، غیر عادلانہ اور تاریک ماحول قرار دیں گے اور اس کو بدلنے کے لیے اس کے خلاف احتجاج اور جنگ پر آمادہ ہو جائیں گے ۔

جب دنیا میں اس طرح کا غیر عادلانہ دور اور تاریک ماحول رونما ہوتا ہے اور دن کی روشنی رات کی تاریکی کے زیر سایہ آنے لگتی ہے تو پھر حق پسند اور حق گو لوگوں کا ایک مختصر گروہ حق کے راستے پر باطل کے مقابلے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے ۔اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ کربلا کے میدان میں باطل کے مقابلے میں ایک ایسی ہی جنگ لڑی گئی تھی جس میں ایک حق کا علمبردار اپنے چند مخصوص اور مخلص ساتھیوں کے ساتھ باطل کے خلاف اٹھا اور ایسی عظیم الشان قربانی پیش کی کہ حق کا چہرہ روشن اور نمایاں ہو گیا اور باطل شرمندہ و پشیمان کہیں منہ دکھانے کے لائق نہ رہا، ان حق پسندوں نے اپنی قربانی سے انسانیت کو سر بلند کردیا اور اس ظلمت کدے میں اپنے خون سے ہدایت کے چراغ روشن کرکے اپنے معبود حقیقی سے جاملے ۔ 

حق و باطل کی جنگ ابتداء انسانیت سے شروع ہوئی ہے اور تا قیامت جاری رہے گی ،خود پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں کتنی جنگیں لڑی گئیں ، مولا امیر المومنین علیہ السلام کے دور میں اور اس کے بعد ؟ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام جنگوں کے تذکرے کیوں نہیں ہوتے ؟ ان جنگوں میں شہید ہونے والوں کی یاد میں مجالس بپا کیوں نہیں ہوتیں؟ ان کے لئے آج صف عزاء کیوں نہیں بچھائے جاتے ؟ صرف کربلا کے شہداء کے لئے یہ سارے اہتمام کیوں ؟ اس کا جواب سادہ سا ہے : دنیا کے اندر جنگی اصول ہے کہ میدان جنگ میں ہمیشہ جنگ جوانوں ، سپاسالاروں اور پہلوانوں کے درمیان ہوتی ہے لیکن کربلا کی جنگ وہ واحد جنگ ہے جس میں ایک طرف عباس علمدار اور علی اکبر جیسے جوان بھی تھے ، زہیر و بریر جیسے بہادر لوگ بھی تھے تو انہی کے ساتھ حبیب بن ظاہر اسدی اور مسلم بن عوسجہ جیسے عمررسیدہ اصحاب بھی اور عون و محمد اور علی اصغر جیسے بچے بھی ۔حق کی سر بلندی اور باطل کی نابودی کے لئے قیام کرنے والے اس عظیم قافلے میں ہر طبقہ فکر، ہر قوم و ملت اور ہر عمر کے لوگ شامل تھے ۔ اس مختصر مقالے میں ہم اس عظیم واقعے میں بچوں کے کردار پر بحث کریں گے ۔

کربلا میں موجود بچے اور ان کی قربانیاں 

۱۔ عبد اللہ بن الحسین علیہ السلام 

السَّلَامُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُسَيْنِ‏، الطِّفْلِ‏ الرَّضِيعِ  الْمَذْبُوحِ بِالسَّهْمِ فِي حَجْرِ أَبِيه‏.(۱)

سلام ہو شیر خوار عبداللہ بن حسین ؑپر جوتیر کا نشانہ بنا اور اپنے ہی خون میں غلطاں ہوا اور اپنے بابا کے آغوش میں ذبح ہوگئے ۔

عبد اللہ بن حسین علیہ السلام ایک شیر خوار بچہ تھا جو کہ عاشورا کے دن ظہر کے وقت پیدا ہوا تھا اور ان کی ولادت سے شہادت تک کا عرصہ تقریبا ایک گھنٹہ تھا ۔[۲]ان کی ماں ام اسحاق بنت طلحہ بن عبیداللہ بن تیمیہ تھی ۔ام اسحاق کی پہلی شادی حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے ہوئی جن سے طلحہ نامی بیٹا ہوا جو کہ بچپنے میں ہی فوت ہوگئے ۔امام حسن ؑنے اپنی شہادت کے وقت امام حسین  علیہ السلام سے فرمایا: میں اس عورت سے راضی ہوں ،میری وفات کے بعد یہ خاتون اس گھر سے باہر نہ جائے لہذا عدت کی تکمیل کے بعد اس سے شادی کریں ۔امام حسین ؑنے بھائی کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اس خاتون سے شادی کرلی جس کے نتیجے میں فاطمہ بنت الحسین اور عبد اللہ بن الحسین پیداہوئے ۔[۳]جب امام حسین ؑکے تمام یاران و انصار شہید ہوئے تو آپ ؑخیمہ گاہ کی طرف گئے اور گھوڑے سے اتر کر خیمے کے دروازے پر بیٹھ کر اسی وقت دنیا میں آنے والے بچے کے کان میں آذان دی اور امام ؑاس بچے سے وداع فرمارے تھے تو اسی وقت عبداللہ بن عقبہ الغنوی یا ہانی بن ثبیت الحضرمی نے ایک تیر پھینکا جو کہ اس بچے کے نازک گلے میں پیوست ہوگیا اور اپنے بابا کی آغوش میں ابدی نیند سوگئے ۔[۴]

چو خم شد تا ببوسد طفل خود را گلويش تير پيش از وي ببوسد 

۲۔علی بن حسین معروف بہ علی اصغر علیہ السلام 

حضرت علی اصغرؑ کی ماں رباب دختر امرء القیس تھی ۔ علی اصغرؑ کے بارے میں مشہور روایت یہ ہے کہ جب واقعہ کربلا رونما ہوا تو اس وقت وہ چھے ماہ کے تھے جیسا کہ ابی مخنف کہتے ہیں :وله من العمر ستة اشهر..وہ [علی اصغر ] چھے مہینے کا تھا ۔اس حساب سے وہ مدینے میں ہی پیدا ہوئے تھے اور اپنے خاندان کے ساتھ کربلا لائے گئے تھے ۔ان کی شہادت کے حوالے سے کتب تاریخ میں مختلف روایات موجود ہیں لیکن یہاں پر ہم مشہور روایت پر اکتفا کریں گے ۔ جب امام کے تمام جانثار ساتھی شہید ہو چکے اور صرف عورتوں اور بچوں کے علاوہ کوئی بھی باقی نہ رہا تو امام حسین علیہ السلام نے استغاثہ بلند کیا : هَلْ مِنْ ذَابٍ‏ يَذُبُ‏ عَنْ حَرَمِ رَسُولِ اللَّهِ ص هَلْ مِنْ مُوَحِّدٍ يَخَافُ اللَّهَ فِينَا هَلْ مِنْ مُغِيثٍ يَرْجُو اللَّهَ بِإِغَاثَتِنَا هَلْ مِنْ مُعِينٍ يَرْجُو مَا عِنْدَ اللَّهِ فِي إِعَانَتِنَا.[۵]ترجمہ : کوئی ہے جو حرم رسول خدا کا دفاع کرے ؟ کوئی توحید پرست ہے جو خدا سے ڈرے اور ہمیں تنہا نہ چھوڑے؟ ہماری فریاد پر پہنچنے والا کوئی ہے ؟ کوئی مددگار ہے جو ہماری مدد کرے ؟امام کایہ استغاثہ سن کر خیمہ گاہ سے  نالہ و فریاد کی صدائین بلند ہوئیں  تو امام علیہ السلام خیمہ گاہ کی طرف واپس آئے اور انہیں تسلی دی اس کے بعد فرمایا: نَاوِلُونِي عَلِيّاً ابْنِيَ‏ الطِّفْلَ‏ حَتَّى أُوَدِّعَه‏.[۶]میرے چھوٹے بیٹے کو لے آئیے تا کہ اس سے وداع کروں ۔ اس کے بعد اس بچے کو بوسہ دیا اور حضرت ام کلثوم ؑکو دیتے ہوئے فرمایا:يا اختاه اوصيک بولدي الاصغر خيرا فانه طفل صغير وله من العمر ستة اشهر.(۷)اے میری بہن : میں وصیت کرتا ہوں کہ میرے اس چھے مہینے کے بیٹے کی حفاظت کریں ۔ام کلثوم ؑنے عرض کیا :بھائی جان یہ بچہ پیاسا ہے پانی کا ایک قطرہ اسے پلادیجیے ۔ امام حسین ؑنے علی اصغر کو دوبارہ آغوش میں لیا اور دشمن کی طرف چل پڑے اور ان کے سامنے کھڑے ہوکر فرمایا: يا قوم‏ ان‏ لم‏ ترحمونى‏ فارحموا هذا الطفل اما ترونه کيف يتلظّي عطشا‏.[۸]اے لوگو : اگر مجھ پر رحم نہیں کرتے ہو تو اس بچے پر رحم کرو ،کیا تم لوگ نہیں دیکھتےکہ  پیاس کی وجہ سے کس طرح زبان نکال رہا ہے ۔اس وقت حرملہ بن کاہل اسدی نے کمان سے ایک تیر چھوڑا اور اس بچے کو اپنے باپ کی آغوش میں ذبح کیا۔ 

فذبح الطفل من الوريد الي الوريد او الاذن الي الاذن (۹)ایک رگ سے دوسری رگ تک یا ایک کان سے دوسرے کان تک کاٹا گیا۔

امام ؑجلدی سے خیمہ گاہ کی طرف واپس پلٹے اور علی اصغر کے گلے سے تیر کو نکالا اور اسے اپنی بہن زینب سلام اللہ علیہا کے حوالے کیا اور ہاتھوں میں اصغر کے خون کو لے کر آسمان کی طرف پھینکا اور فرمایا:اللهم احکم بيننا و بين القوم دعونا لينصرونا فقتلونا(۱۰)پروردگارا میرے اور اس قوم کے درمیان جنہوں نے مجھے دعوت کر کے بلایا پھر ہمیں قتل کیا ،فیصلہ کر ۔ سید ابن طاووس لکھتے ہیں : امام حسین علیہ السلام نے علی اصغرؑ کے خون کو پھینکنے کے بعد میں فرمایا: هَوَّنَ‏ عَلَيَ‏ مَا نَزَلَ بِي أَنَّهُ بِعَيْنِ اللَّهِ.[۱۱]جو بھی مجھ پر نازل ہوتا ہے میرے لئے آسان ہے کیونکہ خدا دیکھ رہا ہے ۔اس وقت ندائے غیبی حسین علیہ السلام کے کانوں تک پہنچی : دعه‏ يا حسين‏ فان له مرضعا في الجنة]۱۲]اے حسین اسے چھوڑ دیں کیونکہ خدا نے اس کے لئے بہشت میں ایک دایہ مقرر کیا ہے ۔ اس کے بعد امام حسین علیہ السلام گھوڑے سے اترے اور تلوار سے ایک چھوٹی سی قبر کھودی اور اس خون سے رنگین نازک جسم کو دفن کیا ۔ [۱۳]

۳۔ حسن بن حسن [حسن مثنیٰ]

حضرت امام حسن علیہ السلام کے بیٹوں میں سے ایک حسن بن حسن المعروف حسن مثنیٰ ہیں ان کی والدہ خولہ دختر منظور ہے ۔ [۱۴]اس کی سال ولادت تاریخ میں کہیں پر بھی واضح نہیں تا ہم بعض نے لکھا ہے کہ روز عاشورا اس کی عمر سترہ سال تھی۔[۱۵]حسن مثنیٰ نے اپنے چچا امام حسینؑ کی بیٹی فاطمہ سے نکاح کیا ، ان کا نکاح مدینہ سے قافلے کے نکلنے کے بعد راستے میں ہوا اور کربلا میں فاطمہ ایک نئی نویلی دلہن تھی ۔ سید ابن طاووس کے مطابق حسن مثنی نے عاشورا کے دن سترہ دشمنوں کو واصل جہنم کیا اور ان کے جسم مبارک پر اٹھارہ زخم آئے ۔ [۱۶]بہت زیادہ خون بہنے کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگئے اور میدان میں گر پڑے، دشمنوں نے سمجھا کہ وہ مارے گئے ہیں ۔ گیارہ محرم کو جب عمر سعد کے حکم پر سروں کو جسموں سے جدا کیا جارہا تھا تو دیکھا کہ وہ ابھی زندہ ہے ۔ اسماء بن خارجہ فزاری  جو کہ خود شامی فوج میں تھا مگر حسن مثنیٰ کی والدہ کا رشتہ دار  تھا ، اس نے کہا : یہ میرے حوالے کردیں اگر عبیداللہ بن زیاد  مجھے بخش دیں تو ٹھیک ورنہ جو وہ حکم دے گا اس پر عمل کروں گا ۔اسماء ،حسن مثنیٰ کو کوفہ لے گیا ، جب ابن زیاد کو صورت حال سے آگاہ کیا تو اس نے کہا : اسے اسماء کے حوالے کیا جائے ۔ اسماء نے اس  کا علاج کیا اور اسے مدینہ واپس بھیج دیا۔[۱۷]مشہور یہ ہے کہ حسن مثنیٰ ؑکو پینتیس سال کی عمر میں اموی خلیفہ عبدالملک کے حکم پر زہر دیا گیا اور ان کا قبر مبارک بقیع میں ہے ۔[۱۸]

۴۔ قاسم بن الحسن علیہ السلام 

کربلا کی تاریخ کا ایک بہادر نام قاسم بن الحسن ہے ، ان کی والدہ ماجدہ کا نام رملہ ہے ۔ ان کی زندگی کے بارے میں تفصیلات میسر نہیں مگر روز عاشورا ان کی شجاعت اور بہادری کے داستان تمام کتب تاریخ و سیر میں موجود ہے ۔ابو حمزہ ثمالی روایت کرتے ہیں : عاشورا کی رات جب امام حسین علیہ السلام نے اتمام حجت کے لئے تمام ساتھیوں کو جمع کیا اور فرمایا: کل سب مارے جائیں گے جو بھی جانا چاہے چلا جائے  ۔ با وفا ساتھیوں نے یکے بعد دیگرے  وفاداری کا اعلان کیا تو اس وقت یہ بہادر بچہ بھی اپنی جگہ سے اٹھا اور کہا: اے چچا جان کیا میں بھی مارا جاوں گا یا نہیں ؟ امام ؑنے پوچھا : يَا ابْنَ أَخِي كَيْفَ‏ الْمَوْتُ‏ عِنْدَك‏۔ اے میرے بھتیجے تمہیں موت کیسی لگتی ہے ؟ قاسم نے کہا : يَا عَمِّ أَحْلَى مِنَ الْعَسَل‏۔ اے چچا شہد سے بھی زیادہ شیرین ہے ۔امام ؑنے فرمایا : خدا کی قسم تو بھی یقینا مارا جائے گا ۔[۱۹]

علامہ محمد باقر مجلسی لکھتے ہیں : اکثر روایتوں کے مطابق حضرت قاسم بن الحسن ؑعاشورا کے دن ایک نابالغ بچہ تھا ۔جب امام حسین علیہ السلام نے اسے جنگ کے لئے تیار دیکھا تو اسے سینے سے لگا کر اس قدر دونوں روئے کہ بے ہوش ہوگئے جب ہوش میں آئے تو قاسم نے جنگ کی اجازت طلب کی مگر امام حسین علیہ السلام نے انکار کیا تو قاسم بن الحسن نے امام کے مبارک ہاتھوں اور پیروں کو اس قدر بوسہ دیا کہ امام سے جنگ کی اجازت لینے میں کامیاب ہوئے ۔ حضرت قاسم ؑآنسو بہاتے ہوئے میدان کی طرف گئے اور ان الفاظ میں رجز خوانی کی :

ان تنکروني فانا ابن الحسن سبط النبيّ المصطفي المئوتمن 

هذا  حسين کالاسير المرتهن بين اناس لا سقو ا صوب المزن 

ترجمہ : اگر مجھے نہیں جانتے تو جان لیں میں پیغمبر اسلام کے نور نظر حسن ؑکا بیٹا ہوں ، یہ حسین ؑہیں جو لوگوں کے ہاتھوں اسیر ہیں خدا ان لوگوں کو کبھی بھی سیراب نہ کرے ۔ان کا چہرہ چودہویں کے چاند کی مانند چمک رہا تھا ۔ اس کم سنی میں اس قدر دلیری سے لڑے کہ ۳۵ دشمنوں کو جہنم میں پہنچایا ۔[۲۰]طبری لکھتے ہیں: حمید بن مسلم کہتا ہے : میں ابن سعد کی فوج میں تھا اتنے میں ایک جوان کو دیکھا جو میدان کی طرف آرہا تھا اور وہ چاند کا ٹکڑا جیسا تھا ، ہاتھ  میں تلوار اور بدن پر ایک پیراہن تھا اس کا ایک جوتا پھٹا ہوا تھا میں نہیں بھول سکتا کہ وہ بائیں طرف کا جوتا تھا ۔ ابن سعد نے کہا : خدا کی قسم میں اس پر سخت ترین حملہ کروں گا اور یہ کہتے ہوئے ایک تلوار اس کے سر مبارک پر مارا اور یہ جوان "یا عماہ" کی صدا بلند کرکے زمین پر گر پڑے ۔امام حسین علیہ السلام تیزی کے ساتھ اس کے سرہانے پہنچے اور فرمایا: بُعْداً لِقَوْمٍ‏ قَتَلُوكَ وَ مَنْ خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيكَ جَدُّكَ ثُمَّ قَالَ عَزَّ وَ اللَّهِ عَلَى عَمِّكَ أَنْ تَدْعُوَهُ فَلَا يُجِيبُكَ أَوْ يُجِيبُكَ فَلَا يَنْفَعُكَ. جس قوم نے تجھے قتل کیا ہے وہ خدا کی رحمت سے دور اور قیامت کے دن آپ کے جد بزرگوار کے دشمنوں میں سے ہے ۔خدا کی قسم تیرے چچا کے لیے انتہائی سخت مرحلہ ہے کہ تو نے آواز دی مگرمیں  جواب نہ دے سکا اگر دے بھی دیا تو اس وقت کہ کوئی فائدہ نہ ہوا ۔امام حسین ؑ قاسم کے بدن کو خیمہ گاہ کی طرف لے گئے اور باقی شہدا  کے ساتھ لٹادیا ۔[۲۱]

۵۔ امام باقرعلیہ السلام 

شیخ مفید لکھتے ہیں : امام سجاد علیہ السلام کے کل پندرہ بچے تھے جن میں سے صرف امام باقر علیہ السلام کربلا میں موجود تھے ۔امام باقر کی والدہ ماجدہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام  کی بیٹی فاطمہ ہے ۔آپ یکم رجب المرجب ۵۷ ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور اپنے والد گرامی اور دادا کے ہمراہ کربلا میں موجود تھے اور اپنی مبارک آنکھوں سے عاشورا کی ان عظیم مصیبتوں کا نظارہ کیا ۔[۲۲]

۶۔ عون و محمد 

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شادی ان کے چچازاد بھائی عبداللہ بن جعفر سے ہوئی اور ان سے کئی اولاد اللہ عطافرمائیں۔ ان کے نام علی ، عون ، عباس، محمد ، اور ام کلثوم ہیں ۔[۲۳]ان میں سے عون اور محمد کربلا میں جناب زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ موجود تھے ۔محمد بن عبداللہ  امام حسین علیہ السلام کی اجازت سے میدان میں گئے اور دس لوگوں کو  جہنم رسید کرنے کے بعد عامر ابن نہشل تمیمی کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔ اس کے بعد ان کا بھائی عون میدان کی طرف گئے اور اکیس دشمنوں کو واصل جہنم کیا ،آخر کار عبداللہ بن قطنہ نبہانی کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔[۲۴]

اس کے علاوہ عبداللہ بن مسلم بن عقیل ، محمد بن مسلم ، محمد بن ابی سعد، عمرو بن جنادہ ، قاسم بن حبیب اور دیگر بچے بھی کربلا میں موجود تھے اور امام حسین علیہ السلام کے رکاب میں شہید ہوئے ۔

تاریخ کربلا کے دقیق مطالعے سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ یہ عظیم سانحہ ایسے ہی مشہور اور معروف نہیں ہوا بلکہ اس میں تمام صنف اورمختلف عمر کے لوگوں نے جان کی باز ی لگائی۔ اسی لیے مولا حسین علیہ السلام نے فخریہ انداز میں فرمایا: مجھے جو اصحاب و اعوان ملے ہیں وہ میرے نانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور میرے بابا علی مرتضیٰ علیہ السلام کو بھی نہیں ملے ۔دعا ہے کہ ہمیں بھی سیرت انصار الحسین پر چل کر قیامت کے دن انہی کے ساتھ محشور ہونے کی توفیق عطافرمائے۔

حوالہ جات و منابع :

1) مجلسی ، علامہ باقر ، بحار الانوار ج ۴۵، ص ۶۶

2) احمد بن یعقوب  ، تاریخ یعقوبی ، ج۲ ، ص ۲۴۵

3) شیخ عباس قمی ، نفس المہموم ،ص ۳۴۲

4) تاریخ یعقوبی ،ج ۲ ، ص ۲۴۵

5) مقتل خوارزمی ، ج۲ ، ص ۳۲، مقتل لہوف ،ص ۱۱۶

6) بحارالانوار، ج۴۵ ، ص ۴۶

7) مقتل ابی مخنف ، ص۱۲۹

8) مہدی مازندرانی ، معالی السبطین ، ج۱، ص ۲۵۹

9) مہدی مازندرانی ، معالی السبطین ، ج۱ ، ص ۲۵۹

10) شیخ عباس قمی ، نفس المہموم ، ص ۲۱۶

11) مقتل اللہوف ،ص ۱۱۷

12) شیخ عباس قمی ، نفس المہموم ، ص ۲۱۷

13) مقتل خوارزمی ، ج۲ ، ص ۳۲

14) شیخ مفید ، الارشاد ،ص ۳۶۰

15) اعیان الشیعہ ،ج۵، ص ۴۳

16) مقتل اللہوف ،ص ۱۴۵

17) دائرۃ المعارف الشیعہ ،ج۸ ،ص ۶۲

18) شیخ مفید ، الارشاد ، ص ۳۶۶

19) محمد تقی سپہر، ناسخ التواریخ ، ج۲ ، ص ۲۲۰

20) بحارالانوار ، ج ۴۵ ص ۳۶

21) تاریخ طبری، ج ۴، ص ۳۴۱/الارشاد ، ص ۴۶۱، مقتل اللہوف ، ص ۱۱۵

22) الارشاد ، ص ۵۰۶

23) اعیان الشیعہ ، ج ۷ ، ص ۱۳۷

24) مناقب آل ابی طالب ،ج ۳، ص ۲۵۴

 

حضرت علی علیہ السلام آپ اپنی جود و سخا ،عدالت، زہد، جہاد اور حیرت انگیز کارناموں میں اس امت کی سب سے عظیم شخصیت ہیں دنیائے اسلام میں رسول اللہ (ص) کے اصحاب میں سے کوئی بھی آپ کے بعض صفات کا مثل نہیں ہوسکتا۔  آپ کے فضائل و کمالات اور آپ کی شخصیت کے اثرات زمین پر بسنے والے تمام مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے زبان زد عام ہیں، تمام مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عرب یا غیرعرب کی تاریخ میں آپ کے بھائی اور ابن عم کے علاوہ آپ کا کو ئی ثانی نہیں ہے ہم ذیل میں آپؑ کے بعض صفات و خصوصیات کو قلمبند کررہے ہیں :

کعبہ میں ولادت

 تمام مؤرخین اورراویوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپؑ کی ولادت با سعادت خانۂ کعبہ میں ہوئی۔ آپ کے علاوہ کوئی اور خانۂ کعبہ میں پیدا نہیں ہوا ،اور یہ اللہ کے نزدیک آپ کے بلند مرتبہ اور عظیم شرف کی علامت ہے ،اسی مطلب کی طرف عبد الباقی عمری نے اس شعر میں اشارہ کیا ہے :اَنْت العلیُّ الذی فوق العُلیٰ رُفِعاببطن مکۃ عند البیت اِذْوُضِعَا’’آپ وہ بلند و بالا شخصیت ہیں جو تمام بلندیوں سے بلند و بالا ہیں اس لئے کہ آپ کی ولادت مکہ میں خانہ کعبہ میں ہوئی ہے ‘‘۔بیشک نبی کے بھائی اور ان کے باب شہر علم کی ولادت اللہ کے مقدس گھر میں ہوئی تاکہ اس کی چوکھٹ کو جلا بخشے،اس پر پرچم توحید بلند کرے ،اس کو بت پرستی اور بتوں کی پلیدی سے پاک وصاف کرے ، اس بیت عظیم میں ابوالغرباء ،اخو الفقراء ، کمزوروں اور محروموں کے ملجأ و ماویٰ پیدا ہوئے تاکہ ان کی زندگی میں امن ،فراخدلی اور سکون و اطمینان کی روح کوفروغ دیں ، ان کی زندگی سے فقر و فاقہ کا خاتمہ کریں ،آپکے پدر بزرگوار شیخ بطحاء اور مومن قریش نے آپ کا اسم گرامی علی ؑ رکھا جو تمام اسماء میں سب سے بہترین نام ہے۔

اسی لئے آپ اپنی عظیم جود و سخا اور حیرت انگیز کارناموں میں سب سے بلند تھے اور خداوند عالم نے جو آپ کو روشن و منورعلم و فضیلت عطا فرمائی تھی اس کے لحاظ سے آپ اس عظیم بلند مرتبہ پر فائز تھے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔امیر بیان اور عدالت اسلامیہ کے قائد و رہبرنبی کی بعثت سے بارہ سال پہلے تیرہ رجب ۳۰ عام الفیل کو جمعہ کے دن پیدا ہوئے 

القاب 

امیر حق نے آپ کو متعدد القاب سے نوازا جو آپ کے صفات حسنہ کی حکایت کرتے ہیں ،آپ کے القاب مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔صدیق؛ آپ کو اس لقب سے اس لئے نوازا گیا کہ آپ ہی نے سب سے پہلے رسول اللہ کی مدد کی اور اللہ کی طرف سے سول ر نازل ہونے والی چیزوں پر ایمان لائے ، مولائے کائنات خود فرماتے ہیں :’’اَناالصدیق الاکبرآمنت قبل ان یومن ابوبکرواسلمتُ قبل ان یسلّم ‘ ‘۔’’میں صدیق اکبر ہوں ابوبکر سے پہلے ایمان لایاہوں اور اس سے پہلے اسلام لایاہوں ‘‘۔

۲۔وصی؛ آپ کو یہ لقب اس لئے عطا کیا گیا کہ آپؑ رسول اللہ (ص) کے وصی ہیں اور رسول خدا نے اس لقب میں اضافہ کرتے ہوئے فرمایا : ’’اِنَّ وَصِیّي،وَمَوْضِعَ سِرِّی،وَخَیْرُمَنْ اَتْرُکَ بَعْدِیْ،وَیُنْجِزُعِدَتِیْ،وَیَقْضِیْ دَیْنِیْ،عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ‘‘۔’’میرے وصی ،میرے راز داں ،میرے بعد سب سے افضل ،میرا وعدہ پورا کرنے والے اور میرے دین کی تکمیل کرنے والے ہیں ‘‘۔

۳۔فاروق؛ امام ؑ کو فاروق کے لقب سے اس لئے یاد کیا گیا کہ آپ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔یہ لقب نبی اکرم ﷺ کی احادیث سے اخذ کیا گیا ہے ،ابو ذر اور سلمان سے روایت کی گئی ہے کہ نبی نے حضرت علی ؑ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :’’اِنّ ھٰذَااَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِیْ،وھٰذَا اَوَّلُ مَنْ یُصَافِحُنِیْ یَوْمَ القِیَامَۃِ،وَھٰذَا الصِّدِّیْقُ الْاَکْبَرُ،وَھٰذَا فَارُوْقُ ھٰذِہِ الاُمَّۃِ یَفْرُقُ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ‘‘۔

’’یہ مجھ پر سب سے پہلے ایمان لائے ،یہی قیامت کے دن سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کریں گے ،یہی صدیق اکبر ہیں ،یہ فاروق ہیں اور امت کے درمیان حق و باطل میں فرق کرنے والے ہیں ‘‘۔

۴۔یعسوب الدین؛ لغت میں یعسوب الدین شہد کی مکھیوں کے نَر کو کہا جاتا ہے پھر یہ قوم کے صاحب شرف سردار کیلئے بولا جا نے لگا،یہ نبی اکرم (ص) کے القاب میں سے ہے ،نبی اکر م ﷺنے حضرت علی ؑ کو یہ لقب دیتے ہوئے فرمایا: ھٰذَا(واشارَالی الامام )یَعْسُوْبُ المُؤمِنِیْنَ،وَالْمَالُ یَعْسُوْبُ الظَّا لِمِیْنَ‘‘’’یہ (امام ؑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا )مو منین کے یعسوب ہیں اور مال ظالموں کا یعسوب ہے‘‘۔

۵۔ امیر المومنین؛ آپ کا سب سے مشہور لقب امیر المو منین ہے یہ لقب آپ کو رسول اللہ نے عطا کیا ہے روایت ہے کہ ابو نعیم نے انس سے اور انھوں نے رسول اللہ (ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے :’’ یاانس، ’’اسْکُبْ لِیْ وَضُوء اً ‘‘اے انس میرے وضو کرنے کے لئے پانی لاؤ‘‘پھر آپ نے دورکعت نماز پڑھنے کے بعد فرمایا:’’ اے انس اس دروازے سے جو بھی تمہارے پاس سب سے پہلے آئے وہ امیر المومنین ہے ، مسلمانوں کا سردار ہے ،قیامت کے دن چمکتے ہوئے چہرے والوں کا قائد اور خاتم الوصیین ہے ‘‘ ، انس کا کہنا ہے :میں یہ فکر کررہاتھا کہ وہ آنے والا شخص انصار میں سے ہو جس کو میں مخفی رکھوں ، اتنے میں حضرت علی ؑ تشریف لائے تو رسول اللہ نے سوال کیا کہ اے انس کون آیا ؟ میں (انس ) نے عرض کیا : علی ؑ ۔ آپ نے مسکراتے ہوئے کھڑے ہوکر علی ؑ سے معانقہ کیا ،پھر ان کے چہرے کا پسینہ اپنے چہرے کے پسینہ سے ملایااور علی ؑ کے چہرے پر آئے ہوئے پسینہ کو اپنے چہرے پر ملا اس وقت علی ؑ نے فرمایا: ’’یارسول اللہ میں نے آپ کو اس سے پہلے کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا؟ آنحضرت نے فرمایا:’’میں ایسا کیوں نہ کروں جب تم میرے امور کے ذمہ دار،میری آواز دوسروں تک پہنچانے والے اور میرے بعد پیش آنے والے اختلافات میں صحیح رہنما ئی کرنے والے ہو ‘‘۔

۶ حجۃ اللہ؛ آپ کا ایک عظیم لقب حجۃ اللہ ہے، آپ خدا کے بندوں پر اللہ کی حجت تھے اور ان کومضبوط و محکم راستہ کی ہدایت دیتے تھے ،یہ لقب آپ کو پیغمبر اکرم (ص) نے عطا فرمایا تھا ،نبی اکرم (ص)نے فرمایا:’’میں اور علی ؑ اللہ کے بندوں پر اس کی حجت ہیں‘‘۔یہ آپؑ کے بعض القاب تھے ان کے علاوہ ہم نے آپؑ کے دوسرے چھ القاب امام امیر المومنین کی سوانح حیات کے پہلے حصہ میں بیان کئے ہیں جیسا کہ ہم نے آپؑ کی کنیت اور صفات کا تذکرہ بھی کیا ہے۔آپ کی پرورش حضرت امیر المو منین ؑ نے بچپن میں اپنے والد بزرگوار شیخ البطحاء اورمو منِ قریش حضرت ابوطالب کے زیر سایہ پرورش پائی جو ہر فضیلت ،شرف اور کرامت میں عدیم المثال تھے ،اور آپ کی تربیت جناب فاطمہ بنت اسدنے کی جو عفت ،طہارت اور اخلاق میں اپنے زمانہ کی عورتوں کی سردار تھیں انھوں نے آپ کو بلند و بالا اخلاق ،اچھی عا دتیں اور آداب کریمہ سے آراستہ و پیراستہ کیا۔

ماخوذ از کتاب ائمہ اہل بیت(ع) کی سیرت، طبع مجمع جہانی اہل بیت(ع)

ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ

 

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

نبی اکرم نور مجسم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ پر نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بوڑھے آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت راہ میں بڑی رکاوٹ تھے۔ نوجوان ان کے اشاروں پر آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو تکلیف اور ایذاء پہنچاتے تھے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاشق صادق حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو تپتی ہوئی ریت پر لٹانے والے نوجوان ہی تھے جو بڑوں کے اشاروں پر عاشق رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کو ستا رہے تھے۔

لیکن دوسری طرف رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ابتدائی ساتھیوں کی لسٹ پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی 10 سال کا، کوئی 18 سال کا، کوئی 20 سال کا تھا۔ زیادہ سے زیادہ تیس یا پینتیس سال کی عمر کے تھے جو اسلام پر ثابت قدم رہے اور رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سچا ساتھ دیکر ایک ایسا عظیم انقلاب لائے جو صدیوں تک قائم رہا۔ جس کا اثر آج بھی ہے اور قیامت تک اس کا اثر جاری رہے گا۔ آئیں تو رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان ساتھیوں پر ایک نظر ڈالیں جنہوں نے حبیب خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت دل و جان سے کی اور ہمیشہ اسلامی تعلیمات پرعمل پیرا رہے۔

پہلا نوجوان جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا وہ حضرت علی علیہ السلام تھے۔ جب آقائے نامدار احمد مختار صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کلمہ شہادت پڑھنے کی دعوت دی تو تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کلمہ پڑھ کر غلامان مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شامل ہو گئے۔ آگے چل کر بڑے بڑے کافروں کو شکستیں دیں۔ اسداللہ (شیر خدا) اور فاتح خیبر جیسے القاب حاصل کیے۔ الغرض ماضی کا نوجوان حبیب خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و اطاعت میں بے مثال تھا، اگر انہیں اطاعت کا پیکر کہیں تو بے جا نہ ہو گا۔

اس کا ادنیٰ مثال ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔ جن راہوں سے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم گذرتے تھے تو وہ آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کے نشان ڈھونڈتے، ان راہوں پر چلنے کی کوشش کرتے تھے۔ سبحان اللہ اس حد تک اطاعت تھی، لیکن افسوس کہ آج ملت اسلامیہ کا نوجوان مختلف نظر آتا ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑی بڑی سنتوں کا تارک بلکہ فرضوں کو بھی بھلا بیٹھا ہے۔ آج کے مسلم نوجوان نے نظریاتی طرح نہیں بلکہ عملی طرح بھی حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی ہے۔ اگر حضور صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر کھانے پینے کا حکم فرمایا ہے تو مسلم نوجوان کھڑے ہو کر کھاتے پیتے ہیں، اگر حضور صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکوں جیسی وضع قطع بنانے سے منع فرمایا ہے تو آج کا مسلم نوجوان غیروں کی تقلید پر فخر کرتا ہے، اگر کوئی انہیں منع کرتا ہے تو اسے تنگ نظر وغیرہ کے القاب دے دیتے ہیں، کہتے ہیں لوگ آسمانوں پر پہنچ گئے آپ ہمیں زمین پر چلنے نہیں دیں گے اور خود کو ترقی کی راہ پر گامزن تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ ڈاکٹر محمد اقبال نے فرمایا ہے ”مسلمان نے فرنگی بن کر ترقی کی تو یہ فرنگی کی ترقی ہے مسلمان کی نہیں۔“

ماضی کے مسلم نوجوان جذبہ سے سرشار صبر و استقامت کے پیکر تھے۔ انہیں اپنی جان سے زیادہ عزیز اسلام اور اسلام کا لانے والا تھا۔ ایسے مسلم نوجوانوں میں سے دو کمسن بھائی معوذ و معاذ رضی اللہ عنہما مشہور ہیں جنہوں نے حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بڑے دشمن ابوجہل کو جہنم رسید کیا۔ مسلمانوں کے سپہ سالار عقبہ بن نافع نے آفریقہ کا علاقہ فتح کیا حالانکہ خشکی ختم ہوگئی۔ اسپین میں نوجوان سپہ سالار طارق بن زیاد نے مٹھی بھر مجاہدوں سے لاکھوں کے لشکر کو شکست دی۔

19 سالہ نوجوان محمد بن قاسم نے سندھ کا علاقہ اس وقت فتح کیا جس وقت یہاں جہالت عروج پر تھی۔ جہالت کے دور میں مسلم نوجوان کرنوں کی طرح چمکے، اسپین میں علم کی روشنی پہنچی اور سندھ کو امن اور سلامتی والا مذہب ملا اور اسے ''باب الاسلام'' کا شرف حاصل ہوا۔ جب مسلم نوجوان حاکم محمد بن قاسم واپس جانے لگے تو مقامی لوگوں نے آپ کو روکنے کی بڑی کوشش کی۔ جب وہ واپس ہونے لگے تو لاکھوں کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ ان مسلم نوجوانوں نے اپنے حسن اخلاق اور بے داغ کردار سے لوگوں کے دل موہ لیے۔ ایسے نوجوان ہی مسلمان کہلوانے کے حقدار تھے جو اخلاق وکردار میں، معرکہ تیغ و تلوار میں اور عشق و اطاعت احمد مختار صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سب سے آگے تھے۔ لیکن آج کا مسلم نوجوان اسکے برعکس ہے۔ بزرگوں کی وہ آنکھیں جو ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کی جدائی میں اشک بار ہوتی تھیں وہ آج مسلم نوجوان کے گرے ہوئے اخلاق، مذہبی اور معاشی حالات پر روتی ہیں۔

پھلا پھولا رہے یا رب چمن میری امیدوں کا

جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں

یقینا ہر کوئی چاہتا ہے کہ ہم خود بھی اور ہماری اولاد عزیز و اقارب بھی نیک بن جائیں، کوشش کرنے کے باوجود یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا، جس کا سبب یہ ہے کہ وہ جوہر اور قوت ہمارے اندر نہیں جس سے دوسرے متاثر ہوں۔ وہ قوت اللہ تعالیٰ نے اپنے صادقین بندوں میں رکھی ہے جن کی صحبت میں آنے والے اور نگاہ کرم کے سامنے بیٹھنے والوں کو نصیب ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں خصوصا ایمان والوں سے مخاطب ہوتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ

”یٰا اَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوا تَّقُو الله وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ۔“

اے ایمان والو ڈرو اللہ سے اور ساتھ رہو صادقین کے۔

یہ صادقین جن کو ولی اللہ بھی کہا جاتا ہے ان کی صحبت کی فضیلت میں مولانا رومی نے فرمایا

یک زمانہ صحبت با اولیاء

بہتر ازصد سالہ طاعت بے ریا

یعنی ایک ساعت اللہ کے دوست کی صحبت سو سالہ بے ریا عبادت سے بہتر ہے۔ اسی صحبت کی ہم سب کو اشد ضرورت ہے بلکہ طلباء کے لیے تو خصوصی طرح نہایت ہی ضروری ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے فرمایا

نہ شامل درس میں ہو نور فیضان نظر جب تک

فقط تدریس کرسکتی نہیں اہل نظر پیدا

غالبا مولانا اکبر اللہ آبادی نے بھی فرمایا

نہ کتابوں سے نہ وعظوں سے نہ زر سے پیدا

دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا

source : alhassanain

 رہبر انقلاب اسلامی نے شہید صدر کے بارے میں فرمایا: شہید باقرالصدر زمانے کے نابغہ افراد میں سے ایک تھے، ہماری دینی درسگاہوں میں با استعداد افراد کی کمی نہیں، نہایت سجمھدار، با سلیقہ اور سخت کوش افراد موجود تھے اور ہیں جہنوں نے دین مبین اسلام کے لئے عظیم کارنامے انجام دئے ہیں، جیسے حالیہ صدی کے بزرگ مراجع عظام جو ایران اور عراق میں موجود رہے ہیں وہ سب کے سب نہایت عظیم اور با استعداد ہیں، لیکن جو نابغہ ہوتا ہے اس کی الگ ایک خصوصیت ہوتی ہے ہرکوئی اس قسم کے نبوغ سے سرشار نہیں ہوتا ہے، میرے خیال میں مرحوم صدر ایک نابغہ تھے کیونکہ جو کام شہیدصدر کرسکتے تھے وہ کام بہت سے علماء، فقہاء اور حوزہ علمیہ کے متفکرین نہیں کرسکتے۔شہید صدر وسیع ذہنیت کے مالک تھے اور عالم اسلام کی ضرورتوں کو سمجھتے تھے اور حاضر جواب ہونے کے ساتھ ساتھ ہرنیک کام کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔شہید باقرالصدر جب نجف اشرف میں تھے تو ان کے امام خمینی اور ان کے رفقاء کے ساتھ اتنے تعلقات نہیں تھے، عام طور پر ایک طالب علم کی حیثیت سے امام کی ملاقات کے لئے جاتے تھے لیکن جونہی ایران میں اسلامی انقلاب آیا اور امام خمینی تہران تشریف لائے تو شہید باقرالصدر نے اپنے شاگردوں سے اپنا یہ معروف جملہ کہا: "ذوب بشوید در امام خمینى همچنان که او در اسلام ذوب شده" یعنی تم لوگ امام خمینی کے ساتھ اس طرح گھل مل جاؤ جس طرح وہ اسلام کے ساتھ گھل مل گئے ہیں"، تم اپنے آپ کو خمینی میں فنا کردو جس طرح خمینی نے خود کو اسلام میں فنا کردیاہے۔شہید صدر کا یہ جملہ معروف ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ اس قسم کے جملے وہی کہہ سکتے ہیں جو نہایت عظیم سمجھ کے مالک اور انقلاب کی اہمیت کوجان چکے ہوتے ہیں۔دوسری طرف ہمارے پاس کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو انقلاب کے چالیس سال گزرنے کے بعد بھی انقلاب کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انقلاب کیا ہے؟ اور اس کی اہمیت کیا ہے؟ لیکن شہید باقرالصدر عراق میں بیٹھ کر انقلاب اسلامی کی اہمیت کو درک کرگئے اور اس قسم کے عظیم جملے کہے۔ یہی نبوغ اور نابغہ ہونے کی علامت ہے، خطے کے مسائل کے بارے میں درست شناخت رکھنا، پھر نہایت خوبصورت انداز میں بیان کرنا، نہایت ہوشیاری کی علامت ہے۔شہید صدر ایک علمی نظریہ پرداز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم انسان بھی تھے، میرے خیال میں آقائے صدر ایک منفرد انسان تھے اگر انہیں بے مثال نہ بھی کہیں تو کم سے کم مثال ضرور کہہ سکتے ہیں۔ہماری دینی درسگاہوں میں بڑی شخصیات موجود ہیں لیکن شہید باقرالصدر کچھ خاص خصوصیتوں  کے مالک تھے جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے انہیں شہادت نصیب فرمائی، ہماری دعا ہے کہ  اللہ تعالی ان کے درجات کو بلند فرمائے۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه