حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی شخصیت خلیفہ وقت معتمد عباسی پر بہت گراں گذر رہی تھی ،امام اسلامی معاشرہ میں عظیم مرتبہ پر فائز تھے جب امام ؑ کے فضائل شائع ہوئے تو اس کو امام ؑ سے حسد ہو گیا اور جب مختلف مکاتب فکر کے افراد اُن کی علمی صلاحیتوں اور دین سے اُن کی والہانہ محبت کے سلسلہ میں گفتگو کرتے تووہ اور جلتا اُس نے امام ؑ کو زہر ہلاہل دیدیا ، جب امام ؑ نے زہر پیا تو آپ ؑ کا پورا بدن مسموم ہو گیا اور آپ ؑ کے لئے بستر پر لیٹنا لازم ہوگیا(یعنی آپ ؑ مریض ہو گئے )آپ ؑ کی عیادت کے لئے لوگوں کی بھیڑ اُمڈ پڑی ،منجملہ اُن میں سے ابوہاشم جعفری نے آپ ؑ کی عیادت کی جب اُ نھوں نے امام ؑ کو زہر کے درد میں مبتلا دیکھا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ،اور مندرجہ ذیل اشعار پر مشتمل قصیدہ نظم کیا : 

مَا دتِ الدنیا فُؤادي العلیلِ                      وَاعْتَرَتْنِیْ مَوَارِدُ اللأْواءِ

حِینَ قِیْلَ الْاِمَامُ نِضُوْ عَلِیْل                       قُلْتُ نَفْسِیْ فَدَتْہُ کُلَّ الفِدَاءِ

مَرِضَ الدِّیْنُ لَاعْتِلَالِکَ وَاعْتَدْلَ                  وَغَارَتْ نُجُوْمُ السَّمَاءِ

عَجَباً اِنْ مُنِیْتَ بِالدَّاءِ وَالسُّقْمِ                     وَأَنْتَ الاِمَامُ حَسْمُ الدَّاءِ

أَنْتَ أَسِیْ الأَدْوَاءَ فِي الدِّیْنِ والدُّنْیَا                َمُحْیي الأَمْوَاتِ وَالْأَحَیَاءِ

’’ دنیا نے میرے بیمار قلب کو ہلا کر رکھ دیا اور مجھے وا دی ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔ جب مجھ سے کہا گیا امام ؑ کی حالت نہایت نازک ہے تو میں نے کہا میری جان اُن پر ہر طرح قربان ہے ۔آپ ؑ کے بیمار ہونے کی وجہ سے دین میں کمزوری پیدا ہو گئی اور ستارے ڈوب گئے۔تعجب کی بات ہے کہ آپ بیمار پڑگئے جبکہ آپ ؑ کے ذریعہ بیماریوں کا خاتمہ ہوتا ہے ۔آپ ؑ دین و دنیا میں بہترین دوا اور مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں ‘‘۔آپ کی روح پاک ملائکۂ رحمن کے سایہ میں خدا کی بارگاہ میں پہنچ گئی ،آپ ؑ کی آمد سے آخرت روشن و منور ہو گئی ،اور آپ ؑ کے فقدان سے دنیا میں اندھیرا چھا گیا ،کمزوروں اور محروموں کے حقوق سے دفاع کرنے والے قائد ور ہبر نے انتقال کیا ۔

تجہیز و تکفین 

آپ ؑ کے فرزند ارجمند کی امام حسن عسکری ؑ نے آپ ؑ کی تجہیز و تکفین کی ،آپ ؑ کے جسد طاہر کو غسل دیا،کفن پہنایا،نماز میت ادا فر ما ئی ،جبکہ آپ کی نکھوں سے آنسو رواں تھے آپ ؑ کا جگر اپنے والد بزرگوار کی وفات حسرت آیات پر ٹکڑے ٹکڑے ہوا جا رہا تھا ۔

تشییع جنازہ 

سامرا ء میں ہر طبقہ کے افراد آپ ؑ کی تشییع جنازہ کیلئے دوڑ کر آئے ،آپ کی تشییع جنازہ میں آگے آگے وزراء ،علماء ،قضات اور سر براہان لشکر تھے ، وہ مصیبت کا احسا س کر رہے تھے اور وہ اس خسارہ کے سلسلہ میں گفتگو کر رہے تھے جس سے عالم اسلام دو چار ہوا اور اس کا کو ئی بدلہ نہیں تھا ، سامراء میں ایسا اجتماع بے نظیر تھا ،یہ ایسا بے نظیر اجتماع تھا جس میں حکومتی پیمانہ پر ادارے اور تجارت گاہیں وغیرہ بند کر دی گئی تھیں ۔

ابدی آرام گاہ 

امام علی نقی ؑ کا جسم اقدس تکبیر اور تعظیم کے ساتھ آپ ؑ کی ابدی آرامگاہ تک لایا گیاآپ ؑ کوخود آپ ؑ کے گھرمیں دفن کیا گیاجو آپ ؑ کے خاندان والوں کے لئے مقبرہ شمار کیا جاتا تھا ،انھوں نے انسانی اقدار اور مُثُل علیا کو زمین میں چھپا دیا ۔آپ ؑ کی عمر چا لیس سال تھی آپ ؑ نے ۲۵ جما دی الثانی ۲۵۴ ؁ ھ میں پیر کے دن وفات پا ئی اسی پر ہمارے امام علی نقی ؑ کے سلسلہ میں گفتگو کا اختتام ہوتا ہے ۔

نام : علی بن محمد

نام پدر : محمد بن علی

نام مادر : بی بی سمانہ

تاریخ ولادت : ۱۵ ذیحجہ ۲۱۲ ھ(1) ، ایک اور روایت کے مطابق ۲ رجب ۲۱۲ ھ کو واقع ہوئی ہے ۔ 

لقب : تقی ، ھادی

کنیت : ابوالحسن ثالث

مدت امامت : ۳۳ سال

تاریخ شہادت : ۳ رجب ۲۵۴ ھ (2) (۸۶۸ میلادی ) شہر سامرا

ھم عصر خلفاء :

امام ھادی علیہ السلام کے امامت کے دور میں چند عباسی خلفاء گذرے ہیں جن کے نام یہ ہیں :

۱۔ معتصم ( مامون کا بھائی ) ۲۱۷ سے ۲۲۷ ھ تک 

۲۔ واثق ( معتصم کا بیٹا ) ۲۲۷ سے ۲۳۲ ھ تک 

۳۔ متوکل ( واثق کا بھائی ) ۲۳۲ سے ۲۴۸ ھ تک

4۔ منتصر ( متوکل کا بیٹا ) ۶ ماہ

۵۔ مستعین ( منتصر کا چچا زاد ) ۲۴۸ سے ۲۵۲ ھ تک

۶۔ معتز ( متوکل کا دوسرا بیٹا ) ۲۵۲ سے ۲۵۵ ھ تک

امام ھادی علیہ السلام آخری خلیفہ کے ہاتھوں شھید ہوئے اور اپنے گھر میں ہی مدفون ہیں .

امام علیہ السلام کے زندگی کا مختصر جائزہ

امام علی نقی (علیہ السلام کی سال ولادت212 ھ اور شہادت ۲۵۴ ہجری میں واقع ہونے کے بارے اتفاق ہے لیکن آپ کی تاریخ ولادت و شھادت میں اختلاف ہے ۔ ولادت کو بعض مورخین نے 15 ذی الحجہ اور بعض نے دوم یا پنجم رجب بتائي ہے اسی طرح شھادت کو بعض تیسری رجب مانتے ہیں لیکن شیخ کلینی اور مسعودی نے ستائیس جمادی الثانی بیان کی ہے(3

البتہ رجب میں امام ھادی علیہ السلام کی پیدایش کی ایک قوی احتمال وہ دعای مقدسہ ناحیہ کا جملہ ہے، جس میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں : "اللھم انی اسئلک بالمولودین فی رجب ، محمد بن علی الثانی و ابنہ علی ابن محمد " آپ کا نام گرامی علی اور لقب ،ھادی، نقی ۔ نجیب ،مرتضی ، ناصح ،عالم ، امین ،مؤتمن ، منتجب ، اور طیب ھیں، البتہ ھادی اور نقی معروف ترین القاب میں سے ھیں،آنحضرت کی کنیت " ابو الحسن " ہے اور یہ کنیت چھار اماموں یعنی امام علی ابن ابی طالب ،امام موسی ابن جعفر ،امام رضا علیہم السلام کیلئے استعمال ہوا ہے ، تنھا (ابو الحسن) صرف امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لۓ اور امام موسی بن جعفر علیہ السلام کو ابو الحسن اول ،امام رضا علیہ السلام کو ابو الحسن الثانی، اور امام علی النقی علیہ السلام کو ابو الحسن الثالث کہا جاتا ہے .

امام علی النقی الھادی علیہ السلام کی ولادت مدینہ منورہ کے قریب ایک گاؤں بنام " صریا " میں ھوئی ہے جسے امام موسی کاظم علیہ السلام نے آباد کیا اور کئ سالوں تک آپ کی اولاد کا وطن رہا ہے . حضرت امام علی النقی علیہ سلام جو کہ ھادی اور نقی کے لقب سے معروف ہیں 3 رجب اور دوسری قول کے مطابق 25 جمادی الثانی کو سامرا میں شھید کۓ گۓ، حضرت امام علی النقی علیہ سلام کا دور امامت، عباسی خلفاء ( معتصم ، واثق، متوکل ، منتصر ، مستعین ، اور معتز کے ھمعصر تھے۔ حضرت امام علی النقی علیہ سلام کے ساتھ عباسی خلفا کا سلوک مختلف تھا بعض نے امام کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو کسی نے حسب معمول برا ، البتہ سب کے سب خلافت کو غصب کرنے اور امامت کو چھیننے میں متفق اور ھم عقیدہ تھے،جن میں سے متوکل عباسی اھل بیت کی نسبت دشمنی رکھنے میں زیادہ مشہور تھا اوراس نے خاندان رسالت کو آزار و اذیت پہنچانے میں کوئی کسر باقی نھیں چھوڑی ، یہاں تک کہ اماموں کی قبروں کو مسمار کیا ، خاص کر قبر مطھر سید الشھدا حضرت امام حسین علیہ سلام اور اس کے اطراف کے تمام گھروں کو مسمار کرکے اور وہاں کھیتی باڑی کرنے کا حکم دیا۔ متوکل نے حضرت امام نقی علیہ السلام کو سن 243 ھجری میں مدینہ منورہ سے سامرا بلایا ۔ عباسی خلفا میں سے صرف منتصر باللہ نے اپنے مختصر دور خلافت میں خاندان امامت و رسالت کے ساتھ قدرے نیک سلوک کیا.حضرت امام علی النقی علیہ سلام کو سامرا " عباسیوں کے دار الخلافہ" میں 11 سال ایک فوجی چھاونی میں قید رکھا ، اس دوران مکمل طور پر لوگوں کو اپنے امام کے ملاقات سے محروم رکھا گیا۔ آخر کار 3 رجب اور دوسری روایت کے مطابق 25 جمادی الثانی سن 254 ھجری کو معتز عباسی خلیفہ نے اپنے بھائی معتمد عباسی کے ھاتھوں زھر دے کر آپ کوشہید کردیا.

عصر امام علیہ السلام کے دور میں سیاسی اور اجتماعی حالات

عباسی خلافت کے اس دور میں چند ایک خصوصیات کی بناء پر دوسرے ادوار سے مختلف ہے لھذا بطور اختصار بیان کردیا جاتا ہے :

۱۔ خلافت کی عظمت اور اس کی زوال : خواہ اموی خلافت کا دور ہو یا عباسی کا ، خلافت ایک عظمت و حیثیت رکھتی تھی لیکن اس دور میں ترک اور غلاموں کے تسلط کی وجہ سے خلافت گیند کی مانند ایک بازیچہ بن گیا تھا جس طرف چاہے پھیرتے تھے .

۲۔ درباریوں کا خوش گذرانی اور ھوسرانی : عباسی خلفاء نے اپنے دور کے اس خلافت میں خوش گذرانی و شرابخواری و ... کے فساد و گناہ میں غرق تھے جس کو تاریخ نے ضبط کیا ہے .

۳۔ ظلم و بربریت کی بے انتھا : عباسی خلفاء کی ظلم تاریخ میں بھری پڑی ہے قلم لکھنے سے قاصر ہے

۴۔ علوی تحریکوں کا گسترش : اس عصر میں عباسی حکومت کی یہ کوشش رہی کہ جامعہ میں علویوں سے نفرت پیدا کی جائے اور مختصر بہانے پر ان کو بی رحمانہ قتل و غارت کیا جاتا تھا کیونکہ علوی تحریک سے عباسی حکومت ہمیشہ اپنے آپ کو خطرہ سمجھ رہی تھی .

اسی لئے اس سلسلے کی ایک کڑی یعنی امام ھادی علیہ السلام کو حکومت وقت نے مدینے سے سامرا بلایا اور فوجی چھاونی میں بہت سخت حفاظتی انتظام کے ساتھ گیارہ سال قید بند میں رکھا.

عباسی خلفاء کا سیاہ ترین دور اور امام ھادی (ع) کا موقف

عباسی خلفاء میں سے خصوصا خلیفہ متوکل سب سے زیادہ علویوں اور شیعوں کے ساتھ عجیب دشمنی رکھتا تھا ، اس لئے یہ دور تاریخ کا سب سے زیادہ سخت ترین اور سیاہ ترین دور کہا جاتا ہے لہذا امام ھادی علیہ السلام اس خلیفہ کے زمانے میں اپنے ماننے والوں کیلئے پیغام دینا بہت ہی سری اور احتیاط کے ساتھ انجام دیتے تھے ؛ چونکہ امام (ع) سخت کنٹرول میں تھے اسی وجہ سے امام علیہ السام نے وکالت اور نمایندگی کے طریقے کو اپنایا .

امام ھادی (ع) اور مکاتب کلامی

امام ھادی علیہ السلام کے اس سخت ترین شرائط کے زمانے میں دیگر مکاتب اور مذاھب کے ماننے والے اپنے عروج پر تھے اور باطل عقائد اور نظریات مثلا جبر و تفویض ، خلق قرآن وغیرہ جامعہ اسلامی اور شیعوں کے محافل میں نفوذ کرکے امام (ع) کی ھدایت و رھبری کی ضرورت کو دوچندان کردیا تھا اور بہت سارے مناظرے ان موضوعات پر روشن گواہ ہے .

وصلی اللہ علی محمد و آلہ الطاہرین

(1)طبرسی ، اعلام الوری ، الطبعة الثالثه ، دارالکتب الاسلامیه ، ص 355 ؛ شیخ مفید ، الارشاد ، قم ، مکتبه بصیرتی ، ص 327 

(2)شبلنجی ، نورالابصار ، ص 166 ، قاهره ، مکتبته المشهد الحسینی 

(3)وقایع الایام، ص ۲۸۲

امام اول اور خليفہ چہارم حضرت علي ابن ابيطالب عليہم السلام کي تيسري پشت اور ھدايت کے پانچويں امام، حجت خدا حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کي ولادت پہلي رجب57 قمري ميں مدينہ منورہ ميں ہوئي، اور94 ہجري قمري ميں امام علي ابن الحسين زين العابدين عليہم السلام کي شہادت کے بعد امامت تفويض ہوئي اور 114 ہجري قمري کو 18 سال کي عمر ميں درجہ شہادت پر فائز ہوئے-

آپ (ع)  کي والدہ دوسرے امام حضرت حسن بن علي عليہ السلام کي بيٹي تھيں اور والد علي بن حسين بن علي عليہم السلام تھے ،اس اعتبار سے آپ (ع)  پہلے شخص ہيں جو ماں اور باپ کي طرف سے علوي (ع)  فاطمي (ع)  ہيں-

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کا دور امويوں اور عباسيوں کے سياسي اختلافات اور اسلام کا مختلف فرقوںميں تقسيم ہونے کے زمانے سے مصادف تھا جس دور ميں مادي اور يوناني فلسفہ اسلامي ملکوں ميں داخل ہوا جس سے ايک علمي تحريک وجود ميں آئي- جس تحريک کي بنياد مستحکم اصولوں پر استوار تھي - اس تحريک کے لئے ضروري تھا کہ ديني حقايق کو ظاہر کرے اور خرافات اور نقلي احاديث کو نکال باہر کرے - ساتھ ہي زنديقوں اور ماديوں کا منطق اور استدلال کے ساتھ مقابلہ کرکے انکے کمزور خيالات کي اصلاح کرنا- نامور دھري اور مادہ پرست علماء کے ساتھ علمي مناظرہ و مذاکرہ کرنا تھا يہ کام امام وقت حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کے بغير کسي اور سے ممکن نہ تھا - آپ عليہ السلام نے حقيقي عقايد اسلامي کي تشہيرکي راہ ميں علم کے دريچوں اور درازوں کو کھول ديا اور اس علمي تحريک کو پہلي اسلاي يونورسٹي کے قيام کے طور پر ديکھا جاتا ہے -آپ کے بارے ميں امام حنبل اور امام شافعي جيسے اسلام شناس کہتے ہيں:

ابن عباد حنبلي کہتے ہيں : ابو جعفر بن محمد(ع)  مدينہ کے فقہا ميں سے ہيں -آپ (ع)  کو باقر کہا جاتا ہے اس لئےکہ آپ (ع)  نے علم کو شکافتہ کيا اور اس کي حقيقت اور جوہر کو پہچانا ہے-(الامام الصادق و المذاہب الاربعہ -ج -1-ص 149)-

محمدبن طلحہ شافعي کہتے ہيں: محمد بن علي (ع) ، دانش کو شکافتہ کرنے والے اور تمام علوم کے جامع ہيں آپ کي حکمت آشکار اورعلم آپ کے ذريعہ سر بلند ہے-آپ (ع)  کے سرچشمہ و جود سے دانش عطا کرنے والا دريا پر ہے-آپ کي حکمت کے لعل و گہر زيبا و دلپذير ہيں- آپ (ع)  کا دل صاف اور عمل پاکيزہ ہے- آپ مطمئن روح اور نيک اخلاق کے مالک ہيں- اپنے اوقات کو عبادت خداوندميں بسر کرتے ہيں- پرہيز گاري و ورع ميں ثابت قدم ہيں- بارگاہ پرور دگار پروردگار ميں مقرب اور برگذيدہ ہونے کي علامت آپ (ع)  کي پيشاني سے آشکار ہے-آپ (ع) کے حضور ميں مناقب و فضائل ايک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا چاہتے ہيں- نيک خصلتوں اور شرافت نے آپ سے عزت پائي ہے-(الامام الصادق و المذاہب الاربعہ -ج -1- ص 149)-

پانچويں امام (ع)  نے پانچ خليفوں( اسلامي بادشاہوں ) کا دور ديکھا:

1. وليدبن عبد الملک 86-96ھ-

2. سليمان بن عبدالملک 96-99 ھ-

3. عمر بن عبد العزيز 99-101ھ-

4. يزيد بن عبد الملک 101-105 ھ-

5. ھشام بن عبد الملک 105-125 ھ-

مذکورہ اسلامي ممالک کے حاکموں( خليفوں) ميں عمر بن عبد العزيز جو کہ نسبتاً انصاف پسند اور خاندان رسول اï·² (ص) وآلہ کے ساتھ نيکي کے ساتھ رفتار کرنے والا منفرد اسلامي بادشاہ (خليفہ) تھا جس نے معاويہ عليہ ہاويہ کي سنت يعني”‌ معصوم دوم(ع) ،امام اول(ع)  اور خليفہ چہارم حضرت علي ابن ابيطالب (ع) کے نام 69 سال تک خطبوںميں لعنت کہنے کي شرمسار بدعت اور گناہ کبيرہ کو ممنوع کيا -

پانچويں امام اور پہلي اسلامي دانشگاہ کے باني حضرت محمد باقر عليہ السلام سے اصحاب پيغمبر اسلام(ص)  ميں سے جابر بن عبداï·² انصاري اور تابعين ميں سے جابر بن جعفي، کيسان سجستاني،اور فقہا ميں سے ابن مبارک،زھري، اوزاعي، ابو حنيفہ، مالک، شافعي اور زياد بن منزر نھدي آپ (ع)  سے علمي استفادہ کرتے رہے-معروف اسلامي مورخوں جيسے طبري، بلاذري، سلامي، خطيب بغداداي، ابو نعيم اصفہاني و مولفات و کتب جيسے موطا مالک ، سنن ابي داوود، مسند ابي حنيفہ، مسند مروزي، تفسير نقاش،تفسير زمخشري جيسے سينکڈوں کتابوں ميں پانچويں امام (ع)  کي درياي علم کي دُرّبي بہا باتيں جگہ جگہ نقل کي گئي ہيں اور جملہ قال محمد بن علي يا قال محمد الباقر ديکھنے کو ملتا ہے-(ابن شھر آشوب ج 4 ص 195)-

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کي قايم کردہ اسلامي مرکز علم(يونيورسٹي) ميں سے مايہ ناز علمي شخصيتيں فقہ، تفسير اور ديگر علوم ميں تربيت حاصل کر گئے جيسے محمد بن مسلم، ذرارہ بن اعين، ابو بصير ، بُريد بن معاويہ عجلي، جابر بن يزيد، حمران بن اعين اور ھشام بن سالم قابل ذکر ہيں-

پانچويں امام (ع)  نے دوسرے ائمہ کے مانند اپني زندگي کو نہ صرف عبادت اور علمي مصروفيت ميں بسر کي بلکہ زندگي کے دوسرے کاموں ميں بھي سرگرم تھے، جبکہ کچھ سادہ لوح مسلمان جيسے محمد بن مُنکَدِر ايسے اعمال کوامام (ع)  کي دنيا پرستي تصور کرتے تھے ، موصوف کہتا ہے”‌ امام کا کھيت ميں زياد کام کرتے ديکھنے کي وجہ سے ميں نے اپنے آپ سے کہا کرتا تھا کہ حضرت (ع)  دنيا کے پيچھے پڑے ہيں لہٰذاميں نے سوچا کہ ايک دن انہيں ايسا کرنے سے روکنےکي نصيحت کروں گا، چنانچہ ميں نے ايک دن سخت گرمي ميں ديکھا کہ محمد بن علي زيادہ کام کرنيکي وجہ سے تھک چکے تھے اور پسينہ جاري تھا ميں آگے بڑھا اور سلام کيا اور کہنے لگا اے فرزند رسول (ص)  آپ مال دنياکي اتني کيوں جستجو کرتے ہيں؟ اگر اس حال ميں آپ پر موت آجائے تو کيا کرينگے، آپ (ع)  نے فرمايا يہ بھترين وقت ہے کيونکہ ميں کام کرتا ہوں تاکہ ميں دوسروں کا محتاج نہ رہوں اور دوسروں کي کمائي سے نہ کھاوں اگرمجھ پر اس حالت ميں موت آئے توميں بہت خوش ہونگا، چونکہ ميں خدا کي اطاعت و عبادت کي حالت ميں تھا-

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام ديگر ائمہ ھدي کے مانند تمام علوم و فنون کے استاد تھے- ايک دن خليفہ ھشام بن عبد الملک نے امام (ع)  کو اپني ايک فوجي محفل ميں شرکت کي دعوت دي جب امام(ع)  وہاں پہنچے وہاں فوجي افسران سے محفل مذين تھي کچھ فوجي افسران تيرکمانوں کو ہاتھوں ميں لئے ايک مخصوص نشانے پر اپنا اپنا نشانہ سادتے تھے، چھٹے امام حضرت جعفر صادق عليہ السلام اس واقعے کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہيں :"جب ہم دربار ميں پہنچے تو ھشام نے احترام کيا اور کہا آپ نذديک تشريف لائيں اور تير اندازي کريں ميرے والد گرامي نے فرمايا ميں بوڈھا ہو چکا ہوں لہٰذا مجھے رہنے دے، ھشام نے قسم کھائي ميں آپ سے ہاتھ اٹھانے والا نہيں ہوں- ميرے والد بذرگوار (ع)  نے مجبور ہو کر کمان پکڑي اور نشانہ ليا تير عين نشانہ کے وسط ميں جاکر لگا آپ (ع)  نے پھر تير ليا اور نشانہ پر جاکر تير مارا جو پہلے تير کو دو ٹکڑے کرديئے اور اصل نشانہ پر جا لگا آپ تير چلاتے رہے يہاں تک کہ 9 تير ہوگئے ھشام کہنے لگا بس کريں اے ابو جعفر آپ تمام لوگوں سے تير اندازي ميں ماہر ہيں"-

آخر ميں امام محمد باقر (ع) کي جابر بن جعفي کو کئے وصيت کا مختصر حصہ آپ قارئين محترم کے نذر کرنے کي سعادت حاصل کرتے ہوئے اميد کرتا ہوں امام کے اقوال ہمارے لئے مشعل راہ اور نمونہ عمل قرار دے-

1. ميں تمہيں پانچ چيزوں کے متعلق وصيت کترا ہوں:

2. اگر تم پر ستم ہو تو تم ستم نہ کرنا-

3. اگرتمہارے ساتھ خيانت ہو تم خائن نہ بنو -

4. اگر تم کو جھٹلايا گيا تو تم غضبناک نہ ہو-

5. اگر تمہاري تعريف ہوئي تو خوشحال نہ ہو اگر تمہاري مذمت ہوئي تو شکوہ مت کرو-تمہارے متعلق لوگ جو کہتے ہيں اس پر غور کرو-پس اگر واقعاً ويسے ہي ہو جيسا لوگ خيال کرتے ہيں -تو اس صورت ميں اگر تم حق بات سے غضبناک ہوئے تو ياد رکھو خدا کي نظر سے گرگئے- اور خدا کي نظر سے گرنا لوگوں کہ نظر ميں گرنےسے کہيں بڑي مصيبت ہے- ليکن اگر تم نے اپنے کولوگوں کے کہنے کے برخلاف پايا تو اس صورت ميں تم نے بغير کسي زحمت کے ثواب حاصل کيا-

يقين جا نو! تم ميرے دوستوں ميں صرف اسي صورت ميں ہو سکتے ہو کہ اگر تمام شہر کے لوگ تم کو برا کہيں اور تم غمغين نہ ہو، اور سب کے سب کہيں تم نيک ہو تو شادمان نہ ہو، اور لوگوں کے برائي کرنے پر خوف زدہ مت ہو، اس لئے کہ وہ جو کچھ کہيں گے اس سے تم کو کوئي نقصان نہ پہنچے گا ، اور اگر لوگ تمہاري تعريف کريں جبکہ تم قرآن کي مخالفت کر رہے ہو بھر کس چيز نے تم کو فريفتہ کر رکھا ہے؟ بندہ مومن ہميشہ نفس سے جہاد ميں مشغول رہتا ہے تا کہ خواہشات پر غالب ہو جائے اور اس امر کيلئے اہتمام کرتا ہے---------

حضرت امام محمد باقر 411ھ ميں خليفہ ھشام بن عبد الملک کے حکم پر زہر دے کر شہيد کردئےگئے- آپ (ع)  57 سال تک وحي الہٰي کي ترجماني کرتے رہے- آپ کے بعد آٹھويں معصوم اور چھٹے امام حضرت جعفر صادق (ع)  آپکے جانشيني پر فائز ہوئے اور آپ (ع)  کے قائم کردہ اسلامي مرکز علم کو وسعت عطا کرکے اسلام ناب محمدي (ص)  کي توضيع و تفسير بيان فرمائي اور ديني محفل ميں قال الصادق قال الصادق کي گونج سنائي دي اورامام جعفر صادق کي بتائي ہوئي اسلام کي تشريح پر چلنے والوں کو جعفري کہا گيا-

خداوند ہميں ان علوم کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کي توفيق عطا فرمائے،(آمين)                                     

بشکریہ: الحسنین ڈاٹ کام

آپ کی ولادت باسعادت

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام بتاریخ یکم رجب المرجب ۵۷ ھ یوم جمعہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے(1) علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تشریف لائے تو آباؤ اجداد کی طرح آپ کے گھرمیں آوازغیب آنے لگی اورجب نوماہ کے ہوئے تو فرشتوں کی بے انتہا آوازیں آنے لگیں اورشب ولادت ایک نورساطع ہوا، ولادت کے بعد قبلہ رو ہو کرآسمان کی طرف رخ فرمایا،اور(آدم کی مانند) تین بار چھینکنے کے بعد حمد خدا بجا لائے،ایک شبانہ روز دست مبارک سے نور ساطع رہا، آپ ختنہ کردہ ،ناف بریدہ، تمام آلائشوں سے پاک اورصاف متولد ہوئے(2)

اسم گرامی ،کنیت اور القاب

آپ کا اسم گرامی ”لوح محفوظ“ کے مطابق اورسرورکائنات کی تعیین کے موافق ”محمد“تھا۔ آپ کی کنیت ”ابوجعفر“ تھی، اورآپ کے القاب کثیرتھے، جن میں باقر،شاکر،ہادی زیادہ مشہورہیں(3)

بادشاہان وقت

آپ ۵۷ ھ میں معاویہ بن ابی سفیان کے عہد میں پیدا ہوئے ۔ ۶۰ ھ میں یزید بن معاویہ بادشاہ وقت رہا، ۶۴ ھ میں معاویہ بن یزیداورمروان بن حکم بادشاہ رہے ۶۵ ھ تک عبدالملک بن مروان خلیفہ وقت رہا ۔ پھر ۸۶ ھ سے ۹۶ ھ تک ولید بن عبدالملک نے حکمرانی کی، اسی نے ۹۵ ھ میں آپ کے والد ماجد کو درجہ شہادت پرفائز کر دیا، اسی ۹۵ ھ سے آپ کی امامت کا آغاز ہوا، اور ۱۱۴ ھ تک آپ فرائض امامت ادا فرماتے رہے، اسی دور میں ولید بن عبدالملک کے بعد سلیمان بن عبدالملک ،عمربن عبدالعزیز، یزید بن عبدالملک اورہشام بن عبدالملک بادشاہ وقت رہے(4)

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی حیثیت

کسی معصوم کی علمی حیثیت پر روشنی ڈالنا اور وضاحت کرنا ناممکن ہے۔

علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ حضرت کا خود ارشاد ہے کہ” علمنامنطق الطیر و اوتینا من کل شئی “ ہمیں طائروں تک کی زبان سکھا گئی ہے اور ہمیں ہرچیز کا علم عطا کیا گیا ہے(5)

روضة الصفاء میں ہے : خداکی قسم! ہم زمین اورآسمان میں خداوند عالم کے خازن علم ہیں اور ہم ہی شجرہ نبوت اورمعدن حکمت ہیں ،وحی ہمارے یہاں آتی رہی اور فرشتے ہمارے یہاں آتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ظاہری ارباب اقتدار ہم سے جلتے اورحسد کرتے ہیں۔

علامہ شبلنجی فرماتے ہیں کہ علم دین، علم احادیث،علم سنن اورتفسیر قرآن وعلم السیرت وعلوم وفنون ،ادب وغیرہ کے ذخیرے جس قدرامام محمد باقرعلیہ السلام سے ظاہر ہوئے اتنے امام حسین و امام حسین کی اولاد میں سے کسی اورسے ظاہرنہیں ہوئے(6)

صاحب صواعق محرقہ لکھتے ہیں : عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار راسخ اورگہرے نشانات نمایاں ہو گئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اورعاجز و ماندہ ہیں ۔ آپ کے ہدایات وکلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا احصاء اس کتاب میں ناممکن ہے(7)

علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں کہ امام محمد باقرعلامہ زمان اور سردار کبیرالشان تھے آپ علوم میں بڑے تبحراور وسیع الاطلاق تھے(8)

علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ آپ بنی ہاشم کے سرداراورمتبحر علمی کی وجہ سے باقرمشہورتھے ۔ آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اورآپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا(9)

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی دمشق میں طلبی

علامہ مجلسی اورسیدابن طاؤس لکتھے ہیں کہ جب ہشام بن عبدالملک اپنے عہدحکومت کے آخری ایام میں حج بیت اللہ کے لیے مکہ معظمہ میں پہنچا تو وہاں حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام اورحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام بھی موجودتھے ایک دن حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے مجمع عام میں ایک خطبہ ارشادفرمایاجس میں یہ بھی کہاکہ ہم روئے زمین پرخداکے خلیفہ اورا سکی حجت ہیں ، ہمارادشمن جہنم میں جائے گا،اورہمارادوست نعمات جنت سے متنعم ہوگا ۔

اس خطبہ کی اطلاع ہشام کودی گئی ،وہ وہاں توخاموش رہا،لیکن دمشق پہنچنے کے بعدوالی مدینہ کوفرمان بھیجاکہ محمدبن علی اورجعفربن محمدکومیرے پاس بھیجدے ، چنانچہ آپ حضرات دمشق پہنچے ۔۔۔ اس کے بعدامام نے فرمایا: بادشاہ ہم معدن رسالت ہیں، کسی امرمیں ہمارامقابلہ کوئی نہیں کرسکتا،یہ سن کرہشام کوغصہ آگیا،اور بولاکہ آب لوگ بہت بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں آپ کے دادا علی بن ابی طالب نے غیب کادعوی کیاہے ، آپ نے فرمایا: بادشاہ قرآن مجید میں سب کچھ موجود ہے اورحضرت علی امام مبین تھے انہیں کیانہیں معلوم تھا(10)

علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعدہشام نے والی مدینہ ابراہیم بن عبدالملک کولکھاکہ امام محمدباقرکوزہرسے شہیدکردے(11)

کتاب الخرائج والبحرائح میں علامہ راوندی لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعدہشام بن عبدالملک نے زیدبن حسن کے ساتھ باہمی سازش کے ذریعہ امام علیہ السلام کودوبارہ دمشق میںطلب کرناچاہالیکن والی مدینہ کی ہمنوائی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ارادہ سے بازآیا اس نے تبرکات رسالت جبرا طلب کئے اورامام علیہ السلام نے بروایتے ارسال فرمادئیے۔

امام محمدباقر علیہ السلام کی شہادت

آپ اگرچہ اپنے علمی فیوض وبرکات کی وجہ سے اسلام کوبرابرفروغ دے رہے تھے لیکن اس کے باوجودہشام بن عبدالملک نے آپ کوزہرکے ذریعہ سے شہیدکرادیا اورآپ بتاریخ ۷/ ذی الحجہ ۱۱۴ ھ یوم دوشنبہ مدینہ منورہ میں انتقال فرماگئے اس وقت آپ کی عمر ۵۷/ سال کی تھی آپ جنت البقیع میںدفن ہوئے(12)

علامہ شبلنجی اورعلامہ ابن حجرمکی فرماتے ہیں ”مات مسموماکابیہ“ آپ اپنے پدربزرگوارامام زین العابدین علیہ السلام کی طرح زہرسے شہیدکردیئے گئے(13)

ازواج و اولاد

آپ کی چاربیویاں تھیں اورانہیں سے اولادہوئیں ۔ام فروہ،ام حکیم،لیلی،اور ایک اوربیوی ام فروہ بنت قاسم بن محمدبن ابی بکرجن سے حضرات امام جعفرصادق علیہ السلام اورعبداللہ افطح پیداہوئے اورام حکیم بنت اسدبن مغیرہ ثقفی سے ابراہیم وعبداللہ اورلیلی سے علی اورزینب پیداہوئے اورچوتھی بیوی سے ام سلمی متولدہوئے(14)

علامہ محمدباقربہبھانی ،علامہ محمدرضاآل کاشف الغطاء اورعلامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ حضرت امام باقرعلیہ السلام کی نسل صرف امام جعفر صادق علیہ السلام سے بڑھی ہے ان کے علاوہ کسی کی اولادزندہ اورباقی نہیں رہی(15)

وصلی اللہ علی محمد و آلہ الطاہرین

(1) اعلام الوری ص ۱۵۵ ،جلاء العیون ص ۲۶۰ ،جنات الخلود ص ۲۵

(2) جلاء العیون ص ۲۵۹

(3) مطالب السؤال ص ۳۶۹ ،شواہدالنبوت ص ۱۸۱

(4) اعلام الوری ص ۱۵۶

(5) مناقب شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱

(6) کتاب الارشاد ص ۲۸۶ ،نورالابصار ص ۱۳۱ ،ارجح المطالب ص ۴۴۷

(7) صواعق محرقہ ص ۱۲۰

(8) وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۴۵۰

(9) تذکرةالحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱

(10) جلاء العیون

(11) جلاء العیون ص ۲۶۲

(12) کشف الغمہ ص ۹۳ ،جلاء العیون ص ۲۶۴ ،جنات الخلودص ۲۶ ،دمعہ ساکبہ ص ۴۴۹ ،انوارالحسینہ ص ۴۸ ، شواہدالنبوت ص ۱۸۱ ، روضة الشہداء ص ۴۳۴

(13) نورالابصار ص ۳۱ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۰

(14) ارشادمفید ص ۲۹۴ ، مناقب جلد ۵ ص ۱۹ ،نورالابصارص ۱۳۲

(15) دمعہ ساکبہ جلد ۲ ص ۴۷۹ ،انوارالحسینیہ جلد ۲ ص ۴۸ ،روضة الشہداء ص ۴۳۴ طبع لکھنؤ ۱۲۸۵

امام محمّد باقر عليہ السلام ہميشہ اپنے پيروۆں کو اس بات سے خبردار کرتے تھے کہ کہيں وہ راہ حق کي سختيوں کي بنا پر اس سے دست بردار نہ ہوجائيں -آپ فرماتے تھے : حق اور حقيقت کے بيان کي راہ ميں استوار اور ثابت قدم رہئے کيونکہ اگر کسي نے " مشکلات کي بنا پر " حق کا انکار کيا اور اس سے چشم پوشي کي تو وہ " باطل راستے ميں " زيادہ مشکلات سے دوچار ہوجائے گا- امام کي تعبير کے مطابق جادۂ حق روشن اور سيدھا راستہ ہے -اگر انسان اس سيدھے راستے سے ہٹ گيا تو وہ باطل کي بھول بھليوں ميں بھٹک کر بے پناہ مشکلات کا شکار ہو جائے گا -

امام محمّد باقر عليہ السلام کي نظر ميں دانشور دانائي کے مظہر اور حکمران انتظامي طاقتوں کي حيثيت سے قوموں کے سعادت يا شقاوت کے راستے تک پہنچنے کے اہم عوامل ہيں -آپ فرماتے ہيں کہ رسول خدا (ص) نے فرمايا کہ جب بھي ميري امت کے دو گروہ نيک و صالح ہوئے تو ميري پوري امت نيک و صالح ہوگي اور اگر يہ دوگروہ برے اور بدعنوان ہوئے تو ميري تمام امت کو برائي اور بدعنواني کي طرف لے جائيں گے -ان ميں سے ايک گروہ فقہا اور دانشور ہيں اور دوسرا گروہ حکمران اور فرمانروا ہيں -

اموي حکمراں لوگوں ميں امام محمّد باقر عليہ السلام کي مقبوليت سے ہميشہ پريشان اور خوفزدہ رہتے تھے -امام عليہ السلام کے دور ميں کئي اموي حکمران گزرے جن ميں سے ہشام بن عبدالملک نے آپ سے سب سے زيادہ سخت رويہ اور سلوک روا رکھا -اس کے مقابلے ميں امام عليہ السلام نے بھي خاموشي کا راستہ اختيار نہيں کيا اور خوف و وحشت کي فضا کے باوجود حکمرانوں کي برائيوں کو حتيٰ ان کے سامنے بھي آشکار کيا -امام محمّد باقر عليہ السلام ستمگروں اور ظالموں کے ساتھ رويے اور سلوک کے بارے ميں فرماتے ہيں-

اقتدار و طاقت کے ہتھيار کو ان کے خلاف استعمال کرنا چاہئے جو لوگوں پر ظلم اور زمين ميں سرکشي کرتے ہيں -  ان عناصر کے سامنے جان کے ساتھ جہاد کا پختہ عزم رکھنا چاہئے جيسا کہ دل ميں بھي ان کے ساتھ بغض و عداوت رکھني چاہئے -آپ فرماتے ہيں :

جو بھي خدا پر توکل کرے مغلوب نہيں ہوگا اور جس نے بھي گناہ سے خدا کي پناہ مانگي وہ شکست نہيں کھائے گا -

ايک اور مقام پر آپ ارشاد فرماتے ہيں -

بردباري اور شکيبائي دانا اورعالم شخص کا لباس ہے -

امام محمّد باقر عليہ السلام کا ايک اور زريں قول ہے :

خدا کي جانب سے نعمتوں کي فراواني کا سلسلہ نہيں ٹوٹتا ہے مگر يہ کہ بندے شکر کرنا چھوڑديں - (ختم ہوا)

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه