تحریر: ایس ایم شاہ

ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مسلمانان عالم پورے سال میں بالعموم اور ایام حج میں بالخصوص مدینہ منورہ کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں بہت ساری تاریخی مساجد اور مقامات کے علاوہ  پیغمبر اکرم ؐ کے والد گرامی، آپ کی والدہ ماجدہ، ائمہ کرام، زوجات النبی اور اصحاب کرام کے مقابر بھی ہیں۔ مدینہ منورہ پہنچتے ہی گنبد خضریٰ کو دیکھ کر دل کو چین اور ذہن کو سکون ملتا ہے۔ بہت ساری امیدیں دل میں لئے، اپنے کئے کی توبہ کرنے کی غرض سے غسل کرکے اجلے ملبوس میں اور خوشبو سے معطر ہوکر اپنے محبوب کی ضریح سے اپنے گناہ گار بدن کو مس کرنے کے لئے جاتے ہیں۔ مسجد نبوی کی تعمیر بھی جدید طریقے سے بہت دلکش انداز بھی کی گئی ہے۔ صحن حرم میں ٹائلوں کی چمک سے ایسے لگتا ہے کہ گویا سورج یہاں سے طلوع کر رہا ہو۔ جاپانی انجر پنوں کے ذریعے لگائی گئی خوبصورت طرز کی چھتریوں کا طلوع  آفتاب کے ساتھ ہی کھل جانا اور غروب آفتاب کے ساتھ سمیٹ جانا بھی بہت ہی دلکش ہے۔ حرم پاک کے چاروں طرف آپ کو حرم میں داخل ہونے کے لئے گیٹ ملیں گے۔ صاف ستھرے باتھ رومز بھی فراہم ہیں۔ اکثر حاجی ہوٹلوں سے ہی باوضو ہوکر جاتے ہیں۔ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری جگہوں پر دس ہزار نمازوں سے بہتر ہے، جبکہ مسجد الحرام میں پڑھی جانی والی نماز ایک لاکھ نمازوں سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔(1)

 نیپال میں گزرے تین ہفتوں کے بارے میں پہلے یہی سوچا تھا کہ کم از کم پانچ آرٹیکل تو لکھ ہی لوں، ان مضامین کے لیے عنوانات بھی سوچ لیے تھے کہ (۱) نیپال کا مختصر تعارف، (۲)کھٹمنڈو شہر (۳) بدھ مت مذہب کا مختصر تعارف (۴) تبت پر کیا بیت رہا ہے، (۵) تبت اور بلتستان کے مشترکہ تہذیبی باقیات (۶) جنوبی ایشیا کے چند بڑے تنازعات ۔ لیکن یہاں امریکہ آنے کے بعد نہ صرف دن رات میں اور رات دن میں بدل گئی بلکہ مسلسل مصروفیات کے باعث ان عنوانات پر لکھنا بہت مشکل معلوم ہو رہا ہے۔ میں اس ڈر کے مارے کہ کہیں نیپال کے تجربے پر ایک مختصر تحریر بھی لکھنے سے رہ نہ جائے ، اس لیے اسی مختصر مگر جامع تحریر کے لیے لیپ ٹاپ اٹھا یا ہے۔

ایک دبلا پتلا سا لڑکا جو بہت ہی ذہین و فطین تھا، جس کا اٹھنا بیٹھنا ہمیشہ علم و فضل سے سرشار افراد میں ہوتا تھا، گھرانہ بھی ایسا جہاں صوم و صلواۃ اور ہمیشہ محو عبادت رہنا تو روز کا معمول  تھا، یہ حقیقت تو اظہر من الشمس ہے کہ جب بچپن ہی میں ایسے قبلہ نما اور نفوس قدسیہ کی ایسی صحبت میں اٹھنا بیٹھنا نصیب ہو، جن کی علمی قندیلوں سے قندیلیں ہر وقت روشن و منور رہتی ہوں اور ان کے چشمہ صافی سے آب زلال پی کر لوگ جوق در جوق سیراب ہوتے ہوں تو اس ماحول  میں آنکھیں کھولنے والا بچہ کتنا خوش نصیب ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ "ابن العالم نصف العالم" زبان زد خاص و عام ہے۔ جب چاند سا یہ بچہ بسم اللہ کی عمر کو پہنچا، تب گھر ہی مکتب تھا، اپنے تمام ہم سن افراد میں ان کی ممتاز حیثیت کسی سے ڈھکی چھپی نہ تھی، پیشین گوئیاں کرنے والے سمجھ گئے تھے کہ یہ بچہ مستقبل قریب میں جا کر اپنی شخصیت کا لوہا منوانے والا ہے، جس کے دوست و دشمن سبھی مداح ہوں گے۔ سکول کے دورانیئے میں بھی  ہمیشہ پہلی پوزیشن ان کی تقدیر کا حصہ تھا، باپ بھی اندر سے ان کے مستقبل کے حوالے سے ہمیشہ نہال رہتے تھے، جس باپ نے  پورے معاشرے کے سدھارنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہو، ان کے لئے اپنے لخت جگر کی بہترین تربیت کرنا کوئی نئی بات نہ تھی۔

...ایک بہت ہی سادہ زیست، متواضع، معرفت الٰہی سے سرشار، مقام شہود پر فائز اور اپنے درس و بحث میں منہمک رہنے والے کے بارے میں کون سوچ سکتا تھا کہ وہ اتنا بڑا عالمگیر انقلاب بپا کر پائے گا، پہلے تو سید المرسلین کی سیرت پر چلتے ہوئے اپنے کو صادق و امین کا مصداق بنانے میں مگن رہے، علمی منازل طے کرکے آسمان فقاہت تک رسائی حاصل کی، پھر آہستہ آہستہ اپنے درس و بحث میں استعماری طاقتوں کے خلاف آواز  اٹھانا شروع کیا، ساتھ ہی اقبال کے بقول لوگوں کے ذہنوں میں اس حقیقت کو ڈالنے کی کوشش کی گئی کہ

 جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی

روح امم کی حیات کشمکش انقلاب

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلامی قوانین میں سے دو اہم قانون اور فروع دین میں سے ہیں ۔قرآن کریم اور معصوم راہنماؤں نے فریضہ کے بارے میں کافی تاکید کی ہے ۔ صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دوسر ے ادیان آسمانی نے بھی اپنے تربیتی احکام کو جاری کرنے کے لئے ان کا سہارا لیا ہے ۔لہٰذا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں : امر بالمعروف اور نہی عن المنکرانبیاء کی روش اور نیک کردار افراد کا شیوہ اور طریقۂ کار ہے ۔

(وسائل الشیعہ ۱!۳۹۵)

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا معنی

امر یعنی فرمان اور حکم دینا ۔نہی یعنی روکنا اور منع کرنا۔

معروف یعنی پہچانا ہوا، نیک ، اچھا ۔منکر یعنی ناپسند ، ناروا اوربد ۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه