حضرت معصومہ (س) امام صادق(ع) کی نظر میں: روی عن القاضی نور الله عن الصادق علیه السلام :

ان الله حرما و هو مکه الا ان رسول اللہ حرما و هو المدینة اٴلا و ان لامیر الموٴمنین علیه السلام حرما و هو الکوفه الا و ان قم الکوفة الصغیرة اٴلا ان للجنة ثمانیه ابواب ثلاثه منها الی قم تقبض فیها امراٴة من ولدی اسمها فاطمة بنت موسی علیها السلام و تدخل بشفاعتها شیعتی الجنة باجمعهم ۔

امام صادق(ع) سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا: ""خداوند عالم حرم رکھتا ہے اور اس کا حرم مکہ ہے پیغمبر(ص) حرم رکھتے ہیں اور ان کا حرم مدینہ ہے۔ امیر المومنین(ع) حرم رکھتے ہیں اور ان کا حرم کوفہ ہے۔ قم ایک کوفہ صغیر ہےجنت کے آٹھ دروازوں میں سے تین قم کی جانب کھلتے ہیں ، پھر امام (ع) نے فرمایا :میری اولاد میں سے ایک عورت جس کی شہادت قم میں ہوگی اور اس کا نام فاطمہ بنت موسیٰ ہوگا اور اس کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔۔(بحار ج/۶۰، ص/۲۸۸)

قال الصادق علیه السلام من زارها عارفا بحقها فله الجنة

مؤلف: سعید شیری

 

مترجم: غلام مرتضی جعفری

مساجد, دین اسلام کی تبلیغ و ترویج کے مراکز رہی ہیں، مسجد کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کو اسلامی تہذیب اور تمدن کا مرکز کہا جاتا ہے۔ اسلام کے اہم ترین تحریکوں کا آغاز مسجد سے ہی کیا گیا اور جب امام زمانہ (عج) تشریف لائیں گے تو ظہور کا اعلان بھی مسجد سے ہی کریں گے۔

تسنیم نیوز ایجنسی: مسجد اسلام کی سب سے اہم ترین مذہبی اور ثقافتی مراکز میں سے ہے۔ قرآن و عترت نے مسجد کے لئے بے شمار برکتوں کا ذکر کیا ہے۔ مسجد کی تمام برکتیں اور فوائد کو اس مختصر مقالے میں ذکر کرنا ممکن نہیں ہے لہٰذا ہم مختصر طور پر اسلامی تہذیب میں نہایت مؤثر تین پہلوؤں "صدر اسلام، انقلاب اسلامی، اور امام زمانہ(ع) کے ظہورمیں مسجد کا کردار" کی وضاحت کرنے کی کوشش کریں گے۔ دور حاضر میں مسجد کی عظیم نعمتوں اور برکتوں میں سے ایک اسلامی انقلاب ہے۔

سالار سلیمان(ایکپسریس نیوز)

جب پوری قوم اس بات پر متفق ہے کہ ملکی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا تو متنازعہ اسٹوری چھاپ کر کس کو فائدہ پہنچانا گیا ہے؟

چلیں مان لیا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اور یہ ستون دیگر ستونوں کی طرح ہی اہم ہے۔ میڈیا کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ خبر کو جاری کرے تاکہ عوام الناس با خبر رہ سکے لیکن المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں چونکہ الٹی گنگا بہتی ہے اور ہم تماشے لگانے کے شوقین ہیں تو لہذا کچھ عرصے کے بعد کوئی نہ کوئی کارنامہ سر انجام دے دیتے ہیں۔

ماضی میں بھی یہی ہوا تھا کہ نامور صحافی حامد میر پر جب کراچی میں حملہ ہوا تو ایک نجی چینل نے اپنے ملازم کیلئے ہر حد پار کردی۔ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ بغیر تحقیقات کیے حملے کا الزام ڈی جی آئی ایس آئی پر لگادیا، بات یہاں بھی نہیں رکی بلکہ اُن کی تصویر کو اسکرین پر لگا کر آٹھ گھنٹے تک اُن کا میڈیا ٹرائل کیا گیا۔ اِس قسم کا یہ یقیناً واحد معاملہ تھا۔ لیکن اب کی بار جو ایک انگریزی اخبار نے حرکت کی ہے وہ بھی کچھ کم نہیں کہ ملکی سلامتی کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ ادارے کی جانب سے سرل المیڈا نامی رپورٹر نے دنیا کو ایک کہانی سنائی۔ میں اِس کو اسٹوری کو خبر کے بجائے کہانی کیوں کہہ رہا ہوں اِس کا تذکرہ میں آگے جا کر کروںگا۔ پہلے مختصراً یہ پڑھ لیں کہ سرل کی کہانی کا لب لباب کیا تھا۔

سرل کے مطابق ایک اجلاس میں فارن سیکرٹری نے پریزنٹیشن پیش کی۔ اجلاس میں فوج اور حکومت دونوں کے نمائندگان موجود تھے۔ حکومت نے آخر میں کہا کہ فوج کو حکومتی معاملات میں بلاوجہ کی مداخلت بند کرنا ہوگی۔ حکومت کو عالمی سطح پر تنہائی سے بچنے کیلئے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی تاہم مسئلہ یہ پیش آتا ہے کہ جب بھی حکومت کارروائی کرنے لگتی ہے تو ایجنسیاں بیچ میں آکر مداخلت کرتی ہیں۔ دوسرا اہم امر یہ تھا کہ حکومت کو پٹھان کوٹ حملوں کی تحقیقات کی تکمیل کیلئے ازسرِ نو کارروائی کرنی چاہئے، مزید براں ممبئی حملوں کے رُکے ہوئے کیسوں کی سماعت بھی دوبارہ سے شروع کی جانی چاہئے۔ خبر میں آگے بیان کیا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر میں تلخ کلامی بھی ہوئی اور پھر ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں میاں نواز شریف نے اپنا کردار ادا کیا۔

یہ تو ہوگئی کہانی، لیکن کیا یہ کہانی سچ ہے؟ یا پھر جھوٹ پلندہ؟ اس کے لئے اس کا پوسٹ مارٹم کرنا ضروری ہے۔ بادی النظر میں یہ کہانی ’ہاف ککڈ‘ ہے یعنی کہ اِس میں آدھا سچ بیان کیا گیا ہے اور وہ سچ بھی اپنی مرضی کا ہی بیان کیا گیا ہے۔ یہ باتیں انشاءاللہ تحقیقات میں بھی ثابت ہوجائیں گی اور یہ بھی ثابت ہوجائے گا کہ یہ خبر نہیں بلکہ کہانی تھی۔ میری اس معاملے میں جنرل حمید گل مرحوم کے بیٹے عبد اللہ گل سے فون پر بات ہوئی۔ انہوں نے نہایت ہی شفقت سے میری پوری بات سنی اور مجھے بتایا کہ جس گروپ نے اس اسٹوری کو شائع کیا ہے اُس کی نیشنل انٹرسٹ کے حوالے سے بہت ہی عجیب اور مبہم پالیسیاں ہیں۔ مذکورہ گروپ عموماً الٹی طرف ہی چلتا ہے۔ میں بھی اُن کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔

خیر، اِس وقت تو میں سرل سے اُس کی اسٹوری کے حوالے سے چند سیدھے سادھے سے سوالات کرنا چاہتا ہوں۔ اگر وہ چاہیں تو جواب دے دیں، اگر جواب یہاں نہیں دیے گئے تب بھی تحقیقات میں تو بہرحال سب بتانا ہی ہوگا۔

جب پوری قوم اس بات پر متفق ہے کہ ملکی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا تو متنازعہ اسٹوری چھاپ کر آپ کس کو فائدہ پہنچانا چا ہ رہے ہیں؟

اگر اِس خبر کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز ہوا تو کیا آپ اِس پوزیشن پر ہیں کہ اپنی دی گئی اسٹوری کو ٹھیک ثابت کرسکتے ہیں؟ جس نے آپ کو خبر لیک کی ہے کیا وہ تحقیقات میں یہ اقرار کرسکتا ہے کہ ہاں اُس نے ہی آپ کو خبر دی ہے؟ یقیناً ایسا نہیں ہوگا اور اِس صورتحال میں مجھے ایسا لگتا ہے کہ شاید آپ بہت ہی معصوم ہیں جو سستی شہرت کے حصول کی خاطر پھنس چکے ہیں۔

کیا آپ اُس کمرے میں موجود تھے، کسی صوفے کے نیچے چھپے ہوئے تھے جو آپ کو ساری کارروائی، اس کے الفاظ اور حتیٰ کہ لب و لہجہ ہی نہیں بلکہ کہاں پر خاموشی ہوئی اور کہاں آوازیں بلند ہوئی سمیت ہر باریکی کا علم ہے؟

عبداللہ گل صاحب نے مجھے ایک بات اور بھی بتائی جو کہ نہایت ہی اہم ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ فوج کو ’’سیڈیشن ایکٹ‘‘ کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ہر اُس فرد سے تفتیش کرسکتی ہے جو کہ قومی مفاد کے منافی کام کررہا ہو۔ مزید براں ہر صحافی متعلقہ اداروں کو اپنی اسٹوری کے سورس بتانے کا پابند ہے۔ سرل جانے اور اُس کا معاملہ جانے، میری ذاتی نظر میں تو کہانی کی سچائی پر سوالات ہیں اور ٹھیک ٹھاک سوالات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں بار بار اِس کو نیوز کہنے کے بجائے کہانی کہہ رہا ہوں۔

کہا جاتا ہے کہ کسی بھی عمل کے بعد یہ بات دیکھی جاتی ہے کہ اِس کا فائدہ کس کو ہوا۔ بس اِسی فارمولے کو مدنظر رکھ کر اِس خبر کے بعد اگر بھارتی میڈیا پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ نہیں یقین ہوجاتا ہے کہ اِس خبر کے بعد سب سے زیادہ فائدہ بھارت اور بھارتی میڈیا کو ہوا ہے جس نے خبر کے سامنے آتے ہی پاکستان کے خلاف ایک بار پھر پوری طاقت سے زہر اگلنا شروع کردیا ہے۔۔

اختتام پر ایک بات میں مزید قوم کے سامنے رکھنا چاہوں گا کہ ایک امریکی سفیر جو کہ اب افغانستان میں تعینات ہیں اور پہلے پاکستان میں اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں انہوں نے ایک صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ امریکہ نے پاکستان میں 270 ملین ڈالر کی خطیر رقم ’’Perception Management‘‘ کیلئے مختص کی ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق 2004ء سے اب تک پاکستان میں پرسیپشن مینجمنٹ کی مد میں 1.4 بلین ڈالر خرچ ہوچکے ہیں۔ یہ رقم کس کو؟ کتنی؟ کب؟ کیسے؟ کس طرح؟ کس لئے؟ کس وقت؟ دی گئی۔ اس کا جواب تو امریکی سفیر ہی دے سکتے ہیں لیکن ہم اتنا جانتے ہیں کہ جب وقت آتا ہے تو بہت سے نمک حلالی کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ چلیں، آپ اپنے آقاؤں کا نمک حلال کیجئے ہم دھرتی ماں کا نمک حلال کرتے ہیں۔

کتاب پڑھنے کی عادت ذہنی تناؤ دور کرتی ہے اور دماغی صلاحیت کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ ماہرین، فوٹو؛ فائل

لندن: مطالعہ خواہ کتابوں کا ہو یا اچھی تحریروں کا ایک مفید مشغلہ ہے جو قلب و ذہن کو روشن کرتا ہے ۔ لیکن ماہرین کے مطابق پڑھنے کی عادت صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب کرتی ہے۔

اس سے قبل یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ کتابوں کا مطالعہ زندگی بڑھانے اور طویل عمری کی وجہ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ تحقیق جرنل آف سوشل سائنسس اینڈ میڈیسن میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ کتب بینی کے درج ذیل فوائد بھی سامنے آئے ہیں۔

مطالعہ ذہنی تناؤ دور کرتا ہے:

2009 میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف سسیکس میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مطالعے کی عادت ذہنی تناؤ اور پریشانی کو 68 فیصد کم کرتی ہے۔ بعض اوقات اس کا فائدہ موسیقی سننے اور چہل قدمی سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

اس کے لیے ماہرین نے 6 منٹ تک مختلف لوگوں کو اخبار، کتاب یا کوئی اور تحریر پڑھنے کے لیے دی اور اس دوران ان کے دل کی دھڑکن اور پٹھوں میں تناؤ کو نوٹ کیا گیا۔ ڈاکٹر کے مطابق مطالعہ انسان کو پریشانیوں اور فکروں سے آزاد کراتا ہے۔ اس کے علاوہ شعور اور سوچ کو بھی تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے۔

کتب بینی دماغی انحطاط کو روکتی ہے:

وقت کے ساتھ ساتھ ذہنی اور دماغی صلاحیتیں کم ہوتی جاتی ہیں۔ اس عمل کو دماغی انحطاط یا کوگنیٹوو ڈیکلائن بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں نام اور اشیا کو یاد رکھنے میں دقت، بھولنے کی عادت، نئے علوم سیکھنے میں مشکل اور ذہنی مسائل حل کرنے میں سست روی وغیرہ شامل ہیں۔

لیکن تحقیق سے ثابت ہے کہ پڑھنے کی عادت اس عمل کو سست کرتی ہے اور الزائیمر جیسے مرض کو روکتی ہے۔ 2013 میں شکاگو میں رش یونیورسٹی میڈیکل سینٹر نے ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پڑھنے کی عادت دماغ اور اس کے خلیات کو قوت دے کر ڈیمنشیا کے عمل کو سست کرتی ہے۔ اس تحقیق میں 290 سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کی اوسط عمر 89 سال تھی ۔ ان لوگوں کو مطالعے کا کہا گیا اور انہیں 6 سال تک مختلف ذہنی مشقیں کرائی گئیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ باقاعدہ طور پر کتابیں پڑھتے ہیں ان میں الزائیمر کا خطرہ نصف سے بھی کم ہوجاتا ہے۔

 

مطالعہ نیند کے لیے مؤثر:

اگرچہ ہم سوتے وقت اسمارٹ فون کے عادی ہوتے جارہے ہیں جو نیند کو غائب کردیتے ہیں جب کہ سوتے وقت اچھی کتاب کا مطالعہ نیند کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی لیے فون رکھ کر کتاب اٹھالیں اور مطالعہ شروع کردیں۔ ماہرین اس پر متفق ہیں کہ کتاب پڑھنے سے ذہنی سکون ملتا ہے اور نیند جلدی آتی ہے۔

کتاب پڑھنے کی عادت سے سماجی رابطوں میں بہتری:

اگرچہ کتابی دنیا میں رہنے والا محاورہ بھی عام ہے جو کسی ایسے بے عمل شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے جو صرف کتابیں پڑھتا رہتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کتابیں پڑھنے والے افراد دوسرے لوگوں سے بہت اچھی طرح ملتے ہیں اور ناول و افسانہ پڑھنے والے افراد دوسرے لوگوں اور دوستوں کے نظریات، عقائد، خواہشات اور سوچ کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔

اس طرح ان کے بہتر مراسم ہوتے ہیں اور وہ معاشرے کا اچھا فرد بن سکتے ہیں۔ اسی طرح فکشن پڑھنے والے افراد سماجی طور پر دوسروں سے محبت رکھتے ہیں اور بہتر سماج بناتے ہیں۔

مطالعہ کریں اور ذہین بنیں۔

امریکی مصنف اور ماہر ڈاکٹر سوئیس کا کہنا ہےکہ  مطالعہ ذخیرہ الفاظ کو بڑھاتا ہے جس کا براہِ راست تعلق ذہانت سے ہوتا ہے۔ اسی طرح بچوں کو مطالعے کی عادت ڈالی جائے تو ان کی ذہانت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس ضمن میں 2014 میں چائلڈ ڈویلپمنٹ نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جن بچوں کو 7 سال کی عمر میں پڑھنے کی تیز عادت ہوتی ہے آگے چل کا ان کا آئی کیو بلند ہوتا جاتا ہے جو ذہانت ناپنے کا ایک پیمانہ بھی ہے۔

(بشکریہ۔ ایکسپریس نیوز)

تحریر: انجینئر منظور حسین پروانہ

پاکستان چین اقتصادی راہداری CPEC))کا منصوبہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ، اس منصوبے نے ایک طرف پاکستان اور چین کے لئے ترقی کی نئی راہیں کھولنے کے امکانات روشن کئے ہیں تو دوسری طرف پاکستان ، بھارت اور چین کے درمیان مفاداتی جنگ کے خدشات کو بھی واضع کر دئیے ہیں ۔ صورت حال کی نزاکت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس راہداری کے منصوبے کو پاکستان آرمی کی زیر نگرانی میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کا بار بار عزم کا اظہار کر چکے ہیں اس منصوبے کے لئے خصوصی فورسس اور نئی چھاؤنیوں کے قیام کے لئے پالیسیاں مرتب کی جارہی ہیں ۔ پاکستان اور چین کی قیادت کا CPEC کے خلاف انٹر نیشنل سازشوں کی تدارک کے لئے کی جانے والی پیشگی اقدامات کے پس منظر میں جنگ و جدل کی خدو خال کو نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه