تاریخ اسلام میں ایک ایسی عظیم المرتبت خاتون کا نام افق فضل و کمال پر جگمگا رہا ہے کہ جس کی شخصیت اعلیٰ ترین اخلاقی فضائل کا کامل نمونہ ہے ۔ایسی خاتون جس نے اپنے نرم و مہربان دل کے ساتھ مصائب کے بارگراں کوتحمل کیا ۔لیکن اس بی بی کا عزم محکم حق و حقیقت کے دفاع کی راہ میں ذرّہ برابر متزلزل نہ ہوا ۔جی ہاں گفتگو ثانی زہرا(س) حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے سلسلے میں ہورہی ہے جنہوں نے اپنی گرانقدر حیات طیبہ اسلام اور اس کی حقیقی اقدار کے تحفظ میں گزاردی ۔ خدا کا درود و سلام ہو اس باعظمت خاتون پر جس نے اپنے خطبوں سے اپنے دور میں ناانصافی کی بنیادوں کو ہلاک کررکھ دیا ۔حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی تاریخ وفات و شہادت کے موقع پرآپ سب کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہوئے دین اسلام کی اس عظیم خاتون کے سلسلے میں یہ مقالہ قارئین کی نذر ہے ۔

تحریر: ایس ایم شاه

گنبد خضریٰ سے چند قدم کے فاصلے پر ہی "بقیع قبرستان" ہے۔ جب آپ باب جبریل سے باہر نکلیں گے تو سامنے ہی بقیع قبرستان دکھائی دے گا۔ مسجد نبوی اور بقیع کے درمیان ایک چھوٹی سی سڑک ہے۔ بقیع ہی وہ پہلا قبرستان ہے، جسے صدر اسلام میں پیغمبر اکرم (ص) کے حکم پر مدینہ منورہ میں بنایا گیا۔ یہاں ازواج مطہرات، اصحاب کرام، پیغمبر اکرمؐ کے چچا جناب عباس، حضرت فاطمہ بنت اسد والدہ ماجدہ حضرت علیؑ، حضرت عباسؑ کی مادر گرامی حضرت ام البنین اور  چار ائمہ؛ امام حسن مجتبٰیؑ، امام زین العابدینؑ، امام محمد باقرؑ و امام جعفر صادق ؑ اور بعض تواریخ کے مطابق حضرت عثمان بن عفان بھی یہاں مدفون ہیں۔ مدینے کی طرف ہجرت کے بعد بقیع مسلمانوں کا واحد قبرستان تھا۔ مدینے کے لوگ اسلام سے پہلے اپنے مُردوں کو "بنی حرام" اور "بنی سالم" اور کبھی اپنے گھروں میں ہی دفناتے تھے۔ سب سے پہلی شخصیت جو رسول مقبولؐ کے حکم سے یہاں دفن ہوئیں، وہ عثمان بن مظنون ؓہیں۔ جو حضرت رسول خدا اور حضرت علیؑ کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔

 نیپال میں گزرے تین ہفتوں کے بارے میں پہلے یہی سوچا تھا کہ کم از کم پانچ آرٹیکل تو لکھ ہی لوں، ان مضامین کے لیے عنوانات بھی سوچ لیے تھے کہ (۱) نیپال کا مختصر تعارف، (۲)کھٹمنڈو شہر (۳) بدھ مت مذہب کا مختصر تعارف (۴) تبت پر کیا بیت رہا ہے، (۵) تبت اور بلتستان کے مشترکہ تہذیبی باقیات (۶) جنوبی ایشیا کے چند بڑے تنازعات ۔ لیکن یہاں امریکہ آنے کے بعد نہ صرف دن رات میں اور رات دن میں بدل گئی بلکہ مسلسل مصروفیات کے باعث ان عنوانات پر لکھنا بہت مشکل معلوم ہو رہا ہے۔ میں اس ڈر کے مارے کہ کہیں نیپال کے تجربے پر ایک مختصر تحریر بھی لکھنے سے رہ نہ جائے ، اس لیے اسی مختصر مگر جامع تحریر کے لیے لیپ ٹاپ اٹھا یا ہے۔

تحریر: ایس ایم شاہ

ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مسلمانان عالم پورے سال میں بالعموم اور ایام حج میں بالخصوص مدینہ منورہ کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں بہت ساری تاریخی مساجد اور مقامات کے علاوہ  پیغمبر اکرم ؐ کے والد گرامی، آپ کی والدہ ماجدہ، ائمہ کرام، زوجات النبی اور اصحاب کرام کے مقابر بھی ہیں۔ مدینہ منورہ پہنچتے ہی گنبد خضریٰ کو دیکھ کر دل کو چین اور ذہن کو سکون ملتا ہے۔ بہت ساری امیدیں دل میں لئے، اپنے کئے کی توبہ کرنے کی غرض سے غسل کرکے اجلے ملبوس میں اور خوشبو سے معطر ہوکر اپنے محبوب کی ضریح سے اپنے گناہ گار بدن کو مس کرنے کے لئے جاتے ہیں۔ مسجد نبوی کی تعمیر بھی جدید طریقے سے بہت دلکش انداز بھی کی گئی ہے۔ صحن حرم میں ٹائلوں کی چمک سے ایسے لگتا ہے کہ گویا سورج یہاں سے طلوع کر رہا ہو۔ جاپانی انجر پنوں کے ذریعے لگائی گئی خوبصورت طرز کی چھتریوں کا طلوع  آفتاب کے ساتھ ہی کھل جانا اور غروب آفتاب کے ساتھ سمیٹ جانا بھی بہت ہی دلکش ہے۔ حرم پاک کے چاروں طرف آپ کو حرم میں داخل ہونے کے لئے گیٹ ملیں گے۔ صاف ستھرے باتھ رومز بھی فراہم ہیں۔ اکثر حاجی ہوٹلوں سے ہی باوضو ہوکر جاتے ہیں۔ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری جگہوں پر دس ہزار نمازوں سے بہتر ہے، جبکہ مسجد الحرام میں پڑھی جانی والی نماز ایک لاکھ نمازوں سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔(1)

...ایک بہت ہی سادہ زیست، متواضع، معرفت الٰہی سے سرشار، مقام شہود پر فائز اور اپنے درس و بحث میں منہمک رہنے والے کے بارے میں کون سوچ سکتا تھا کہ وہ اتنا بڑا عالمگیر انقلاب بپا کر پائے گا، پہلے تو سید المرسلین کی سیرت پر چلتے ہوئے اپنے کو صادق و امین کا مصداق بنانے میں مگن رہے، علمی منازل طے کرکے آسمان فقاہت تک رسائی حاصل کی، پھر آہستہ آہستہ اپنے درس و بحث میں استعماری طاقتوں کے خلاف آواز  اٹھانا شروع کیا، ساتھ ہی اقبال کے بقول لوگوں کے ذہنوں میں اس حقیقت کو ڈالنے کی کوشش کی گئی کہ

 جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی

روح امم کی حیات کشمکش انقلاب

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه