جناب ذوالفقار احمد چیمہ  صاحب پاکستان کی ایک معروف شخصیت ہیں جو مختلف نظامی اور غیر نظامی عہدوں پر فائز ہونے کے علاوہ ایک اہم تجزیہ نگار اور قلمکار بھی ہیں۔ اگرچہ ان کا خطاب ایران کے سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ خامنہ ای سے ہے اور اس کا بہتر جواب یا توجیہ ان کے دفتر یا قریبی افراد ہی دے سکتے ہیں۔ لیکن  رہبر انقلاب صرف ایرانی حکومت یا عوام کے رہبر نہیں بلکہ ولی فقیہ ہونے کے ناطے ہم سب کے بھی رہبر ہیں اور ان پر کوئی ناروا الزام یا تہمت آئے تو ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان کا دفاع کریں لہذا ایک وظیفہ اور ذمہ داری ہونے کے ناطے اس مختصر تحریر میں یہ  کوشش کی گیی ہے

 

 تحریر: سید قمر عباس حسینی

تعلیم اور تربیت ناقابل تقسیم اکائی ہے۔ یہ دو ایسے اہم مرکب ہے جو قابل انفکاک ہی نہیں، لیکن اگر کوئی قوم ان دونوں کو الگ الگ  کر دے اور تعلیم کو اس دور کی ضرورت اور تربیت کو غیر اہم سمجھے تو یہی وہ مرحلہ ہے، جہاں سے اس قوم کا زوال شروع ہوجائے گا۔ آج کے دور میں بعض ماڈرن ذہنیت کے لوگ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ ماڈرن بنانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ تعلیم وقت کی ضرورت ہے جبکہ تربیت مذہبی لوگوں کی باتیں ہیں۔ درحقیقت ان نام نہاد ماڈرن لوگوں نے ابھی تک تربیت کا اصل مفہوم سمجھا ہی نہیں، تربیت بنیادی طور پر دو طرح کی ہے، ایک اخلاقی و دینی اور دوسری فنی و ہنری۔ اخلاقی و دینی تربیت کے بغیر انسان علم یا فن و ہنر میں جتنی بھی ترقی کر جائے، وہ فقط نام کا انسان ہوتا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں دونوں طرح کی تربیت کا فقدان چلا آرہا ہے۔ آداب اسلامی اور عقائد اسلامی کے مطابق تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ہم آج مغرب پرست بنے ہوئے ہیں، ہم مغرب کی ہر حرکت کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ آج اہلِ مغرب ہمارے مربّی ہیں اور ہم ان کی تقلید کرنے کو فخر سمجھتے ہیں، جبکہ مسلم تہذیب ہزار برس تک دنیا پر اس طرح حکومت کرتی رہی ہے کہ افریقہ سے لے کر وسطی ایشیا اور یورپ سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلی ہوئی متمدن دنیا میں کوئی اس کی ہم سری اور برابری کا تصور ہی نہیں کرسکتا تھا۔

صرف سیاست ہی نہیں بلکہ تہذیب، تمدن، علم، فن، زبان، معاشرت اور تجارت میں کوئی اس سے آگے نہ تھا۔ ایسا دور بھی گزرا ہے کہ یورپ مسلمانوں کی تہذیب و تمدن سے مرغوب تھا، مگر جب سے مسلمانوں نے اپنی اسلامی تہذیب کو چھوڑ کر یورپی تہذیب کو اپنایا ہے، اس وقت سے ہمارے معاشرے کی اچھی خاصی تعداد میں مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اپنی دینی حیثیت کھو بیٹھے ہیں۔ تربیت کی جانب کم توجہی کہ وجہ سے مسلمان اخلاقی طور پر کمزور ہوئے تو انھیں بغداد کی تباہی اور اسپین سے نکالے جانے کا سانحہ دیکھنا پڑا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قومی اور تہذیبی غلبے کے لئے تعمیری سوچ اور اصلاحی ذہن کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسروں کو الزام دینے اور ان کی سازشیں ڈھونڈنے کے بجائے اپنی غلطیاں تلاش کرنا اور علم و اخلاق میں پستی کو دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کسی بھی قوم کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ان کے پاس اچھے، اہل، قابل اور اصلاح و تربیت یافتہ افراد میسر ہوں، جو ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوں، شخصی اقتدار کیلئے دوسروں کو نقصان نہ پہنچاتے ہوں۔

جب معاشرے میں تربیت یافتہ اور شعور دینی و آداب اسلامی سے واقف افراد ہونگے تو انہی میں سے ہی بعض افراد اس سماج کے باگ ڈور سنبھالیں گے تو ایک اچھا حکمران نہ صرف قومی مفاد اور مصالح کو مدنظر رکھتا ہے بلکہ قوم کے افراد کی صلاحیتوں کو بھی چمکاتا اور صیقل کرتا ہے، لیکن جب حکمران تربیت یافتہ نہ ہوں، فہم و ادراک دینی سے نابلد ہوں تو وہ عیاشیوں اور فضول خرچیوں میں پڑیں گے، اشرافیہ ان کے ساتھ زندگی کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے تو لازمی بات ہے کہ عوام پر بدترین وقت آئے گا، طرح طرح کی مشکلات سے عوام کو دوچار ہونا پڑے گا، یہاں تک کہ یہ لڑاو اور حکومت کرو کے اصولوں پر عمل کرتا رہے گا۔ یوں انسانیت کا محترم خون حکمرانوں کی ہوس کی خاطر گلی کوچوں میں بہتا رہے گا، نہ صرف یہی بلکہ ابن آدم کو انسان کی بجائے جانور اور کولہو کا بیل سمجھا جاتا رہے گا۔ دیگر مناطق کی طرح آج ہمارا گلگت بلتستان بھی علمی لحاظ سے عروج پر ہے، لیکن تربیتی عنوان سے زوال کا شکار ہے، ڈاکٹر ہمارے اپنے ہیں، انجئینرز بھی مقامی ہیں، پروفیسرز بھی ہیں اور یوں ہم ایک تعلیم یافتہ لوگ کہلواتے ہیں، لیکن  باوجود اس کے ہم نہ اخلاقی برائیوں سے بچ سکے، نہ اپنے اسلاف کی اسلامی تہذیب و تمدن اور کلچر کی حفاظت کرسکے اور نہ ہی جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر علاقے میں ترقی لا سکے۔

ترقی یافتہ اور فیشن ایبل بننے کی کوشش میں ہم نے یورپ کی تقلید شروع کی، خواتین بازاروں میں ننگے سر پھرنا شروع ہوئیں، منشیات کو عام کر دیا گیا، فحاشی، عریانی یعنی وہ تمام چیزیں جو ایک غیر اسلامی ملک میں ہوتی ہیں، ہم کر گزرے، لیکن دوسری طرف بنیادی انسانی حقوق اور آئینی حقوق لینے کی نہ ہماری اسمبلی میں طاقت ہے، نہ ہمارے نمائندوں کی کوئی حیثیت ہے اور نہ ہمارے صحافیوں میں دم خم ہے۔ ہمارا سی پیک میں کوئی حصہ نہیں، حکومت ہماری زمنیوں پر زبردستی قبضہ کرتی چلی جا رہی ہے اور ہم ایک دوسرے سے لڑتے مرتے جا رہے ہیں۔ ہمیں ابھی تک مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہونا بھی نہیں آتا۔ اگر ہم علاقائیت، لسانیت، فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر اپنی نئی نسل کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی و اخلاقی تربیت پر آج بھی توجہ دیں تو اگلے کچھ عرصے میں ہم سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ آج ہمارے جوانوں کے پاس ڈگریاں اور پیسے تو ہیں، لیکن اجتماعی اور قومی شعور نہیں ہے اور یہی چیز ہماری ملی وحدت اور قومی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تحریر :سید قمر عباس حسینی

تعلیم اور تربیت  ناقابل تقسیم اکائی ہے ۔ یہ دو ایسے اہم مرکب ہے جو قابل انفکاک ہی نہیں  لیکن اگر کوئی قوم ان دونوں کو الگ الگ  کردےاور تعلیم کو اس دور کی ضرورت اور تربیت کو غیر اہم سمجھےتو یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سے اس قوم کا زوال شروع ہوجائے گا ۔ آج کے دور میں بعض ماڈرن ذہنیت کے لوگ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ ماڈرن بنانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ تعلیم وقت کی ضرورت ہے جبکہ تربیت مذہبی لوگوں کی باتیں ہیں ۔ در حقیقت ان نام نہاد ماڈرن لوگوں نے ابھی تک تربیت کا اصل مفہوم سمجھا ہی نہیں ،تربیت بنیادی طور پر دو طرح کی ہے ،ایک اخلاقی و دینی اور دوسری فنی و ہنری۔

اخلاقی و دینی تربیت کے بغیر انسان علم یا فن و ہنر میں جتنی بھی ترقی کرجائے وہ  فقط نام کا انسان ہوتاہے۔ہمارا  سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں  دونوں طرح کی تربیت کا فقدان چلا آرہاہے ۔ آداب اسلامی اور عقائد اسلامی کے مطابق تربیت نہ ہونے   کی وجہ سے ہم آج مغرب پرست بنے ہوئے ہیں ہم مغرب کی ہر حرکت کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ آج  اہلِ مغرب ہمارے مربّی ہیں  اور ہم ان کی تقلید کرنے کو فخر سمجھتے ہیں جبکہ مسلم تہذیب ہزار برس تک دنیا پر اس طرح حکومت کرتی رہی ہے کہ افریقہ سے لے کر وسطی ایشیا اور یورپ سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلی ہوئی متمدن دنیا میں کوئی اس کی ہم سری اور برابری کا تصور ہی نہیں کرسکتا تھا۔

جب معاشرے میں تربیت یافتہ اور شعور دینی و آداب اسلامی سے واقف افراد ہونگے تو انہی میں سے ہی بعض افراد اس سماج کے باگ ڈور  سنبھالیں گے تو ایک اچھا حکمران نہ صرف قومی مفاد اورمصالح کی مد نظر رکھتاہے بلکہ قوم کے افراد کی صلاحیتوں کو بھی چمکاتااور صیقل کر تاہے ۔لیکن جب حکمران تربیت یافتہ نہ ہوں فہم و ادراک دینی سے نا بلد ہوں تو وہ  عیاشیوں اور فضول خرچیوں میں پڑیں گے  ، اشرافیہ ان کے ساتھ زندگی کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے  تو لازمی بات ہے عوام پر بدترین  وقت آئے گا طرح طرح کی مشکلات سے عوام کو دوچار ہونا پڑے گا یہاں تک کہ یہ لڑاو اور حکومت کرو کے اصولوں پر عمل کرتا  رہےگا۔ یوں انسانیت کا محترم خون حکمرانوں کی ہوس کی خاطر گلی کوچوں میں بہتا رہے گا نہ صرف یہی بلکہ ابن آدم کو انسان کی بجائے جانور اور کولہو کابیل سمجھا جاتارہے گا  ۔

دیگر مناطق کی طرح آج ہمارا گلگت  بلتستان بھی علمی لحاظ سے عروج پر ہے  لیکن تربیتی عنوان سے زوال کا شکار ہے،ڈاکٹر ہمارے اپنے ہیں، انجئینرز بھی مقامی ہیں،پروفیسرز بھی ہیں اور یوں   ہم ایک تعلیم یافتہ قوم کہلواتے ہیں لیکن  باوجود  اس کے  ہم نہ اخلاقی برائیوں سے بچ سکے، نہ اپنے اسلاف کی اسلامی تہذیب و تمدن اور کلچر کی حفاظت کر سکے اور نہ ہی جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر علاقے میں ترقی لا سکے ۔

ترقی یافتہ بننے  اورفیشن ایبل بننے کی کوشش میں ہم نے یورپ کی تقلید شروع کی  خواتین بازاروں میں ننگے سر پھرنا شروع ہوئیں ،منشیات کو عام کردیا  گیا، فحاشی ،عریانی یعنی وہ تمام چیزیں جو ایک غیر اسلامی ملک میں ہوتا ہے ہم کر گزرے  لیکن دوسری طرف  ، بنیادی  انسانی حقوق  اور آئینی حقوق لینے کی نہ ہماری اسمبلی میں طاقت ہے نہ ہمارے نمائندوں  کی کوئی حیثیت  ہے  اورنہ ہمارے صحافیوں میں دم خم ہے ۔ ہمارا سی پیک میں کوئی حصہ نہیں ،حکومت ہماری زمنیوں پر زبردستی قبضہ کرتی چلا جارہی ہے اور ہم ایک دوسرے سے لڑتے مرتے جارہے ہیں۔ہمیں ابھی تک مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہونا بھی نہیں آتا۔

 

 اگر ہم علاقائیت ،لسانیت ،فرقہ واریت سے بالاتر ہو کراپنی نئی نسل کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی و اخلاقی تربیت  پر آج بھی توجہ دیں تو اگلے کچھ عرصے میں ہم  سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں ۔ آج ہمارے جوانوں کے پاس  ڈگریاں اور پیسے تو ہیں لیکن اجتماعی اور قومی شعور نہیں ہے اور یہی چیز ہماری ملی وحدت اور قومی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

 

 

 

 

 تحریر: سید قمر عباس حسینی

انسانی زندگی میں تعلیم و تربیت کی ضرورت و اہمیت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ علم انسان کو انسانیت سکھاتا ہے، اخلاقیات کی تربیت دیتا ہے۔ علم کے بغیر انسان جانوروں جیسا ہو جاتا ہے، جیسا کہ امام غزالی فرماتے ہیں: "بے علم کو انسان اس لئے قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ جو صفت انسان کو تمام جانوروں سے ممتاز کرتی ہے، وہ علم ہی ہے، انسان کو مرتبہ و مقام علم ہی کی وجہ سے ملا ہے۔" تعليم کي اہميت ايک عام انسان کے خیال میں یہ ہے کہ تعليم اس لئے ضروري ہے کہ وہ ملازمت حاصل کرنے ميں مددگار ہوتی ہے۔ يہ صحيح ہے کہ تعليم آدمی کے لئے ملازمت اور معاش ميں مددگار ہوتی ہے، مگر تعليم کی اصل اہميت يہ ہے کہ تعليم آدمی کو باشعور بناتی ہے۔ تعليم آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ باتوں کو اس کي گہرائی کے ساتھ سمجھے اور زيادہ نتيجہ خيز انداز ميں اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرسکے۔

تعلیم و تربیت کی اہمیت سے انکار ممکن ہی نہیں، انسانیت کیلئے تعلیم و تربیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریمؐ پر اللہ کی طرف سے جس پہلی آیت کا نزول ہُوا، اسکی ابتدا بھی ’’اقرا‘‘ سے ہوئی۔ تعلیم و تربیت کا بنیادی مقصد معرفتِ ذات ہے، یہ انسان اور اس کی ذات کے درمیان ایسا پُل ہے، جس کے قائم ہونے سے انسان کی شخصیت کی تجدید اور نکھار کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور پھر انسان کی شخصیت روحانیت کی منازل طے کرنا شروع کر دیتی ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے، جب تعلیم و تربیت کو خدا کے لئے اور معرفت حق کے لئے حاصل کریں، لیکن اگر  تعلیم و تربیت کو صرف مادی ضروریات کی حصول کے لئے حاصل کریں تو معاشرے میں تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ تعلیم و تربیت یافتہ افراد ہی مہذب معاشروں کو جنم دیتے ہیں اور پھر پڑھے لکھے معاشروں کے گلستان میں بڑے بڑے علمی شخصیتوں کے پھول کھلتے ہیں۔ افراد ہی چونکہ زمانوں کے نمائندے ہوتے ہیں، اس لئے جن معاشروں میں دانشور، محقق اور مدبر ابھر کر سامنے نہیں آتے، وہ معاشرے جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تعلیم و تربیت یافتہ معاشروں میں افراد مقصدِ حیات، آخرت کی تیاری، حقوق اللہ، حقوق العباد اور آداب اسلامی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ان چیزوں کا شعور تعلیم و تربیت سے اُجاگر ہوتا، لیکن  تعلیمی اسناد کے حصول کے بعد بھی اگر کوئی انسان مقصدِ حیات کو سمجھنے سے قاصر رہے، اپنے روحانی دریچوں کے اندر جھانکنے کی اہلیت سے عاری ہو، آداب اسلامی کو اہمیت نہ دے، معاشرتی زندگی میں بڑوں کا احترام نہ کرے، چھوٹوں سے شفقت کا مادہ نہ ہو، تو سمجھ لیں کہ اس نے تعلیمی ڈگری تو حاصل کی ہے لیکن اپنی تربیت نہیں کی۔ بدقسمتی سے پچھلے 68 سالوں میں ہم نے تعلیم کے ہمراہ تربیت کو بالکل اہمیت نہیں دی، اس لئے تعلیم و تربیتی لحاظ سے گلگت بلتستان کا شمار دنیا کے دور افتادہ علاقوں میں ہوتا رہا۔ ہمارا تعلیم و تربیتی نظام سیاسی نمائندوں کے سیاست کی نذر ہوگیا ہے۔ اس وقت کرپشن کا سب سے بڑا منبع ہمارا محکمہ ایجوکیشن ہے، ہمارے نظامِ تعلیم میں استادوں کا  Skill Development کی طرف کوئی دھیان نہیں۔ صرف بچوں کو سکول بھیجنا کافی سمجھ لیا گیا ہے۔

اگرچہ ہمارے بعض بزرگوں کے مطابق "گلگت بلتستان میں  تعلیم و تربیتی انقلاب آگیا ہے۔" ان کی  بات اس زاویے سے تو بالکل صحیح ہے کہ سکولوں میں بے حساب اضافہ ہوا ہے، ہر کوئی اپنے بچوں کو اچھے سکولوں میں بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا یہی  تعلیم و تربیتی انقلاب ہے۔؟ کیا تعلیمی انقلاب سکولوں کے زیادہ ہونے کو کہتے ہیں۔؟ کیا انقلاب کے لئے عمارتوں کی بہتات کافی ہے یا کسی اور چیز کی بھی ضرورت ہے۔؟ میرے خیال میں ہرگز ایسی بات نہیں ہے، ابھی انقلاب نہیں آیا بلکہ تعلیمی و تربیتی میدان میں انقلاب لانے کی ضرورت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جب تک سرکاری اور پرائیوٹ سکولوں میں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور ہماری معاشرتی ضرورت کے مطابق نظام  تعلیم و تربیت رائج نہیں ہوگا، جب تک  تعلیم و تربیت کو عام کرکے مساویانہ انداز میں فراہم نہیں کرینگے اور جب تک  تعلیم و تربیت کو ذریعہ معاش بنانے والوں سے چھین کر حقیقی اور لائق و فائق افراد کے ہاتھوں کے سپرد نہیں کرینگے، بچے میں خود اعتمادی، اپنی دلیل کیلئے الفاظ کے چناو کا ڈھنگ، دوسروں سے اختلاف کرنے کے آداب اور بزرگوں سے ملنے کے آداب اور شائستگی، جو کہ مقصد تعلیم و تربیت ہے، نہیں سیکھائینگے، انقلاب نہیں آسکتا۔

 

 

موجودہ نظام تعلیم، عدمِ تربیت کی وجہ سے پہلے سے کہیں زیادہ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکا ہے۔ ایسی ایسی برائیاں جنم لے رہی ہیں کہ جن کا ماضی میں نام و نشان تک نہیں تھا۔ ہمارے بزرگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس وقت ہماری  تعلیم و تربیت Subject Based  پر ہے، Concept Based نہیں، یعنی ہم بچوں کو مضمون یاد کروا دیتے ہیں، اس مضمون کے اندر پنہاں اسباق اور فلاسفی پر زور نہیں دیتے۔ پورے پاکستان خصوصاً گلگت بلتستان کے معاشرے میں نام نہاد ترقی کی طلب اور دکھاوے کی ڈگریوں نے معاشرتی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ بہرحال یہ ایک حقیقت  ہے کہ مختلف حکومتیں تعلیم و تربیتی اصلاحات کی پالیسی بناتی رہی ہیں اور پھر یہ پالیسیاں بھی حکومتی مفادات کی نظر ہوتی چلی گئی ہیں۔ اگر ان پالیسیوں کو سیاسی مفادات سے بالاتر رکھ کر اجرا کیا جائے تو امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔

تحریر: سید حامد علی شاہ رضوی قم ایران

قرآنِ مجید میں اﷲ ربُ العزّت اپنے بندوں کو متوجہ کرتے ہوئے اس امر کا یقین دلاتا ہے کہ ’’جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں جواب دیتا ہوں‘‘ (سورہ البقرۃ 186)

’’اور تمہارا رب کہتا ہے مجھ کو پکارو تاکہ پہنچوں تمہاری پکار کو‘‘ (سورۃ مومن 60)

دعا اﷲ کی عظیم نعمت اور اپنے بندوں پر احسان ہے، جو عبد کو معبود سے مربوط کردیتی ہے۔ دعا مایوسی میں امید کی کرن ہے۔ جب امید کے تمام دریچے بند ہو جاتے ہیں تو دعا ہی مایوسی کے اندھیروں میں چراغ اور انسان ایک ایسی ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے، جس سے روح کو تازگی اور سکون ملتا ہے۔ زمانے کے بے رحم تھپیڑوں میں تحفظ کا احساس اور ظلم و جبر سے ٹکرانے کا حوصلہ ملتا ہے۔ دعا ہی وہ آستانہ ہے، جس میں اﷲ کے اولیاء کو نہ کسی زبردست کا خوف ہوتا ہے اور نہ انہیں کوئی حزن و ملال۔ خداوندِ عالم نے قرآن مجید میں دعا کے کچھ راہ نما اصول بھی سکھادیے۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه