اگر اداروں میں میرٹ اور قابلیت کو ترجیح دے دی جائے اور حق دار کو اس کا حق اس کے دروازے پر مل جائے، حکمران طبقے عوامی ضروریات کو حل کرنے میں کوتاہی نہ کریں تو احتجاج کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔کسی کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ اس کو عزت و وقار کی روٹی مل رہی ہو اور وہ سڑکوں پر احتجاج کرتا پھرے، جب حقدار کو اس کا حق نہیں ملتا تو پھر وہ احتجاج کیلئے سڑکوں پر آتے ہیں۔ شاید آئینی حقوق اور گلگت سکردو روڈ کی تعمیر جیسے اہم منصوبے بھی اپنے تکمیلی مراحل کو طے کرنے کے لئے کسی احتجاج یا ہڑتال کے انتظار میں ہونگے۔

 

پروردگار عالم اپنی کتاب قرآن حکیم میں ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کو حکم دیتا ہے اور تاکید کرتا ہے۔ سورہ نور کی تیسویں اور ایکتیسویں آیات میں فرماتا ہے کہ:

(اے رسول) ایمانداروں سے کہہ دو کہ اپنی نظروں کو نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہی ان کے لئے زیادہ صفائی کی بات ہے۔ یہ جو کرتے ہیں۔ خدا ان سے خوب واقف ہے۔ اور (اے رسول) ایماندار عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ اوراپنے بناؤ سنگار کے مقام کو کسی پر ظالم نہ ہونے دیں۔ مگر وہ کہ جو خود بخود ظاہر ہوجانا ہو۔ (چپ نہ سکتا ہو)۔ اس کا گناہ نہیں۔ اور اپنی اڑھنیوں کو (گھونگھٹ مار کے) اپنے گریبانوں (سینوں) پر ڈالے رہیں۔ اپنے شوہروں، یا اپنے باپ داداؤں یا اپنے شوہر کے باپ داداؤں یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہر کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیوجوں یا اپنے بھانجوں یا اپنے (قسم کی) عورتوں یا اپنی لونڈیوں یا (گھر کے) وہ نوکر چاکر بھتیجوں یااپنے بھانجوں۔ یا اپنے (قسم کی) عورتوں یا اپنی لونڈیوں یا (گھر کے) وہ نوکر چاکر جو مرد صورت ہیں مر بہت بوڑھے ہونے کی وجہ سے عورتوں سے کچھ مطلب نہیں رکھتے۔ یا وہ کمسن لڑکے جو عورتوں کے پردے کے بارے میں آگاہ نہیں ان کے سوا کسی پر اپنے بناؤ سنگار نہ ظاہر ہونے دیا کریں۔ اور چلنے میں پاؤں زمین پر اس طرح نہ رکھیں کہ لوگوں کو ان کے پوشیدہ بناؤ سنگار (جھنکار وغیرہ) کی خبر ہوجائے۔ اور اے ایماندارو! تم سب کے سب خدا کی بارگاہ میں توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔“

(القرآن: سورہ ۴۲، آیت ۰۳ اور ۱۳)

مسلمان کے لئے پوشاک کا معیاری نصاب کیوں؟

اسلام مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے سے ملنے سے منع نہیں کرتا ہے۔ لیکن اس ملنے میں ایک دوسرے کے لئے احترام، آپس کی شرم و حیا اپنی عزتِ نفس کا خیال ملحوظ خاطر رکھنا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کے ناموس اور وقار کا خیال رکھ سکیں۔

اسلامی سیدھے سادھے چال چلن اور رکھ رکھاؤ میں عام طور ایک دوسرے کا احترام، کردار کی پاکیزگی اور ایک خاص معیاری لباس شامل ہے جس میں مسلم خاتون کا حجاب سرپر اسکارف، دوپٹہ نمایاں رہتا ہے۔

اپنی روح کی پاکیزگی کے لئے اپنی نظروں کو نیچی رکھو۔

اسلامی سادہ لباس۔ جس کو عام طور پر حجاب کہتے ہیں۔ اس کا مقصد ہی یہ ہے کہ عورتوں کی مکمل ستَر پوشی ہو۔

”انسان کی آنکھیں اس کے دل کی جاسوس ہیں اور عقل و دانش کی پیغامبر ہیں۔ لہٰذا اپنی نظروں کو نیچے رکھو۔ ہر اس چیز سے جو تمہارے ایمان کے مناسب نہیں ہے …۔“

چراغ صراط آج کل کی ترقی یافتہ دنیا میں۔

ہر طرف سے بے شمار منظر اور نظاروں، آواز، بو کا حملہ اور بمباری ہمارے حواس پر جاری رہتا ہے۔ اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ہم اپنے احساس پر پوری طرح قابو رکھیں جس پر ہرطرف سے ہر طرح کے بہکانے کے حملے ہوتے رہتے ہیں۔ اس لئے یہ تجرباتی اور یہ حملے ہم پر باہر سے اور ورحانی طور پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔

ایک عطر کی خوشبوجدّہ امجدہ کی پرانی یاد دلا سکتی ہے۔ تو ایک طرف آتش بازی اور پٹاخوں کی آواز دماغ کوپرگندہ کردیتی ہے اور کسی لڑائی یاجنگ کی تصویر کشی کردیتی ہے۔ جب کہ ایک خوب صورت لباس سے عاری عورت غیر ضروری گندے خیالات و جذبات کو ابھار سکتی ہے۔

جب ہمارے حواس فحاشی، عیاشی، جرائم عامیانہ او رغیر اخلاقی مناظر کو دیکھتے ہیں تو اگر چہ ہم خود ان چیزوں میں عملی طور پر حصہ نہیں لے رہے ہوتے ہیں لیکن ایک حد تک اپنی معصومیت کے درجہ کو کم تو کر ہی دیتے ہیں۔ ہم اپنے بچپن کی ایسی غیر معصومانہ حرکت کی یاد کرتے ہیں یا یاد آجاتی ہے تو یہی یاد جو کبھی معصومیت کے جذبے کو ٹھیس پہونچاتی تھی اس خاص موقع پر اب معمولی اور روز مرّہ کی چیزیں بن جاتی ہیں۔

اسلامی قوانین میں یہ نہ صرف والدین کی ذمہّ داری ہے کہ وہ معصوم بچوں کو ان غیر اخلاقی حرکات اور مناظر سے بچائیں۔ بلکہ جو بالغ و عاقل ہوچکے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو اس سے دور رکھیں اور اگر وقت پر اپنے آپ کو اس ماحول سے نہ بچا سکے تو آخیر میں ہم ایک روحانی مریض بن کر رہ جائیں گے۔

لہٰذا یہ صاف اور ظاہر ہوگیا کہ فلسفہٴ حجاب وقار، عزت نفس اور پاکیزگئ کردار کو قائم رکھتا ہے۔ اور زندگی کے ہر شعبہ پر اثر انداز ہے نہ صرف لباس پر۔ ہمیں اپنی نظروں پر قابو رکھنا چاہیئے اور اپنے مخالف صنف پر بری نظر کبھی نہ ڈالنا چاہئیے اور ہمارا لباس ایسا ہونا چاہئیے کہ اس سے وقار اور احترام ظاہر ہو۔

حجاب کا مناسب اور صحیح استعمال

قرآن حکیم اس سادہ لباس کے بارے ان الفاظ میں تاکید کرتا ہے۔ (اس رسالے کے شروع کا پیرا …… اوپر دیکھئے……)

پہلے تو یہ ہے کہ مردوں پر یہ فرض ہوتا کہ وہ عورتوں کی عزّت احترام میں پہل کریں وہ کوئی فعل نہ کریں یا کسی ایسے عمل کی اجازت نہ دیں جس سے عورت کی عزّتِ نفس یا اس کی ناموس پر اثر ہو اور اس کی عزّت کسی طرح سے بھی کم ہو۔

ان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنی نظریں انکساری اور عاجزی میں نیچے رکھیں دل سے۔ وہ پُروقار کپڑے پہنیں اور ایسے کوئی فعل کے مرتکب نہ ہو اور نہ ہی ایسی جگہوں پر جائیں جس سے سبکی محسوس ہو۔

حجاب مردوں اور عورتوں کے آپس میں ملنے سے منع نہیں کرتا دور نہ ہی روکاؤٹ پیدا کرتا ہے ساتھ میں تعلیم حاصل کرنے یا کام کرنے۔ اچھے اعمال کرنے اور اسی طرح سے دوسرے نیک کام۔ بلکہ حجاب کے ساتھ ملنے اور دونوں طرف سے حجاب کا احترام کرتے ہوئے ملنا۔ خلوص اور صاف دل سے ملنا ہوگا بغیر دل میں کوئی بُرا خیال لائے ہوئے۔

عورتوں کی خود اپنے کو ایک پُر وقار اور عزّت والی مخلوق تصوّر کرنا چاہتے اور مردوں سے پاکیزگی کے ساتھ ملنا چاہئیے۔ اور ان کو مردوں کے ساتھ ایسا کو ئی برتاؤ نہیں کرنا چاہئیے۔ جس سے کوئی کشش یا دعوت یا اشارہ ملے اور نہ ہی کوئی بے تکلفی دکھانا چاہئے۔ جس سے مردوں کے جذبات ابھریں۔

جب وہ عورتیں ایسے مردوں میں ہوں ۔ جس سے نزدیکی رشتہ داری نہیں ہے تو ان کو حجاب کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ تاکہ ان کے حُسن اور جسم کی بے جا نمائش نہ ہوسکے۔ اس کی پردہ پوشی ہو۔ تمام مُسلم عُلماء کو اس پر پورا اتفاق ہے کہ مُسلم عورتوں کو اپنے جسم کی پردہ پوشی پوری طرح کرنا چاہئے۔ سوائے ان کے ہاتھ (ہتھیلیاں) اور چہرہ۔ مسلم عورتوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس اصول پر پوری طرح کاربند رہیں۔ اس طرح کہ وہ ڈھیلا ڈھالہ کپڑا پہنیں تاکہ جسم کے نشیب و فراز کو چھپا سکیں۔ اوراپنے بالوں کو خاص طور پر اسکارف سے چھپائے رہیں۔

عورتوں اور مردوں کے سادہ اور عام پوشاک میں فرق ہوتا ہے۔ ان کے جسموں کی بناوٹ اور فطری تقاضوں کی بنا پر اور خاص کر کشش کو چھپانے کے لئے ۔ اس امتیازی پوشاک یا حجاب کو مغربی ممالک میں جہاں کی عورتوں کی ایک قلیل تعداد عریانی لئے ہوئے رسالے اور میگزین پڑھتیں ہیں۔ اس کے مقابلے میں مرد حضرات جو ایسے رسالے زیادہ پڑھتے ہیں یا فاحشہ عورتوں سے زیادہ تعلقات رکھتے ہیں۔

کچھ لوگوں کے خیالات کے برخلاف۔ حجابنہ تو کمتری کی نشانی ہے اور نہ ہی عورتوں پر مردوں نے لادا ہے یا زبردستی کی ہے۔ اللہ متعال کے نزدیک عورتوں اور مردوں میں درجات کی صرف زہد و تقویٰ سے پہچان ہوتی ہے وہ بھی انفرادی طور پر۔ جب پردہ کی بات ہوتی ہے تو ان کی پہچان غیر مادّی کردار جسے ایمانداری اور عقل و دانش سے ہوتی ہے۔

اسلامی سادہ لباس ’حجاب‘ عورتوں کا نہ تو سماجی طور پر گلا گھونٹتا ہے کہ زندی کی روز مرذہ کی حرکات و سکنات پر پابندی ہوجائے اور نہ ہی ان کے اظہار خیال، تعلیم، صحت یا حفظان صحت اور دوسری آزادئ نسواں یا شخصی آزادی پر پابندی ہوتی ہے۔ بلکہ ان معاملوں میں آزاد رہتی ہیں۔ بلکہ حجاب ایک ٹھوس سماجی ماحول پیداکرتا ہے۔ اور سماجی بُرائیوں جیسے کہ عصمت درسی اور چھڑ چھاڑ کی روک تھام کرتا ہے۔ اس لئے کہ حجاب جب درمیان ہو تو ایٍے مواقع نہیں آتے یا کم ملتے ہیں۔ حجاب کی پابندی اور عمل اسلام کے ایک وسیع نظام کاحصّہ ہے۔ اور جب اس پر صحیح اور مناسب طور پر عمل ہوتا ہے تو عورتوں اور مردوں دونوں کی عزّت اور پاکیزگی قائم رہتی ہے۔ اور پورا سماج صاف ستھرا رہتا ہے۔

مسلم مستورات حجاب کے بارے میں کیا خیال رکھتی ہیں

ڈاکٹر این زیڈ وکیل: مڈیکل طالبہ نے بتایا۔

’جب میں باہر نکلتی ہوں تو راستے میں زیادہ احترام کا احساس ہوتا ہے۔ لوگ مجھے زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں اور میں محفوظ اور اپنے آپ میں زیادہ خود اعتمادی محسوس کرتی ہوں۔‘

مسز سلوا اررسول: گرافک ڈیزائن

’آج کل ترقی یافتہ سماج میں ایک عورت کو مردوں نے صنف نازک کی ایک چیز سمجھ رکھا ہے۔ کوئی اپنے حسن اور خوب صورتی کی نمائش غیر ضروری آنکھوں کی دعوت نظارہ کیوں دے؟ حجاب ایک عورت کی عزّت کی حفاظت کرتا ہے اور دوسری صنف کے جذبات کو ابھارنے کا موقع نہیں دیتا ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ اگر اسلام کی یہ پوشاک اور حجاب کی پوری دنیا یا بند ہوجائے تو سماج کی بُرائیاں۔ جیسے چھیڑ چھاڑ، فقرہ کسنا، عصمت دری وغیرہ نہ کے برابر ہوجائیں۔ حجاب میرے اندر خود اعتمادی کو بڑھاوا دیتا ہے بطور ایک عورت کے اور حجاب میری ڈیوٹی یا میرے روز مرّہ کے کاموں میں کوئی روکاؤٹ پیدا نہیں کرتا ہے۔‘

مسز ڈائنا بیوٹی: ٹیچر

’ان کا کہنا ہے کہ میں نے اسلام ابھی قبول کیا ہے۔ اس لئے میں اس اسلامی حجاب کی پابندی کا زیادہ اچھی طرح فرق محسوس کرسکتی ہوں بغیر حجاب کے اور اب حجاب کے ساتھ۔

میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ مغربی ممالک کا برتاؤ حجاب کے ساتھ کیا ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ حجاب صنف نازل پر زبردستی لادا گیا ہے۔ جو کہ مستورات کے روز مرذہ کے کاموں میں حارج ہوتا ہے۔ لیکن میرے مطالعہٴ اسلام اور تجربہٴ حجاب کے بارے میں یقین پیدا کرنا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔

غیر مسلم حضرات کبھی گھور گھور کر دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن پردے میں حجاب کے ساتھ مجھ کو ہمیشہ احترام کے ساتھ برتاؤ ملتا ہے۔ مجھے کبھی بھی حجاب کی وجہ سے مشکلپیش نہیں آتی حجاب میں میں زیادہ محفوظ اور با عزت محسوس کرتی ہوں بہ نسبت بغیر پردے کے۔ مجھے اب احساس ہوتاہے۔ میں اپنے بل بوتے اور اپنی قابلیت کی بنا پر دوسروں سے مل سکتی ہوں۔ بغیر اپنی صورت دکھائے ہوئے یعنی میری صورت بِنائے قبولیت نہیں بنتی۔

یہ بھی دیکھا ہے کہ ناقابل قبول ہمسائے بھی جب میں حجاب میں سامنے آتی ہوں تو وہ راستے سے ہٹ جاتے ہیں۔ اسلامی پوشاک کا یہ کمال ہے کہ حجاب عورت کی عزّت، نسائیت کی حفاظت بلکہ میرا تجربہ تو یہ ہے کہ اس کو اور اونچا کرتی ہے۔ خاص کر جب میں باہر نکلتی ہوں۔ اور اب یہ جاننے کے بعد کہ حجاب میری حفاظت اور عزّت کو بڑھاتا ہے۔ میں بے حجابی کبھی نہیں کروں گی۔

جب میں عوام میں جاتی ہوں تو دوسرے یہ محسوس کرتے ہیں کہ میں ایک مانی ہوئی مسلم عورت ہوں۔ یہ مجھے یاد دلاتی ہے اور میں ایسی فرد ہوں زندگی کے ہر شعبے میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت کرتی ہوں۔

ایسا ہی لوگ محسوس کرتے ہیں جب وہ ایک عیسائی راہبہ کو دیکھتے ہیں اور یہی اور ایسا ہی وہ مجھے حجاب میں دیکھ کر محسوس کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ یہ نہ سمجھ پاتے ہوں کہ میں نے ایسا پہناوا کیوں اپنایا ہے۔ اس لئے ایسا لباس امریکہ میں غیر معمولی ہے۔ وہ اس فضیلت کو قابل تعریف سمجھتے ہیں کہ کوئی ایسا بھی ہے کہ دوسروں کی پرواہ کئے بغیر اپنے اصول پر قائم ہے۔

امام خمینی نے امریکہ اور اسرائیلی مشینری اور ان کے آلہ کاروں کو مخاطب کرکے فرمایا: "امریکہ برطانیہ سے بدتر اور برطانیہ امریکہ سے بدتر ہے اور سوویت یونین تو ان دونوں سے بھی بدتر ہے۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے مقابلے میں بدتر ہے اور ہر ایک دوسرے کے مقابلے میں پلید تر بھی ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارا سارا سروکار ان خبیثوں اور امریکہ کے ساتھ ہے۔

 

ابنا: دنیا میں فقط اسلام ایسا دین فطرت ہے، جس نے عورت کو عورت اور خدا کی حسین مخلوق سمجھا ہے اور اس کی بشری کمزوریوں کو نہیں اچھالا بلکہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے حکم دیا کہ دونوں میں بہتر وہی ہے جو تقویٰ میں بہتر ہے۔ ان دانشوروں کی طرح اسلام نے عورت میں احساسِ کمتری اور احساسِ ذلت پیدا نہیں کیا، بلکہ عورت کو ہر روحانی بلندی تک پہنچنے کے قابل بنایا ہے، بشرطیکہ وہ سچی مسلمان ہو اور سچی مسلمان عورت کا کردار فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ حضرت زہرا (س) کی زندگی بہت مختصر تھی، لیکن زندگی کے مختلف شعبوں، جہاد، سیاست، گھر اور معاشرے و اجتماعیت میں ان کی زندگی کی برکت، نورانیت، درخشندگی اور جامعیت نے انہیں ممتاز اور بے مثل و بے نظیر بنا دیا ہے۔انسان اس عالم آب، خاک و باد میں جن عناصر کی کار فرمائی کے سہارے زندہ ہے، اگر وہ عناصر کسی وقت اپنا توازن کھو دیں اور اپنے فطری راستے سے ہٹ جائیں (جبکہ یہ ممکن نہیں کیونکہ وہ بااختیار نہیں ہیں) ان تمام چیزوں کے باوجود کائنات کا نظام باقی رہ سکتا ہے؟ مثلاً اگر مسلسل موسلا دھار بارش ہوتی رہے یا سورج مسلسل آگ برساتا رہے تو سرکش انسان کا حشر کیا ہوگا؟ اگر ہمیشہ آندھیاں اور ہمیشہ ہواؤں کے جھکڑ چلتے رہیں تو کیا دنیا کا نظام باقی رہ سکتا ہے۔؟ خود انسان کی اپنی جسمانی بناوٹ اور ہیئت ترکیبی اندرونی و بیرونی طور پر اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اگر کوئی بھی چیز جسم میں ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو انسان کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ درحقیقت اعتدال و توازن سے ہٹنے کا نام ہی بیماری ہے، خواہ اس کا کوئی بھی نام ہو۔ یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ عورت ہمیشہ افراط و تفریط کے المناک عذاب میں مبتلا رہی ہے۔ عورت کو کبھی تقدس کا اونچا درجہ دے کر پاربتی اور درگار دیوی بنایا گیا، جس کے قدموں میں خود شنکر اور کیلاش پتی نظر آتے ہیں، کبھی اس بے بس مخلوق کو خدا کی لعنت اور ’’شیطانی کمند‘‘ قرار دیتے ہیں، کبھی اس کو اس حد تک اونچا کیا گیا کہ جائیداد منقول اور غیر منقول کا حق صرف عورت تک محدود کر دیتے ہیں اور مرد کے بارے میں فیصلہ کیا گیا کہ وہ نہ تو کسی جائیداد کا مالک ہو سکتا ہے اور نہ اُسے بیچ سکتا ہے، جیسا کہ افریقہ کے کئی قبائل خصوصاً ملثمین کے قوانین میں درج ہے کہ عورت کو خود منقولہ جائیداد سمجھا گیا۔ جیسا کہ ارسطو طالیس کی تعلیمات میں ملتا ہے کبھی عورت کو وراثت سے کلیتاً محروم کر دیا گیا ہے، کیونکہ اس سلسلے میں بہت سے مفکروں نے مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے، جیسے یونانیوں کا خیال تھا کہ آگ سے جل جانے اور سانپ کے ڈسے جانے کا علاج ممکن ہے، لیکن عورت کے شر کا علاج محال ہے۔ سقراط کہتا ہے کہ عورت سے زیادہ فتنہ و فساد کی چیز دنیا میں کوئی نہیں ہے، وہ ایک ایسا درخت ہے کہ بظاہر انتہائی خوبصورت اور خوش نما نظر آتا ہے، لیکن جب کوئی اسے کھاتا ہے تو مر جاتا ہے۔ افلاطون کا قول ہے کہ دنیا میں جتنے ظالم اور ذلیل مرد ہوتے ہیں وہ سب نتائج کی دنیا میں عورت بن جاتے ہیں۔ مقدس قدس برنار کہتا ہے کہ عورت شیطان کا آلہ کار ہے۔ یوحنا دمشقی کہتا ہے کہ عورت مکر کی بیٹی ہے اور امن و سلامتی کی دشمن۔ مونٹسکو کہتا ہے کہ فطرت نے مرد کو طاقت دی ہے اور عقل و خرد سے نوازا ہے، لیکن عورت کو صرف زینت اور خوشنمائی دی ہے۔ ان خیالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر شخص نے اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدات کے تحت عورت کے بارے میں اچھی بری رائے قائم کی۔ زندگی میں ہر شخص کے ذاتی تجربات اور مشاہدات مختلف ہو سکتے ہیں، چنانچہ ہر ایک نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے، چونکہ بڑے لوگ تھے اس لئے ان کی باتوں کو ضرب المثال کا درجہ حاصل ہو گیا۔ جنہیں آج تک عورت کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ تمام باتیں اس طرزِ فکر کی ترجمانی کرتی ہیں، جن کا خمیر بھی افراط و تفریط سے اٹھایا گیا تھا۔ ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے عورت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ صرف ان کی صفاتی کمزوریوں اور خرابیوں کو ضرب المثال کا درجہ دے دیا۔ اعتدال کو قائم نہ رکھنے کی یہ صورت آج کے اس ترقی یافتہ متمدن اور مہذب دور میں بھی یہ بدستور قائم ہے۔ مغربی اور استعماری ایجنٹ جو سب سے زیادہ عورت کی آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں، ان کے ہاں یورپ میں کئی ممالک ایسے ہیں جن میں عورت کو حق رائے دہی حاصل نہیں۔ اسمبلیوں اور پارلیمنٹسں کے دروازے ان پر بند ہیں۔ پہلے برطانیہ میں عورت وزیراعظم نہیں بن سکتی تھی، امریکہ میں عورت صدر نہیں بن سکتی تھی، فوج کی سپہ سالار عورت نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اسے ورلڈ بینک آف انگلینڈ میں ڈائریکٹر کا عہدہ دیا جا سکتا ہے۔

 

شادی کرتے ہی عورت اپنے اصلی نام سے محروم ہو جاتی ہے، جب تک شادی نہ ہو تو باپ کے نام سے پہچانی جاتی ہے، جیسے کہ اس کی اپنی کوئی شخصیت نہ ہو۔ عملی طور پر زندگی کے ہر شعبے میں اس کو کم تر درجہ مخلوق بنا کر رکھا گیا ہے، لیکن ہر قسم کے لہو و لعب کے کاموں، کلبوں اور عیاشی کے اداروں میں اس کو بے پناہ عزت حاصل ہے۔ عام اجتماعی زندگی میں عریانی، فحاشی اور بے لگام آزادی اسے اس طرح دی گئی ہے کہ اس کے بغیر کسی محفلِ نشاط کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔

 

عورت ایک انتہائی خوبصورت اور خوش رنگ پھول ہے، نسوانیت کا جوہر اس کی خوشبو ہے۔ یہ جوہر عورت کی عصمت و عفت کا تصور ہے، جب یہ بھینی بھینی عطر بیز خوشبو گلزار ہستی میں پھیلتی ہے تو اسے رشک فردوس بنا دیتی ہے، ہر شخص کی زندگی دامن گل فروش بن جاتی ہے، اسی خوشبو کا اعجاز ہے کہ مختلف قبیلے، ذاتیں، قومیں اور انسانی گروہ معرضِ وجود میں آتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم کے برے دن آتے ہیں تو سب سے پہلے اس قوم کی عورتیں عصمت و عفت کے جوہر سے محروم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ دانشور اور فلاسفر تصور عصمت و عفت کا مذاق اڑاتے ہیں، عورت کی دوشیزگی کو قدامت پرستی کے طعنے دیئے جاتے ہیں اور یہ نام نہاد اہلِ علم اور قلم کار عورت کو ایسے ایسے خوبصورت فریب دیتے ہیں کہ وہ آخر اپنے فطری راستے سے بھٹک جاتی ہے۔ چونکہ عورت میں روزِ اوّل سے ہی احساسِ کمتری پیدا کر دیا گیا ہے، اس لئے جب اسے مردوں کی طرف سے شتر بے مہار قسم کی آزادی ملتی ہے تو وہ بہک جاتی ہے اور بہت خوش ہوتی ہے کہ اسے اُس کے حقوق مل گئے ہیں۔

 

یہی وہ دھوکہ اور طلسمی فریب ہے جس میں جدید دور کی عورت کو مبتلا کر دیا گیا ہے! اس افراط و تفریط کے عمل میں عورت کا ظالمانہ استحصال بھی شامل ہوتا ہے، جو آج تک جاری ہے۔ یہ حماقت ہے کہ عورتوں کے کام مرد کریں، اور مردوں کے کام عورتیں انجام دیں، کیونکہ ہر ایک کی ساخت اور فطری تقاضے ہیں، جو خالق کائنات نے ازل سے عطا کئے گئے ہیں۔ جہاں تک اس حقیقت کا تعلق ہے یہ قطعی حقیقت ہے کہ مرد نے ہمیشہ اسی آغوش کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا، جس آغوش میں اس نے پرورش پائی اور اسی سینے کو زخمی کیا، جس سے اس کا رشتہ حیات وابستہ رہا۔

 

ان تمام اقوال اور خیالات کے باوجود یورپ کی پہلی جنگ عظیم کے اوائل میں ہی اہل یورپ نے یہ محسوس کیا کہ وہ چاہے عورت کے بارے میں جو بھی خیالات رکھتے ہوں، مگر اس کے بغیر جنگ میں کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ مردوں کی کثیر تعداد جنگ کے محاذوں پر مصروف ہو گئی ہے تو اندرونی ذمہ داریاں کون نبھائے گا؟ چنانچہ خواتین نے اسلحہ ساز اور دیگر ہر قسم کے کارخانوں میں جا کر کام کرنا شروع کر دیا۔ حالات کے تحت عورتوں نے علمِ طب میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی، وکالت کے میدان میں آئیں، وظائف اور مناصب حاصل کرکے قلیل عرصے میں یہ ثابت کر دیا کہ عورتیں بھی مردوں کے کام حسن و خوبی کے ساتھ انجام دی سکتی ہیں۔ اسی طرح سرزمین عرب میں جس قدر ادیب، شاعر اور فاضل خواتین پیدا ہوئیں، وہ فراست و شجاعت اور ذہانت کی زندہ مثال تھیں، جو ریگستان عرب میں مشہور و معروف ہوئیں، حالانکہ یہ وہی سرزمین عرب تھی جہاں عورت کے ساتھ بدترین سلوک کیا جاتا تھا۔ لیکن اسلام کی روشنی پھیلنے کے بعد پورے ملک میں عورت کی زندگی میں انقلاب آ گیا۔ اسلام نے عورتوں کے لئے جو اصول و ضوابط پیش کئے اور تعلیم و تربیت کے جس اصول کو پیشِ نظر رکھا، وہ یقینا عورت کی صحیح اور متوازن فطری آزادی کا ضامن تھا۔ اس تعلیم و تربیت کی بدولت نہایت مختصر عرصے میں نسائیت کے وہ اعلٰی ترین نمونے پیش کئے کہ اب پوری دنیا میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ اس کی صرف ایک وجہ تھی کہ اسلام دنیا کا وہ پہلا اور آخری مذہب ہے جس نے صدیوں کی ٹھکرائی اور روندی ہوئی مظلوم عورت کو فطری حدود کے اندر جائز اور مکمل آزادی عطا کی۔ انہیں عزت و آبرو اور وقار کا مقام عطا کیا، جو ہر قسم کے افراط و تفریط سے یکسر پاک تھا، یہ افراط و تفریط کا رویہ ہی ہمیشہ عورت کے لئے دنیا میں جہنم زار بنا رہا ہے۔ دنیا میں فقط اسلام ایسا دین فطرت ہے، جس نے عورت کو عورت اور خدا کی حسین مخلوق سمجھا ہے اور اس کی بشری کمزوریوں کو نہیں اچھالا بلکہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے حکم دیا کہ دونوں میں بہتر وہی ہے جو تقویٰ میں بہتر ہے۔ ان دانشوروں کی طرح اسلام نے عورت میں احساسِ کمتری اور احساسِ ذلت پیدا نہیں کیا، بلکہ عورت کو ہر روحانی بلندی تک پہنچنے کے قابل بنایا ہے، بشرطیکہ وہ سچی مسلمان ہو اور سچی مسلمان عورت کا کردار فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ حضرت زہرا (س) کی زندگی بہت مختصر تھی، لیکن زندگی کے مختلف شعبوں، جہاد، سیاست، گھر اور معاشرے و اجتماعیت میں ان کی زندگی کی برکت، نورانیت، درخشندگی اور جامعیت نے انہیں ممتاز اور بے مثل و بے نظیر بنا دیا ہے۔ خواتین اپنے حقوق اور اسلام کی نظر میں عورت کے کردار میں معیار و میزان کے فہم اور ان معیاروں کی اساس پر اپنی تربیت و خود سازی کی روش و طریقہ کار کی دستیابی کے لئے حضرت فاطمہ زہرا (س) جیسی عظیم المرتبت شخصیت کو اپنے سامنے موجود پاتی ہیں، اور اس بناء پر وہ دیگر آئیڈیل شخصیات سے بے نیاز ہیں۔ حضرت زہرا (س) اور ان کی سراپا درس و سبق آموز زندگی کی طرف توجہ کرنا خواتین کو معنویت، اخلاق، اجتماعی فعالیت و جدوجہد اور گھرانے کے ماحول میں ان کی انسانی شان کے مطابق ایک مطلوبہ منزل تک پہنچانے کا باعث ہوگا۔

 

دریائے علم اجرِ رسالت ہیں فاطمہ(س) قرآن اختصار، فصاحت ہیں فاطمہ(س) محروم عدل، روحِ عدالت ہیں فاطمہ(س)

 

آج کی عورت کا سب سے بڑا شکوہ اس کے حق میں کسی بھی قسم کی عدالت کا نہ ہونا ہے، لیکن اگر ہم نقشِ سیرتِ فاطمہ (س) کو سامنے رکھیں تو معلوم ہوگا کہ حضرت فاطمہ (س) نے غاصبانِ فدک سے فدک کا مطالبہ نہیں کیا تھا، حالانکہ یہ وہی فدک ہے جس کے متعلق حضرت زہرا (س) نے جناب ابوبکر سے فرمایا تھا کہ یہ فدک میرے بابا کی خاص ملکیت ہے، جسے انہوں نے اپنی زندگی میں مجھے عطا کر دیا تھا۔ بے شک امام صبر و قناعت ہیں فاطمہ (س)۔

بشکریہ اہلبیت نیوز 

http://ur.abna24.com/ 

 

 

 

جی بی کے اخبارات میں آج کل ماینس بلتستان کی خبر ایشو بنی ہو‌‎ئی ہے اور ہر شخص دوسرے کو کسی طرح سے ملوث کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چند سا ل پہلے کسی دعوت پر اس وقت کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر جناب وزیر حسن صاحب سے گفتگو ہو رہی تھی اور بات پر بات نکلی اور سیاسی رنگ پکڑ گیی اور جناب وزیر صاحب نے فرمایا کہ ایک دن یہ سید مہدی شاہ(وزیر اعلی) جی بی کو بیچ دے گا۔ تو میں نے موصوف سے کہا تو قبلہ اس جرم میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں کیونکہ آپ بھی تو پی پی پی کے نمایندہ ہیں اور آپ نے بھی تو وزیر اعلی کے لیے ووٹ دیا ہے یہ آپ کا جرم ہے کہ ایسے بندے کو کیوں انتخاب کیا؟
وزیر صاحب نے فرمایا: قبلہ بات صحیح لیکن یاد رکھنا اس جرم میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں!

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه