درست مدیریت کسی بھی ملک کی ترقی اور اس کے نظام کی مضبوطی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، وہ ممالک جن کے حکمران سہل انگاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خط مستقیم پر اپنے اداروں کی مدیریت کرنے سے قاصر وناتواں رہتے ہیں ان میں ترقی خواب بن کر رہ جاتی ہے ـ
آج نظری دنیا میں دوطرح کی مدیریت کا چرچا ہے جنہیں محقیقین اسلامی مدیریت اور غربی مدیریت کے نام سے جانے جاتے ہیں ـ وہ اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کی اپنی الگ پہچان ہے، لیکن عملی میدان میں دیکھا جائے تو آج مختلف وجوہات کی بناء پر انگشت شمار ممالک کو چھوڑ کر سارے اسلامی ملکوں میں اسلامی مدیریت کے بجائے غربی مدیریت ہی حاکم دکھائی دیتی ہے ،جس کے نتیجے میں عزت نفس کی پائمالی، بدترین غلامی اور زلت ورسوائی ان کی تقدیر کا حصہ بنی ہوئی ہےـ

لفظ اطاعت کا لغوی معنی
لفظ اطاعت "طوع" سے ہے اور طوع ؛ کرہ کی ضد ہے کہ جس کا معنی حکم ماننا اور اختیار کے ساتھ کسی کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے۔ کلمہ والدین، اسم فاعل اور تثنیہ کا صیغہ ہے کہ جس سے مراد ماں باپ ہیں۔
دینی اصطلاح میں والدین کی اطاعت
دینی تعلیمات کے مطابق، والدین کی اطاعت سےمراد، اللہ تعالی کے اوامر کے ترک کرنے اور اللہ تعالی کی حرام کی گئی چیزوں کے انجام دینے کے علاوہ زندگی کے تمام مسائل میں ماں باپ کا حکم ماننا ہے۔ اطاعت والدین کا متضاد عقوق والدین یعنی والدین کے حکم کی نافرمانی۔

معاشرتی نظام اسلام میں انسانی تاریخ کی اپنی الگ اہمیت ہوتی ہے۔ جس سے کبھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ہمارے درمیان سے تاریخ کو ہٹا دیا جائے تو ہمارے درمیان ایک ایسا زمانی اور مکانی خلا واقع ہو جائے گا ایک نسل سے دوسری نسل سے رابطہ منقطع ہو جائے گا۔ ایسی صورت حال سے مستقبل کے درمیان کی مسافت طے کرنا ایک ناگزیر عمل ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ انسان اپنے ماضی کے آثاروباقیات کے خط مستقیم سے ہی حال اور مستقبل کی مسافت کا تعین کرتا ہے۔خاص کر جب کوئی شخص کسی مذہب یا قوم کی تہذیب و ثقافت کا تجزیہ کرنا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس قوم اور مذہب کے اتحاد کا ہی جائزہ لیتا ہے۔ اس لیے کہ اس کے بغیر کوئی شخص کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس کی سچائی حقیقت کا ادراک کر سکتا ہے لہذا اس زمین پر آباد ہونے والی قوموں کی سب سے بڑی وراثت ان کے ماضی کی تہذیب و ثقافت ہی ہوتی ہے۔اگر کسی قوم یا مذہب کے وجود کو ختم کرنا مقصود ہو تو اس کے ماضی کے تمام آثار کو ختم کر دیا جائے تو وہ قوم خود بخود اپنی شناخت سے محروم ہو جائے گی۔

آئے روز سعودی عرب کے ظلم وستم کی نت نئ داستانیں سن کر امت مسلمہ کا دل چھلنی اور آنکھیں خون کے آنسو سے نم ہیں ـ بظاہر اس ملک پر قابض حکمران سعودی عرب مسلمانوں کا مرکز ہونے کے دعویدار ہیں مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو یہ کافر ملکوں سے بھی بدتر ہے کیوں ؟ اس لئے کہ اس ملک میں انسانیت غلامی کا شکار ہے ، اس کے باشندے ہر طرح کی آذادی سے محروم ہیں ، انہیں نہ اظہار رای کی آذادی ہے اور نہ ہی نظام مملکت پر کسی قسم کی تنقید اور اعتراض کی اجازت ،اس ملک میں رہنے والے نہ کھل کر اپنے مزہبی رسومات پر عمل کرسکتے ہیں اور نہ ہی سیاسی اور اجتماعی معاملات میں مداخلت کرنے کا حق رکھتے ہیں ، یہ ملک نہ احترام انسانیت کا قائل ہے اور نہ ہی قوانین اسلام کا پابند ـ

بقیع جو ظہور اسلام سے پہلے "بقیع غرقد" کے نام سے مشہور تھا جو کانٹے دار درخت کے معنا میں ہے
آنحضرت ص کے مکہ سے مدینہ کیطرف ھجرت کے بعد آپکے حکم سے اسمیں موجود کانٹے کی درختوں کو کاٹ کر دوسرے درختوں سے آباد کیا گیا چناچہ جنت البقیع (یعنی درختوں سے بھرا ہوا باغ) کے نام سے معروف ھوا اور رسول اکرم ص نے اسے مسلمانوں کا قبرستان قرار دیا, چنانچہ اس بقعہ مبارکہ میں, ائمہ ھدی, اصحاب کرام, زوجات اور ذریہ رسول اکرم ص, شھدا اور حافظان قرآن جیسی ھزاروں شخصیات مدفون ہیں جنکی تفصیل یوں ہے

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه