امام خمینی نے امریکہ اور اسرائیلی مشینری اور ان کے آلہ کاروں کو مخاطب کرکے فرمایا: "امریکہ برطانیہ سے بدتر اور برطانیہ امریکہ سے بدتر ہے اور سوویت یونین تو ان دونوں سے بھی بدتر ہے۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے مقابلے میں بدتر ہے اور ہر ایک دوسرے کے مقابلے میں پلید تر بھی ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارا سارا سروکار ان خبیثوں اور امریکہ کے ساتھ ہے۔

جی بی کے اخبارات میں آج کل ماینس بلتستان کی خبر ایشو بنی ہو‌‎ئی ہے اور ہر شخص دوسرے کو کسی طرح سے ملوث کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چند سا ل پہلے کسی دعوت پر اس وقت کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر جناب وزیر حسن صاحب سے گفتگو ہو رہی تھی اور بات پر بات نکلی اور سیاسی رنگ پکڑ گیی اور جناب وزیر صاحب نے فرمایا کہ ایک دن یہ سید مہدی شاہ(وزیر اعلی) جی بی کو بیچ دے گا۔ تو میں نے موصوف سے کہا تو قبلہ اس جرم میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں کیونکہ آپ بھی تو پی پی پی کے نمایندہ ہیں اور آپ نے بھی تو وزیر اعلی کے لیے ووٹ دیا ہے یہ آپ کا جرم ہے کہ ایسے بندے کو کیوں انتخاب کیا؟
وزیر صاحب نے فرمایا: قبلہ بات صحیح لیکن یاد رکھنا اس جرم میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں!

ہمارے سکولوں میں سارا سال اساتذہ کی بچوں اور انکی تعلیم پر توجہ ہو یا نہ ہو سال کے آخر میں رزلٹ اعلان کرنے کے لیے والدین کو جمع کیا جاتا ہے اور اس دن کو یوم والدین بھی کہا کرتے ہیں۔ لیکن جب سال میں ایک دفعہ بھی والدین کو بچے کی تعلیم کے بارے میں بریف نہیں کیا ہے تاکہ وہ اپنے بچے کی پراگرس رپورٹ کے مطابق بچے کی تعلیم پر توجہ دے سکے اور اب امتحانات بھی ختم ہونے کے بعد رزلٹ اعلان کرنے کے بہانے والدین کو جمع کیا جاتا ہے۔

سوشل میڈ‎یا پر ایران اور سعودی عرب کی باہمی کشیدگی پر بحث و مباحثہ ہو رہا ہے اس درمیان کچھ سوالات کیے جاتے ہیں جو کہ وضاحت طلب ہیں
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایران، سعودی عرب کے داخلی معاملات میں مداخلت کیوں کرتا ہے؟
مداخلت کسے کہتے ہیں اور کونسی مداخلت بری ہے اور کونسی مداخلت مستحسن؟
ان باتوں کی طرف جانے سے پہلے ایک بات ضرور یاد رہے کہ ہم سب مسلمان ہیں اور اسلامی تعلیمات کیا کہتی ہیں اور کہاں مداخلت کر سکتے ہیں اور کہاں پر نہیں یہ بھی اہم ہے ہمارا پیش فرض یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات ہمارے لیے سب کچھ ہیں
تو آ‎ئیں اب دیکھتے ہیں کہ مداخلت کیا ہے؟

تحریر: سید اسد عباس

امریکی صدر باراک اوباما نے فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلیوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا دفاع امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔ یہ جملہ امریکہ کی آزادی پسند تاریخ، جس پر فخر کرتے امریکی عوام نہیں تھکتی، کے ماتھے پر سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے، بلکہ یہ جملہ یو این او، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور مغربی نشریاتی اداروں کے دفاتر کے باہر جلی حروف میں کندہ کیا جانا چاہیئے۔ یہی جملہ خطے میں موجود امریکی اتحادیوں کے گھروں سے لے کر قبروں تک ہر مقام پر تحریر ہونا چاہیئے، کیونکہ یہ جملہ حق و باطل کی ایسی تمیز ہے کہ جس کے بعد کسی دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ ہاتھی کا دفاع سانڈوں نے اپنے ذمے لے لیا ہے، کوئی پوچھے تو سہی کہ آخر جنگ ہے کس سے؟ اگر آپ کو نہیں پتہ تو آیئے میں بتاتا ہوں یہ جنگ فلسطین کے نہتے جوانوں سے ہے۔ جو دنیا کی سپر پاور ہیں۔

جی سپر پاور!

سپر پاور وہ نہیں ہوتا جس کے پاس ہتھیاروں کا انبار ہو، جس کے خزانے سونے و چاندی سے چھلک رہے ہوں، بلکہ سپر پاور وہ ہے جو دنیاوی وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود کسی بھی ظلم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرے اور اپنی جان کی قربانی کے ذریعے ہر روز حق و صداقت کا ایک نیا باب رقم کرے۔

دنیا کی نام نہاد سپر پاور کا حق بنتا ہے کہ پچاس سال سے قائم اس ایمانی سپر پاور کے مقابلے میں صہیونیوں کا ساتھ دے، اسی لئے تو اسرائیل فلسطین کشیدگی کے تناظر میں پیر کو واشنگٹن میں اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات 13 ماہ کے بعد ہوئی۔ بی بی سی کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب فلسطینی (سپر پاور) کی جانب سے اسرائیلیوں پر حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق اس ظلم عظیم کے نتیجے میں اتوار کو تین مختلف واقعات میں چھ اسرائیلی زخمی ہوگئے تھے اور ایک حملہ آور فلسطینی ہلاک کر دیا گیا جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ بی بی سی کے مطابق دنیا کی اس (نام نہاد سپر پاور) نے اسرائیل کے ساتھ مزید 30 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے کئے ہیں، تاکہ فلسطین کی (حقیقی سپرپاور) سے مقابلہ کیا جاسکے۔ روئیٹر کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے صدر اوباما سے گزارش کی ہے کہ اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد تین ارب ڈالر سے بڑھا کر پانچ ارب ڈالر کی جائے۔ اوباما کے ابتدائی بیان سے لگتا ہے کہ ایسا بھی ہو جائے گا۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ان دونوں کو یہ بھی پتہ ہے کہ جو کچھ ہم کرتے ہیں، وہ انسانی اخلاقیات کے لحاظ سے اچھا کام نہیں ہے، اسی لئے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو امریکہ کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ ہم نے مشرق وسطٰی میں قیام امن کی کوششیں ترک نہیں کیں اور ہم فلسطین اسرائیل تنازعے کے حل کے لئے سنجیدہ ہیں۔

قارئین کرام!

آئیں فلسطینی سپر پاور اور صہیونیوں کے مابین جاری اس جنگ کے کچھ اعداد و شمار دیکھتے ہیں، جس سے پریشان ہوکر عالمی طاقت کے سربراہ اوباما نے اتنا تشویشناک بیان دیا ہے۔ زیادہ دور نہیں فقط حالیہ اکتوبر سے اب تک کے اعداد و شمار پر نظر دوڑائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان دنوں میں فلسطینی سپر پاور کی جانب سے پتھر، چاقو اور آزادی قدس کے نعروں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کے جواب میں امریکی تعبیر کے مطابق مظلوم اسرائیلی فوجیوں نے گولی، آنسو گیس اور گاڑیوں کے ذریعے روندنے نیز گرفتاریوں اور تشدد جیسے معمولی واقعات کا سہارا لیا۔ القدس سٹڈی سینٹر کی رپورٹ کے مطابق اوباما جس جنگ میں دفاع کو ترجیح کہ رہے ہیں، کے گذشتہ اکتالیس روز میں 80 فلسطینی شہید ہوئے نو ہزار آٹھ سو تیس نوجوان زخمی ہیں، جن میں سے تیس فیصد کو براہ راست گولیاں ماری گئیں جبکہ 1579 فلسطینی زیر حراست ہیں۔ شہداء، زخمیوں اور زیر حراست افراد میں زیادہ تعداد کم عمر بچوں کی ہے۔ حال ہی میں ایک تیرہ سالہ فلسطینی بچے احمد مناصرہ کی تفتیش کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے، جس سے چاقو مار کر کسی صہیونی کو قتل کرنے کے جرم کا اعتراف کروایا گیا۔ فلسطینی نیوز چینل کے مطابق اس بچے کو بے پناہ تشدد کرکے اس بات پر راضی کیا گیا کہ اس نے صہیونی پر چاقو کا وار کیا ہے۔ یہ بچہ چند روز قبل اپنے بھائی کے ہمراہ صہیونی گولیوں کا نشانہ بنا تھا اور چند روز ہسپتال میں رہنے کے بعد اس کے ساتھ یہ تشدد آمیز رویہ اپنایا گیا۔

اس جنگ عظیم کے واقعات بے پناہ ہیں، جو عالمی اور مقامی میڈیا کے پاس محفوظ ہیں۔ بڑے عالمی نشریاتی اداروں نے اس جنگ کے کئی ایک مناظر کو فلمبند کیا ہے، اسی طرح سوشل میڈیا پر بھی اس جنگ کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ کہیں کوئی بچہ دبوچا جا رہا ہے تو کہیں کسی باحجاب لڑکی کو سر بازار گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے، کہیں جوانوں کے سینوں میں گولیاں اتاری جاتی ہیں تو کہیں انہیں فوجی جیپوں سے کچلا جاتا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے فلسطینی واقعی سپر پاور ہیں، جو کسی بھی قوت اور طاقت کے سامنے خم نہیں ہوتے اور نہ ہی کوئی ان پر غلبہ پا سکتا ہے۔ دنیا کی نام نہاد قوتوں کو یقیناً اس سپر پاور کے خلاف سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیئے اور اپنے تمام تر وسائل کو استعمال کرکے انہیں سرنگوں کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے کیونکہ اس پاور کا دائرہ کار روز بروز وسیع ہوتا جارہا ہے۔ قدس سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب پورے مقبوضہ فلسطین اور غزہ میں پھیل چکی ہے۔

اے امت رسولؐ!

فلسطین اور کشمیر میں آزادی و استقلال کے لئے قربانیاں دینے والے بچے اسی دین کے پیروکار ہیں، جس پر آپ عمل پیرا ہیں اور جس نے اپنے پیروکاروں کو امت واحدہ کہا ہے۔ یہ بچے کل روز محشر ہمارا گریبان نہیں چھوڑیں گے۔ ہمارے بچوں کی مانند آسودہ اور آرام دہ زندگی ان کا بھی حق ہے۔ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ ایک مقبوضہ علاقے میں پیدا ہوئے اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے جابر کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا۔ یہ بچے اپنی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کل روز محشر جب ہم خدا کے حضور اپنے نیک اعمال کا صلہ مانگ رہے ہوں گے تو یہ بچے خدا کے حضور التجا کریں گے:

اے اللہ! کیسا صلہ

 

اے اللہ! یہ وہ قوم ہے جن کی آنکھوں کے سامنے ہمارے سینے سنسناتی گولیوں سے چھلنی کئے گئے۔ ہماری جوانیوں کو لوٹا گیا۔ ہمارا مستقبل تاریک کیا گیا، لیکن ان میں سے کسی نے آواز استغاثہ تک نہ بلند کی۔ یہ بچے اور ان کا پاکیزہ لہو بارگاہ ایزدی میں فریاد کرے گا کہ اے اللہ! یہ ان کے ساتھی اور حامی ہیں، جنہوں نے ہمیں قتل کیا، ہمارے قتل کی سبیل کی، ہمارے قاتلوں کو مدد دی۔ اے اللہ! ان کو انہی کے ہمراہ بھیج اور ان سے وہی سلوک کر جو تو ہمارے قاتلوں سے رکھے گا۔ اے اللہ! ہمیں ان بچوں کو قتل کرنے والوں، قاتلوں کی حمایت کرنے والوں یا اس قتل پر خاموش رہنے والوں میں سے قرار نہ دینا۔ آمین

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه