حضرت علی بن حسین علیھما السلام سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں : جس شام کی صبح کو میرے باباشھید کردئے گئے اسی شب میں بیٹھا تھا اور میری پھوپھی زینب میری تیمارداری کررہی تھیں۔ اسی اثنا میں میرے بابا اصحاب سے جدا ہوکر اپنے خیمے میں آئے۔ آپ کے پاس ’’جون [1]‘‘ابوذر کے غلام بھی موجود تھے جو اپنی تلوار کو آمادہ کررہے تھے اور اس کی دھار کو ٹھیک کر رہے تھے۔اس وقت میرے بابا یہ اشعار پڑھ رہے تھے : یا دھر افّ لک من خلیلکم لک بالِاشراق والاصیل، من صاحب أو طالب قتیل والدھر لا یقنع بالبدیل وانما الامر الیٰ الجلیل وکلّ حي سالک سبیل۔ اے دنیا! اُف اور وائے ہو تیری دوستی پر، کتنی صبح و شام تو نے اپنے دوستوں اور حق طلب انسانوں کو قتل کیا ہے، اور ان کے بغیر زندگی گزاری ہے ،ہاں روز گار بدیل و نظیر پر قناعت نہیں کرتا، حقیقت تو یہ ہے کہ تمام امور خدائے جلیل کے دست قدرت میں ہیں اور ہر زندہ موجود اسی کی طرف گامزن ہے۔ بابا نے ان اشعار کی دو یا تین مرتبہ تکرار فرمائی تو میں آپ کے اشعار کے پیغام اور آپ کے مقصد کو سمجھ گیا لہذا میری آنکھوں میں اشکوں کے سیلاب جوش مارنے لگے اور میرے آنسو بہنے لگے لیکن میں نے بڑے ضبط کے ساتھ اسے سنبھالا میں یہ سمجھ چکاتھا کہ بلا نازل ہوچکی ہے ۔ ہماری پھوپھی نے بھی وہی سنا جو میں نے سنا تھا لیکن چونکہ وہ خاتون تھیں اور خواتین کے دل نرم و نازک ہوا کرتے ہیں لہٰذا آپ خود پر قابو نہ پاسکیں اور اٹھ کھڑی ہوئیں اور سر برہنہ دوڑتی ہوئی اس حال میں بھائی کے خیمہ تک پہنچیں کہ آپ کا لباس زمین پر خط دے رہا تھا،وہاں پہنچ کر آپ نے فرمایا : ’’واثکلاہ ! لیت الموت أعد مني الحیاۃ ! الیوم ماتت فاطمۃ أمّي و علی أبي ، وحسن أخي یا خلیفۃالماضي وثمال الباقي[2]‘‘آہ یہ جانسوز مصیبت ! اے کاش موت نے میری حیات کو عدم میں تبدیل کردیا ہوتا! آج ہی میری ماں فاطمہ ، میرے بابا علی اور میرے بھائی حسن دنیا سے گزر گئے۔ اے گذشتگان کے جانشین اور اے پسماندگان کی پناہ ، یہ میں کیا سن رہی ہوں ؟

یہ سن کر حسین علیہ السلام نے آپ کو غور سے دیکھا اور فرمایا:’’ یا أخیّۃ لا یذھبن بحلمک الشیطان‘‘ اے میری بہن مبادا تمہارے حلم و بردباری کو شیطان چھین لے۔ یہ سن کر حضرت زینب نے کہا :’’ بأبی أنت و أمی یا أبا عبداللہ! أستقتلت؟ نفسی فداک ‘‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں اے ابو عبداللہ! کیا آپ اپنے قتل و شہادت کے لئے لحظہ شماری کررہے ہیں؟ میری جان آپ پر قربان ہوجائے۔

یہ سن کر امام حسین علیہ السلام کو تاب ضبط نہ رہی؛ آنکھوں سے سیل اشک جاری ہوگیا اور آپ نے فرمایا :’’ لو ترک القطا لیلاً لنام !‘‘ اگر پرندہ کو رات میں اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو وہ سورہے گا ۔یہ سن کر پھوپھی نے فرمایا :’’ یا ویلتی ! أفتغصب نفسک اغتصاباً ؟ فذالک أقرح لقلبي وأشد علیٰ نفسي‘‘اے وائے کیا آپ آخری لمحہ تک مقابلہ کریں گے اور یہ دشمن آپ کو زبردستی شہید کردیں گے ؟ یہ تو میرے قلب کو اور زیادہ زخمی اور میری روح کے لئے اور زیادہ سخت ہے ،یہ کہہ کر آپ اپنا چہرہ پیٹنے لگیں اور اپنے گریبان چاک کردئے اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ بے ہوش ہوگئیں ۔امام حسین علیہ السلام اٹھے اورکسی طرح آپ کو ہوش میں لا کر تسکین خاطر کے لئے فرمایا :’’ یا أخیّۃ ! اتقي اللّٰہ و تعزي بعزاء اللّٰہ و اعلمي ان أھل الارض یموتون و أن أھل السماء لایبقون وأن کل شی ھالک الا وجہ الذی خلق الارض بقدرتہ و یبعث الخلق فیعودون وھو فرد وحدہ، أبي خیر مني، و أمي خیر مني ، و أخي خیر مني ولي ولھم ولکل مسلم برسول اللّٰہ أسوۃ .‘‘ اے میری بہن !تقوائے الہٰی پر گامزن رہو اور اس سے اپنی ذات کو سکون پہنچاؤ اور جان لو کہ اہل زمین کو مرنا ہی مرنا ہے اور آسمان والے بھی باقی نہیں رہیں گے۔ جس ذات نے اپنی قدرت سے زمین کو خلق کیاہے اس کے علاوہ ہر چیزکوفنا ہوناہے۔اس کی ذات مخلوقات کو مبعوث کرنے والی ہے، وہ دوبارہ پلٹیں گے، بس وہی اکیلا و تنہا زندہ ہے۔ میرے بابا مجھ سے بہتر تھے ، میری مادر گرامی مجھ سے بہتر تھیں اور میرے بھائی مجھ سے بہتر تھے، میرے لئے اور ان لوگوں کے لئے بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے رسول خدا کی زندگی اور موت نمونۂ عمل ہے۔

اس قسم کے جملوں سے آپ نے بہن کے دل میں امنڈتے ہوئے سیلاب کو روکا اور انھیں تسلی دی اور پھرفرمایا: ’’یاأخیۃ ! انی أقسم علیک فأبّری قسمی : لا تشقی علي جیباً ولا تخمشی عليّ وجھا ولا تدعي عليّ بالویل والثبور اذا أنا ھلکت‘‘ اے میری بہن !میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ میری شہادت کے بعد تم اپنے گریبان چاک نہ کرنا، نہ ہی اپنے چہرے کو پیٹنا اورنہ اس پر خراش لگانا اور نہ ہی واے کہنا اور نہ موت کی خواہش کرنا۔

پھربابا نے پھوپھی زینب کو میرے پاس لاکر اور بٹھایا اور ان کے دل کو آرام و سکون بخشنے کے بعد اپنے اصحاب کی طرف چلے گئے۔ وہاں پہنچ کرانھیں حکم دیا کہ وہ ا پنے خیموں کو ایک دوسرے سے نزدیک کرلیں، اس کی طناب کو ایک دوسرے سے جوڑ لیں اور اپنے خیموں کے درمیان اس طرح رہیں کہ دشمنوں کو آتے دیکھ سکیں [3]۔ اس کے بعد امام حسین علیہ السلام بانس اور لکڑیاں لے کر ان لوگوں کے خیموں کے پیچھے آئے جہاں پتلی سی خندق نما بنائی گئی پھر وہ بانس اورلکڑیاں اسی خندق میں ڈال دی گئیں۔ اسکے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: جب وہ لوگ صبح میں ہم لوگوں پر حملہ کریں گے تو ہم اس میں آگ لگادیں گے تا کہ ہمارے پیچھے سے وہ لوگ حملہ آور نہ ہوسکیں اور ہم لوگ اس قوم سے ایک ہی طرف سے مقابلہ کریں[4]۔

شب عاشورامام حسین ؑ اور آپ کے اصحاب مشغول عبادت

جب رات ہوگئی تو حسین علیہ السلام اور اصحاب حسین علیہم السلام تمام رات نماز پڑھتے رہے اور استغفار کرتے رہے۔ وہ کبھی دعا کرتے اور کبھی تضرع و زاری میں مشغول ہوجاتے تھے ۔ضحاک بن عبد اللہ مشرقی ہمدانی اصحاب حسین علیہ السلام میں سے تھے جو دشمنوں کے چنگل سے نجات پاگئے تھے، وہ کہتے ہیں : سواروں کا لشکر جو ہماری نگرانی کر رہا تھا اور ہم پر نگاہ رکھے ہوئے تھا وہ ہمارے پاس سے گزرا؛ اس وقت امام حسین علیہ السلام قرآن مجید کی ان آتیوں کی تلاوت فرما رہے تھے : ’’وَلاَےَحْسَبَنَّ اَلذِّینَ کَفَرُوْ اَنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ خَیراً لانفسھم اِنَّمَا نُمْلِيْ لَھْمْ لَےَزْدَادُوْا اِثْماً وَلَھُمْ عَذَاب مُھِین. مَا کَاْنَ اللّہُ لِیذَرَ الْمُؤمِنِینَ عَلَی مَا أنْتُمْ عَلَیہِ حَتَی یمِیزَ الْخَبِیث مِنَ الطَّیِّب[5]‘‘ِ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے جو انھیں مہلت دی ہے وہ ان کے لئے بہتر ہے، ہم نے تو انھیں اس لئے مہلت دی ہے تا کہ وہ اور زیادہ گناہ کریں اور ان کے لئے رسوا کنندہ عذاب ہے۔ خدا وندعالم ایسانہیں ہے کہ مومنین کو اسی حالت پر رکھے جس پر تم لوگ ہو بلکہ ی اس لئے ہے کہ وہ پلید کو پاک سے جداکر ے ۔اس وقت لشکر عمر بن سعد کے کچھ سوار ہمارے اردگرد چکّر لگا رہے تھے ۔ان میں سے ایک سوار یہ آیتیں سن کرکہنے لگا رب کعبہ کی قسم !ہم لوگ پاک ہیں، ہم لوگوں کو تم لوگوں سے جدا کر دیا گیا ہے۔ میں نے اس شخص کو پہچان لیا اور بریر بن حضیر ہمدانی[6] سے کہا کہ آپ اسے پہچانتے ہیں یہ کون ہے ؟ بریر نے جواب دیا: نہیں ! اس پر میں نے کہا :یہ ابو حرب سبیعي ہمدانی عبداللہ بن شہر ہے، یہ مسخرہ کرنے والااور بیہودہ ہے،بڑا بے باک اور دھوکہ سے قتل کرنے والا ہے۔ سعید بن قیس[7]نے بارہا اس کی بد اعمالیوں اور جنایت کاریوں کی بنیاد پر اسے قید کیا ہے ۔

یہ سن کر بریر بن حضیر نے اسے آواز دی اور کہا: اے فاسق ! تجھے اللہ نے پاک لوگوں میں قرار دیا ہے ؟! تو ابو حرب نے بریر سے پوچھا : تو کون ہے ؟ بریرنے جواب دیا : میں بریر بن حضیر ہوں ۔ابو حرب نے یہ سن کر کہا : انّاللّہ ! یہ میرے لئے بڑا سخت مرحلہ ہے کہ تم بریر ہو، خدا کی قسم! تم ہلاک ہوگئے، خدا کی قسم تم ہلاک ہوگئے اے بریر !بریرنے کہا : اے بو حرب ! کیا تو اپنے اتنے بڑے گناہ سے توبہ کرسکتا ہے ؟ خدا کی قسم! ہم لوگ پاک ہیں اور تم خبیثوں میں ہو۔

اس پر ابو حرب نے بریر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا: اور میں اس پر گواہ ہوں!میں ( ضحاک بن عبداللہ مشرقی) نے اس سے کہا : تیری معرفت تیرے لئے نفع بخش کیوں نہیں ہورہی ہے ؟ ابو حرب نے جواب دیا : میں تم پر قربان ہوجاؤں ! تو پھر یزید بن عذرہ عنزیّ کا ندیم کون ہوگا جو ہمارے ساتھ ہے ۔یہ سن کربریر نے کہا : خدا تیرا برا کرے! تو ہر حال میں نادان کا نادان ہی رہے گا ۔یہ سن کر وہ ہم سے دور ہوگیا[8]۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1] طبری نے حوَيلکھا ہے۔ ارشاد، ص ۲۳۲ میں ’’جوین ‘‘ اور مقاتل الطالبیین، ص ۷۵ ، مناقب بن شہر آشوب، ج۲، ص ۲۱۸، تذکرۃ الخواص، ص ۲۱۹ ، اور خوارزمی، ج۱ ،ص ۲۳۷ پر ’’جون ‘‘ مرقوم ہے ۔ تاریخ طبری میں آپ کا تذکرہ اس سے قبل اور اس کے بعد بالکل موجود نہیں ہے نہ ہی امام علیہ السلام کے ہمراہ آپ کی شہادت کا تذکرہ موجود ہے۔

[2] ارشاد میں یہ جملہ اس طرح ہے’’ یا خلیفۃ الماضین و ثمال الباقین‘‘(ص۲۳۲ ) تذکرہ میں اس جملہ کا اضافہ ہے’’ ثم لطمت وجھھا‘‘(ص۲۵۰ ،طبع نجف)

[3] حارث بن کعب اور ابو ضحاک نے مجھ سے علی بن الحسین کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے( طبری ،ج۵، ص۴۲۰ ؛ ابو الفرج ، ص ۷۵ ،ط نجف ،یعقوبی، ج۲،ص ۲۳۰ ؛ ارشاد ،ص ۲۳۲ ، طبع نجف )آپ نے تمام روایتیں امام سجاد علیہ السلام سے نقل کی ہیں۔

[4] عبد اللہ بن عاصم نے ضحاک بن عبداللہ مشرقی سے روایت کی ہے۔ طبری ، ج۵ ،ص ۴۲۱، ارشاد ، ص ۲۳۳ ، پر فقط ضحا ک بن عبداللہ لکھا ہے۔

[5] آل عمران، آیت ۱۷۸و ۱۷۹

[6] ارشاد ،ص ۲۳۳، اور دیگر کتب میں خضیر مرقوم ہے اور یہی مشہور ہے ۔ آپ کوفہ کے قاریوں میں ان کے سید و سر دار شمار ہوتے تھے۔ ( طبری ، ج۵، ص۴۳۱ )آپ بڑے عبادت گزار تھے۔ واقعہ کربلا میں یہ آپ کا پہلا ذکر ہے۔ آپ امام علیہ السلام تک کس طرح پہنچے اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ آپ وہ ہیں جو جنگ شروع ہوتے ہی سب سے پہلے مقابلہ اور مبارزہ کے لئے اٹھے تو امام علیہ السلام نے آپ کو بٹھا دیا۔( طبری ،ج۵ ،ص ۴۲۹ ) آپ وہی ہیں جنہوں نے عبدالرحمن بن عبد ربہ انصاری سے کہا تھا : خدا کی قسم! میری قوم جانتی ہے کہ مجھے نہ تو جوانی میں ،نہ ہی بوڑھاپے میں باطل ہنسی مذاق سے کبھی محبت رہی ہے لیکن خداکی قسم جو میں دیکھ رہا ہوں اس سے میں بہت خوش ہوں۔ خدا کی قسم! ہمارے اور حور العین کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ یہ لوگ ہم پر تلوار سے حملہ کریں۔میں تو یہی چاہتا ہوں کہ یہ لوگ حملہ آور ہوں۔( ج۵ ،ص ۴۲۳ ) آپ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ عثمان نے اپنی جان کو برباد کردیا۔ معاویہ بن ابو سفیان گمراہ اور گمراہ کرنے والا تھا . امام و پیشوای ہدایت اور حق تو بس علی بن ابیطالب علیہ السلام تھے۔ اس کے بعد آپ نے عمر بن سعد کے ایک فوجی سے جس کا نام یزید بن معقل تھا اس بات پر مباہلہ کیا کہ یہ مفاہیم و معانی حق ہیں اور یہ کہا کہ ہم میں سے جو حق پر ہے وہ باطل کو قتل کردے گا یہ کہہ کر آپ نے اس سے مبارزہ و مقابلہ کیا اور اسے قتل کردیا۔ (طبری ،ج۵ ،ص ۴۳۱)

[7] سعید بن قیس ہمدانی ،ہمدان کا والی تھاجسے والی کوفہ سعید بن عاص اشرق نے معزول کر کے ۳۳ ھ ؁میں ’’ری‘‘ کا والی بنا دیا تھا۔( طبری، ج۵ ، ص ۳۳۰) امیر المومنین علیہ السلام نے مذکورہ شخص کو شبث بن ربیعی اور بشیر بن عمرو کے ہمراہ معاویہ کے پاس جنگ سے پہلے بھیجا تاکہ وہ سر تسلیم خم کر لے اور جما عت کے ہمراہ ہو جائے۔ (طبری، ج۵ ، ص ۵۷۳) صفین میں یہ شخص علیؑ کے ہمراہ جنگ میں مشغول تھا۔( طبری، ج۴، ص ۵۷۴)یہ وہ سب سے پہلی ذات ہے جس نے امیر المومنین کے مقاصد کا مثبت جواب دیا تھا۔ (ج۵، ص ۹)امیر المومنین ؑ نے آپ کو انبار اور ہیت کی طرف سفیان بن عوف کے قتل و غارت گری کے سلسلے میں روانہ کیا تو آپ ان لوگوں کے سراغ میں نکلے یہاں تک کہ’’ ہیت ‘‘پہنچے مگر ان لوگوں سے ملحق نہ ہوسکے ۔(طبری، ج۵، ص ۱۳۴)ا س کے بعد تاریخ میں ہمیں ان کا کوئی ذکر اور اثر دکھائی نہیں دیتا ،شائد جب آپ عثمان کے زمانے میں’’ ری‘‘ اور’’ ہمدان ‘‘کے والی تھے تو اسی زمانے میں ابو حرب کو قید کیا ہو۔

[8] طبری، ج۵ ،ص ۴۲۱ ،ابو مخنف کا بیان ہے : عبد اللہ بن عاصم نے ضحاک بن عبد اللہ مشرقی کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے۔

ماخوذ از کتاب مقتل ابی مخنف

حضرت امام حسین (ع) اپنے خطبے کا آغاز، اپنے جد بزرگوار حضرت رسول خدا (ص) کی ایک حدیث سے فرماتے ہیں ۔

اے لوگو پیغمبر خدا (ص) نے فرمایا ہے ، ہر وہ مسلمان جو ایسے منھ زور سلطان یا بادشاہ کے بالمقابل قرار پاجائےجو حرام خدا کو حلال کرے اور عہد الہی کو توڑے اور قانون و سنت پیغمبر کی مخالفت کرے اور بندگان خدا کے درمیان معصیت کو رواج دے ، لیکن اس کے رویے اور طرز عمل کا مقابلہ نہ کرے تو خداوند عالم پر واجب ہےکہ اسے بھی اس طاغوتی بادشاہ کے ساتھ جہنم کے شعلوں میں ڈھکیل دے ۔ اے لوگوں آگاہ ہوجاؤ کہ بنی امیہ نے اطاعت پروردگار چھوڑکر اپنےاوپر شیطان کی پیروی واجب کر لی ہے انہوں نے فساد اور تباہی کو رواج دیا ہے اور حدود و قوانین الہی کو دگرگوں کیا ہے اور میں ان بد خواہوں اور دین کو نابود کرنے والوں کے مقابلے میں مسلمان معاشرے کی قیادت کا زیادہ حق رکھتا ہوں اس کے علاوہ تمہارے جو خطوط ہمیں موصول ہوئے وہ اس بات کے آئینہ دار ہیں کہ تم نے میری بیعت کی ہے اور مجھ سے عہدو پیمان کیا ہے کہ مجھے دشمن کے مقابلے میں تنھا نہیں چھوڑوگے ۔ اب اگر تم اپنے اس عہد پر قائم اور وفادار ہوتو تم رستگار وکامیاب ہو۔ میں حسین بن علی (ع) تمہارے رسول کی بیٹی فاطمہ زہرا کادلبند ہوں ۔ میرا وجود مسلمانوں کے وجود سے جڑا ہوا ہے اور تمہارے بچے اور اہل خانہ، ہمارے بچوں اور گھر کے افراد کی مانند ہیں ۔ میں تمہارا ہادی و پیشوا ہوں لیکن اگر تم ایسا نہ کرو اور اپنا عہدو پیمان توڑ دو اور اپنی بیعت پر قائم نہ رہو جیسا کہ تم ماضی میں بھی کرچکے ہو اور اس سے قبل تم نے ہمارے بابا ، بھائی اور چچازاد بھائی مسلم کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ہے ۔ ۔۔۔ تم وہ لوگ ہو جو نصیب کے مارے ہو اور خود کو تباہ کرلیا ہے اور تم میں سے جو کوئی بھی عہد شکنی کرے اس نے خود اپنا ہی نقصان کیا ہے اور امید ہے کہ خداوند عالم مجھے تم لوگوں سے بے نیاز کردے گا ۔

امام حسین بن علی (ع) کا یہی وہ خطبہ تھا، جسے امام (ع) نے، حر اور ا سکے لشکر کے سپاہیوں کے سامنے ، کہ جس نے امام کا راستہ روک دیا تھا، اتمام حجت کے لئے اور ان کو حق کی جانب بلانے کے لئے ارشاد فرمایا تھا ۔اس خطبے کی چند خصوصیات قابل ذکر ہيں ۔اموی نظام حکومت کی خصوصیات بیان کرنے کے لئے پیغمبر خدا (ص) کے اقوال کا ذکر، امام کی عظمت و منزلت کا بیان ،اپنے قیام اور تحریک کے علل واسباب کا ذکر اورمعاشرے کے افراد کے ساتھ امام کے رابطے کی نوعیت اور اس تحریک کے روشن افق کو بیان کرنا اس خطبے میں پیش کئے جانے والے موضوعات ہیں ۔

امام حسین (ع) کا قافلہ، ماہ محرم کی دوسری تاریخ کو کربلا میں وارد ہوتا ہے ۔ اس سرزمین پر امام (ع) اور ان کے خاندان اور اصحاب باوفا کے لئے حالات مزید سخت ودشوار ہوجاتے ہيں دشمن امام (‏ع) اور ان کے بچوں پر پانی بند کردیتے ہیں تاکہ شاید امام اور ان کے ہمراہ اصحاب ، اپنی استقامت کھو بیٹھیں اور ان کے سامنے تسلیم ہوجائیں لیکن ایسے حالات میں کربلا والوں نے ایثار وفداکاری کا ایسا اعلی ترین نمونہ پیش کیا جو رہتی دنیا تک کے لئے نمونۂ عمل بن گيا ۔

امام (‏ع) اچھی طرح جانتےتھے کہ میدان جنگ میں بڑے اور عظیم حادثوں کا متحمل ہونے کے لئے عظیم قوت برداشت کی ضرورت ہے ۔ اسی بناء پر ہر مقام پر اور ہر وقت اپنے ساتھیوں کو ایمان اور یقین کی بنیادیں مستحکم ہونے کی تلقین فرماتے تھے اورشب عاشور ، اصحاب و انصار نے خود کوامام پر قربان کرنے کے لئے آمادہ کرلیا تھا۔ شب عاشور ایسے اضطراب کی شب تھی جس کی مثال نہیں ملتی ۔ اس شب امام حسین (‏ع) نے اپنے اصحاب کوبلایا اور واضح طور پران سے کہا کہ ہماری شہادت کا وقت نزدیک ہے اورمیں تم پر سے اپنی بیعت اٹھائے لیتا ہوں لہذا تم رات کی تاریکی سے استفادہ کرو اور تم میں سے جو بھی کل عاشور کے دن جنگ میں ہمارا ساتھ نہیں دے سکتا اس کے لئے اپنے گھر اور وطن لوٹ جانے کا راستہ کھلا ہوا ہے ۔ یہ تجویز درحقیقت امام حسین (ع) کی جانب سے آخری آزمائش تھی ۔ اور اس آزمائش کا نتیجہ، امام کے ساتھیوں میں جنگ میں شرکت کے لئے جوش وجذبے میں شدت اور حدت کا سبب بنا اور سب نے امام (ع) سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا اور کہا کہ خون کے آخری قطرے تک وہ استقامت کریں گے اور آپ کے ساتھ رہیں گے، اوراس طرح سے اس آزمائش میں سرافراز و کامیاب ہوں گے۔

عاشور کی صبح آئی تو امام (ع) نے نماز صبح کے بعد اپنے اصحاب کے سامنے عظیم خطبہ دیا ایسا خطبہ جو ان کی استقامت اور صبر کا آئینہ دار تھا امام (ع) نے فرمایا اے بزرگ زادوں ، صابر اور پر عزم بنو ۔ موت انسان کے لئے ایک پل اور گذرگاہ سے زیادہ کچھ نہيں ہے کہ جو رنج و مصیبت سے انسان کورہائی دلاکرجنت کی جاوداں اور دائمی نعمتوں کی جانب لے جاتی ہے ۔ تم ميں سے کون یہ نہیں پسند کرے گا کہ جیل سے رہائی پاکر محل اور قصر میں پہنچ جائے جب کہ یہی موت تمہارے دشمن کے لئے قصر اور محل سے جہنم ميں جانے کا باعث بنے گی ۔ اس عقیدے کی جڑ خدا پر اعتماد اور یقین ہے اور یہ چیز صبر اور استقامت کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے ۔ پھرامام (ع) نے اپنے لشکر کو ترتیب دیا اور پھر تیکھی نظروں سے دشمن کے بھاری لشکر کو دیکھا اور اپنا سر خدا سے رازو نیاز کے لئے اٹھایا اور فرمایا " خدایا مصائب و آلام اور سختیوں میں میرا ملجا اور پناہگاہ توہی ہے میں تجھ پر ہی اعتماد کرتا ہوں اور برے اور بدترین و سخت ترین حالات میں میری امید کا مرکز توہی ہے ۔ ان سخت و دشوار حالات میں صرف تجھ ہی سے شکوہ کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد کر اور میرے غم کو زائل کردے اور آرام و سکون عطا کر ۔ صبح عاشور کی جانے امام (ع) کی اس دعا میں ، تمام تر صبر و استقامت کا محور خدا پر یقین و اعتمادہے بیشک خدا پر یقین اوراعتماد ، سختیوں کو آسان اور مصائب و آلام میں صبر و تحمل کی قوت عطا کرتا ہے ۔

حضرت امام حسین بن علی (ع) یہ دیکھ رہے تھے کہ دشمن پوری قوت سے جنگ کےلئے آمادہ ہے یہاں تک کہ بچوں تک پانی پہنچنے پر بھی روک لگارہا ہے اور اس بات کا منتظرہے کہ ایک ادنی سا اشارہ ملے تو حملے کا آ‏‏غاز کردے ۔ ایسے حالات میں امام (ع) نہ صرف جنگ کا آ‏غازکرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ چاہتے تھے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے دشمن کی سپاہ کو وعظ و نصیحت کریں تاکہ ایک طرف وہ حق و فضیلت کی راہ کو باطل سے تشخیص دے سکيں تو دوسری طرف کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے درمیان کوئی نادانستہ طورپر امام کا خون بہانے میں شریک ہوجائے اور حقیقت سے آگاہی اور توجہ کے بغیر تباہی اور بدبختی کا شکار ہوجائے ۔ اسی بناء پر امام حسین (ع) اپنے لشکرکو منظم کرنے کے بعد گھوڑے پر سوار ہوئے اور خیموں سے کچھ فاصلے پر چلے گئے اور انتہائی واضح الفاظ میں عمر سعد کے لشکر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ۔ اے لوگوں میری باتیں سنو اور جنگ و خون ریزی میں عجلت سے کام نہ لو تاکہ میں اپنی ذمہ داری کو یعنی تم کو وعظ ونصیحت کرسکوں اور اپنے کربلا آنے کا تمہیں سبب بتادوں اگر تم نے میری بات قبول نہيں کی اور میرے ساتھ انصاف کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر تم سب ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنی باطل فکر اور فیصلے پر عمل کرو اور پھر مجھے کوئي مہلت نہ دو لیکن بہرحال تم پر حق مخفی نہ رہ جائے ۔ میرا حامی و محافظ وہی خدا ہے کہ جس نے قرآن کو نازل کیا اور وہی بہترین مددگار ہے ۔

یہ ہے ایک امام اور خدا کے نمائندے کی محبت و مہربانی کہ جواپنے خونخوار دشمن کے مقابلےمیں، حساس ترین حالات میں بھی انہیں دعوت حق دینے سے دستبردار نہیں ہوئے ۔ امام (ع) نے روزعاشورا باوجودیکہ موقع نہیں تھا تاہم لوگوں کو وعظ ونصیحت کی اور اپنے راہنما ارشادات سے لوگوں کو حق سے آگاہ فرماتے رہے اور یہ کام آپ پیہم انجام دے رہے تاکہ شاید دشمن راہ راست پر آجائیں ۔ امام (ع) اپنے خطبے میں لشکر عمر سعدکو یہ بتاتے ہیں کہ کوفے اور عمر سعد کے لشکر کے افراد یہ نہ سوچ لیں کہ میں ان خطبوں اور وعظ و نصیحت کے ذریعے کسی ساز باز یا سمجھوتے کی بات کررہا ہوں ۔ نہیں۔ میرا ہدف ومقصد ان خطبوں اور بیانات سے یہ ہےکہ میں تم پر حجت تمام کردوں اور کچھ ایسے حقائق اور مسائل ہیں کہ جنہیں امام کے لئے منصب امامت اور ہدایت و رہبری کے فرائض کے سبب لوگوں کو آگاہ کرنا اور انہیں ان سے باخبر کردینا ضروری تھا.     شکریه ابنا نیوز

 

 

تحریر: اسد عباس

میں اس وقت مسجد نبوی کے سامنے کھڑا ہوں، ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ سید المرسلین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی (ص) دار فانی سے رخصت ہو گئے ہیں، پورے عرب میں دکھ اور غم کا سماں ہے، ذرہ ذرہ آپ (ص) کے فراق پر گریہ کناں ہے، لوگ جوق در جوق مسجد کی طرف آ رہے ہیں، میں نے دریافت کیا ہے کہ کیوں رہائش گاہ کی جانب نہیں جا رہے جہاں اس وقت اہل خانہ میت کے ساتھ موجود ہیں تو پتہ چلا ہے کہ سب سے بڑی پارٹی کی طرف سے یہاں جمع ہونے کی کال ہوئی ہے۔ بہت گھمبیر صورتحال ہے، اس وقت ہر طرف صرف ایک سوال گردش کر رہا ہے کہ جانشینی کے فرائض کون انجام دے گا۔ پارٹی کا اجلاس جاری تھا جس کے نتیجے میں ایک جید صحابی کو جانشینی کے لیے نامزد کیا گیا ہے اور بیعت کی صورت میں عوام کی رائے لینے کا عمل اب جاری ہے جس میں عوام بھر پور حصہ لے رہی ہے۔ میں نے بیعت کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے مسجد نبوی کی جانب جاتے ہوئے ایک شخص سے سوالات کیے،

اس سال حج میں جو سلسل وار واقعات  پیش آئے ہیں اور خاص کر منی کا واقعہ ،یہ واشنگٹن سے ریاض تک طاقت کی جنگ کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے امریکہ اور آل سعود ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے ہیں امریکہ اور سعودیہ کی اس ڈبلینگ میں سے محمد بن نایف اور محمد بن سلمان میں سے آخر کار ایک کو موجودہ بادشاہ کا جانشین بننا ہے اور دوسرے کو نالایق اور بے کار ہونے کی وجہ سے طاقت سے کنارہ کش ہونا ہے ۔
مقدمہ ؛
اس سال حج میں سلسلہ وار واقعات کے رونما ہونے کے بعد ان واقعات کے دو اسباب بتائے جارہے ہیں ۔
۱ ۔ فرضیہء قصور اور کوتاہی ۔
۲ ۔ فرضیہ تقصیر و تعمد ۔
جو لوگ فرضیہء قصور اور کوتاہی کے معتقد ہیں وہ ان واقعات کی وجہ سعودی حکام کی تدبیر میں کوتاہی ، نظم برقرار کرنے میں نا اہلی ، تجربے کی کمی ، اور یمن کی جنگ اور بحرین میں مداخلت کی وجہ سے آل سعود کی توجہ حج کے مسئلے پر نہ ہونا بتاتے ہیں ۔پہلے فرض کے مقابلے میں دوسرا فرض پیش کیا جا رہا ہے کہ جس میں مکہ اور منی منی کے حوادث کی وجہ سعودی حکام کی سوچی سمجھی سازش کو بتایا گیا ہے ۔ اس دوران کچھ لوگوں کی کوشش یہ ہے کہ لوگ دوسرے فرض کے بجائے پہلے فرض کو تسلیم کر لیں اس لیے کہ پہلے فرض کے لوگوں پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوں گے ۔یہ لوگ فرضیہء تقصیر و تعمد کے برملا ہو نے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے مضر مانتے ہیں اسی لیے وہ اس کوشش میں ہیں کہ اس فرض کو نظر انداز کیا جائے اور فرضہیء قصور و کوتاہی کو برملا کیا جائے ۔
سیاسی عمل اور مذکورہ بالا گروہ کے مقاصد پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ فرضیہء تقصیر و تعمد کے سامنے آنے کے عواقب و نتائج مندرجہ ذیل ہوں گے جن سے اس گروہ کے مقاصد کمزور اور خلل پذیر ہو جائیں گے ۔
* معاشرے کی فضا اور عام جذبات کا انتخابات کے حق میں نہ ہونا ۔
*  معاشرے کا مشترکہ جامع پلان ( برجام) کی خوبی اور پانچ جمع ایک کے سمجھوتے کو رد کر دینا ۔
* معاشرے کا سیاسی اور ثقافتی دو قطبی فضا سے باہر آجانا ،
اس مقالے کے لکھنے والے نے دوسرے فرضیے پر اعتقاد رکھتے ہوئے تقصیر اور تعمد کو مکہ اور منی کے واقعات کے رونما ہونے کا سبب قرار دیا ہے ،اس بنا پر کوشش کی جائے گی کہ اس مقالے میں ایک منطقی اور مستند بحث کے ذریعے اور درج ذیل دو محوروں پر انحصار کرتے ہوئے مذکورہ بالا دو فرضیوں کے بارے میں بحث کی جائے ۔
اول ؛ مشاہدات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر فرضیہء قصور و کوتاہی کی تردید ۔
دوم ؛ مکہ اور منی کے واقعات میں فرضیہء تقصیر و تعمد کو ثابت کرنے کے لیے صحیح اور برہانی دلایل پیش کیا جانا ۔
امید ہے کہ یہ مقالہ حریم دوست کے زائروں کی ان پاک اور نورانی ارواح کے قرض کی ادائگی کا ایک ذریعہ بن سکے کہ زندگی کے پاک ترین لمحات میں مظلومانہ اپنی جان دی اور امت کو اپنے غم میں عزادار بنا دیا ۔
فرضیہء قصور و کوتاہی کی تردید کے دلایل ؛
۱ ۔ آل سعود کا یہ جھوٹا دعوی کہ مسجد الحرام میں جو کرین گری تھی وہ آندھی کے چلنے سے گری تھی ، اس لیے کہ کرین ہوا کے رخ کے مخالف سمت میں گری تھی ۔
۲ ۔ کرین کا اس کے تعادل کے وزن کے خلاف سمت میں گرنا ۔
۳ ۔ مسجد الحرام میں حادثے کے بعد امداد رسانی مں جان بوجھ کر کوتاہی کیا جا نا ۔
۴  رمی جمرات کی طرف جانے والے راستوں کو بغیر کسی پیشگی اطلاؑ کے غیر متوقع پور پر بند کر دینا ۔
۵ ۔ ایشیاء اور افریقہ کے حاجیوں کے راستے میں خلل ایجاد کرنا (عربی اور سعودی حاجیوں کا راستہ معمول کے مطابق کھلا تھا ) ۔
۶ ۔ رمی جمرات کی طرف جانے والے ایک راستے کو بند کرنے کی دلیل نہ بتانا ۔
۷ ۔ حاجیوں کو لے جانے والی ٹرین کی حرکت میں غیر متوقع طور پر خلل ایجاد کیا جانا اور ٹرین کا دیر تک کھڑے رہنا  کہ جس کی وجہ سے حاجیوں کے راستے میں بھاری بھیڑ جمع ہو گئی۔
اس سلسلے میں سعودی عرب کے ایک انتہائی تیز و طرار نامہ نگار مجتہد نے تصریح کی ہے کہ رات میں ٹرین چار گھنٹے لیٹ تھی  جس کی وجہ سے حاجی اسٹیشن پر انتظار کرتے رہے ۔۔۔جب ٹرین پہنچی تو اس کے باوجود کہ ٹرین کے دبے بھر چکے تھے اور دروازے بند تھے مگر پھر بھی ٹرین نہیں چلی ،مجتہد نے زور دے کر کہا کہ ٹرین کھڑی تھی اور اس کے دروازے بند تھے اور ایک گھنٹے تک اس کے دروازے نہیں کھلے ،دروازوں کے بند ہونے کی وجہ سے مسافروں کو گھٹن کا احساس ہوا  جس کی وجہ سے کچھ مسافر بے ہوش ہو گئے ۔

۸ ۔ بھیڑ کو کنٹرول کرنے والے مرکز کی طرف سے بھاری بھیڑ کے جمع ہوجانے کی خبر دینے کے باوجود اس پر دھیان نہ دینا  ۔
مجتہد کہتا ہے : حج کو منعقد کروانے والے سعودی حکام نے حادثے کے رونا ہونے سے دو گھنٹے پہلے  بھیڑ پر نظر رکھنے والے کیمروں کے ذریعے بھیڑ کو دیکھا تھا اور سیکیوریٹی فورسز کو ضروری نوٹس بھیج دیے تھے  لیکن سیکیوریٹی فورسز ان پر کوئی دھیان نہیں دیا ۔
۹ ۔حج کے ان عظیم اعمال کا انتظام کرنے کے لیے ناواقف اور کمزور لوگوں کو تعینات کیا جانا ۔
۱۰ ۔ حاجیوں کو بھیڑ سے بھرے ہوئے راستوں کی لے جانا ۔
۱۱ ۔ داخل ہونے کے راستوں کو کھلا رکھنا اور خارج ہونے کے راستوں کو بند کیا جانا ۔
۱۲ ۔ بند کیے راستے سے حاجیوں کو اسی طرف موڑنا کہ جس طرف سے وہ آ رہے تھے ۔
۱۳ ۔ امدادی تیم خاص کر ڈاکٹروں کی ٹیم کا کئی گھنٹے دیر سے پہنچنا ۔
۱۴ ۔ ان صدمہ دیدہ افراد کو ہوش میں لانے کی کوشش نہ کرنا کہ جو بھیڑ کے دباو اور گرمی کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے تھے ۔
۱۵ ۔ دوسرے ملکوں خاص کر جمہوریء اسلامی کے ڈاکٹروں کو ٹیم کو امداد کے لیے جانے سے روکنا ۔
۱۶ ۔ جہان ی واقعہ رونما ہوا تھا اس علاقے کو محاصرے لیا جانا  اور لوگوں کو وہاں سے نکلنے اور امداد رسانوں کو وہاں آنے سے روکنا۔
۱۷ ۔  زخمیوں کو منتقل کرنے پر توجہ نہ دینا ۔
۱۸ ۔ زخمیوں اور جان گنوا دینے والوں کی شناخت کے لیے ان کے متعلقہ ممالک کے ساتھ تعاون نہ کرنا ۔
۱۹ ۔ سعودی عرب کا اس سے زیادہ تعداد کے ساتھ حج کے اعمال منعقد کروانے کا تجربہ ،اور منی میں اس سے کم تعداد کے باوجود حوادث کا تجربہ۔
۲۰ ۔ مسجد الحرام میں کرین گرنے کے باوجود منی میں حادثے سے بچنے کے لیے حفاظتی انتظامات نہ کیے جانا ۔
یقینا جب حاجی واپس آئیں گے اور وہ آنکھوں دیکھی سنائیں گے تو مزید علل و اسباب کا پتہ چلے گا  اور کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہے گی کہ قصور و کوتاہی کا فرضیہ بد انتظامی اور تدبیر امور میں کمزوری  اور تجربے میں ناپختگی  کی بنا پر  ایک غلط فرضیہ ہے ۔
مکہ اور منی کے حوادث کے رونما ہونے میں تقصیر و تعمد کے فرضیے کے اثبات کے دلایل ، ؛
انجام شدہ تحقیقات کی بنیاد پر کہ جو مشاہدات اور واقعیات سے مربوط ہیں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مکہ اور منی کے حوادث کی تین اہم دلیلیں ہیں ۔
۱ ۔ واشنگٹن سے ریاض تک طاقت کی جنگ ۔
 ۔ ایران سے خوف اور ایران کے خلاف جنگ کی فضا قائم کرنا ۔
۳ ۔ شیعوں سے خوف زدہ کرنا اور مذہبی جنگ شروع کرنا ۔
فرضیہء تقصیر و تعمد کے اثبات میں مستقبل میں ممکن ہے کچھ دوسرے دلایل بھی پیش کیے جا سکیں کہ جو ابھی گمان کی حد تک ہیں اور ان کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے :
واشنگٹن سے ریاض تک طاقت کی جنگ ؛
علاقے میں مذہبی کشیدگی اور نیابتی جنگ کہ جو امریکہ صہیونی حکومت اور بعض یورپ کے ملکوں کی جانب سے سعودی عرب کی عقیدتی حمایت کے ساتھ خطے میں  شروع کی گئی ہے، اس جنگ کا منصوبہ بنانے والوں اور اس کو عملی جامہ پہنانے والوں کے مقاصد کے بر خلاف یہ جنگ درج ذیل نتائج پر منتہی ہوئی ہے ؛
* علاقے میں جمہوری اسلامی کے اقتدار اعتبار اور اسٹراٹیجیک نفوذ میں اضافہ ۔
 * علاقائی تنازعات میں روس کی بھر پور مداخلت ۔
 * علاقے میں امریکی پالیسیوں کے سلسلے میں یورپی ملکوں می شکوک و شبہات پیدا ہو نا ۔
* امریکہ کے علاقائی حلیفوں جیسے سعودی عربیہ اور ترکی کا خود ساختہ نیابتی جنگوں کے گرداب میں گرفتار ہو نا ۔
* علاقے میں اسلامی مزاحمت کی حدود اور ثقافت میں پھیلاو ۔
* مغربی ،عربی اور عبری ملکوں کے اقدامات کے سلسلے میں علاقے کی رائے عامہ میں شدید نفرت کا وجود میں آ نا۔
مذکورہ چیزوں نے علاقے میں اسٹراٹیجیک تعادل کو بدلنے کے علاوہ  علاقے میں نئے امنیتی اقدامات کے کیے جانے کا باعث بنی ہیں ،ان میں سے بعض اقدامات نے ایران ، اسلامی مزاحمتی محاذ اور روس کو دہشت گردی کے ساتھ مقابلے کا ایک قطب بنادیا ہے اور اس کے مقابلے میں امریکہ ،کچھ یورپی ملکوں صہیونی حکومت اور علاقے میں امریکہ کے ساتھیوں کو دہشت گردی کے حامی قطب میں قرار دے دیا ہے ۔
اس بنا پر امریکہ میں جو حکمران پارٹی ہے  وہ مذکورہ بالا صورت حال کو قابو میں کرنے کے لیے جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ کار آمد تعاون کرنے کے لیے خود کو مجبور پاتی ہے ۔قصر ابیض کے موجودہ حکام کا یہ عقیدہ ہے کہ شام ،عراق اور یمن کی فائل پر تیزی کے ساتھ عمل ہونا چایئے،ورنہ امریک کے آنے والے الیکشن میں ڈیمو کریٹس کو جمہوری خواہوں کے مقابلے میں بھاری شکست کا سامنا ہو گا ۔اس سلسلے میں او با ما اور اس کی پارٹی خود پر لازم سمجھتی ہے کہ سعودی عرب کی حاکمیت کو بدلا جائے ۔ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ حکومت کے کاروبار کو دوسری نسل کے شاہزادوں تک منتقل کیا جائے  جس کے لیے انہوں نے دوسری نسل کے سب سے بڑے شاہزادے محمد بن نایف کا انتخاب کیا ہے جو اس وقت سعودی عرب کا ولی عہد ہے۔ اس کے مقابلے میں جموری خواہ اور صہیونی حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ محمد بن سلمان فرزند ملک سلمان کو بادشاہت کی مسند پر بٹھایا جائے ۔
جمہوری خواہوں کے ساتھ محمد بن سلمان کے رابطے کا آغاز ہتھیاروں کی تجارت سے ہوا تھا جو اب ایک اسٹاٹیجیک تعاون تک پہنچ چکا ہے ۔اس نے اسی حمایت کی پشتپناہی کے سہارے طاقت کے زینوں کو  تیزی کے ساتھ طے کیا ہے۔ محمد بن سلمان نے اپنے باپ کے اقتدار تک پہنچنے کے بعد ،محمد بن نایف کے ساتھ ایک موقتی اتحاد کر کے غیر سدیری پارٹی یعنی متعب ابن عبد اللہ وغیرہ کو اقتدار سے الگ کیا ۔اس نے سعودی عرب کے وزیر جنگ ہونے کے ناطے اس بہانے سے کہ مقرن بن عبد العزیز نے یمن کے خلاف جنگ کی مخالفت کی ہے اس کو ولی عہدی کے منصب سے بر طرف کرنے کے مقدمات فراہم کر دیے اور خود نئے ولی عہد محمد بن نایف کا جانشین بن گیا ۔اس منصب نے اس کو موقعہ دیا کہ اس نے اقتصاد اور ترقی کے امور کی ریاست کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا اور عملی طور پر تیل کی کمپنی آرامکو کو بھہ ہتھیا لیا ۔
محمد بن سلمان کی طاقت حاصل کرنے کی رفتار میں اتنی تیزی آئی کہ سعودی عرب کے امور کی خبر رکھنے والوں اور آلم سعود کے اندر کے تعلقات سے باخبر افراد نے اعلان کیا کہ ملک سلمان مستقبل قریب میں حکومت سے کنارہ کش ہو جائے گا اور اپنے بیٹے کو اپنے جانشین کے طور پر پیش کرے گا ۔ لیکن محمد بن سلمان کو قدرت کے کسب کرنے کے اپنے راستے میں آکری قدموں پر محمد بن نایف اور آل سعود کے بعض شاہزادوں کی مخالفت کا سامنا ہے کہ جنہوں نے یمن کے خلاف جنگ کے سلسلے میں بھی اس کے موقف کی مخالفت کی تھی ۔اس بناپر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سال کے حج میں رونما ہونے والے سلسلہ وار واقعات واشنگٹن سے ریاض تک طاقت کی جنگ کی عکاسی کرتے ہیں کہ جس نے امریکہ کی دو پارٹیوں اور آل سعود کی دو پارٹیوں کو ایک دوسرے کے مقابل میں لا کھڑا کر دیا ہے ۔ امریکی سعودی ڈبلینگ میں محمد بن نایف اور محمد بن سلمان میں سے ایک کوموجودہ بادشاہ کا جانشین بننا ہے اور دوسرے کو ایک ناکارہ پرزے کی طرح پھینک دیا جانا ہے ۔
امریکی سعودی ڈبلینگ میں کہ جس کی طرف اشارہ کیا گیا واشنگٹن کی حکمران پارٹی یعنی ڈیموکریٹس اور ریاض میں سلمانے مخالفین اس کوشش میں ہیں کہ کہ اس سال کے حج کے سلسلہ وار واقعات کو دلیل بنا کر بادشاہ کو نالایق ثابت کرنے کے ساتھ ہی آل سعود کے اندر حاکمیت میں تبدیلی کی رفتار میں تیزی لائیں تا کہ محمد بن نایف تخت  سلطنت پر براجمان ہو سکے۔ اس سلسلے میں روزنامہ غارڈین نے پردہ اٹھایا ہے کہ سعودیہ کے ایک اعلی رتبہ شاہزادہ نے ملک سلمان کے حکومت سے الگ کیےجانے کے منصوبے کی بات بتائی ہےامریکہ میں ڈیمو کریٹس  کی سعودی عرب میں محمد بن نایف کے ساتھ مل کر اس منظر نامے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے شواہد در ذیل ہیں :
* سعودی شاہزادوں کے ایک خط کا انتشار کہ ملک کو سلمان اور محمد بن سلمان کے ہاتھوں سے نجات دلائی جائے ۔
* محمد اور سمان کی طف منسوب ویڈیو کا ریلیز ہونا اور اس کی اور اس کے ساتھیوں کی منی میں موجودگی کو رمی جمرات کا راستہ بند کیے جانے کی وجہ بتانا کہ جس کی بنا پر منی میں حادثہ رونما ہوا ۔
* محمد بن نایف کی جانب سے حقیقت تک پہنچنے کے لیے کمیٹی کی تشکیل ۔
امریکی سعودی ڈبلینگ کے دوسری جانب امریکہ کے جمہوری خواہ ،صہیونیسٹ اور ،محمد بن سلمان ہیں کہ جن کی کوشش ہے کہ حج میں رونما ہونے والے سلسلہ وار حوادث کو دلیل بنا کر ،سیاسی اور امنیتی امور اور حج کے سلسلے میں محمد بن نایف کی نالایقی کو ظاہر کرتے ہوئے اس کو بر طرف کرنے کے مقدمات فراہم کریں ۔مکہ اور منی میں رونما ہونے والے حوادث  کے بعد  اور طاقت کی جنگ کے چھڑنے کے بعدسے  سعودیوں نے لگاتار جو اقدامات کیے ہیں ان کے بارے میں غورو فکر کرنے سے ان واقعات کے رونما ہونے کے اسباب پہلے سے زیادہ روشن ہو جاتے ہیں :
* مسجد الحرام کی توسیع کے پروجیکٹ کو بن لادن کمپنی سے کہ جو سعودی عرب کی سب سے بڑی تعمیراتی کمپنی ہے  ، لے کر بادشاہ کے حکم سے اسے محمد بن سلمان کی کمپنی نسما کو دینا ۔
* بادشاہ کے حکم سے بن لادن کمپنی کے تمام سرمائے کونسما کمپنی کو دینا ۔
*محمد بن نایف کے نظریات  کے بر خلاف بادشاہ کا یہ حکم کہ حج کے منصوبوں میں نظر ثانی کی جائے اور امور حج کے اداروں کو جو ذمہ داریاں دی گئی ہیں انکے بارے میں تحقیق کی جا ئے ۔
* بادشاہ کے حکم سے بندر بن حجاز کو بر طرف کیا جا نا کہ جو سعودی عرب کے وزیر حج   اور محمد بن نایف کے قربی ہیں ۔
* امن عامہ کے مدیر  جنرل عثمان الحرج ، اور تین دوسرے فوجیوں کا بر طرف کیا جا نا ۔
*دربار کے افسر تحقیقات اور محمد بن نایف کے قریبی سعید الجبری کی برطرفی ۔
*بادشاہ کا سیکیوریٹی فوج کی حمایت کرنا  اور حج کے امور کی دیکھ بھال کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنانا ۔
*ایران سے خوف زدہ کرنا اور ایرانکے خلاف جنگ چھیڑنا ۔
*منی میں حاجیوں کے قتل عام کو جمہوریء اسلامیء ایران کیطرف نسبت دینا ایہران سے خوف زدہ کرنے کی خاطر ہے اور ی کام سعودی عرب سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے کیا ہے ۔
* کویتی روزنامے القبس نے ایرانی حاجیوں کے حکام کی رہنمائی کو نظر انداز کرنے  کو منی میں اس حادثے کی وجہ بتایا ہے  ۔
* سی این این عربی نے ایک رپورٹ میں ایرانی حجاج کو منی  میں حادثے کا ذمہ  دار بتایا ہے ۔
*  روزنامہ الشرق الاوسط نے بھی لکھا ہے کہ ۳۰۰ ایرانی حاجیوں کے مخالف سمت میں حرکت کو جو دیکھی گئی ہے بھیڑ اور حادثے کی اصلی وجہ بتایا ہے۔
*ٹویٹر کی جس کی مالکیت اب سعودی عرب کے پاس ہے اس نے ایک ساتھ دو عنوان قائم کیے ہیں : ایران تقتل الحجاج ،ایران حاجیوں کا قاتل ہے ،اور ایرانی دہشت گردی ، ۔
اس منظر میں ایران ہراسی الگ نوعیت کی تھی ایک تو مخاطبین کے اندر ادراک اور نظریے کی تبدیلی پیدا کی جائے اور ان کے اندر ایران سے جنگ کے خیالات کو بٹھایا جائے ۔ایران سے خوف زدہ کرنے اور ایران کے خلاف جنگ کا ماحول پیدا کرنے والا اہم ترین گروہ علاقے میں سلفی اور تکفیری گروہ ہے ۔ اس گروہ کی تعلیمات میں ایران کو عثمانی خلافت ی تضعیف اور اس کے پاش پاش ہونے کا اصلی سبب قرار دیا گیا ہے ۔اس بنا پر سلفی تکفیری گروہوں کے اندر یہ خیال زیادہ زور پکڑے گا کہ سعودی  عرب اور عثمانی خلاف ایک ہی ہیں اور ایران ان کے خلاف ہے ۔اس لیے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس منظر نامے میں تکفیری سلفی گروہ جمہوریء اسلامیء ایران کے خلاف نیابتی جنگ کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں ۔
قابل ذکر ہے کہ ایران سے خوف زدہ کرنے اور اس کے خلاف جنگ کا ماحول پیدا کرنے کا تکفیری سلفی گروہوں کا منصوبہ صرف عربی ایشیائی اور افریقی ملکوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس دائرے میں وہ ایک اور منظر کو تشکیل دے  رہے ہیں کہ جس کا مقسد امریکی حکام اور عوام اور یورپی ملکوں کو بھی اس میں شامل کرنا ہے ۔
منی میں حاجیوں کے قتل عام کے سلسلے میں آل سعود کا ایران کو نشانہ بنانے کا مقصد اس کو ایک نئے منظر نامے کے ساتھ جوڑنا ہے کہ جس تعلق سعودی عرب میں ظہران کے ٹاوروں میں ہونے والے دھماکوں سے ہے ۔یہ واقعہ سال ۱۹۹۶ میں ۱۹ امریکی فوجیوں کے مارے جانے کا باعث بنا تھا ۔ اس سلسلے میں ایسا دکھائی دیتا ہے  کہ بیروت میں احمد المغسل کا اغوا کیا جانا کہ جس کے ساتھ چند ایرانی  حاجی بھی لاپتہ ہو گئے تھے ایران سے خوف زدہ کرنے اور ایران کے خلاف جنگ کا ماحول پیدا کرنے کے منطر نامے کا نیا سین ہے                   
احمد المغسل حزب اللہ حجاز کے پانچ مشکوک افراد میں سے ایک ہے کہ ایف بی آئی نے جس کی گرفتاری کے پچاس لاکھ ڈالر کا انعام رکھا ہے ۔
اس بنا پر جیسا کہ تصور کیا جاتا ہے  کہ منی کے حادثے کو ایرانی حاجیوں کے سر منڈھنا آل سعود  اور سعودی  عرب  کے ٹکڑوں پر پلنے والے ذرائع ابلاغ کا ایک انفعالی اقدام تھا اس کے برخلاف ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایران ہراسی اور ایران ستیزی ، اس منظر نامے کا دوسرا پردہ ہے کہ جس کا ایک سرا منی میں حاجیوں کا قتل عام تھا اور دوسرا سرا مستقبل کے حوادث میں نمایاں ہو گا ۔
شیعہ ہراسی اور مذہبی جنگ کا آغاز ؛
آل سعود نے منی میں جنایت کا ارتکاب کر کے کوشش کی ہے کہ سلفی تکفیریوں کے لیے شیعہ ہراسی اور شیعوں کے خطرے کو زیادہ نمایاں کرے ۔اس سلسلے میں شیخ عبد العزیز آل شیخ کا کہنا ہے : بعض حاجی مقدس مقامات پر جان بوجھ کر مرنا چاہتے ہیں اس لیے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ ان مقامات پر زندگی اجر کا باعث ہے ۔
سعودی حکام کے منی کے حادثے کو شیعوں کی طرف نسبت دینے کے پیچھے درج ذیل مقاصد ہو سکتے ہیں ؛
*بحرین میں مداخلت اور یمن کی جنگ کا جواز فراہم کرنا ۔
* شیعہ ستیزی کی سوچ جو تکفیریوں کے اندر راسخ ہو چکی ہے اس کو فریق مخالف سے انتقام لینے کی خاطر شیعوں کے مذہبی مراسم کی طرف منتقل کرنا۔
* مصر اور نائجیریا میں سلفی تکفیریوں کی نقل و حرکت میں تیزی لانا ، (اس واقعے میں نائجیریاء کے ۵۵۰ حاجی اور مصر کے ۳۰۰ حاجی مارے گئے ہیں )
اسی طرح مذہبی جنگ چھیڑنے کے بارے میں  ایک امریکی نظریہ پرداز جوزف نای نے حال ہی میں کہا ہے : یورپ میں مذہبی جنگ کیتھولیک اور پروٹیسٹوں کے مابین تقریبا ڈیڑھ صدی تک چلتی رہی اور ۱۶۴۸ میں وستفالیا کے معاہدے کے ساتھ ختم ہوئی ۔اگر ہم یہ یاد کر لینں تو برا نہیں ہے کہ اس زمانے میں بھی چند فرقوں اور مذاہب پر مشتمل اتحادیے موجود تھے کہ جو مذہبی مسائل کے علاوہ دوسرے مسائل پر متحد ہوئے تھے ۔آج ہمیں مشرق وسطی میں بھی اس طرح کی ترکیبات کا منتظر رنا چاہیے ۔جوزف نای آگے چل کر کہتا ہے ؛ یورپ میں مذہبی جنگیں اس وقت ختم ہوئیں کہ جب جرمنی تیس سال سے زیادہ کے عرصے میں اپنی آدھی سے زیادہ آبادی سے ہاتھ دھو چکا تھا ان واقعات اور باتوں پر غور کرنے سے مذہبی جنگ کے درج ذیل ظاہری اور باطنی مقاصد نمایاں ہوتے ہیں ؛
* لمبے مذہبی فتنے برپا کر کے مسلمانوں کی آبادی کو نابود کرنا ۔
* اسلامی ملکوں کے مادی سرمائے کی تباہی ۔
* اسلامی ممالک کی فوجوں کو ہلاک کرنا یا کمزور کر دینا ۔
*اور آخر کار اسلامی ملکوں کے ٹکڑے کرنا ۔
آخری نکتہ ؛
مکہ اور منی کے تلخ واقعات میں ایک بار پھر استکبار اور اس کے چیلے چانٹوں نے اپنا ناپاک اور پلید ہاتھ دکھا دیا ،امریکیوں نے اس حالت میں کہ ان کے وزیر خارجہ کا ایک ہاتھ ہمارے وزیر خارجہ کے ہاتھ میں تھا ،ان کے دوسرے مخفی ہاتھ نے اس ملت کے پیاروں کو مظلومیت کی حالت میں قتل کر دیا ۔ایسے حالات میں اور بین الاقوامی دستور کے مطابق حق یہ تھا کہ ہمارے ملک کے حکام اس ہولناک جنایت پر اعتراض اور اور ہمارے ملک کے داغدار عوام کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے دورے کو ملتوی کر کے اپنے ملک واپس آجاتے ،لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ نہ صرف یہ اہم قدم نہیں اٹھایا گیا  بلکہ اس سے بھی بد تر یہ ہوا کہ عزت و کرامت کی پالیسی کے بجائے ہمیں التماس و ندامت کی پالیسی دیکھنے کو ملی کہ جو ایران اسلامی کی غیور اور نیک ملت کی شان کے خلاف تھی ۔
ترجمہ و تالیف ؛ سید مختار حسین جعفری

 

 

 

فارسی شاعر اور فلسفی ۔ حکیم ابوالفتح عمر ابراہیم خیام ۔18 مئی 1048 کو نیشاپور میں پیدا ہوا۔ علوم و فنون کی تحصل کے بعد ترکستان چلا گیا جہاں قاضی ابوطاہر نے اس کی تربیت کی اور آخر شمس الملک خاقان بخارا کے دربار میں پہنچا دیا۔ ملک شاہ سلجوقی نے اسے اپنے دربار میں بلا کر صدر خانۂ ملک شاہی کی تعمیر کا کام سپرد کیا۔ یہیں فلکیاتی تحقیق کے سلسلے کا آغاز کیا۔ اور زیچ ملک شاہی لکھی۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه