اولاد کے وظائف کے بارے میں معصومین (علیھم السلام) کی بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں کہ ان میں سے چند ایک احادیث کو درج ذیل بیان کیا گیا ہے۔
1.حسن سلوک
عن ابی ولاد الحناط قال: سالت ابا عبد الله(ع) عن قول الله:«و بالوالدین احسانا» فقال: الاحسان ان تحسن صحبتهما و لا تکلفهما ان یسالاک شیئا هما یحتاجان الیه.
ابی ولاد کہتے ہیں کہ: میں نے اس آیہ(و بالوالدین احسانا) کا معنی امام صادق علیہ السلام سے پوچھا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: والدین سے نیکی کرنے کا معنی یہ ہے کہ ان کے ساتھ تمہارا برتاو اچھا ہو اور انہیں کچھ مانگنے کے لئے محتاج نہ کرنا (ان کی درخواست سے پہلے پورا کرنا)

 

والدین کی نافرمانی اور حکم عدولی کے نقصانات نہ صرف آخرت کی زندگی تک محدود ہیں بلکہ دنیا میں بھی اس گناہ کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔
1. عاق والدین جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکتا

والدین کی گردن پر جو عظیم ذمہ داری ہے وہ قرآن اور تعلیمات اہلبیت کی روشنی میں اولاد کی تربیت اور معاشرے کو اچھے اور نیک افراد پیش کرنا ہے والدین پر یہ ذمہ داری اولاد کی پیدائش سے پہلےبھی اور پیدائش کے بعد بھی عائد ہوتی ہے۔ نطفہ ٹھہرتے وقت اور حمل کے دوران بھی والدین کو چاہئے کہ اسلامی آداب کا خیال رکھیں اور اپنےکردار اور گفتار و رفتار کو اسلامی بنائیں ۔ پیدائش کے بعد والدین پر یہ ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ بزرگان نے بچے کی زندگی کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے: ۱۔ ایک سے سات سال تک ۔ سات سے چودہ سال تک ۳۔ چودہ سے اکیس سال تک کہ جن میں سے ہر ایک مرحلہ میں والدین کو بچے کےساتھ ایک خاص طریقے سے زندگی کرنے کی ضرورت ہے۔گھر کا ماحول ،والدین کی طرز زندگی اور رہن سہن بچے کی تربیت پر بہت اثر انداز ہوتے ہیں ۔

عید فطر مسلمانوں کی بڑی عیدوں میں ایک ہے یہ وہ دن ہے جس میں پوری دنیا کے مسلمان ماہ مبارک رمضان میں تیس دن تک خدا کے سفرہ رحمت پر حاضری کا شکرانہ ادا کرتے ہیں اور اجتماعی جشن و سرور کی محفلیں سجا کر خدا کے حضور تشکر و امتنان کا اظہار کرتے ہیں کہ مالک نے انہیں یہ موقع فراہم کیا کہ اپنے دسترخوان رحمت پر انہیں تیس دنوں تک مہمان بنایا، چاند رات اور عید کے دن تمام مسلمان عبادتوں میں مشغول رہ کر مالک کی کرم نوازیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ کتنا اچھا سماں ہوتا ہے کہ جب ماہ شوال کا چاند آسمان پر نمودار ہوتا ہے تو لوگ عید کی خوشیوں میں ڈوب جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے صبح سویرے لوگ ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہیں اور خود کو نماز عید کے لئے تیار کرتے ہیں اس دن غریبوں اور ناداروں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور ان کے لئے فطرہ نکالا جاتا ہے۔

خلقت انسان سورہ دھر میں

سورہ دھر کے زیادہ تر مباحث قیامت اور جنت کی نعمتوں کے بارے میں ہیں، لیکن اس کی ابتدا میں گفتگو انسان کی خلقت کے بارے میں ہے، کیونکہ اس زمینہ ساز خلقت کی طرف توجہ کرنا ہے۔
فرماتاہے ’’کیا ایسا نہیں کہ انسان پر ایک طویرل زمانہ ایسا گزرا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا۔(هل اتی علی الانسان حین۔۔۔۔۔۔ )
ہاں اس کے وجود کے ذرات میں سے ہر ذرہ سی گوشہ میں بکھرا پڑا تھا۔ مٹی، دریا اور ہوا میں اس کے وجود کا اصلی مود ر ایک ان تینوں وسیع محیطوں کے کسی گوشہ میں پڑا ہوا تھا ور وہ حقیقت میں ان کے درمیان گم شہد اور بالکل قابل ذکر نہیں تھا۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه