یہ تو ہم نے سن رکھا تھا کہ اگر عوام ماوراء عدالت حکومت سے کسی فیصلے کا مطالبہ کیا جائے تو وہ قانون شکن ہیں اور مجرم ـ دنیا کی اقوام ایسے لوگوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں ، انہیں بے شعور اور کم عقل لوگوں کی فہرست میں گردانتی ہیں ،ان کے مطالبے کو غلط اور بے جا تصور کرتی ہیں ، وہ اسے غیر اصولی اور غیر منطقی قرار دیتی ہیں ، دنیا کے سارے لوگ ان سے یہ کہدیتے ہیں ارے" بے وقوفو" زرا عقل سے کام لیا کرو ،آپ کا یہ مطالبہ جنگل کے حیوانی معاشرے میں شاید قابل قبول ہو مگر انسانی معاشرے میں ہرگز قابل قبول نہیں ـ

انسان جب تک زندہ ہے اور اس کے بدن میں طاقت ہے ہر کوئی اس کے ساتھ ہے لیکن جس دن آنکھ لگی یا بدن میں طاقت نہ رہی تو سارے رشتے اسے بھول جاتے ہیں۔
اسی تناظر میں دو مثالیں پیش خدمت ہیں کہ کیسے انسان کی بےبسی اسے مجرم بناتی ہے اور معاشرے میں اس کا وقار ختم ہوتا ہے اور دوست سے دشمن بن جاتا ہے، امیر سے غریب اور اچھے سے برے میں بدل جاتا ہے۔
ٹریفک حادثات میں کسی گھر کا اجڑھ جانے کے بعد وہ گھر اب آلام و سمت کی آماجگاہ بن جاتا ہے اور اسی طرح شباب کے ختم ہوتے ہی بدن میں کام کرنے کی طاقت ختم ہوتی ہے اور گھر پر فاقے پڑتے ہیں تو وہ شخص معاشرے کی نظروں سے گر جاتا ہے اور بعض دفعہ تو بھکاری بن سکتا ہے۔ ان دونوں

سچائی کے ثبوت کے لئے بیان اور عمل کی مطابقت ضروری ہے ـ سیاسی اور اجتماعی زندگی میں لوگوں کے دعوے کو مبنی بر صداقت تب قرار دے سکتے ہیں جب ان کا عمل بیان کا مخالف نہ ہو ـ اسی طرح سرکاری سطح پر کسی ملک کے حکمران اور ذمہ دار افراد کے بیانات کی صداقت ثابت کرنے کے لئے جانچنے کا معیاران کا عمل ہے ،اگر وہ بولیں کچھ عملا کچھ اور کر دکھائیں، ان کا عمل ان کے قول کی تصدیق نہ کرے تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنے دعوے میں سچے نہیں، بلکہ وہ اپنی قوم کو دھوکا دے رہے ہیں، وہ عوام کو جھوٹ کا سہارا لیکر بے وقوف بنارہے ہیں، وہ خاص وعام کو فریب دے کر اپنے مفادات حاصل کررہے ہیں ـ

عَنِ الرِّضَا عَنْ آبَائِهِ عَنْ عَلِیٍّ علیه السلام قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی الله علیه وآله خَطَبَنَا ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ
شعبان المبارک کے مہینے کے آخری دنوں میں پیغمبر خدا ۖ نے صحابہ کے اجتماع سے خطاب فرمایا اور اس خطبے میں مسلمانوں کو رمضان المبارک کی عظمت اور اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے اس مہینے کی خصوصیات وبرکات اور دن رات میں مسلمانوں کے وظیفے کو بیان فرمایا یہ خطبہ ، خطبہ شعبانیہ کے نام سے مشہور ہے ۔ اس خطبے کو شیخ صدوق نے کتاب عیون اخبار الرضا میں امام علی سے روایت کیا ہے۔
أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ قَدْ أَقْبَلَ إِلَیْكُمْ شَهْرُ اللَّهِ بِالْبَرَكَةِ وَ الرَّحْمَةِ وَ الْمَغْفِرَةِ شَهْرٌ هُوَ عِنْدَ اللَّهِ أَفْضَلُ الشُّهُورِ وَ أَیَّامُهُ أَفْضَلُ الْأَیَّامِ وَ لَیَالِیهِ أَفْضَلُ اللَّیَالِی وَ سَاعَاتُهُ أَفْضَلُ السَّاعَاتِ.

قرآن مجید کی سورہ احزاب آیہ ۳۳ میں اللہ تعالی نے اہل بیت علیہم السلام کو ہر قسم کی پلیدگی اور رجس سے پاک رکھنے کا ارادہ فرمایا ہے ۔شیعہ علماءائمہ معصومین علیہم السلام کی عصمت کے اثبات کے لئے اس آیت سے استدلال کرتے ہیں۔(إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكمُ‏ تَطْهِيرًا(۱اللہ کا ارادہ توبس یہ ہے کہ تم سے ہر برائی کودوررکھے اور تمہیں اس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جس طرح پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه