قسط نمبر 1
فحاشی کی تعریف اور مفھوم:
۔فحش کے لغوی معانی:
(فحش: القول والفعل فحشا اشتد اشتد قبحه والأمر جاوز حده) (کسی بھی بات یا عمل کا فحش ہونا یعنی اس کی قباحت کا شدید ہونا، یا کسی امر کا حد سے تجاوز کرنا۔)
مصباح المنیر نے لکھا ہے ۔ (فَحُشَ الشَّيْءُ فُحْشًا مِثْلُ قَبُحَ قُبْحًا وَزْنًا وَمَعْنًى…وَكُلُّ شَيْءٍ جَاوَزَ الْحَدَّ فَهُوَ فَاحِشٌ وَمِنْهُ غَبْنٌ فَاحِشٌ إذَا جَاوَزَتْ الزِّيَادَةُ مَا يُعْتَادُ مِثْلُهُ وَأَفْحَشَ الرَّجُلُ أَتَى بِالْفُحْشِ وَهُوَ الْقَوْلُ السَّيِّئُ وَجَاءَ بِالْفَحْشَاءِ مِثْلُهُ…وَأَفْحَشَ بِالْأَلِفِ أَيْضًا بَخِلَ) جبکہ مصباح المنیر کے مذکورہ معنی میں ہم ملاحظہ کرتے ہیں: کہ ایک اور معنی کا اضافہ بھی کیا گیاہے۔ وہ یہ ہےکہ الفحش کا معنی القول السیء یعنی برا قول کہا گیاہے۔ اسی طرح افحش الرجل کا معنی ہے: وہ شخص بخیل ہوگیا ہے

مقدمه :
حجاب اُمت مسلمہ کا وہ شعار، مسلم خواتین کا وہ فخر و امتیاز جو اسلامی معاشرے کو پاکیزگی عطا کرنے کا ایک ذریعہ تھا اور ہے استعمار کا سالہا سال کی سازشوں کے نتیجے میں آج بھرپور حملوں کی زد میں ہے۔ مسلم دنیا کو پاکیزگی سے ہٹا کر بے حیائی کی دلدل میں دھکیلنا اور عورت کو ترقی کے نام پر بے حجاب کرنا شیطانی قوتوں کا ہمیشہ سے ہدف رہا ہے۔ شیطان کی سب سے پہلی چال جو اس نے انسان کو فطرت کی سیدھی راہ سے ہٹانے کے لیے چلی تھی کہ اس کے جذبہ شرم و حیاء پر ضرب لگائے۔ اور اس کے شاگردوں کی یہ روش آج تک قائم ہے۔ ان کے یہاں ترقی کا کوئی کام اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک عورت حجاب سے باہر نہ آجائے۔ حیاء کو دقیانوسیت قرار دیا جاتا ہے۔ پردے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جاتا ہے اور طرح طرح سے برقعہ و چادر کے مذاق اُڑائے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پردہ و حجاب عورت کو تقدس ہی نہیں تحفظ بھی عطا فرماتے ہیں۔ یہ شیاطین اور اس کے حواریوں کی غلیظ نگاہوں سے بچنے کے لیے ایک محفوظ قلعہ ہے۔

عیادت اورتعزیت کی رسم مسلم معاشروں میں زمانہ قدیم سے چلتی آرہی ہیں.فرق صرف اتنا ہے کہ پہلےانسان کے مرنےسے پہلے عیادت کےلیے بهی جایاکرتے تهے اب تو صرف تعزیت میں آکر دو آنسو بہانے کوہی اخلاقی فریضہ سمجهاجاتاہے.

خاص کر قومی احستاب بیورو نےتوحدہی کردی ہے کہ جہاں جس وقت عیادت اور تعزیت کےلئے پہنچناچاہئےتها پہنچانہیں ہے مگر اب بیتے لمحو کو یاد دلاکرلواحقین کو ان کی یادمیں پهررولانے گلگت بلتستان تشریف فرماہوگا.

مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ادارہ گلگت بلتستان میں بهی کسی سیاستدان اور بیوروکریٹس کی خدمت میں حاضر ہو نہ ہو مگرغریب عوام کورولانےحاضر ہوہی جائے گا جہاں سے وہ اپنےحصے کاترکہ لےکرواپس چلاجائےگا.

انسان کی مخصوص صفات میں سے ایک اس کا خود مختار ہونا ہے ،وہ عملی زندگی میں اپنی مرضی اور اپنے اختیار سے دینی اور دنیوی امور کو سر انجام دیتا ہے ،اسی خصوصیت کے پیش نظر یہ کہنا درست ہے کہ بشر کو بیان اور رای کی آذادی حاصل ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آذادی رای وبیان سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان سیاسی، دینی، اقتصادی، ثقافتی ... مسائل پر اظہار رائے کرنے میں کسی قید وشرط کا پابند نہیں؟ علمی اور فنی اصطلاح کے مطابق بیان ورائے کی آذادی سے مقصود مطلق ہے یا مشروط؟

لباس عربی زبان کا لفظ ہے اصل میں یہ لبس سے نکلا ہے اور اس کا معنی ہے پہننا ۔

جسم کو ڈھانپنے کا رواج انسانی تاریخ کے ساتھ ہی شروع ہوا، کیونکہ قرآن کریم اس کی گواہی دے رہا ہے کہ جس طرح ہمارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام نے شجرہ ممنوعہ کا پھل کھایا تو ان کے جسم سے پردہ اور لباس اتر کر عریان ہوگیا تو آپ نے درخت کے پتوں سے اپنے جسم کو چھپایا، قرآن کریم کے کئی مقامات پر لباس کا ذکر آیا ہے، کبھی بیوی اور شوہر کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے تو کبھی تقوی اور پرہیزگاری کو بھترین لباس کہا گیا۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه