دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی اس فانی زندگی کو راہ خدا میں قربان کر دیتے ہیں اور اس کےعوض ابدی زندگی حاصل کرلیتے ہیں۔خدا کی خوشنودی کی خاطر ہر وقت ہر لمحہ ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں اورباطل قوتوں کو ہمیشہ کے لئے ختم کر کے خدا کی معرفت اوراحکام خداوندی کی ترویج کرتے ہیں۔ کربلا بھی معرفت خداوندی رکھنے والوں اورراہ حق کے متلاشیوں کی امتحان گاہ تھا۔جس نے حق و باطل کو قیامت تک کے لئے جدا کر دیا اور قیامت تک آنے والے انسانوں کو باطل قوتوں کے ساتھ نبرد آزما ہونے کا درس دیا۔کربلا وہ عظیم درسگاہ ہے جہاں ہر انسان کے لئے جو جس مکتب فکر سے بھی تعلق رکھتا ہو اور جس نوعیت کی ہو درس ملتا ہے یہاں تک غیر مسلم ہندو ،زرتشتی،مسیحی بھی کربلا ہی سے درس لے کر اپنے اہداف کو پہنچے ہیں ۔

عزاداری ہدف نہیں انسانیت سازی کا اہم وسیلہ ہے ، انسانیت جوہرہ انسان ہے، اس سے قطع نظر وہ ایک چلتی پھرتی لاش کے سوا کچھ نہیں، تمام انبیاء اور اولیاء الہی کی آمد کاہدف انسان کی تربیت کرکے اس میں انسانیت کو پروان چڑھانا تھا ،بدون تردید یہ بہت سخت، پیچیدہ اور دشوار کام تھا اور ہے ،چنانچہ کہا جاتا ہے انسان بننا آسان ہے مگر انسانیت کا خوگر بننا انتہائی سخت ـ اس گوہر ناب کو پانے کے لئے انسان کو بہت ریاضت اور محنت کرنا پڑتی ہے ،خواہشتات نفسانی پر کنٹرول کرکے عقل کے حکم کے مطابق چلنا پڑھتا ہے ، ہدایت کے وسیلوں سے متمسک ہوکر اسے حاصل کرنے کے لئے تگ ودو کرنا پڑھتا ہے، مادیات کی دلدل میں پھنسنے کے بجائے معنویات پر بھی توجہ دینا پڑھتا ہے اور دائرہ اسلام کے اندر مقید رہ کر اس کے اصولوں کو چراغ زندگی قرار دینا پڑھتا ہے تب جاکر انسان کے اندر انسانیت کا نشونما پانا ممکن ہوجاتا ہےـ

بسم الله الرحمن الرحيم:
استقبال ماه محرم اور ہمارى ذمہ داریاں/ممتاز علی علی خاتمی
من اراد الله به الخير قذف في قلبه حب الحسين عليه السلام و زيارته، و من اراد الله به السوء قذف في قلبه بغض الحسين عليه السلام و بغض زيارته.
ترجمه: امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں: اللہ تعالی جس کسی سے خیر کا ارداہ کرتا ہے تو اس کے دل میں امام حسین اور ان کی زیارت کی محبت ڈال دیتا ہے اور جس کسی سے برائی اور شر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے دل میں حسین(ع) اور ان کی زیارت کا بغض ڈال دیتا ہے۔
ہمیں اس خدا کا لاکھ لاکھ شکر کرنا چاہیے کہ جس نے ہمیں حضرت امام حسین ؑ سے وابستہ کیا ۔ آج ہمارے پاس جو کچھ ہے ، وہ حسین بن علی علیہما السلام کی لازوال اور عظیم قربانی کی وجہ سے ہے۔ دین محمدی کو بچانے کے لیے حسین کو بھاری قیمت چکانی پڑی ہے، تب کہیں جاکے یہ دین ہم تک پہنچا ہے۔ حسین ہی وہ عظیم بانی ہے کہ جس نے کربلا کی بنیاد رکھی اور یہیں سے عزاداری کی ابتدا ہوئی ۔ آج کربلا اور عزاداری ملت تشیع کی سب سے بڑی طاقت ہے، اور اسی طاقت نے ہمیں تاریخ کے ہر موڑ پر سرخرو کیا ، اسی طاقت نے ہی انقلاب کے طلب گاروں کو انقلاب کی نعمت دی اور "حزب اللہ " بنانے کا ارادہ رکھنے والوں کو "حزب اللہ " جیسی قوت عطا کی۔

طول تاریخ میں اب تک واقعہ کربلا اور امام حسینؑ کے متعلق جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں اور جتنا تجزیہ و تحلیل اس موضوع پر ہوا ہے کسی اور واقعہ یا کسی اور شخصیت کے بارے میں نہ اتنی کتابیں لکھی گئی ہیں اور نہ اتنا تجزیہ و تحلیل ہوا ہے ۔ ہر ایک نے اپنی استعداد کے مطابق اس موضوع کے حوالے سے گفتگو کی ہے اور مقصد قیام امام حسین کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے حتی کہ بعض افراد نے حصول اقتدار ، بعض نے صرف شھادت ، بعض نے بیعت یزید، بعض نے کوفہ والوں کی دعوت اور بعض نے کچھ اور عوامل کو مقصد قیام امام قررار دیا ہے ۔
محققین ، مصنفین اور مورخین کے ساتھ ساتھ شعراء نے بھی اس موضوع کے حوالے سے اپنا اظہارنظر کیا ہے جن میں سے شاعر مشرق ، حکیم امت علامہ اقبال نے جس انداز سے اپنے اشعارمیں امام کی شخصیت اور امام کی فکری و انقلابی مقاصد کو بیان کیا ہے شاید کسی اور شاعر نے بیان کیا ہو۔ ہم ذیل میں علامہ اقبال کے کچھ منتخب فارسی اشعار کو جو انہوں نے اس موضوع کے متعلق فرمایا ہے ، بیان کریں گے۔

کشمیر اور گلگت بلتستان وہ خوبصورت خطے ہیں جن کی نظیر بہت کم ہے ، قدرت نے انہیں بے پناہ حسن سے نوازا ہے ، یہی وجہ ہے کہ یہ خطے آج دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں، روز بروز جدید ذرائع اور سوشل میڈیا کی بدولت ان خطوں کے وہ مقامات جو دنیا والوں کی نگاہوں سے اوجہل تھیں آہستہ آہستہ نمایاں ہورہی ہیں، جس کے سبب ہرسال سیاحوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جو یقینا روشن مستقبل کی نوید ہے ـ

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه