کیا انسان عصر جدید میں وحی کا محتاج ہے ( استاد علامہ طباطبائی)
اگر کوئی شخص اس سوال کے جواب میں کہے کہ ہر مخلوق کے لئے ارتقاء ضروری ہے ،پھر حضرت محمد (ص) نے کیوں یہ فرمایا : ''میں آخری پیغمبر ہوں؟'' یہ کہہ کر گو یا پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں : ''خاتم انبیاء میں ہوں'' ،آپ یہ کہنا نہیں چاہتے ہیں :جو کچھ میں نے کہا ہے وہ انسان کے لئے ابدی طور پر کافی ہے ،بلکہ خاتمیت یہ کہنا چاہتی ہے کہ انسان اب تک اس کا محتاج تھا

کہ اس کی زندگی کے لئے ماورائے عقل وتربیت بشری راہنمائی کی جائے ،اب اس زمانہ (ساتویں صدی عیسوی ) میں ،یونانی ،رومی اور اسلامی تمدن اور قرآن ،انجیل وتوریت کے آنے کے بعدانسان کی مذہبی تربیت ضرورت کی حدتک انجام پائی ہے اور اس کے بعد انسان اس طرز تربیت کی بنیاد پر وحی اور نئی نبوت کے بغیر اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر اپنی زندگی کو جاری رکھتے ہوئے اسے پائے تکمیل تک پہنچا سکتا ہے ،اس لئے اب نبوت ختم ہوئی ہے !انسان راستہ کو خود طے کرسکتا ہے ۔ پیغمبر اسلام (ص) فرماتے ہیں : اس کے بعد تم لوگ تربیت یافتہ ہو اور تم لوگوں کا شعور مصلحت ،سعادت ،ارتقاء اور آرام وآسائش کو برقرار کرنے کی حد تک پہنچ گیاہے ،تم میںتوانائی ہے اور سمجھتے ہو یعنی تمہارا شعوراور تفکر، ارتقاء کے ایک ایسے مر حلہ تک پہنچ گیا ہے کہ اب تمہیں وحی کی دستگیری کی ضرورت نہیں ہے جو تمھیں قدم قدم پر راہنمائی کرے ، اس کے بعد عقل وحی کی جانشین ہو گی!...
کیا اس قسم کی تعبیر ،''خاتمیت''کے منافی ہے یا نہیں ؟
جواب:
مذکورہ استدلال کا خلاصہ یہ ہے :انسان دوسری مخلوقات کے مانند ارتقاء کی گزر گاہ پر قرار پایا ہے ،اس راہ سے انسانی معاشرہ زمانہ ا ور وقت کے گزر نے کے ساتھ ساتھ اپنی خلقت میں خاص حالات پیدا کر کے نئے شرائط میں قرار پاتا ہے ،جس کے لئے مزید اور تازہ تر بیت کی ضرورت ہوتی ہے اس بنا پر انسان اپنی زندگی کی روش کے مراحل میں سے ہر مرحلہ پر ، دوسرے الفاظ میں اس مرحلہ سے مربوط ضرورتوں کے مطابق تازہ اور مناسب دینی احکام اور قوانین کا محتاج ہوتا ہے ، اس لئے وہ ہرگز دین یا زندگی کی ایک روش کو ابدی اور ہمیشہ کے لئے فرض نہیں کرسکتا ہے ۔ من جملہ شریعت مقدس اسلام بھی ایک واقعی دین اور بشر کا حقیقی راہنما ہے ، یہ ابدی دین نہیں ہوسکتا ہے ! اس لئے نبی اکرم (ص) کا خاتم النبیین ہونے کا مطلب ، کہ آپ (ع) فرماتے ہیں :''میں خاتم النبیین ہوں'' یہ ہے کہ عقل کی کمزوری کی وجہ سے اب تک انسان اپنی زندگی کے لئے تعقل اور بشریٰ تربیت سے ماورٰ راہنمائی کا محتاج تھا ، لیکن اس زمانہ (ساتویں صدی ہجری) میں یونانی ، رومی اور اسلامی تمدن کے آنے اور آسمانی کتابوں جیسے توریت ، انجیل اور قرآن مجید کے نزول کے بعد انسان کی مافوق بشری تربیت ضرورت کی حد تک پوری ہوچکی ہے ،اب وہ وحی کی راہنمائی کا محتاج نہیں ہے خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی طاقت رکھتا ہے ،اس لئے نبوت اور وحی کا خاتمہ ہوا ہے ،انسان کو اب اپنی عقل سے زندگی کو جاری رکھنا چاہئے اور وہ اس کے بعد وحی ونبوت سے بے نیاز ہے ۔ یہ استدلال کا خلاصہ ہے ،لیکن قابل ذکر بات ہے کہ یہ بیان مختلف جہات سے مخدوش ہے :
پہلا اعتراض :
اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ انسان (فرد ہو یا اجتماع ) ارتقاء کی گزرگاہ پر قرار پایا ہے ،اسی طرح اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ انسان ایک محدود حقیقت ہے اور اس کا ارتقاء بھی کیفیت اورکمیّت کے لحاظ سے محدود ہے نہ لا محدود اور اس کا ارتقاء جس قدر وسیع تر فرض کیا جائے بالآخر ایک مر حلہ پر رک جائے گا اور نتیجہ کے طور پر اس وقت عالم بشریت پر حکو مت کرنے والی روش اور قوانین ثابت اور غیر متغیر ہوں گے ،لہٰذا انسان کے ارتقاء کی گزرگاہ پر ہو نا بذات خود ایک ثابت او رابدی دین کے تحقق کی دلیل ہے نہ اس کی نفی .
دوسرا اعتراض :
یونانی اور رومی تمدن (جو بت پرستی اور اس کے وضع کردہ قوانین کی پیدا وار تھے )کو انسانی عقل کے ماوریٰ سمجھنا قرآن مجید کے واضح نص کے خلاف ہے کہ بہت سی آیتوں میں ان کے رسم و رسوم کو گمراہی اور ہلاکت کی راہ شمار کیا گیا ہے اور ان کے اعمال کو (اگر چہ نیک اعمال کی صورت میں بھی ہوں ) برباد، باطل اور مکمل طور پر بے اثراور بے اعتبار شمار کرتا ہے اور جو راستہ گمراہ،بے اثراور بے اعتبار ہو ،ہر گز راہنمائی کرنے والااور سعادت تک پہنچانے والا راستہ نہیں ہوگا (اس سلسلہ میں آیات اس حد تک زیادہ ہیں کہ ان کو نقل کر نے کی ضرورت نہیں ہے )
تیسرا اعتراض :
اس بات کا اعلان کہ رسول اکرم (ص)کی بعثت کے زمانہ،یعنی ساتویں صدی عیسوی کے بعد لوگوں کی عقلیں چونکہ مکمل ہوئی ہیںاور شریعت آسمانی کی اب ضرودرت نہیں ہے اور انسان وحی کی راہنمائی سے بے نیاز ہے ،کیا یہ نظریہ نئی آسمانی شریعت کے لانے اور لوگوں کواس کی طرف دعوت دینے کے ساتھ واضح تضاد نہیں رکھتا ؟اور وہ بھی ایک ایسی شریعت کے بارے میں جو قرآن مجید کی نص کے مطابق تمام گزشتہ شریعتوں کی جامع ہے ،چنانچہ فرماتا ہے :
(شرع لکم من الدّین ماوصّی بہ نوحاً والّذ اوحینا الیک وما وصّینا بہ ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ...) (شوریٰ ١٣)
''اس نے تمہارے لئے دین میں وہ راستہ مقرر کیا ہے جس کی نصیحت نوح کو کی ہے اور جس کی وحی پیغمبر !تمہاری طرف بھی کی ہے اور جس کی نصیحت ابراہیم ،موسی ٰ اورعیسیٰ کو بھی کی ہے ...''
ایک ایسا دین ، جیسے خداوندمتعال نے اپنے کلام میں واضح طور پر اسلام کہا ہے اور اس کی شریعت ابراہیم علیہ السلام کے طور پر تفسیر کی ہے اور فرمایا : لوگوں سے اس کے علاوہ کسی اور چیز کو قبول نہیں کرتا اور کسی کو اس کی مخالفت کرنے کا حق نہیں ہے :
(نّ الدّین عند اللّہ الاسلام ...) (آل عمران ١٩)
''دین،اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے ''
(ومَن یبتغ غیر الاسلام دیناً فلن یُقبلَ منہ...)(آل عمران ٨٥)
''اور جو اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین تلاش کرے گا تو وہ دین اس سے قبول نہ کیا جائے گا ...''
(ملّة ابیکم ابراہیم ھوسمّیٰکم المسلمین ...) (حج٧٨)
''یہی تمھارے بابا ابراہیم کادین ہے اس نے تمھارا نام پہلے بھی اور اس قرآن میں بھی مسلم اور اطاعت گزار رکھا ہے''
( وما کان لمؤمن ولامؤمنة اذا قضیٰ اللّہ و رسولہ مراً ان یکون لھم الخیرةمن مرھم ...) (احزاب ٣٦)
''اور کسی مومن مرد یامومنہ عورت کو اختیار نہیں ہے کہ جب خداورسول کسی امر کے بارے میں فیصلہ کریں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحب اختیار بن جائے...''
یا ہم یہ کہیں کہ تمام آسمانی تکالیف خود رسول خدا (ص)کی شخصیت سے متعلق تھیں اور دوسرے لوگ وحی اورآسمانی احکام کے بارے میں آزاد تھے ،اس صورت میں قرآن مجید کے یہ سب خطاب : ( یا یھا الناس) (یا یھاالذین آمنوا) وغیرہ کا معنی کیا ہے ؟وحی کے پیروکاروں کو یہ سب بشارتیں کیا معنی رکھتی ہیں ؟اور مخالفت کرنے والوں کو یہ سب انتباہ کس لئے ؟ یا ہم یہ کہیں کہ پیغمبر اسلام (ص) کی لائی ہوئی شریعت کی طرف آپ(ص) کی دعوت،دین اسلام کو پہنچانے کے بعد خودبخود تجویزی صورت اختیار کر گئی ،اس طرح (ولکن رسول اللّہ وخاتم النبیین....) (احزاب ٤٠) کا لازمی معنی یہ ہے کہ تم انسان اس تاریخ کے بعد ہدایت ،وحی اور آسمانی شریعت سے آزاد ہو اور اب تم اپنی (کامل ہوئی )عقلوں کے مطابق اپنی زندگی کی راہ وروش کو تشخیص دے کر قدم بڑھاؤاور میں قوانین کے ان دفعات کو مرتب کرکے تمھارے لئے لایا ہوں،تمہیں تجویز کرتا ہوں کہ انھیں اپنی عقل سے مواز نہ کرو ،اگر عقل نے ان کی تصدیق کی تو انھیں قبول کرنا اور ان پر عمل کرنا ۔حقیقت میں یہی جمہو ریت کے تمدن کا معنی ہے ،جس کے مطابق اس تمدن میں اجتماعی قوانین لوگوں کی اکثریت کی مر ضی کے مطابق ہوتے ہیں ،لیکن دیکھنا چاہئے کہ رسول اکرم (ص) نے نماز، روزہ ،زکواة وحج و جہاد وغیرہ جیسے ان احکام اور قوانین میں سے کس قانون کو نزول کے بعد شوریٰ میں قراردیا ہے اور اکثریت کی رائے اور مرضی حا صل کرنے کے بعد اسے نافذ کیا ہے ؟یہ ایک ایسا مطلب ہے جس کا تاریخ اور سیرت میں ایک نمونہ تک پیدا نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
جی ہاں ،بعض اوقات آنحضرت (ص)ایک اصلی حکم کو عملی جامہ پہنانے کی کیفیت اور حکم الہیٰ کی اطاعت کے لئے اجتماعی کاموں کے بارے میں صلاح ومشورہ فرماتے تھے ، جیسا کہ ''جنگ احد ''میں شہر کے اندر دفاع کیا جائے یا شہر کے باہر جیسے مسائل میں صلاح ومشورہ فرمایا ۔ البتہ اصلی حکم پر عمل کر نے اور حکم کے طریقہ کار پر عمل کرنے میں فرق ہے ۔
یاہم یہ کہیں کہ اس آیہ کریمہ :(...ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین...)(احزاب ٤٠)کامعنی یہ ہے کہ اس کے پیش نظر کہ نبی اکرم (ص)رسول ہیں جو دین لائے وہ سنجیدہ اور متین دین ہے ،لیکن چونکہ نبوت آپ (ص)کے ساتھ ختم ہو گئی ،اگر اس زمانہ کے بعد دینی احکام میں سے کوئی حکم وقت کی مصلحت کے مطابق نہ ہو بلکہ مخالف ہو تو اسے عقل کی کسوٹی پرپرکھنے کے بعدبدل کر مصلحت کے مطابق اس کی جگہ پر ایک نیا حکم جانشین کرنا چاہئے ۔
اس بحث کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شریعت اسلام بھی زمانوں کے اختلاف اور تقاضوں میں تبدیلی کے پیش نظر دوسرے اجتماعی قوانین کی طرح متغیرّ ہے ۔ صدر اسلام کے خلفائ نے بھی اسی ذوق کے پیش نظراسلامی احکام کے بعض حصوں (جو رسول اکرم (ص)کے زمانہ میں نافذ تھے ) پر پابندی لگادی یا ان میں تبدیلی لائی ۔اسی وجہ سے نبی اکرم (ص)کی سیرت بیان کرنے والی احادیث کو نقل کر نے اور ان کی نسخہ برداری کو، قرآن مجید کی حرمت کے تحفظ کے نام پر،پہلی صدی ہجری میں شدیداً ممنوع قرار دیاگیا اور صرف قرآن مجید کی نسخہ برداری کی اجازت تھی ۔
یہ طریقہ کار (یعنی زمانوں کے بدلنے کے ساتھ دینی احکام اور قوانین کا بدلنا) اگرچہ بعض دانشوروں خاص کر اہل سنت والجماعت کے مصنفوں کے رجحان کا سبب بنا،لیکن یہ طریقہ کارواضح طور پر قرآن مجید کے منافی ہے اور اسلام کا مقدس دین اس قسم کی تبدیلی کو ہر گز قبول نہیں کرتا ہے ۔قرآن مجید اپنے بیانات میں اس بات پر تاکید فرماتا ہے اور انسان کی بے داغ فطرت اور ضمیر کا بھی یہی حکم ہے ،کہ حق کی اطاعت و پیروی کی جانی چاہئے اور حق کی مخالفت گمراہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
(...فماذا بعد الحق الا الضلٰل...)(یونس ٣٢)
''...اور حق کے بعد ضلالت کے سوا کچھ نہیں ہے ...''
قرآن مجید حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور باطل کے لئے اس میں کوئی جگہ نہیں ہے اور نہیں ہو گی :
(...وانہ لکتاب عزیز ٭ لایا تیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید) (فصلت٤١۔٤٢)
''...بیشک یہ ایک عالی مرتبہ کتاب ہے ۔جس کے قریب ، سامنے یا پیچھے کسی طرف سے باطل آبھی نہیں سکتا ہے کہ یہ خدائے حکیم و حمید کی نازل کی ہوئی کتاب ہے ۔''
قرآن مجید ناقابل بطلان اور منسوخ کتا ب ہے ،اس کے بعض مطالب میں تبدیلی پیدا ہونابے معنیٰ ہے ۔
بلکہ قرآن مجید واضح الفاظ میں شریعت کے حکم اور تشریع کو خدائے متعال کا خصوصی امر جانتا ہے اور حکم جاری کرنے میں کسی کو خدا کا شریک نہیں ٹھہراتا ،جیسا کہ فرماتا ہے :
(...ن الحکم لّا للّہ مرَلاّ تعبدوا لاّ ایّاہ...) (یوسف٤٠)
''...حکم کرنے کاحق صرف خد ا کو ہے اور اسی نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے ...''
مزید فرماتا ہے :
( وما اختلفتم فیہ من شء فحکمہ الی اللّٰہ...) (شوریٰ١٠)
''اور تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو گے اس کا فیصلہ اللہ کے ہاتھوں میں ہے ..''
جب خدائے متعال کے علاوہ کسی کو حکم جاری کرنے کا حق نہیں ہے ،تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان اپنی عقل پر بھروسہ کرکے حکم جاری کرے اور آسمانی حکم سے بے نیاز ہو ؟
جی ہاں ،اسلام میں کچھ ایسے قوانین اور ضوابط ضروری ہیں جو قابل تنسیخ و تغیر ہیں اور وہ ایسے قوانین ہیں جنھیں ولی امر (اسلامی حکومت ) مختلف حالات میں وقت کی مصلحتوں کے پیش نظرشرع کے سایہ میں وضع کرتا ہے ۔
اس کی وضاحت یوں ہے کہ ولی امر کی معاشرہ سے نسبت ایک چھوٹے گھرانے سے اس کے مالک اور سر براہ کی نسبت کے مانند ہے۔ گھر کا مالک مصلحت کے پیش نظر اپنے گھر میں ہر قسم کا اقدام کرسکتا ہے اور گھر کے افراد کو ان کی مصلحتوں کے مطابق ان کے نفع میں ہر قسم کا حکم جاری کرسکتا ہے اور اگر ان کے گھریلو حقوق پر ظلم و ستم ہو جائے تودفاع کر سکتا ہے ،یا اگر مصلحت نہ سمجھے تو خاموش بیٹھ سکتا ہے !لیکن وہ جس قسم کے بھی اقدام کرے یا کوئی قانون جاری کرے تو وہ دین کے مطابق ہو نا چاہئے ،وہ کسی ایسے اقدام یاحکم کو انجام نہیںدے سکتاجو دین کے مخالف ہو ۔ ولی امر بھی ،مصلحت کے تقاضوں کے مطابق ، اسلامی سر حدوں کی حفاظت کے لئے دفاع اور جہاد کا حکم دے سکتا ہے یا کسی حکومت کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر سکتا ہے یاجنگ یا صلح کی ضرورتوں کے مطابق نئے ٹیکس لگا سکتا ہے اور اسی طرح ... یہ قوانین دین اور وقت کی مصلحتوں کے مطابق ہونے چاہئے اور ضرورت پوری ہوتے ہی یہ قوانین خودبخود ختم ہو جاتے ہیں ۔
نتیجہ کے طور پر،اسلام کے پاس دوقسم کے قوانین ہیں :ثابت اور غیر متغیر قوانین اور یہ آسمان شریعت ہے ،جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے :
(ولقد آ تینا بنی اسرائیل الکتاب والحکم والنبوة... ٭ ثم جعلنک علی شریعة من الامر فتبعھا و لا تتّبع اھواء الّذین لا یعلمون ٭ انّھم لن یغنواعنک من اللّٰہ شیا وانّ الظٰلمین بعضھم اولیاء بعض واللّٰہ ولیّ الّمتقین ) (جاثیہ١٦۔١٩)
''اور یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب ،حکومت اور نبوت عطا کی ہے ... پھر ہم نے آپ کو اپنے حکم کے واضح راستہ پر لگا دیا لہذا آپ اسی کا اتباع کریں اور خبردارجاہلوں کی خواہشات کا اتباع نہ کریں ۔یہ لوگ خدا کے مقا بلہ میں ذرہ برابر کام آنے والے نہیں ہیں اور ظالمین آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تو اللہ صاحبان تقویٰ کا سر پرست ہے ''۔
اس قسم کے قوانین کو شریعت کہا جاتا ہے ۔اور قابل تغیر قوانین ، جنھیں اقتضائے مصلحت و زمان کے مطابق ولی امر وضع کرکے نافذ کرتا ہے ،ضرورت پوری ہونے پر خودبخود ختم ہو جاتے ہیں ۔
       

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه