تالیف: استاد شعبان داداشی۔ ترجمہ : شعبہ علمی و تحقیقی ادارہ امید

پہلا شبہ:
١۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ خلیفہ کو انتخاب کرنے کا حق صرف خدا و ر رسول (ص )کو ہے اور لوگوں کو ہر حال میں اس انتخاب کو قبول کرناچاہیے۔ آیا یہ جبر اور زبردستی نہیں ہے کہ جو تعلیمات اسلامی کے خلاف ہے کہ جو جبر کو مکروہ و غلط سمجھتا ہے ۔ القرآن:" لا اکراہ فی الدین"۔


جواب:
آیہ شریفہ لا ِاکراہ فِی الدِینِ قد تبین الرشد مِن الغیِ فمن یکفر بِالطاغوتِ و یؤمِن بِاللہِ فقد استمسک بِالعروةِ الوثقیٰ لا انفِصام لہا و اللہ سمیع علیم (بقرہ ٢٥٦)) دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیںیقینا ہدایت اور ضلالت میںفرق نمایاں ہو چکا ہے، پس جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لے آئے یقیناً اس نے نہ ٹوٹنے والا مضبوط سہارا تھام لیااور اللہ سب کچھ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے(
یہاں زور و زبردستی سے ایمان کسی پر تھوپنے کی مذمت کی جا رہی ہے اور ہمیں یہ پتہ ہے کہ ایمان دل کا معاملہ ہے اور دلوں کے معاملات زور و زبردستی سے پیدا نہیں کئے جاسکتے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ کسی سے زبردستی ایمان کا اقرار کرالیا جائے لیکن کسی بھی صورت زبردستی ایمان دل میںاتارا اور باقی نہیں رکھا جاسکتا ۔ دوسری طرف ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ انسان اس دنیا میں بااختیار خلق ہوا ہے اور اس روشنی میں ایمان کو بھی اس نظام ہستی میں عقل و تدبر کے ساتھ مربوط ہونا چاہیے ۔عقل اور یکتا پرستی کی فطرت سے درست راستہ کو انتخاب کیا جاسکتا ہے اور درست راستہ پر ایمان بھی رکھا جاسکتا ہے ۔درج ذیل آیہ شریفہ اسی نکتہ پر روشنی ڈالتی نظر آتی ہے ۔
لا ِاکراہ فِی الدِینِ قد تبین الرشد مِن الغیِ فمن یکفر بِالطاغوتِ و یؤمِن بِاللہِ فقد استمسک بِالعروةِ الوثقیٰ لا انفِصام لہا و اللہ سمیع علیم )بقرہ (265
'' لا اکراہ فی الدین ''کے بیان کے بعد اِس جملہ کے مقصد کو"قد تبین الرشد من الغی کی روشنی میں بیان کیا جا رہا ہے یعنی ہر شخص یہ قدرت رکھتا ہے کہ درست و نادرست راہ کو پہچان سکے، اپنی عقل کی مدد سے راہ رشد یعنی درست راہ اور خدا کے انتخاب کو اختیار کرے، "عرو الوثقی "یعنی خدا کی سب سے مضبوط رسی کو تھام لے ۔اس طرح وہ نجات پا جائے گا۔ یہ محال ہے کہ کوئی شخص عقل سلیم رکھتا ہو اور خدا پر دل سے ایمان نہ رکھے۔ ایسی صورت میں اس کا دل ضرور خدا کی حقانیت کی گواہی دیگا۔ جب کوئی شخص دل سے با ایمان ہوگیا اور خدا کی صفات مثلا اس کے حکیم ہونے ،اس کے عادل ہونے یا اس کے ہادی (ہدایت کرنے والا)ہونے کو دل سے تسلیم بھی کرلیاتو پھر لازم ہے کہ وہ شخص خدا اور اس کے رسول (ص) کے احکامات پرمضبوطی کے ساتھ عمل پیر اہو۔ اس میں شک نہیں ہے کہ خدا اور رسول (ص) کے سامنے اس طرح سر تسلیم خم کرنا عقل کا تقاضہ ہے اور یہ عین ایمان ہے کہ اختیار و آزادی سے اِس کی طرف بڑھا جائے ۔
من یطِعِ الرسول فقد اطاع اللہ (نسائ80)
) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی(
و قرن فی بیوتِکن و لا تبرجن تبرج الجاہِلِیةِ اولیٰ وا قِمن الصلاة و آتین الزکوة وا طِعن اللہ و رسولہ ا ِنما یرید اللہ لِیذہِب عنکم الرِجس ا ہل البیتِ و یطہِرکم تطہیرا)احزاب(33
(اور اپنے گھروں میں جم کر بیٹھی رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح اپنے آپ کو نمایاں کرتی نہ پھرو نیز نماز قائم کرو اور زکوة دیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اللہ کا ارادہ بس یہی ہے ہر طرح کی ناپاکی کو اہل بیت ! آپ سے دور رکھے اور آپ کو ایسے پاکیزہ رکھے جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے(
ما افاء اللہ علیٰ رسولِہِ مِن ا ہلِ القریٰ فلِلہِ و لِلرسولِ و لِذِی القربیٰ و الیتٰمیٰ و المسٰکینِ و ابنِ السبیلِ کی لا یکون دولة بین الاغنِیائِ مِنکم و ما ء اتٰکم الرسول فخذوہ و ما نہٰکم عنہ فانتہوا و اتقوا اللہ ا ِن اللہ شدید العِقاب(حشر 7)
(اللہ نے ان بستی والوںکے مال سے جو کچھ بھی اپنے رسول کی آمدنی قرار دیا ہے وہ اللہ اور رسول اور قریب ترین رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ مال تمہارے دولت مندوں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے اور رسول جو تمہیں دے دیں وہ لے لو اور جس سے روک دیں اس سے رک جا اور اللہ کا خوف کرو، اللہ یقینا شدید عذاب دینے والا ہے)
یا یہا الذین آمنوا أطیعوا اللہ و رسولہ و لا تولوا عنہ وا نتم تسمعون (انفال (20/
) اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول(ص) کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد تم اس سے روگردانی نہ کرو(
اب یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ پیامبر (ص)کا خود اپنے خلیفہ کا انتخاب کرنا اور اس کی اطاعت کرنے کا حکم دینا اور نما ز، جہاد، روزہ، زکواة، خمس اور دسیوں دیگر احکام کی بجاآوری کا پابند کرنا آزادی کے خلاف ایک جبر ی عمل ہے ۔ کیونکہ لوگوں نے خود قرآن اور رسول (ص) اور دوسرے دین کے احکامات کو اپنے یے خود انتخاب نہیں کیا ہے اور اس طرح کی دلیل لانا کہ رسول کی طرف سے خلیفہ مقرر کرنا زور و زبردستی ہے، بالکل ایک خلاف عقل بات ہے۔ جب عقل خداوند متعال کو اور اس عالم کو بہترین خلقت کے نظام کے طور پر قبول کرتی ہے اور خدا کی اطاعت کرنے کو انسانیت کی نجات کا ذریعہ سمجھتی ہے تو پھر عقل کا یہ تقاضہ ہے کہ خدا کی ہر بات کے سامنے بہ رضا ورغبت سر تسلیم خم کیا جائے ۔
جب خداوند متعال نے رہبروں اور حکومت کرنے کے اہل لوگوں کی پہچان کرائی ہے تو پھر لوگوں پر لازم ہے کہ ان کی اطاعت کریں اور ان کی حکومت کو دل و جان سے مانیں۔ ایسی اطاعت کوہر گز زور و زبردستی سے تعبیر نہیں کیا جائے گا۔
ِانما ولِیکم اللہ و رسولہ و الذین ء امنوا الذین یقیمون الصلاة و یؤتون الزکوٰة و ہم راِکعون( مائدہ (55/
) تمہارا ولی تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکو دیتے ہیں)
یا یہا الذین ء امنوا أطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول و اولِی الامرِ مِنکم فاِن تنٰزعتم فی شی ئٍ فردوہ اِلیَ اللہِ و الرسولِ ا ِن کنتم تؤمِنون بِاللہِ و الیومِ الآخِرِ ذلکِ خیر وا حسن تأویلاً (النسائ/ (59(اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو جائے تو اس سلسلے میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو یہی بھلائی ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہو گا)
یا جیسا کہ خود پیامبر اکرم (ص) نے فرمایا: "من اطاعنی فقد اطاع اللہ و من عصانی فقد عصی اللہ و من اطاع علیا فقد اطاعنی و من عصی علیا فقد عصانی ''((1
رہبر کے انتخاب کے دو طریقے ہوسکتے ہیں۔ یا تو خداو رسول(ص) انتخاب کریں یا لوگ اپنی رائےVote) )دے کر رہبر کا انتخاب کریں۔ دوسری بات یہ کہ اہل سنت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر ایک شخص بھی کسی کی خلافت کے لیے اس کی بیعت کرے تو خلافت نافذ ہو جائے گی۔ اب اہل سنت کے اس اعتقاد کے لیے کیا یہ نہیں کہا جائے گا کہ باقی لوگوں کا ایسے خلیفہ کی اطاعت پر مجبور ہونا کہ جو صرف ایک شخص کی بیعت سے خلیفہ بنا ہے، زور و زبردستی ہے؟یا مغرب کی جمہوریت کہ جس میں کبھی 30% لوگ ووٹ دیتے ہیں کبھی 40% اور کبھی 50% تو جو لوگ Vote نہیں دیتے تو ان پر مثلا Prime Minister کی حکومت کی اطاعت کولازم قراردینا زور زبردستی نہیں ہوگی؟
اب ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ اس بات کو قبول کرلیں۔ کیونکہ سوسائٹی (معاشرہ )پر ایسے حکمران کا کہ جس کو لوگوں نے انتخاب نہیں کیا ہے، حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ پس معاشرہ خلیفہ یا رہبر یا امام کے بغیر رہے انسانی فطرت اور (Society)معاشرے کے تقاضوں سے متصادم بات ہے ۔ جیسا کہ کہا گیا کہ جب خدا اپنے بندوں کے لیے حاکم کو منتخب کرتا ہے تو اس میں کسی بھی قسم کی زور و زبردستی نہیں ہے لیکن جب عوام اپنے لیے حاکم کومنتخب کرتے ہیں تو اس میں زور و زبردستی ہے کیونکہ مخلوق کومستقل طور پر لوگوں پر حکومت کرنے کا حق نہیں ہے۔
ان نکات بالا کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ جناب عمرکا ابوبکر کو منتخب کرنا زور و زبردستی کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور اس طرح جناب ابوبکر کی جانب سے خلیفہ کے لئے عمر کونامز د کرنا بھی زور و زبردستی پر مبنی عمل تھا۔ اسی طرح جناب عثمان کا انتخاب چھ لوگوں کی شوریٰ کے ذریعہ بھی زور و زبردستی و اجبار ہے اور اسلحہ کے زور پر معاویہ کا مسلط یا اس کا اپنے نا ہنجاربیٹے یزیدکوبزورطاقت جانشین مقر ر کرنا بھی زبر دستی کا مظہر ہے ۔ ازیں قبیل بنی امیہ اور عباسیوں اور ترکوں کی موروثی حکومتیں کہ جن کو اہل سنت برادران صحیح و جائز مانتے ہیں سب کی سب زور و زبردستی ،اجباری اور طاغوتی تھیں کہ یہ تمام حکومتیں اسلام کی نظر میں غلط تھیں۔ اسلام آزادی کا دوست اور زور و زبردستی کا دشمن ہے۔
اگر بالفرض ہم اس اعتراض کو قبول کرلیں کہ اسلام کے احکامات اکراہ اور زور و زبردستی کے حامی ہیں یہاں تک کہ خدا اور رسول کی طرف سے کسی کو منتخب کرنا بھی زور و زبردستی ہے تو پھر درج ذیل آیات کہ جو حکم دے رہی ہیں جہاد کااس ااعتراض کی روسے اجبار و زور و زبردستی کی ہی علامت قرار پائینگی ۔

و قٰتِلوہم حتیٰ لا تکون فِتنة و یکون الدِین لِلہِ فاِنِ انتہوا فلا عدوان ِلا علیَ الظٰلِمین (بقرہ  ٩٣
اور تم ان سے اس وقت تک لڑو کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے، ہا ں اگر وہ باز آ جائیں تو ظالموں کے علاوہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو گی)
یا یہا النبِی جٰہِدِ الکفار و المنٰفِقین و اغلظ علیہِم و مأواہم جہنم و بِئس المصیر (التوبہ ٧٣)
 (اے نبی ! کفار اور منافقین سے لڑو اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بہت برا ٹھکانا ہے)
فلا تطِعِ الکٰفرین و جٰہِدہم بِہِ جِہادا کبیراً (فرقان ٥٢)
 ( آپ کفار کی بات ہرگز نہ مانیں اور اس قرآن کے ذریعے ان کے ساتھ بڑے پیمانے پر جہاد کریں)
و جاہِدوا فِی اللہِ حق جِہادِہِ ہو اجتبٰکم و ما جعل علیکم فِی الدِینِ مِن حرج مِلة ا بیکم ا ِبراہیم ہو سمٰکم المسلِمین مِن قبل و فی ہذا لِیکون الرسول شہیداً علیکم و تکونوا شہداء علیَ الناسِ فأقیموا الصلاة و آتوا الزکٰوة و اعتصِموا بِاللہِ ہو مولٰکم فنِعم المولیٰ و نِعم النصیر (الحج ٧٨)
(اور راہ خدا میں ایسے جہاد کرو جیسے جہاد کرنے کا حق ہے، اس نے تمہیں منتخب کیا ہے اور دین کے معاملے میں تمہیں کسی مشکل سے دوچار نہیں کیا، یہ تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے اسی نے تمہارا نام مسلمان رکھا اس (قرآن)سے پہلے اور اس (قرآن)میں بھی تاکہ یہ رسول تم پر گواہ رہے اور تم لوگوں پر گواہ رہو، لہذا نماز قائم کرو اور زکواة دیا کرو اور اللہ کے ساتھ متمسک رہو، وہی تمہارا مولا ہے سو وہ بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے)
یا یہا النبِی حرِضِ المؤمِنین علی القِتالِ ا ِن یکن مِنکم عِشرون صابِرون یغلِبوا مِائتینِ وا ِن یکن مِنکم مِائة یغلِبوا الفاً مِن الذین کفروا باِنہم قوم لا یفقہون (انفال ٦٥)
 (اے نبی ! مومنوں کو جنگ کی ترغیب دیں، اگر تم میں بیس صابر (جنگجو) ہوں تو وہ دو سو (کافروں) پر غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سو افراد ہوں تو وہ ایک ہزار کافروں پر غالب آ جائیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیںجو سمجھتے نہیںہیں)
ملعونین ا ینما ثقِفوا أخِذوا و قتِلوا تقتیلا (احزاب٦١)
(لعنت کے سزاوار ہوں گے، وہ جہاں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بری طرح سے مارے جائیںگے)
و ِان نکثوا یمٰنہم مِن بعدِ عہدِہِم و طعنوا فی دینکِم فقٰتِلوا أئِمة الکفراِ ِنہم لاأ یمٰن لہم لعلہم ینتہون(التوبہ ١٢)
 (اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ لوگ اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین کی عیب جوئی کرنے لگ جائیں تو کفر کے اماموں سے جنگ کرو، کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں شاید وہ باز آجائیں)
اگر ہم یہ کہیں کہ یہ مشرکین کو قتل کرنے کے احکامات اس لیے ہیں کہ خدا کے دین کی حکمرانی ہو اور لوگ دین کو قبول کریں، تو اس طرح بھی اس آزادی پرحرف آتا ہے جسے معترضین بطوردلیل سامنے لاتے ہیں۔ اگرمعترضین کی یہ بات مان لی جائے توپھریہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ خدا کی کتاب میں تناقض (اختلاف)پایا جاتا ہے کہ ایک طرف اس میں کہاجارہا ہے'' لا اکراہ فی الدین ''اور دوسری طرف'' قاتلوا ھم ''اور یوں ایسی کتاب کہ جو تناقض رکھتی ہے معجزہ نہیں ہوسکتی۔
اس قسم کے اشکالات اورمغالطوں سے بچنے کے لیے ''لا اکراہ فی الدین'' کی ہماری یہ تفسیر قبول کر نی ہوگی کہ خدا اور رسول پر ایمان لانا قلبی معاملہ ہے اور اس کی جڑ عقل ہے کہ جو اپنے اختیار سے ایمان کو قبول کرتی ہے ۔چنانچہ خدا کے احکامات مثلاًجہادوغیرہ کی اطاعت بھی اسی ایمان کا حصہ ہے۔ یعنی اگر لوگ چاہتے ہیں کہ اس ایمان کی حفاظت کریں اور دوسری اقوام کی طرف سے اس ایمان کی قبولیت کے راستہ میں کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو دور کریں تو پھر خدا کے حکم کے مطابق کفر کی جڑوں کو کاٹنا ہوگا تاکہ ایمان کی راہ میں کھڑی کی گئی رکاوٹیں دور ہوں۔ یہ حکم عادل اور حکیم خدا کا ہے اور اس میںآزادی کی ہرگز کوئی نفی نہیں پائی جاتی ۔
پس ثابت ہوا کہ امام کا منتخب کرنا خدا اور رسول کی طرف سے زور و زبردستی نہیں ہے اور ناہی لوگوں پرزبردستی کسی امام کوتھونپناہے بلکہ ائمہ کی حاکمیت اور ولایت کو قبول کرنا ہی عین آزادی ہے جسے مکلفین اپنے اختیار اور عقل سے قبول کرتے ہیں۔
دوسرا شبہ:
خدا اور اس کے رسول (ص) کی طرف سے امام کا انتخاب منطق کے بغیر تھا یا اس طرح کا انتخاب ایک خاندان میں امامت کو موروثی کرنے جیسا تھا۔ اور اگریہ مان لیا جائے کہ خدا نے ایک ہی خاندان میں امامت کو رکھا تو پھر اس وراثت کا ا س موروثی بادشاہت سے کیا فرق ہوگا ؟جبکہ یہ سوال اس موقف کے ساتھ بے محل ہوگاکہ لوگوں کو اپنے خلیفہ کے انتخاب میں آزاد ہونا چاہیے؟
جواب:
سنی و شیعہ، دونوں نے اسلامی معاشرہ میں رہبر کی ضرورت کو لازمی قرار دیا ہے۔ شیعہ اس ضرورت کو ضرورت عقلی کہتے ہیں کہ جو خدا اور رسول (ص)کی طرف سے معین کیا جاتا ہے۔
سنی اس کو ضرورتِ نقلی کہتے ہیںجو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امام کا انتخاب کرنا لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ شیعوں کے دلائل کہ امام کا معین کرنا خدا اور رسول (ص) کی ذمہ داری ہے،درج ذیل ہیں:
حاکمیت میں وحدت:
حاکمیت میں وحدت اس بات کی طرف سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ خداوند ، خالق، مالک اور رب ہونے کی وجہ سے حقیقی معنوں میں حکومت کرنے کا حق اور سارے جہاںپر تصرف رکھتا ہے۔وہ اس حکومت کرنے کے حق کو اس زمین پر اپنے نبی اور ولی کو دے سکتا ہے اور یوں خدا کی پیروی میں نبی اور ولی بھی جہان میں تصرف اور امر و نہی کا حق رکھتے ہیں۔
قلِ اللہم مٰلکِ الملکِ تؤتی الملک من تشاء و تنزِع الملک مِمن تشاء و تعِز من تشاء و تذِل من تشاء بِیدکِ الخیر اِنک علیٰ کلِّ شیئٍ قدیر (اٰل عمران26:(
(کہدیجیے اے اللہ ! (اے)مملکت (ہستی ) کے مالک تو جسے چاہے حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہے حکومت چھین لیتا ہے اور تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے،بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے)
النبِی ا ولیٰ بِالمؤمِنین مِن ا نفسِہِم وا زواجہ ا مہاتہم وأ ولوا الا رحامِ بعضہم ا ولیٰ بِبعضٍ فی کِتابِ اللہِ مِن المؤمِنین و المہٰجِرین ا ِلّا ان تفعلوا ِلیٰ ا ولِیائکِم معروفاً کان ذالکِ فِی الکِتابِ مسطوراً (الاحزاب6)
) نبی مومنین کی جانوں پر خود ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہے اور نبی کی ازواج ان کی مائیں ہیں اور کتاب اللہ کی رو سے رشتے دار آپس میں مومنین اور مہاجرین سے زیادہ حقدار ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرنا چاہو، یہ حکم کتاب میں لکھا ہوا ہے(
یا یہا الذین آمنوا طیعوا اللہ و طیعوا الرسول و أولِی الامرِ مِنکم فأِن تنازعتم فی شی ئٍ فردوہ ِلیَ اللہِ و الرسولِ اِن کنتم تؤمِنون بِاللہِ و الیومِ الآخِرِ ذلکِ خیر و أحسن تأویلا (النسائ٥٩)
(اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو جائے تو اس سلسلے میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو یہی بھلائی ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہو گا)
ان آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ کسی کو بھی خدا کے علاوہ دوسروں پر حکومت کرنے اور دوسروں کو اپنی اطاعت کی طرف دعوت دینے کا حق نہیں ہے۔
۔ قرآن میں خداوند کی صفات میں سے ایک صفت خلیفہ کا انتخاب ہے۔
و اِذ قال ربّک لِلملائکة اِِ ِنِّی جاعِل فِی الارضِ خلیفة قالوا ا تجعل فیہا من یفسِد فیہا و یسفکِ الدِماء و نحن نسبِح بحمدک و نقدِس لک قال ا ِنِّی ا علم ما لا تعلمون (البقرہ ٣٠)
(اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب ) بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فسادپھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا؟جب کہ ہم تیری ثنا کی تسبیح اور تیری پاکیزگی کا ورد کرتے رہتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا:( اسرار خلقت بشر کے بارے میں) میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے)
وا ِذِ ابتلیٰ ا ِبراہیمَ ربہُ بِکلماتٍ فأ تمّہنّ قال ا ِنِّی جاعِلکَ لِلناسِ ا ِماماً قال و مِن ذرّیّتی قال لا ینالُ عہدِی الظالِمینَ (البقرة١٢٤(
(اور( وہ وقت یاد رکھو )جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات سے آزمایا اور انہوں نے انہیں پورا کر دکھایا، ارشاد ہوا : میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا: اور میری اولاد سے بھی؟ ارشاد ہوا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا )
یا داوودا ِنا جعلنٰک خلیفة فِی الارضِ فاحکم بین الناسِ بِالحقِ و لا تتبِعِ الہویٰ فیضِلک عن سبیلِ اللہِ اِن الذین یضِلون عن سبیلِ اللہِ لہم عذاب شدید بِما نسوا یوم الحِسابِ (ص٢٦)
(اے داؤد!ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہذا لوگوںمیں حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور خواہش کی پیروی نہ کریں، وہ آپ کو اللہ کی راہ سے ہٹا دے گی، جو اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے یوم حساب فراموش کرنے پر یقینا سخت عذاب ہو گا )
ام یحسدون الناس علیٰ ما آتاہم اللہ مِن فضلِہِ فقد آتینا آل ِبراہیم الکِتاب و الحِکمة و آتیناہم ملکاً عظیماً (نسائ٥٤)
(کیا یہ( دوسرے) لوگوںسے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نوازا ہے؟(اگر ایسا ہے) تو ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت عطا کی اور انہیںعظیم سلطنت عنایت کی )
و جعلناہم ائِمة یہدون باِمرِنا و واحینا اِلیہِم فِعل الخیراتِ وا ِقام الصلاةِ وا یتاء الزکوةاِ وکانوا لنا عابِدین (انبیائ٧٣)
(اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے نیک عمل کی انجام دہی اور قیام نماز اور ادائیگی زکواة کے لیے ان کی طرف وحی کی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے )
و نریدا ن نمن علی الذین استضعِفوا فِی الارضِ و نجعلہم ا ئِمة و نجعلہم الوارِثین ( قصص٥)
ّ(اور ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جنہیں زمین میں بے بس کر دیا گیا ہے ہم ان پر احسان کریں اور ہم انہیں پیشوا بنائیں اور ہم انہی کو وارث بنائیں )
فہزموہم باِِذنِ اللہِ و قتل داوود جالوت و ء اتاہ اللہ الملک و الحکِمة و علمہ مِما یشاء و لو لا دفع اللہِ الناس بعضہم بِبعض لفسدتِ الارض و لکِن اللہ ذو فضل علی العالمین (بقرة ٢٥١)
(چنانچہ اللہ کے اذن سے انہوںنے کافروں کو شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے انہیں سلطنت و حکمت عطا فرمائی اور جو کچھ چاہا انہیں سکھا دیا اور اگر اللہ لوگوں میں سے بعض کا بعض کے ذریعے دفاع نہ فرماتا رہتا تو زمین میں فساد برپا ہو جاتا، لیکن اہل عالم پر اللہ کا بڑا فضل ہے )
قال ربِ اغفِر لی و ہب لی ملکاً لا ینبغی لاِحد مِن بعدی اِنک ا نت الوہاب (ص٣٥)
(کہا: میرے رب! مجھے معاف کر دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا کر جو میرے بعد کسی کے شایان شان نہ ہو، یقینا تو بڑا عطا کرنے والا ہے )
مندرجہ بالا اور دوسری آیتوں میں خلیفہ کا انتخاب کرنا خدا کے اوصاف میںایک وصف شمارکیا گیا ہے۔ اور لوگوں کے ذریعہ خلیفہ کو منتخب کیے جانے کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا۔ کیونکہ خداوند اپنے علم سے یہ جانتا ہے کہ انسانوں کے لیے کیا صحیح ہے اور کون اس کی اس دنیا میں جانشینی اور دین خدا کو زمین پر نافذ کرنے کی شرائط رکھتا ہے۔ ان شرائط میں معصوم ہونا، اعلم اور افضل ہونا شامل ہیں اور صاف ظاہر یہ کہ یہ اوصاف کسی بھی شخص میں اگر موجود ہوں تو یہ اس کے باطن میں موجود ہوں گی اور ان اوصاف کو پھر وہی پہچان سکتا ہے کہ جو خود تمام حقیقتوں کا عالم ہو۔ کس طرح لوگ ان اوصاف کو پہچان سکتے ہیں جبکہ وہ خود صرف ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں اور ان کی نگاہ سطحی ہے اور یہ سطحی نگاہ بہت آرام سے فریب کار افراد سے دھوکہ بھی کھا جاتی ہے۔ امامت جو کہ اِس زمین پر خدا کی خلافت ہے اور امام کا وظیفہ (مشن) انسانوں کے درمیان خدا اور اس کے دین کی حاکمیت کوقائم کرنا ہے۔ امامت اور امام کا انتخاب خدا کے کاموں میں سے ایک کام ہے کہ وہ بلند ترین معیار کے مطابق اپنا نمائندہ اور خلیفہ اس سرزمین پر منتخب کرے اور اس انتخاب میں عام لوگوں کا کوئی کردار نہیں ہے اور ان پر فرض ہے کہ خدا کے انتخاب کیے ہوئے ایسے معصوم اور الہی انسانوں کی اطاعت کریں۔
بس خدا کے ذریعہ خلیفہ کے انتخاب کی مضبوط عقلی اور نقلی دونوںدلیلیں موجود ہیں اور یہ بات کہ خدا اور رسول(ص) نے عام لوگوں پر چھوڑ دیا تھا وہ کہ اپنے لیے خلیفہ خود منتخب کرلیں عقلی اور نقلی دلیل سے عاری ہے۔ اس طرح کے اعتراض کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بجائے اہل تشیع پر اشکال کرنے کہ اہل سنت پر اشکال کرے کہ کس طرح وہ عام لوگوں کے خلیفہ کے انتخاب کرنے کے قابل ہیں جبکہ اسکے خلاف شیعوں کے پاس عقلی اور نقلی دونوں دلیلیں موجود ہیں۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ امامت کس طرح بظاہر ایک موروثی طریقہ کے ذریعہ ایک خاندان میں موجود ہے، شیعوں کے نقطہ نظر کے مطابق اس بات میں بھی مضبوط دلیل موجود ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پیامبر (ص)کا خاندان ، آیہ تطہیر اور آیہ مباہلہ کی روشنی میں باطنی طہارت اور عصمت رکھتا ہے۔ اور ان کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ خدا کی عظیم ولایت کو قبول کریں اسی وجہ سے خلافت پیامبر(ص) کے اہل بیت میں رکھی گئی۔
بس یہ بات واضح ہوئی کہ خلافت کو پیامبر (ص) کے خاندان میں رکھنے کی وجہ وہ امامت کے شرائط ، کہ جو معصوم اور صاحب علم لدنی ہونا ہے، ہیں کہ جو پیامبر (ص) کے خاندان میں موجود ہیں اوریوں اِس الہی خلافت کا بنو امیہ اور بنو عباس کی خلافت سے فرق واضح ہوتا ہے کہ بنو امیہ اور بنو عباس اور دوسرے سلطانوں کی خلافتوں میں ولی عہد شاہی خاندان کاہی فرد ہوتا ہے چاہے وہ کتنی ہی بری عادتوں میںمبتلا ہو، مثلا شراب خوری، زناکاری وغیرہ، لیکن خاندان پیامبر(ص) میں امامت، اس خاندان کے امامت کی شرائط پر پورا اترنے کی وجہ سے ہے اس صراحت کے ساتھ کہ ضروری نہیں ہے کہ یہ خصوصیت خاندان پیامبر (ص)اور بنی ہاشم کے ہر فرد میںموجودہو۔
دوسری بات یہ ہے کہ پچھلے زمانہ کے پیامبروں کے خاندانوں میں بھی خلافت اور وصی موجود تھے اور یہ خدا کی قطعی سنت ہے۔
أن اللہ اصطفیٰ ء ادم و نوحا و ء ال ِبراہیم و ء ال عِمران علی العالمین (آلعمران٣٣)
(بے شک اللہ نے آدم، نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام عالمین پر برگزیدہ فرمایا ہے)
ذرِیة بعضہا مِن بعض و اللہ سمیع علیم (آل عمران٣٤)
(وہ اولاد جو ایک دوسرے کی نسل سے ہیں اور اللہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے)
ووہبنا لہ ا ِسحاق ویعقوب کلا ہدینا ونوحا ہدینا مِن قبل ومِن ذرِیتِہِ داوود وسلیمٰن وأیوب ویوسف وموسیٰ وہارون وکذلکِ نجزِی المحسِنِین(انعام٨٤)
)اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عنایت کیے، سب کی رہنمائی بھی کی اور اس سے قبل ہم نے نوح کی رہنمائی کی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسی اور ہارون کی بھی اور نیک لوگوں کو ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں،(
وزکرِیا ویحیٰ وعِیسیٰ واِلیاس کل مِن الصالِحِین (انعام٨٥)
)اور زکریا، یحیی، عیسی اور الیاس کی بھی، (یہ) سب صالحین میں سے تھے(.
واِسمٰعِیل والیسع ویونس ولوطا وکلا فضلنا علیَ العالمِین (انعام/86)
)اور اسماعیل، یسع، یونس اور لوط (کی رہنمائی کی) اورہم نے سب کو عالمین پر فضیلت عطا کی(
ومِن ء ابائِہِم وذرِیاتِہِم واِخوانِہِم واجتبینٰہم وہدینٰہم اِلیٰ صِراط مستقِیم (انعام٨٧)
(اور اسی طرح ان کے آبا اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں کو بھی (ہدایت دی) اور ہم نے انہیں منتخب کر لیا اور ہم نے راہ راست کی طرف ان کی رہنمائی کی)
ذلکِ ہدی اللہِ یہدِی بِہِ من یشاء مِن عِبادِہِ ولوا شرکوا لحبِط عنہم ماکانوا یعملون (انعام٨٨)
(یہ ہے اللہ کی ہدایت جس سے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے نوازے اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو ان کے کیے ہوئے تمام اعمال برباد ہو جاتے)
أولئکَ الذِین ء اتینٰہم الکِتاب والحکم والنبوة فاِن یکفر بِہا ہؤلائِ فقد وکلنا بِہا قوما لیسوا بِہا بکِافِرِین (انعام٨٩)
(یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی، اب اگر یہ لوگ ان کا انکار کریں تو ہم نے ان پر ایسے لوگ مقرر کر رکھے ہیں جو ان کے منکر نہیں ہیں)
ام یحسدون الناس علیٰ ما ء اتٰہم اللہ مِن فضلِہِ فقد ء اتینا ء ال ِبراہیم الِکتاب و الحِکمة و ء اتینٰہم ملکاً عظیماً(النسا٥٤)
(کیا یہ( دوسرے) لوگوںسے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نوازا ہے؟ (اگر ایسا ہے) تو ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت عطا کی اور انہیںعظیم سلطنت عنایت کی)
وا ِذِ ابتلیٰ ا ِبراہیم ربہ بکِلِمات فاتمہن قال اِنِی جاعِلک لِلناسِ اِماما قال و مِن ذرِیتی قال لا ینال عہدِی الظالِمین (بقرہ١٢٤)
(اور ( وہ وقت یاد رکھو)جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات سے آزمایا اور انہوں نے انہیں پورا کر دکھایا، ارشاد ہوا : میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا: اور میری اولاد سے بھی؟ ارشاد ہوا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا)
و اجعل لی وزیرا مِن اہلی (طہ٢٩) (اور میرے کنبے میںسے میرا ایک وزیر بنا دے)
زیادہ تر پیامبروں کے وصی ان کے اپنے خاندانوں میں سے تھے اور اِس کی ایک وجہ یہ تھی کہ لوگوں کے دلوں میں پیامبروں سے خاص محبت تھی اور ان کے خاندانوں سے اس وجہ سے خاص روحی تعلق رکھتے تھے اور قدرتی طور پر ان کی باتوں کی اطاعت کرتے تھے اور دوسری طرف پیامبروں کے خاندان والوں نے بھی پیامبروں کی سیرت اور ان کی چیزوں کو زندہ اور محفوظ رکھا۔ اس لیے خدا نے خلافت اور رسالت کے تسلسل کو انہی کے خاندانوں میں باقی رکھا۔
تیسری بات یہ ہے کہ پیامبر (ص) کے خاندان میں موروثی خلافت کا ہونا حدیث ثقلین، حدیثِ سفینہ، حدیثِ یوم الانذار،حدیثِ منزلت اور حدیثِ اثنا عشر: ''اِن خلفائی اثنا عشرہ کلھم من بنی ھاشم یا قریش'' سے بھی ثابت ہے۔ یہ تمام حدیثیں متواتر اور صحیح ہیں اور شیعہ اور سنی ان احادیث کے صحیح ہونے کو قبول کرتے ہیں۔
بس کیوں یہ اعتراض صرف شیعوں پر ہی ہوتا ہے کہ شیعہ پیامبر (ص) کی خلافت کو پیامبر (ص) کے خاندان میں محصور کرتے ہیں جبکہ پچھلے زمانہ کہ پیامبروں پر یہ اعتراض نہیں کیا جاتا اور اس طرح یہ اعتراض اہل سنت پر بھی نہیں کیا جاتا جبکہ وہ معتقد ہیں اس بات پر کہ پیامبر کے خلیفہ صرف قریش ہوسکتے ہیں۔ اگر پیامبر کے خاندان سے پیامبر کے خلیفہ کا انتخاب ہونا غلط ہے تو پھر تمام پچھلے پیامبروں میں ایسے انتخاب کو غلط ہونا چاہیے اور اگر کوئی ایسا عقیدہ رکھتا ہے تو پھر وہ قرآن اور سنت خداوند اور پیامبران پر اعتراض کر رہا ہے اور یہ اعتراض اہل سنت میں بھی غلط شمار ہونا چاہیے۔ بس کیوں اس اعتراض کو اہل سنت کے سامنے نہیں اٹھایا جاتا کہ جو خلافت کو پیامبر کے خاندان یعنی قریش میں مقید کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کا پیغمبر(ص) کے خلیفہ کے انتخاب کا طریقہ لوگوں کے انتخاب پر مبنی ہے۔ کیا خلافت کو صرف ایک خاندان میں محدود کرنا لوگوں سے اختیار اور آزادی کو چھیننا نہیں ہے؟ بس ثابت ہوتا ہے کہ اہل سنت کا پیامبر (ص) کے خلیفہ کو ایک خاندان میں محدود کرنا ان کے اپنے، لوگوں کے خلیفہ کے انتخاب کرے کے ،عقیدہ کے مخالف ہے اور یوں اصل اعتراض اہل سنت کے نظریہ پر وارد ہوتا ہے کہ جو ایسے عقیدہ کو مانتے ہیں جو خدا کی کتاب اور پچھلے زمانہ کے پیامبروں کی سنت نیزپیامبر خاتم (ص) کی سنت اور عقل کے خلاف ہے۔
دوسری طرف شیعوں کا نظریہ کہ خلیفہ کا انتخاب کرنا خدا کا کام ہے اور پچھلے انبیا کی سنت، پیامبر اکرم اسلام (ص) کے قول و فعل اور عقلی دلائل کی روشنی میں یہ نظریہ مضبوطی کے ساتھ روز روشن کی طرح واضح ہے۔ اسی طرح خدا کا پیامبر (ص) کے خاندان سے امامت کا انتخاب کرنے کا بھی نظریہ مضبوط عقلی اور نقلی دلائل کاحامل ہے۔
لیکن اگر لوگ خدا اور رسول کے جانشین کا خود انتخاب کریں تو یہ نظریہ بالکل دلیل سے خالی ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں ایک طرف فاسقوں اور ظالموں کے ہاتھوں میں نبوت کی خلافت پہنچنے کا امکان ہے اور دوسری طرف یہ عمل مسلمانوں کے آپس میں اختلافات اور لڑائی کا سبب بن سکتا ہے خصوصاً عربوں کے ابتدائی اسلامی معاشرے میں کہ جس میں اسلام نے اپنی جڑیں مضبوط نہیں کی تھیں اورجاہلیت کے دورکی قبیلہ پرستی( TRIBALISM)اورقوم پرستی ابھی تک لوگوں کے ذہنوں سے پوری طرح محونہیں ہوئی تھی۔ ہم اس انتخاب کے نتیجہ میں عمر اور عثمان کا قتل، ابوبکر کو زہر دیا جانا ، حضرت علی کی شہادت اور کربلا کا عظیم ودردناک واقعہ دیکھتے ہیں اور بنی امیہ وبنی وعباس کی حکومت کی صورت میںشجرہ خبیثہ کی آبیاری کے تسلسل کو بھی دیکھتے ہیں۔
اگر اعتراض کرنے والے خدا اور رسول (ص)کی طرف سے امامت کے انتخاب کو عقل کے خلاف سمجھتے ہیں تو یقینا وہ بنی امیہ جیسے ظالموں اور چند دیگر فاسق خلیفوں کے حکومت میں آنے کو صحیح سمجھتے ہوں گے۔
تیسرا اعتراض:
شیعوں کے نظریہ کے مطابق پیامبر اکرم (ص)نے خود حضرت علی کو اپنا خلیفہ نامزد کیا تھا۔ اگر ایسا واقعہ تاریخ میں ہوا تھا تو کس طرح ممکن ہے کہ پوری امت نے یہ واقع بھلا دیا؟
جواب:
اس قسم کے اعتراض کرنے والے کو چاہیے تھا کہ اپنے اس اعتراض کو امت سے جوڑنے بجائے اہل سنت کے دوسرے متکلمین کی طرح اِس طرح پیش کرے کہ کس طرح اصحاب پیامبر (ص) کہ اس قدر متقی، دیندار اور پیامبر اکرم (ص) کے فرمانبردار ، پیامبر اکرم (ص) کے اس فرمان کو کہ جس میں انہوں نے حضرت علی کو اپنا جانشین نامزد کیا ہے ، سے انکار کردیا اور اہل سنت کہتے ہیں کہ یہ بات قابل قبول نہیں ہے کیونکہ وہ تمام صحابہ کی عدالت کے قائل ہیں اور اس طرح پیامبر اکرم (ص) نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔
لیکن جس طرح صدر اسلام میں بعض صحابیوں کی طرف سے اس بات کو دبا دیا گیا ، آنے والی نسل نے بھی اس روش کا جاری رکھا۔ یہ اعتراض کہ کس طرح اتنی اہم بات پوری امت بھلا سکتی ہے ، اس بات کی دلیل اہل سنت اس ہی بات پر بناتے ہیں کہ چونکہ تمام صحابہ عادل ہیں اور ان میں سے کسی کی بھی اطاعت کرلی جائے کافی ہے، بس ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ صحابہ پیامبر (ص) کی بات کے خلاف کچھ کریں۔ جبکہ قرآن، سنت پیامبر (ص)اور تاریخ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ صحابہ کے درمیان ایسے لوگ تھے کہ جو منافقین، مرتدین، جنگوں سے بھاگے ہوئے، پیامبر (ص) کو تکلیف پہچانے والے، پیامبر (ص) کے رازوں کو فاش کرنے والے اور جھوٹ بولنے والے تھے۔
دس فیصد قرآن کی آیتیں منافقین کے متعلق ہیں۔ مدینہ مسلمانوں کا مرکز تھا اورقرآن کے مطابق ان میں کچھ لوگ منافق تھے اور پیامبر(ص)اُن کو پہچانتے تھے۔(2) و مِمن حولکم مِن الاَعرابِ منافِقون و مِن اہلِ المدینةِ مردوا علیَ النِفاقِ لا تعلمہم نحن نعلمہم سنعذِبہم مرتینِ ثم یردون اِلیٰ عذابٍ عظیمٍ (التوبہ١٠١)
(اور تمہارے گرد و پیش کے بدوں میں اور خود اہل مدینہ میں بھی ایسے منافقین ہیں جو منافقت پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں نہیں جانتے (لیکن) ہم انہیں جانتے ہیں، عنقریب ہم انہیں دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے)
اہل سنت کی صحابی کے حوالے سے تعریف یہ کی جاتی ہے کہ' من رای نبیا مسلما و ہو صحابی'' یعنی جس نے مسلمان ہونے کے بعد پیامبر اکرم (ص) کو دیکھا چاہے ایک لحظہ ہی کے لیے کیوں نہ دیکھا ہو، وہ صحابی ہے۔ اس تعریف کے مطابق تمام منافقین بھی صحابہ کی لسٹ میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس میں بہت ساروں نے پیامبر اکرم (ص) کو صرف حج الوداع میں دیکھا تھا اور جب پیامبر اکرم (ص) کی رحلت ہوئی تو یہی لوگ مرتد ہوگئے۔ طلیع اسدی اور مسیلمہ کذاب( 4)بھی اہل سنت کی صحابی کی تعریف کے مطابق صحابی تھے کہ جنہوں نے بعد میں نبوت کا دعوی کیا اورمرتد ہوگئے تھے(5)اور دوسرے لوگ جیسے عبد اللہ بن ابی سورح، اشعث بن قیس اور شث بن ربعی صحابیوں میں سے تھے اور اس کے علاوہ بہت سے دوسرے اعراب جنہوں نے جناب ابوبکر کی مخالفت کی اور زکواة دینے سے انکار کردیا اور بہت سے عرب جاہلیت پرستی کی طرف پلٹ گئے۔(6)جناب عائشہ(رض) نے کہا ہے: پیامبر(ص) کی رحلت کے بعد سب دین سے پلٹ گئے تھے لیکن مکہ اور مدینہ کے رہنے والوں کے علاوہ اور(اس زمانہ میں) نفاق اور مرتد ہونا ظاہر ہوگیا تھا۔
پیامبر اکرم (ص) نے فرمایا:میں اپنے اصحاب سے پہلے حوض کوثر پرپہنچوں گا اورپھر اصحاب میری طرف آئیں گے کہ میں ان کو سیراب کروں لیکن ملائکہ ان کو جہنم کی طرف دھکیل رہے ہوں گے اور مجھ سے کہیں گے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین میں رخنے ایجاد کئے۔ اور ان میں سے کاروان سے جدا ہونے والے اونٹوں کی تعداد کے برابر(یعنی بہت کم) نجات پائیں گے۔
یہ حدیث اہل سنت کی حدیث کی کتابوں میں تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ مثلا صحیح بخاری، ج٥، ص١٢٠٢١٠ ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتی ہے کہ کیا ایسے صحابہ کہ جو اصل دین اور نبوت سے منکر ہوسکتے ہیں توکیا ولایتِ امام علی کے منکر نہیں ہوسکتے؟ یہ حدیث حدیثِ ثقلین اور حدیثِ انذار ، کہ جن کا ذکر اوپر ہوا ہے ، کی تفسیر کر رہی ہے۔'' انی تارک فیکم کتاب اللہ و عترتی ان تمسسکتم بہما لن تضلوا ابدا و لن یفترقا حتی یرد علی الحوض'' (3)اس حدیث ِثقلین کے مطابق جو بھی کتاب اور عترت سے متمسک ہوگا وہی حوض کوثر میں پیامبر (ص) کے پاس جاسکتاہے اور جس نے ان میں سے کسی ایک سے بھی اپنا ربط توڑا وہ حوض کوثر سے دور دھکیل دیا جائے گا۔ کچھ صحابہ مرتد ہو گئے تھے۔ کچھ نماز، روزہ، جہاد اور زکواة تو انجام دیتے تھے لیکن انہوں نے حضرت علی کی ولایت کو قبول نہیں کیاتو یہ لوگ بھی حوض کوثر میں داخل نہیں ہوسکتے۔علاوہ ازیں حدیث :'' علی مع القرآن و القران مع العلی لن یفترقا حتی یرد علی الحوض ''(7)بھی حدیث ثقلین کی تائید کررہی ہے۔درج ذیل حدیث بھی قابل غورہے۔
'' اما ترضی ان تکون منی بمنزلہ ہارون من موسی؟ الا انہ لیس بعدی نبی الا من احبک حف با الامن و الایمان و من ابخضک اماتہ اللہ میتتہ الجاہلیہ ''(8)اور حضرت علی حدیثِ منزلت میں، حدیث ِمواخات میں، حدیثِ سد الابواب میں، حدیث ِنام گزاری حسن و حسین علیہما السلام میںکہ جہاں پیامبر اکرم (ص)کی نسبت سے علی مانند ہارون ہوتے ہوئے ان کے بیٹے حسن وحسین کانام بھی ہارون کے دونوں بیٹوں شبر اور شبیر باالترتیب رکھا گیا۔(9) قرآن نے سورہ اعراف آیہ ٤١میں سامری کی داستان بیان کرتے ہوئے حضرت موسی(ع)کے ہزاروں صحابیوں کے مرتد ہونے کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ میقات پر چلے گئے تو تقریبا ستر ہزار حضرت موسیٰ کے اصحاب سامری کی رہبری میں کہ جو حضرت موسیٰ کی فوج کا کمانڈر تھا، بت پرست ہوگئے اور حضرت ہارون(ع)جتنی بھی نصیحتیں ان کو کرتے، وہ لوگ ان کوقبول نہیں کرتے اور چاہتے تھے کہ حضرت ہارون کو قتل کردیں۔ جب حضرت موسیٰ کوہ ِطور سے پلٹے اور حالات کو دیکھا تو اتنے شدید غصہ میں آئے کہ حضرت ہارون(ع) کے بالوں کو پکڑ کر ان کو اپنی طرف گھسیٹا جس پر حضرت ہارون(ع)نے اپنی صفائی پیش کر تے ہوئے جواب دیا : قال ابن أُمَّ ا ِنّ القوم استضعفونی و کادوا یقتلوننی فلا تشمِت بِی الاعداء و لا تجعلنی مع القومِ الظٰلِمین(الاعراف١٥٠) عجیب یہ ہے کہ اس آیت کوامام علی(ع) نے قبر پیامبر (ص)کی طرف مڑ کر اس وقت پڑھا جب ان کو زبردستی بیعت کے لیے خلیفہ وقت کے سامنے لے جایا جارہا تھا۔(10)بہرحال یہ کوئی بعیداز امکان واقعہ نہیں تھا۔تاریخ میں پہلے بھی ایساہوچکا ہے۔ جب حضرت موسیٰ کے اصحاب نے اتنے سارے معجزے دیکھنے کے باوجود آپ (ص) کے پیچھے بت پرستی شروع کردی تواس پرکیوں تعجب ہو کہ بعض اصحاب رسول (ص) نے رحلت رسول خدا (ص) کے بعد حضرت علی کی وصایت سے انکار کردیا۔ حدیث ارتدار بہترین دلیل ہے اس بات کی کہ بعض اصحاب رسول (ص) نے وصایت و ولایت حضرت علی کا انکار کیا اور اس وجہ سے ان کا حوض کوثر پر داخلہ ممنوع ہوا اور جہنم کی طرف دھکیلے گئے۔ اور اس حدیث کو اہل سنت کی کتابوں میں فراوان دیکھا جاسکتا ہے۔
اصحاب کی طرف سے پیامبر اسلام (ص) کی زندگی میں ان کی مخالفت کرنا اورآپ(ص) کی رحلت کے بعد آپ(ص) کی سنت کی مخالفت کرنا، ایسی بات نہیں ہے کہ جو اہل بصیرت سے پوشیدہ ہو۔
وہ چودہ دن کہ جب پیامبر اکرم (ص) بستر مرگ پر تھے اور اس بستر سے تھوڑی دیر کے لئے بھی اُٹھنا آپ کے لیے محال تھا ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح قریش کے کچھ لوگوں نے اس وقت پیامبر (ص) کے احکامات کی صریحاً مخالفت کی۔
١۔اسامہ بن زید کی فوج میں شامل ہونے سے انکار
پیامبر (ص) نے اپنے اصحاب مثلاً ابوبکر، عمر، عثمان، سعد بن عبادہ (قبیلہ خزرج کے قائد) اور اسید بن حضیر (قبیلہ اوس کے قائد)کو حکم دیا کہ جائیں اور اسامہ کی فوج میں شامل ہوں۔ لیکن کچھ اصحاب نے اس بات کی مخالفت شروع کردی اور اِس فوج کی پیشرفت کی مخالفت کردی اور حیرت ہے کہ مخالفین کے رہنماجناب عمر و ابو بکر تھے ۔ (11)
یہ بات پیامبر اکرم (ص) کو اس قدر بری لگی کہ آپ (ص) نے مخالفت کرنے والوں پر لعنت بھیجی لیکن پھر بھی یہ لوگ جناب اسامہ کی فوج میں شامل ہونے کو تیار نہ ہوئے اور بہت عجیب بات یہ ہے کہ جناب ابوبکر کا خلیفہ بننے کے بعد پہلا کام اسامہ کی فوج کو جنگ کے لیے روانہ کرنا ہے۔(12)
٢۔ پیامبر اسلام (ص) کو وصیت لکھنے سے روکا گیا
یہ حادثہ رزِی یوم الخمیس(یعنی جمعرات کے روز کی مصیبت)سے معروف ہے۔ اس واقعہ کو بخاری نے صحیح میں ج1 ص 111 باب العلم باب 39 اور ج4 ص 62 باب قول المریض کتاب المرض ج 2 ص 122 کتاب الشروط فی الجہاد ج4 ص 271 کتاب الاعتصام بالکتاب و السنہ باب کراہیہ الخلاف میں نقل کیا ہے۔ جناب عمر کا پیامبر اکرم(ص) کے بارے میں وہ مشہور جملہ کہنا کہ ان الرجل لیھجر (پیغمبر ہذیان کہہ رہے ہیں)اس حال میں تھا کہ پیامبر (ص) زندہ تھے اور وہ جناب عمر کو دیکھ رہے تھے جبکہ عمر سارے اصحاب کے درمیان یہ توہین آمیز جملہ اپنی زبان سے جاری کر رہے تھے تو ایسا شخص کیا ولایت علی کا منکر نہیں ہوسکتا؟ جناب عمر نے خود عبد اللہ بن عباس سے ایک روز کہا تھا: ''میں نے جان بوجھ کر یہ جملہ کہا تھا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ وہ(آنحضرت ص)کیا لکھنا چاہتے ہیں وہ علی کے بارے میں وصیت کرنا چاہتے تھے کہ میں آڑے آگیا۔'' (13)
جناب عمر اور ان جیسے لوگوں نے جان بوجھ کر پیامبر (ص) کی طرف سے وصیت لکھے جانے کی مخالفت کی اور اگر پیامبر (ص) وصیت لکھ بھی دیتے پھر بھی وہ مخالفت سے بازنہ آتے تو کیاایسی صورت میں علی کی ولایت کی مخالفت کرنا ایسے صحابہ سے بعید ہے؟
٣۔ پیامبر (ص) کی اجازت کے بغیر ان کی جگہ نماز پڑھانا
تمام چودہ دنوں میں کہ جب پیامبر اکرم (ص) شدت مرض کی وجہ سے اپنے بستر سے نہیں اٹھ سکتے تھے تو آپ (ص) کی جگہ حضرت علی نے نماز پڑھائی۔ (14)آنحضرت کی زندگی کے آخری پیر کے روز جب حضرت بلال نے فجر کی اذا ن دی تو ہر روز کی طرح آنحضرت (ص) کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ نماز کے لیے تشریف لے آئیے کہ لوگ آپ کے منتظر ہیں پیامبر اکرم (ص)نے کہا کہ میرے بھائی علی سے کہو کہ نماز پڑھائے۔ جناب بلال پلٹ گئے ۔
جناب عائشہ نے اپنے والد ابوبکر سے کہا کہ آپ نماز پڑھائیں۔ وہ پیامبر (ص) سے اجازت لئے بغیر نماز پڑھانے کھڑے ہوگئے دوسری طرف جب پیامبر (ص) کو پتہ چلا کہ ابوبکر نماز پڑھا رہے ہیں تو کہا: مجھے اٹھائو، آنحضرت (ص) کواٹھایا گیا اور آپ (ص) مسجد میں داخل ہوئے اور اپنے ہاتھوں سے اشارہ کیا کہ ابوبکر کو کنارے کیا جائے ۔پیامبر (ص) نے نماز دوبارہ بیٹھ کر پڑھائی اور نماز کے بعد کہا کہ مجھے اٹھائو اور منبر پر بٹھائو۔پھر آپ(ص) نے دوبارہ غدیر کے خطبہ کو پڑھا اور امام علی کے ہاتھ کو پکڑ کر دوبارہ یہ جملہ کہا کہ من کنت مولاہ فھذا علی مولا ۔(15)
اگر ابوبکر کا نماز پڑھانا پیامبر اسلام (ص) کی مرضی کے مطابق تھا تو پھر آپ (ص)کیوںشدت مرض کی حالت میں مسجد تشریف لائے اور نماز کو بیٹھ کر پڑھایا اور ابوبکر کی نماز کو ختم کروایا اور اس واقع کے بعد ابوبکر مسجد سے فورا چلے جاتے ہیں اور اپنے گھر کہ جو سخ میں تھا اس میں جاکر خانہ نشین ہوجاتے ہیں۔(16)اور اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ جناب ابوبکر آنحضرت (ص) کی مرضی کے خلاف نماز پرھانے کھڑے ہوئے تھے اور اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ آنحضرت(ص) اس ہی روز اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، لوگ ظہر کی نماز فرادا پڑھتے ہیں لیکن عصر کی نماز دوبارہ ابوبکر کی امامت میں پڑھی جاتی ہے اور کوئی اعتراض نہیں کرتا کہ یہ وہی صاحب ہیں کہ جو آج صبح مسجد سے فرار ہوگئے تھے ۔
بخاری اور مسلم نے اپنی کتابوں میں اس ماجرے کو ذکر کیا ہے۔(17)
٤۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر اصحاب کی کھلی مخالفت کرنا
چھ ہجری ، ذیعقد کے مہینے میں پیامبر اسلام (ص) عمرہ کی نیت سے نکلتے ہیں اور تمام مسلمانوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ بھی ان کے ساتھ آئیں لیکن بہت سارے منافقین اور اصحاب آپ (ص) کے ساتھ نہیں آتے۔ تقریبا چھ سو افراد پیامبر (ص) کے ساتھ عمرہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں اوردوسری طرف قریش نے راستہ کی ناکہ بندی کردی ہے اور پیامبر (ص) اور ان کے اصحاب کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیاہے۔ بہرحال گفت و شنید کے بعد مسلمانوں اور قریش کے درمیان صلح کے معاہدہ کا اعلان ہوتا ہے لیکن اس صلح کی جناب عمر کے ساتھ ساتھ کئی اور صحابہ نے مخالفت کی۔ جناب عمر نے فرمایا کہ صلح حدیبیہ کے بعد مجھے پیامبر اکرم (ص) کی نبوت پر شک ہوا تھا اگر میرے ساتھ میرے ساتھی ہوتے تو میں ان سے جنگ کرتا۔
صلح ہونے کے بعد رسول خدا (ص) نے حکم دیا کہ سب اپنے احراموں کو اتار دیں لیکن کسی نے آپ (ص) کے حکم کو نہیں سنا اور پیامبر (ص) شدید غصہ کی حالت میں جناب ام سلمہ (س)کے خیمے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جناب ام سلمہ(س) پیامبر اکرم (ص)کے غصہ و پریشانی کی وجہ کو سمجھتے ہوئے ان کو مشورہ دیتی ہیں کہ آپ خود اپنے احرام کو اتار دیں، یہ لوگ بھی آہستہ آہستہ احرام اتار دیں گے۔(18)
٥۔ فتح مکہ کے روز، روزہ افطار کرنے کی مخالفت
٨ہجری ، ماہ مبارک رمضان میںپیامبر اکرم (ص) فتح مکہ کے لیے مدینہ سے نکلتے ہیں۔ جب کراع الغمیم کے علاقے میں پہنچے تو اپنے روزہ کو افطار کرلیا اور باقی سب اصحاب کو بھی حکم دیا کہ روزہ کو افطار کریں لیکن ان اصحاب میں سے چند لوگوں نے آپ (ص) کی بات نہیں مانی۔ جب اس بات کی اطلاع پیامبر اکرم (ص) کو پہنچائی گئی تو آپ نے فرمایا: یہ لوگ گنہگار ہیں'' اولئک العماة''
یہ اصحاب کی پیامبر اکرم (ص) سے مخالفت کی چند باتیں ہم نے ذکر کیں جو پیامبر اکرم کے زمانے میں ان لوگوں نے کیں۔ جب آنحضرت (ص) اس دنیا سے تشریف لے گئے تو ان لوگوں کی پیامبر اسلام (ص) کے احکامات سے مخالفت کرنا اتنا زیادہ تھا کہ ان میں سے چند مخالفتوں کو مرحوم سید شرف الدین نے اپنی کتاب النص والاجتہاد میں ذکر کیا ہے۔
کہ ان میں سے چند باتیں درج ذیل ہیں:
١۔ احادیث کی تعلیم اور ان کے نقل کرنے کی ممانعت۔
٢۔ حضرت فاطمہ الزہرا کو رسول خدا (ص) کی ملکیت سے ان کا حصہ دینے اور آیہ ارث کی مخالفت۔
٣۔ ذوی القربی کے حقوق کی مخالفت کرنا اور عترت اہل بیت کو غنایم جنگی کا خمس نہ دینا ۔
٤۔ زکوٰة کے پیسوں میں سے مولف القلوب لوگوں کا حصہ دینا۔
٥۔ متعہ النساء اور حج تمتع کی ممانعت
٦۔ حی علیٰ خیرِ العمل کے جملہ کو اذان اور اقامت سے نکالنا۔
٧۔ اذان میں الصلاة خیر من النوم کے جملہ کا اضافہ کرنا۔
٨۔ صلا ةتراویح کو رائج کرنا۔(19)
اگر اصحاب کی طرف سے پیامبرِ اسلا م(ص) کی مخالفت کرنا، چاہے آپ (ص) کی زندگی میںہو چاہے آپ (ص) کی رحلت کے بعدہو، ایک عام بات تھی تو ولایت علی کا انکار کرنا کیونکر بعید ہوسکتا ہے؟ اس بات کو نظام معتزلی کہ جو اہل سنت اور فرقہ معتزلہ کا ایک بڑا عالم دین گزرا ہے، نے قبول کیا ہے اور کہا ہے کہ پیامبر اکر م(ص) نے حضرت علی کو اپنا خلیفہ اور ولی نامزد کیا تھا لیکن جناب عمر اور ابوبکر نے اس بات کی مخالفت کی اور خلافت پر قبضہ کرلیا۔ نظام معتزلی کے اس نظریہ کی دوسرے علمائے اہل سنت نے بھی تائید کی ہے۔(20)
اہل سنت کے ایک متعصب عالم ذہبی نے جناب نجرانی سے نقل کیا ہے کہ : عمر نے غدیر خم میں امام علی کی بیعت کرلی تھی لیکن پیامبر اسلا م(ص) کی رحلت کے بعد اپنے ہوائے نفس کی خاطرنیزحصول حکومت وقدرت کی خواہش ومحبت میں اپنی بیعت کو توڑدیا۔(21)
امام علی نے ایک روز اپنی خلافت کے زمانہ میں مسجد کوفہ کے صحن میں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جو بھی واقعہ غدیر میں موجود تھا اورمیری وصایت و ولایت کے اعلان کو سنا تھا، کھڑا ہو اور گواہی دے۔ اس موقع پر اصحاب نے کہ جن میں جناب ابو ایوب انصاری بھی شامل تھے گواہی دی اور چھ لوگوں نے کہ جن میں انس بن مالک اور برا بن عازب حفر دراری شامل تھے اپنی شہادت کو چھپایا۔
اہل سنت کی کتابوں میں موجود احادیث اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ اصحاب میں ایسے لوگ بھی شامل تھے کہ جو اپنی شہادوتوں کو چھپاتے تھے اور یہ بات ان کے لیے عام تھی۔ پھر کیوں اس بات کو بعید جانیں کہ جب پیامبر (ص)نے حضرت علی کی وصایت کا اعلان کیا تو لوگوں نے اس کو بھلا دیا۔
اہل سنت نے تواتر کے ساتھ اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا کہ ہر واقعہ اور حادثہ جو بنی اسرائیل پر گزرا ہے میری امت پر بھی گزرے گا حتیٰ کہ اگر ایک چیونٹی بنی اسرائیل کے زمانہ میں ایک سوراخ سے باہر آکر دوسرے سوراخ س میں گئی ہو تو اس کا بھی اعادہ میری امت میں ہوگا۔(22)
قرآن بنی اسرائیل کی شہادتوں اور گواہیوں کو چھپانے کے بارے میں فرماتا ہے:
ِان الذین یکتمون ما أَنزل اللہ مِن الکِتابِ و یشترون بِہِ ثمنا قلیلاً أُلئک ما یأکلون فی بطونِہِم اِلا النار و لا یکلِمہم اللہ یوم القِیٰمةِ و لا یزکِیہِم و لہم عذاب أَلیم (البقرہ١٧٤)
(جو لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے عوض میں حقیر قیمت حاصل کرتے ہیں، یہ لوگ بس اپنے پیٹ آتش سے بھر رہے ہیں اور اللہ قیامت کے دن ایسے لوگوں سے بات نہیں کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے)
اِن الذین یکتمون ما أَنزلنا مِن البیِناتِ و الہدیٰ مِن بعدِ ما بینّٰہ لِلناسِ فِی الکِتابِ أُولئکَ یلعنہم اللہ و یلعنہم اللٰعِنون(البقرہ١٥٩)
(جولوگ ہماری نازل کردہ واضح نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم کتاب میں انہیں لوگوں کے لیے کھول کر بیان کر چکے ہیں، تو ایسے لوگوں پر اللہ اور دیگر لعنت کرنے والے سب لعنت کرتے ہیں)
جب حضرت موسیٰ کے اسی ہزار80000) ) اصحاب حضرت ہارون کی وصایت کو جھٹلا سکتے ہیں اور یہ ایک قرآنی حقیقت ہے اور دوسری طرف پیامبر اکرم (ص) صر احتًا فرما رہے ہیں کہ جو بھی واقعہ بنی اسرائیل پر گزرے گا، امت اسلام پر بھی گزرے گا تو صاف ظاہر ہے کہ حضرت علی کی وصایت اور ولایت کا انکار کرنا بھی ان ہی حقیقتوں میں سے ایک ہے۔ کیا حضرت علی کو جناب ہارون سے تشبیہ دینابلا کسی سبب کے تھا؟ کیا یہ تشبیہ ہمارے ذہنوں کو اس بات کی طرف متوجہ نہیں کرتی کہ جس طرح حضرت موسی کے اصحاب نے جناب ہارون کی وصایت کا انکار کیا ، پیامبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد آپ(ص)کے اصحاب نے حضرت علی کی وصایت کا انکار کیا۔
اہل سنت نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے کہ پیامبر اکرم (ص) کم ازکم چھ مہینے اور بعض روایات کے مطابق دو سال تک روزانہ نماز صبح سے پہلے سب کی نظروں کے سامنے حضرت علی اور حضرت زہرا(س) کے گھر کے دروازہ کے باہر کھڑے ہوکر یہ فرماتے تھے: ''السلام علیکم یا اھل البیت،الصلوة'' (23)سب صحابہ نے پیامبر اسلام (ص) کی طرف سے جناب زہرا(س) اور ان کے بچوں کی غیر معمولی عزت افزائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا تھا اور ابھی رحلت پیامبر (ص) کے کچھ ہی دن گزرے ہوں گے کہ اس گھر کے دروازہ کو گرایا گیا اور اس گھر کی بے حرمتی کی گئی۔
سوال یہ ہے کہ پھر کیوں تمام اصحاب نے اس عمل کو دیکھا اور اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی؟ کیوں کسی نے نہیں کہا کہ یہ گھر اتنی عظمت رکھتا ہے اور کس طرح اس حقیقت کا انکار کیا گیا؟
پیامبر اکرم (ص) نے٢٣ سال مسلمانوں کے سامنے وضو کیا، نماز پڑھی، اذان دی، لیکن کس طرح پیامبر اکرم (ص)کی رحلت کے بعد وضو، نماز اور اذان کے طریقوں میں اتنا ختلاف پیدا ہوگیا؟ کیا مسلمانوں نے پیامبر (ص) کے وضو اور نماز کو نہیں دیکھا تھا؟ کیا مسلمانوں نے یہ نہیں دیکھا کہ رسول(ص) ہاتھ باندھ کر نماز پڑھ رہے ہیں یا ہاتھ کھول کر؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ آنحضرت (ص) وضو کس طرح کر رہے ہیں؟ پھر کیا ہوا کہ لوگوں نے ان معاملات میں بھی اختلاف کردیا؟ کیا یہ نہیں کہا جاسکتا ہے سنت نبوی (ص)کواپنی ہواو ہوس کی خاطر تبدیل کیا گیا؟
کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ اعتراض کرنے والوں کو دین میں ہونے والی اتنی ساری تبدیلیاں نظر نہیں آئیں؟ نظر آئیں توپھر لوگوں کے ذریعہ وصایت کا انکار کیے جانے میں تعجب کرنا چہ معنیٰ دارد؟پھر اس سوال میں کیاوزن رہ جاتا ہے کہ اگر نبی اکرم (ص) نے وصیت کی تھی تو اصحاب کرام نے اس کو کس طرح بھلا دیا؟
ابن ابی الحدید معتزلی ایک جگہ لکھتا ہے کہ میرے استاد نے ایک دن مجھ سے کہا تھا کہ اگر پیامبر اکر م(ص)کا بیٹا زندہ رہ جاتا اور پیامبر اکرم (ص) اس کو اپنا وصی نامزد کرتے پھر بھی وہ لوگ کہ جنہوں نے منافقت کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا اور پیامبر(ص) کے سامنے بادل نخواستہ سرنگوں ہوئے تھے، اُس کے ساتھ اس سے بھی خراب سلوک کرتے جو امام علی کے ساتھ کیا کیونکہ عربوں نے رسول خدا (ص) سے لینے والا انتقام حضرت علی اور ان کی اولاد سے لیا۔
وصایت کا انکار کرنا ہرگز ایک غیر ممکن بات نہ تھی اور اصحاب بھی کوئی معصوم نہ تھے کہ ایسا نہ کرسکتے ہوں۔ یہ اس طرح ہے کہ جس طرح اور دوسرے صریح احکام میں رسول خدا(ص) کی مخالفت کی گئی تھی اس معاملے میں بھی مخالفت کی اور حق کو دبایاگیا۔ اس حق کو چھپانے کے ماجرے کو تاریخ ثابت کرتی ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ حق دار کو اس کا حق نہیں ملا اور اس کاسبب حسد، کینہ، قبائلی تعصب (Tribal Prejudice)تھا۔
چوتھا اعتراض:
اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ خداوند عالم نے امام کا انتخاب خود کیا ہے لیکن پھر کیوں یہ انتخاب ٢٦٠ھ کے بعد آگے نہ چل سکا اور امام حسن عسکری کی شہادت کے بعد ان کا کوئی جانشین معین نہیں ہوا ۔لہٰذا ایسا دین کہ جو قیامت تک کے لیے آیا ہے اور لوگوں کی راہنمائی کے لیے آیا ہے، راہنما کے بغیر کیسے ہوگیا؟
جواب:
اصولاً نبی اور امام کے وجود کے آثار یہ ہیں کہ وہ مکلفین(لوگوں)پر اپنی حجت کو تمام کردیں یعنی اپنے آپ کو پہچنوا دیںپھر لوگوں کا اختیار ہے کہ وہ نبی اور امام کی اطاعت کریں اور اپنے کمال تک پہنچیں۔ اگر لوگ خدا کی طرف سے معین کی ہوئی ان حجتوں کی مخالفت کرنے لگیں تو ا س کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس فلسفہ کے تحت خدا نے ان ہستیوں کو دنیا میں بھیجا تھا وہ غلط تھا۔
یہ بات اللہ تعالی پر واجب ہے کہ وہ اس زمین پر اپنی حجت کو بھیجے جو معاشرے کو عدالت کی طرف دعوت دے اور لوگوں کی تعلیم اور تربیت کرے اس حجت کو خداوند عالم نے انبیا و امامان کی شکل میں بھیجا لیکن ان کے اس دنیا میں آنے کا مقصد اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک معاشرہ خود کو اِن ہستیوں کے اختیار میں نہ دے۔ لیکن جب ظالموں اور حاکموں کے ذریعہ ائمہ کو قتل کردیا گیا تو اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ معاشرہ(Society) پران اماموں کی حاکمیت کی حجت ہمیشہ رہنی چاہیے " و لقدکتبنا فِی الزبورِ مِن بعدِ الذکِرِا ن الارض یرِثہا عِبادِی الصالِحون (الانبیائ١٠٥)
(اور ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے)
پھر اس بات کا نتیجہ یہ ہوا کہ حجت تو زمین پر رہے لیکن لوگوں کی نظروں سے غائب رہے۔
امام کی غیبت کا سبب معاشرے کارویہ ہے کہ جب تک معاشرہ امام کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگااور طاغوت اور استعمار کی غلامی سے منہ نہیں موڑے گا اس وقت تک امام حجت خدا ظاہر نہیں ہوں گے لیکن اس نظامِ ہستی کی معنوی رہبری ان ہی کے پاس ہے۔
بس ٢٦٠ھ سے امت کی رہبری ختم نہیں ہوئی بلکہ اس وقت سے ا س عہدہ کو امام زمانہ(عج) کے حوالہ کیا گیا کہ جو زندہ ہیں لیکن لوگوں کی نظروں سے غائب ہیں اور منتظر ہیں کہ جب یہ دنیا قانون الہی کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کرلے تو ان کا خدا کے حکم سے ظہور ہو اوروہ دنیا کو عدلِ الہی سے بھر دیں۔ اور یہ حقیقت دین اسلام کے تمام فرقوں میں تسلیم شدہ ہے اور مہدویت و مہدی موعود (عج) مسلمانوں کے ضروریات دین میں سے ایک ضرورت ہے۔
حجت خدا کی ذمہ داری اس زمین پر یہ ہے کہ وہ دوسری تمام مخلوقات کے لیے واسطہ فیض الٰھی ہے۔ اگر حجت خدا زمین پر نہ ہو تو خدا کے فیض اس زمین تک نہیں پہنچ سکتے یعنی زمین قابلیت نہیں رکھتی ان فیوضات کو مستقلاً تحمل کرے لہٰذا زمین کے پایے (Pillars) امام کے وجود سے قائم ہیں ۔ لو لا الحج ۔۔۔۔ بس امام کے ذریعہ سے زمین پر مادی اور معنوی ہر دو نوع کے فیوض وبرکات پہنچتے ہیں اور اس طرح خدا کے دین اور اس کی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری بھی امام کی ہے۔ کتاب خدا کی حفاظت سے مراد یہ ہے کہ اس کتاب میں کوئی تحریف نہ ہونے پائے کیونکہ یہ کتاب روز قیامت تک کے لیے انسانوں کی راہنمائی کے لیے آئی ہے اور انسانوں کے لیے خدا کی طرف سے یہ فکری اور عملی راہنما ہے اور اس کے بعد اور کوئی کتاب نہیں بھیجی جائے گی۔ ایسی کتاب کہ جو انسانوں کو سعات تک لے کر جائے لازم ہے کہ اس کو ہر قسم کی تحریف سے دور رکھا جائے اور اس ذمہ داری کو خدا کی حجت انجام دیتی ہے۔
امام کے وظائف اور ذمہ داریوں میں گمراہوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کو سیدھے راستہ پر لانا اور ان کی تعلیم و تربیت کرنا بھی ہے۔ امام کی دوسری ذمہ داریوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ معاشرے میں دین کو عملی طور پر جاری کرے اور معاشرہ کی سیاسی رہبری کرے۔ تو معلوم ہوا کہ امام کی مختلف ذمہ داریاں ہیں۔ اب اگر ظالموں کے ظلم اور معاشرہ کی ان سے دوری کی وجہ سے امام اپنی ایک ذمہ داری انجام نہیں دے پا رہا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دوسری ذمہ داریاں انجام نہیں دے رہا بلکہ تمام دوسری ذمہ داریاں ائمہ اپنی تمام توانائیوں کے ساتھ انجام دیتے رہے ہیں۔
اگر معاشرہ امام کو قتل کرنے پر تلا ہوا ہو اور امام خدا کے حکم سے لوگوں کی نظروں سے غائب ہوجاتے ہیں تو ایسی حالت میں وہ عملی طور پر لوگوں کی سیاسی رہبری نہیں کرسکتے لیکن ان کے کندھوں پر موجود دوسری ذمہ داریوں سے وہ ہرگز بری الذمہ نہیں ہوئے اور وہ انسانوں اور خدا کے درمیان، خدا کے فیض کا واسطہ ہیں اور انسانوں کی معنوی طریقہ سے ہدایت ان کے وجود مبارک سے جاری ہے۔
امام کی غیبت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ معاشرہ اور لوگوں سے دور کہیں زندگی گزار رہے ہوں بلکہ وہ لوگوں کے درمیان ہیں اور ان کی مختلف طریقوں سے راہنمائی کرتے رہتے ہیں۔
جہاں کہیں بھی معاشرہ یالوگ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے تیار ہوں تو امام کے عمومی نائبین یعنی فقہا اس جامع کی رہبری کو اپنے ہاتھوں میں لے سکتے ہیں۔ جس طرح تیس سال سے فقیہ عادل کی نظارت میں مملکت ایران میں حکومت اسلامی قائم ہے۔ بس نتیجہ یہ نکلا کہ کسی طور بھی امت کی رہبری کو خالی نہیں چھورا گیا بلکہ یہ رہبری اس وقت سے اب تک جاری ہے اور جاری رہے گی۔
پانچواں اعتراض:
اگر خلافت اہل بیت میں رکھی گئی ہے تو پھر اہل بیت کے تمام افراد اس بات کو قبول کریں جبکہ ہم نے تاریخ میں یہ دیکھا ہے کہ اس اہل بیت کے خاندان کے لوگوں مثلاً زید بن علی ابن حسین نے خلافت کے لیے قیام کیا ہے۔

جواب:
جب ہم نے امامت کے وجود کو عقلی دلائل اور نقلی دلائل سے ثابت کردیا تو پھر اصول یہ ہے کہ جب حق ثابت ہوجاتا ہے تو پھر اگر ایک فرد یا چند افراد اس کی حمایت کریں یا اس کا انکارکریں اس سے حق کی حقانیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ پھر لوگوں پر لازم ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو اس حق کے ساتھ کریں۔
جب علی مع الحق و الحق مع العلی ہو ، لوگوں کو امام علی کی ذات سے تولا جاتا ہو کیونکہ وہ ایمان، ہدایت اور نور کی علامت ہوں'' حبہ ایمان و بغضہ کفر'' ہو تو اس منزل پر ان کی حقانیت طلحہ، زبیر ، معاویہ اور ابوہریرہ جیسے لوگوں کی باتوں سے نہیں پرکھی جاسکتی۔
خاندان اہل بیت میںامامت، حدیث متواتر کے مطابق ثابت ہے ۔پیامبر اکرم (ص) نے فرمایا ''ان خلفائی اثنا عشر خلیفة'' یعنی میرے خاندان سے میرے بارہ خلیفہ ہوں گے۔ یہ بارہ خلیفہ پیامبر اکرم (ص) کی طرح معصوم اور علم الہی کے حامل ہوں گے اور اہل بیت میں شامل دوسرے افراد ان کے حامل نہیں ہیں۔ پھر ممکن ہے کہ اس خاندان کا کوئی فرد ہوا و ہوس اور دنیاوی اغراض میں مبتلاء ہوجائے لیکن تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ اس خاندان کے زیادہ تر افراد متقی، علما اور صالح تھے۔
بس نتیجہ یہ نکلا کہ اگر اس خاندان میں کوئی دنیا طلب فرد پیدا ہوتا ہے تو اس سے اس خاندان میں خلافت کے موجود ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
زید بن علی علیہ الرحمہ کے بارے میں تاریخ گواہی دیتی ہے کہ آپ عالم ، مفسر قرآن، محدث اور عابد و پرہیز گار شخصیت تھے۔ اتفاقاً یہ حدیث '' اِن خلفایی اثنا عشر خلیفة'' جناب زید سے بھی نقل ہوئی ہے۔(24)جناب زید ابن علی کا قیام، امر بالمعروف اور نہی ازمنکر کی خاطر تھا اور ہرگز ان کا قیام لوگوں کو اپنی طرف دعوت دینا نہ تھا اور نہ ہی انہوں نے ائمہ کی امامت کا انکار کیا تھا۔ جناب زید بن علی علیہ الرحمہ کے قیام کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت کے اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے امام باقر کی بے عزتی کی تھی اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر جناب زید اپنے قیام میں کامیاب ہوجاتے تو خلافت کو اس کے اصل حقدار تک پہنچا دیتے۔ اسی وجہ سے ائمہ اہل بیت اور اہل تشیع کے علمائے رجال نے جناب زید بن علی کی شخصیت کی تائید کی ہے اور آپ کے قیام کی وجہ امر بہ معروف اور نہی از منکر کو قرار دیا ہے اور جناب زید اور آج کہ فرقہ زیدیہ کے درمیان فرق کے قائل ہیں کیونکہ جناب زید بن علی زیدیہ فرقہ سے کوئی رابطہ اور نسبت نہیں رکھتے تھے۔ مرحوم صدوق نے اپنی کتاب عیون الرضا میں امام علی رضا سے حدیث نقل کی ہے کہ جس میں امام رضا نے جناب زید کے قیام کی تائید کی ہے اور اس بات کی کہ جناب زید امامت کا دعوی کرتے تھے، تردید کی ہے اور جناب زید کو اس طرح کے دعووں سے بلند قرار دیا ہے۔(25)
بہرحال نتیجہ اس مختصر سی بحث کا یہ ہے کہ اگر خاندان اہل بیت سے امامت کی مخالفت میں کوئی کھڑاہوتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ امامت اہل بیت میں نہیں تھی اور اگر ہم اعتراض کرنے والے کے اعتراض کو قبول کرلیتے ہیں تو پھر ہمیں یہ بھی قبول کرنا پڑے گا کہ کیونکہ ابولہب وغیرہ نے رسول خدا (ص)کی مخالفت کی تھی اسی لیے نعوذ باللہ پیامبر (ص) حق پر نہیں تھے۔ اور یہ بھی قبول کرنا پڑے گا کہ جس طرح اہل سنت جناب ابو بکر کی خلافت کو حق تسلیم کرتے ہیں تو چونکہ جناب محمد بن ابی بکر اور قاسم بن محمد بن ابی بکر نے جناب ابوبکر کی خلافت کے مسند پر بیٹھنے کی مخالفت کی تو جناب ابوبکر کی خلافت صحیح نہیں تھی کیونکہ ان کے بیٹے اور پوتے نے ان کی مخالفت کی تھی جبکہ یہ حقیقت ہے کہ اہل سنت اس طرح کی مخالفتوں پر توجہ نہیں دیتے۔
تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ لوگوں کو حق پر تولا جاتا ہے نہ حق کو لوگوں کے رویوں پر۔ لوگوں کی حق سے مخالفت حق کو صحیح یا باطل نہیں کرتی۔

و الحمد للہ رب العالمین
1. 121,3المستدرک علی الصحیحین،
2. اس مطلب کو مزید سمجہنے کے لئے دیکھیں سورہ منافقین/1 احزاب/12 آل عمران/153 154 حجرات/16 انفال/15 16
3. صحیح بخاری 8 /120
4. تاریخ الطبری ج3 ص 146
5. الفتوح ج 1 ص 23
6. الفتوح ج 1 ص 40 ج2 ص 415
7. مستدرک حاکم ج3 ص 24
8. کنز الایمان ج 9 ص154/555
9. مستدرک حاکم ج3 ص 165/168/14/125
10. الامامیہ و السیاسیہ ج 1 ص 12/13
11. شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج 17 ص182 و ج1 ص 159
12. تاریخ طبری حوادث سال سوم
13. الملل و النحل شہرستانی ص 23 مقد مہ چار شرح ابن ابی الحدید ج1 ص 109
14. منہاج السنہ ابن تیمیہ ج8 ص 566
15. صواعق المحرکہ
16. جناب مظفر نے السقیفہ میں لکھا ہے کہ ابو بکر نے نماز پڑھانے کی کوشش پیغمبر(ص) کی وفات کے روز فجر کے وقت کی اور طلوع آفتاب کے وقت ابو بکر "سخ" جا چکے تہے شرح ابن الحدید ج2 ص 40
17. شرح ابن الحدید ج 9 ص 197 و ج13 ص 33
18. مسند احمد ج 4 ص 329 صحیح بخاری کتاب شروط ج2 ص 2/12 الدر المنثور ج6 ص 77
19. ان نکات کو سید شرف الدین عاملی کی کتاب النص والاجتہاد مین دیکہا جا سکتا ہے
20. الملل و النحل شہرستانی ج1 ص 57/58
21. سیر اعلام الانبیا ج19 ص 328
22. مسند احمد ابن حنبل ج2 ص 328 صحیح بخاری کتاب الاعتصام با الکتاب و السنہ رقم 7319
23. الدر المنثور ج5 ص 199 نور الابصار ص112 تفسیر برہان ج 3 ص 318 شواہد التنزیل ج2 ص 50/91
24. کفایہ الاثر 304
25. عیون اخبار رضا ج1 باب 25 ص 241

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه