تحریر: نعیم عباس النعیمی
عام طور پر عوام میں مشہور ہے کہ جب ہر طرف گناہ ہی گناہ ہوں گے اور ہر انسان گناہوں کی سیاہ وادی میں سرگرداں نظر آئے گا تب امامؑ تشریف لائیں گے۔
حتی اگر کسی کو کہا جائے اے بندہ خدا، آو مسجد چلو نماز ادا کریں یا کسی اور نیکی کی طرف دعوت دی جاتی ہے

تو جواب ملتا ہے تم لوگ امام علیہ السلام کے ظہور میں رکاوٹ ہو ۔۔۔۔۔۔ نہیں ہر گز ایسا نہیں ہے ساری دنیا گناہوں میں ڈوب سکتی ہے لیکن ایک حقیقی منتظر انتظار کی روحانی منازل طے کر کے گناہ تو دور کی بات ایسی غلط سوچ بھی نہیں رکھے گا بلکہ اصل بات یہ ہے کے جب ہم نے اپنے گھر میں چھوٹا سا پروگرام بھی کرانا ہوتا ہے مثلا مجلس عزا ہم مل کے وقت سے پہلے اس کے لوازمات کو پورا کرتے ہیں اور تمام مقدمات کو مکمل کرتے ہیں عالم دین کی آمد سے قبل ممبر اسپیکر وغیرہ اور لوگوں کے آنے سے پہلے ان کے بیٹھنے کا مناسب انتطام کیا جاتا ہے یعنی عالم جس مقصد کے لیے آ رہا ہے اس کے لیے پہلے ہی انتظام کر لیا جاتا ہے بالکل اسی طرح ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہمارے امام نے کیوں ظہور کرنا ہے؟ وہ کس مقصد کے لیے تشریف لا رہے ہیں؟ تا کہ ہم ظہور سے قبل اس عظیم مقصد کے لوازمات کو پورا کر سکیں۔ ت
انتظار اور منتطرین کی ذمہ داریاں

انتظار کا مفہوم:
لفظ انتظار کے مختلف معانی بیان کیے جاتے ہیں جن میں سے ایک ’’کسی کی راہ دیکھنا‘‘ ہے یہ عربی سے اردو ترجمہ تو کہلا سکتا ہے لیکن انتظار کا حقیقی معنی کیا ہے یہ دقت طلب ہے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو انتظار’’ ایک روحانی اور وجدانی کیفیت‘‘ کا نام ہے۔ اگر کسی نے انتظار کی واقعیت کو وجدان کے ذریعے نہ جانا تو وہ اپنی ذہنی اور لفظی تعریفوں سے کبھی بھی اس کی حقیقت تک رسائی حاصل نہ کر سکے گا اور حقیقت انسان سے پنہاں رہے گی۔ اس لیے اس کی حقیقت سے نقاب کشائی کر کے حقیقی معنی کو عیاں کرنا بہت ضروری ہے۔

انتظار کا جو معنی بیان کیا گیا ہے کہ یہ ’’ایک روحانی اور وجدانی کیفیت کا نام ہے‘‘ اس کی رو سے انتظار ایک بنیادی اور بسیط شئی ہے۔ بنیادی اس وجہ سے کہ دیگر مفاہیم کیساتھ قابل فہم نہیں کیونکہ اس کا ادراک صرف اندرونی کیفیت سے ہی ممکن ہے اور بسیط اس وجہ سے کہ سادہ مفاہیم سے قابل تجزیہ نہیں اس کے حصول کا راستہ صرف اور صرف وجدان ہے۔ انسان کی وجدانی خصوصیات تمام بنیادی ضروریات کی پہچان میں کارفرما ہوتی ہیں جیسے بھوک، پیاس، غم، خوشی، غصہ، پیار محبت، نفرت یہ سب وجدانی کیفیت کی ہی چند مثالیں ہیں۔ جس طرح غصے کا ادراک صرف غصے کے وقت ہی کیا جا سکتا ہے، محبت کو صرف محبت کرنے والا ہی جان سکتا ہے، خوشی کا احساس خوشی کے عالم میں ہوتا ہے، بالکل اسی طرح انتظار کا صحیح معنی اور اس کا لطف منتظر ہی سمجھ سکتا ہے ۔اگر ہم اپنی زندگی کا بغور مطالعہ کریں تو ایک حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ انتظار انسان کی فطرت میں نظر آئے گا ۔ہر کوئی کسی نہ کسی کا کسی نہ کسی طرح منتظر ہے گویا انتظار حیات انسانی کا جزو لا ینفک ہے۔

انتظار کے عناصر:
انتطار کے تین عناصر ہیں، اگر یہ نہ ہوں تو انتظار ایک زبانی کلامی دعوی ہو گا۔
۱۔ عنصر عقیدتی: منتظر شخص کے لیے لازم ہے کہ یہ عقیدہ رکھے کہ ایک نجات دہندہ ظہور فرمائے گا جو دنیا میں الٰہی نظام نافذ کرے گا اور دنیا کو عدل الٰہی کا گہوارہ بنائے گا، جس طرح وہ ظلم و بربریت سے بھر چکی ہو گی۔
۲۔ عنصر نفسانی: اس عقیدہ انتظار کیساتھ اپنے نفس میں آمادگی کا جوہر پیدا کرے، اپنے نفس اور روح کو اس طرح سنوارے کہ ہر پل اور ہر لمحہ اس کی کیفیت منتظر نظر آئے۔
۳۔ عنصر عملی: پہلے دو عناصر کے بعد یہی وہ عنصر ہے جو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے گویا پہلے دونوں اس کا مقدمہ ہیں کہ انسان جس کا انتظار کر رہا ہے اس کے راستے کو ہموار کرے اور عملی طور پر منتظر نظر آئے۔
ان عناصر کی تکمیل کے بعد جوں جوں انسان کی اس کیفیت وجدانی میں پختگی آتی ہے انتظار کی کیفیت اور مرتبہ بھی بلند سے بلند ہوتا جاتا ہے یا ں تک کہ انتظار ہی مقصد حیات بن جاتا ہے ۔

ایک شبہہ کا ازالہ:
انتطار کے مفہوم کی مختصر وضاحت کے بعد اور منتظرین کی ذمہ داریوں کو بیان کرنے سے پلے  ایک شبہے کا ازالہ ضروری ہے۔ عام طور پر عوام میں مشہور ہے کہ جب ہر طرف گناہ ہی گناہ ہوں گے اور ہر انسان گناہوں کی سیاہ وادی میں سرگرداں نظر آئے گا تب امامؑ تشریف لائیں گے۔ حتی اگر کسی کو کہا جائے اے بندہ خدا، آو مسجد چلو نماز ادا کریں یا کسی اور نیکی کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو جواب ملتا ہے تم لوگ امام علیہ السلام کے ظہور میں رکاوٹ ہو ۔۔۔۔۔۔ نہیں  ہر گز ایسا نہیں ہے ساری دنیا گناہوں میں ڈوب سکتی ہے لیکن ایک حقیقی منتظر انتظار کی روحانی منازل طے کر کے گناہ تو دور کی بات ایسی غلط سوچ بھی نہیں رکھے گا بلکہ اصل بات یہ ہے کے جب ہم نے اپنے گھر میں چھوٹا سا پروگرام بھی کرانا ہوتا ہے مثلا مجلس عزا ہم مل کے وقت سے پہلے  اس کے لوازمات کو پورا کرتے ہیں اور تمام مقدمات کو مکمل کرتے ہیں عالم دین کی آمد سے قبل ممبر اسپیکر وغیرہ اور لوگوں کے آنے سے پہلے  ان کے بیٹھنے کا مناسب انتطام کیا جاتا ہے یعنی عالم جس مقصد کے لیے آ رہا ہے اس کے لیے پہلے ہی انتظام کر لیا جاتا ہے بالکل اسی طرح ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہمارے امام  نے کیوں ظہور کرنا ہے؟ وہ کس مقصد کے لیے تشریف لا رہے ہیں؟ تا کہ ہم ظہور سے قبل اس عظیم مقصد کے لوازمات کو پورا کر سکیں۔ تو جب ہم روایات کو دیکھتے ہیں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امام علیہ السلام  عالی نظام کے نفاذ، عدل کے قیام کے لیے ظہور فرمائیں گے ۔۔۔ اب ہمارا فریضہ ہے کہ ظہور امام کے مقاصد کی تکمیل کے لیے ابھی سے کوشاں ہو جائیں۔ گویا ہم جتنا اپنے نفس کا تذکیہ کریں گے اور معاشرے میں عدل و انصاف کی فضا بنائیں گے اتنا ہی ظہور جلد ہو گا لذاا ہمارے گناہ ہی امام علیہ السلام کے ظہور میں رکاوٹ ہیں۔

منتطرین کی ذمہ داریاں:
انتظار کرنے والے کے لیے زمانہ غیبت میں کیا ذمّہ داریاں ہیں؟ اور وہ کون سے لوازمات ہیں جن کو پورا کرنے سے انسان پر حقیقی منتظر کا اطلاق درست ہو گا؟ ان میں سے کچھ کی جانب شبہہ  کا ازالہ کرتے وقت اشارہ کر دیا ہے اور باقی چند ذمہ داریوں کی طرف ابھی اشارہ کرتے ہیں۔
۱۔ تعجیل ظہور کی دعا: ایک سچا محبّ اپنے محبوب سے ملنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر تا ہے، دعائیں مانگتا ہے اسی طرح آئمہ علیہم السلام کے سچے پیروکار کے لیے ضروری ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے تعجیل ظہور کے لیے زیادہ سے زیادہ دعا کرے اور ان کی سلامتی کی دعا کیا کرے ہر نماز کے بعد ’’اللّھم کن لولیک‘‘ پڑھے اور ہر صبح دعا عہد کی تلاوت کر کے اپنے امام سے تجدید عہد کرے۔

﴿۲﴾ نا امید نہ ہو : ایک مشہور مقولہ ہے ’’تعرف الاشیاء باضدادھا‘‘ چیزوں کی شناخت ان کی ضدوں سے سے ہوتی ہے ناامید ہونا انتظار کے حقیقی معنی کی ضد ہے۔ مایوسی انسان کی تحریک اور آمادگی میں مانع بن جاتی ہے انتظار رحمت پروردگار ہے اور رحمت سے نا امیدی بہت  بڑی مصیبت ہے۔ جیسا کہ امام علی علیہ السلام نے فرمایا ’’اعظم البلاءِ انقطاع الرجاءِ ‘‘ ناامید ہونا سب سے بڑی مصیبت ہے ﴿سیرت منتطرین مولف ڈاکٹر سید محمد بنی ہاشم صفحہ ۳۷ ناشر ایسوسی ایشن آف مشتاقان نور اسلام آباد﴾۔ اور قرآن نے بھی نا امیدی کو کفر سے تعبیر کیا ہے لہذٰا انسان کو کسی حال میں بھی نا امید نہیں ہونا چاہیئے۔ انسان میں جیسے جیسے امید قوی ہوتی جاتی ہے انتظار میں اتنی ہی شدت پیدا ہوتی ہے۔

۳۔ فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب کرے
۴۔ امام کی صفات ،خصائص اور ظہور کی حتمی علامات کی معرفت حاصل کرے۔
۵۔ جب بھی امام کا ذکر کرے ادب سے کرے اور ان کا اسم گرامی سن کے تعظیماً کھڑے ہو جائے۔
۶۔ امام کی نیابت میں حج و عمرہ کرنا۔
۷۔ امام کے ظہور کا وقت معین کرنے سے اجتناب کرے اور وقت مقرر کرنے والوں کی سرزنش کرے کیونکہ اس کی روایات میں شدید مذمت آئی ہے جیسا کہ جب امام باقر سے سوال کیا گیا کیا ظہور کا کوئی وقت مقرر ہے؟ تو امام نے فرمایا ’’جو لوگ ظہور کے لیے وقت مقرر کریں وہ جھوٹے ہیں۔ ‘‘(محور کائنات مولف محققین کا گروہ صفحہ ۲۴۹ ناشر مہدی موعود ؑ کلچر فاؤنڈیشن﴾
۸۔ اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کو انتظار کے حقیقی مفہوم سے آگاہ کرے۔
۹۔ امام علیہ السلام کے فضائل و مناقب کی محافل و مجالس کا انتظام کرے۔
١۰۔ مشکلات و مصائب میں امام کی ذات سے توسل کرے۔
۱۱۔ ایامِ غیبت میں آپؑ کے لیے مغمو م و مغموم رہے۔
ان کے علاوہ بہت سی ذمہ داریاں ہیں جن کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ البتہ خلاصۃً کہہ سکتے ہیں کہ انسان انتظار کے حقیقی معنی کو سمجھے اور امام علیہ السلام کہ ظہور کے مقاصد میں اپنا حصہ بھی شامل کرے۔
نتیجہ بحث: اب ہم میں ہر ایک کو دیکھنا ہے کہ ہم نے انتظار کے مفہوم کو کس قدر جانا ہے اور ہم اپنی زندگی میں انتظار کے فرائض کو کس قدر پورا کر رہے ہیں اور اپنا محاسبہ کر کے اپنی زندگی کو مبترک بنائیں۔
 

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه