امکان غیب اور اس کے دلائل
 عقیدہ مہدویت اسلام کابنیادی عقیدہ ہے جس کے بارے میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے بہی (گذشتہ احادیث میں ) بشارت دی ہے اور اصحاب و علماء نے ہر زمانہ میں یکے بعد دیگرے روایت کی ہے ۔
اس طرح یہ بات بہی طے ہوگئی ہے کہ جس مہدی کا احادیث میں تذکرہ ہوا ہے وہ محمد بن الحسن العسکری (علیہ السلام ) ہیں اور وہ سامرہ میں پیدا ہوئے اور آپ کی ولادت کی خبر اس روز خاص اصحاب تک پہونچی ہے نیز اس کے بعد سے تاریخ کے دامن میں اسی طرح مشہور ہے گذشتہ دو مرحلوں کے بعد ضروری ہے کہ تیسرے مرحلہ میں گفتگو کی جائے جو خود پہلے دو مرحلوں سے متعلق ہے کہ (حضرت) محمد (بن الحسن امام مہدی) کی ولادت ہو چکی ہے اور وہی مہدی ہیں، لہٰذا بہتر ہے درج ذیل بحث کو مختلف پہلوؤں سے واضح کریں:


۱۔کیا امام مہدی غائب ہیں ؟
۲۔اور اگر غائب ہیں تو کیا انسان اتنی طولانی عمر پا سکتا ہے ؟
اور چونکہ یہ مرحلہ بہت حساس ہے ، لہٰذا ضروری ہے کہ بحث میں وارد ہونے سے پہلے ایک مقدمہ بیان کریں تاکہ نتائج اور اہداف کو بہترین طریقہ سے واضح کرنے میں مدد مل سکے ۔
قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات کو معلوم ہے کہ اسلام نے عقیدہ و ایمان کے لئے عقل کو اساس و مصدر قرار دیا ہے اور اندہی تقلید سے روکا ہے چونکہ غرض یہ ہے کہ اصول اعتقاد عقل سے مستند ہوں ، اورعقل کے ذریعہ ہی ان کو پرکہ کر عقیدہ کی منزل تک پہونچا جائے ، اور اس میں ہوائے نفس نردم دلی اورذاتی نظریات کو دخل نہیں ہونا چاہئے ۔
عقل ہی کے ذریعہ انسان خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے اور یہی ایمان کی طرف ہدایت کرتی ہے اوریہی خدا کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دلیل قائم کرتی ہے ۔
انسان اسی عقل کے ذریعہ خدا کے ایمان کے ساتہ ساتہ ضرورت نبوت ، امامت اور معاد پر دلیل قائم کرتا ہے ۔
لیکن احکام شرعی کے دوسرے فرعی احکام میں عقلی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی ، اور اس طرح کی دلیل قائم کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ ان کو قبول کرنے کے لئے فقط شرعی طریقہ سے نصوص کا وارد ہوجانا ہی کافی ہے ۔اسی وجہ سے امت اسلامی ملائکہ کے وجود، جناب عیسی کے گہوارہ میں کلام کرنے نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے ہاتہوں پر سنگریزوں کے تسبیح کرنے پراعتقاد رکہتے ہیں جو قرآن کریم اور سنت صحیحہ میں وارد ہوئے ہیں ۔
اسی طرح جب ہم اما م مہدی اور ان کی غیبت کی بحث کرتے ہیں تو ہماری اس بحث سے اصول اسلام کو قبول کرنے والے افراد مراد ہوتے ہیں ، اور جوافراد خدا کا بہی انکار کرتے ہیں یا اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کو مانتے ہیں وہ ہماری مراد نہیں ہےں ۔ کیونکہ اس مسئلہ کی حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے قرآن و احادیث کا سہارا لینا ضروری ہے اور جو شخص قرآن و سنت ہی کو نہ مانتا ہو تو اس کے سامنے قرآن و احادیث سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
دوسرے الفاظ میں یہ عرض کیا جائے کہ ہم اس موضوع پر دینی اعتقاد کی بنیاد پر بحث کرتے ہیں جو شرعی دلائل سے مستند ہوتے ہیں اور تمام مسلمانوں کے نزدیک ان پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے ، چنانچہ ہم نے کسی دوسری چیز کو بنیاد نہیں بنایا، اور ہمارا یہ مسئلہ ایک آسان حساب کی طرح نہیں ہے جیسے ۲ اور۲ چار ہوتے ہیں یا کسی فلسفی قاعدہ کی طرح جو اپنی جگہ مسلم ہے اور اس میں کوئی مناقشہ نہیں کیا جاسکتا جیسے دور و تسلسل کے باطل ہونے میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہوتا۔
قارئین کرام ! ہم اس مسئلہ میں ہر پہلو کی قرآن و سنت کے ذریعہ وضاحت کریں گے کیونکہ تمام مسلمانوں کے درمیا ن یہی دونوں باب معرفت اور تشریع کے منابع ہیں ۔
اور اگر کوئی شخص ان دونوں کا انکار کردے وہ اسلام اور اسلام کے تمام احکام کے دائرہ سے خارج ہوجائے گا.[2]
اور جب ہمار ی تمہید واضح ہوگئی ہے تو ہم کہتے ہیں : ”وہ احادیث نبی “ جن کو اکثر حفاظ حدیث نے بیان کیا ہے اور ان احادیث میں لفظ ”غیبت“ کی [3]تکرار ہوئی ہے ۔
< وَلِیُمَحِّصَ اللہ الَّذِینَ آمَنُوا وَیَمْحَقَ الْکَافِرِینَ >[4]
”اور یہ بہی منظور تہا) کہ سچے ایمانداروں کو ثابت قدمی کی وجہ سے (نراکہرا) الگ کرلے اور نافرمانوں (بہاگنے والوں )کا ملیامیٹ کردے“
اس کے بعد جناب جابر سے کہا :یہ خدا کے امور میں سے ایک امر اور خدا کے اسرار میں سے ایک راز ہے پس تم کو کبہی اس سلسلے میں شک نہ ہو کیونکہ خدا وند عالم کے امور میں شک کرنا کفر ہے ۔
اور بعض احادیث میں اس طرح ہے :
تکون لہ غیبة و حیرة تضل فیہا الامم[5]
(اس امام مہدی ) کے لئے ایسی غیبت ہوگی جس میں لوگوں کو حیرت ہوگی اور لوگ گمراہ ہوجائیں گے ۔
ایک دوسری روایت میں اس طرح آیا ہے :
”لا یثبت علی القول بامامة الامن امتحن اللّٰہ قلبہ للایمان “[6]
ان کی غیبت ان کے اصحاب سے بہی ہوگی ان کی غیبت کا اقرار صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کا خدا وند عالم نے ایمان کے لئے امتحان لے لیا ہوگا ۔
اس طرح ابن عباس کی روایت ہے :
”یبعث المہدی بعد ایاس حتی یقول الناس :لا مہدی “[7]
امام مہدی کا ظہور نا امیدی کے بعد ہوگا یہاں تک کہ لوگ کہنے لگیں گے کہ کوئی مہدی نہیں ہے ۔
قارئین کرام ! مذکورہ احادیث میں لفظ غیبت سے مراد یہ نہیں ہے کہ اما م مہدی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونگے اور اپنی وفات کے بعد دوبارہ اس دنیا میں لوٹائے جائیںگے بلکہ لفظ غیبت اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ وہ مخفی ہیں اور پردہ میں ہیں اور لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں اور ان کو دیکہا نہیں جاسکتا، ان احادیث کا مطالعہ کرنے سے یہی بات انسان کے ذہن میں آتی ہے۔
اور اس حدیث شریف نقل کرنے پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے:
”من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتة جاہلیہ “
(جو شخص اپنے زمانہ کے امام کو پہچانے بغیر مر جائے اس کی موت جاہلیت کی موت ہوتی ہے۔)
اس حدیث کے مطابق ہر زمانہ میں امام کا ہونا ضروی ہے ۔
اب جبکہ ولادت محمد بن الحسن المہدی ثابت ہوگئی جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ،تو پہر لفظ ”غیبت “ اور ہر زمانہ میں وجود امام کی ضرورت بہترین اور جامع دلیل ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام آج تک زندہ ہیں اور اس سلسلہ میں ہوئے تمام اعتراضات کا خاتمہ کردیتی ہیں۔
اور اگر کوئی شخص امام مہدی کی وفات کی بات کرے تو پہلے تو یہ گذشتہ احادیث کے مخالف ہے جن میں آپ کی غیبت اور استمرار حیات کے بارے میں بیان ہوا ہے اور اس کے علاوہ کسی نے بہی آپ کی وفات کے بارے میںکوئی دلیل نہیں بیان کی یہاں تک کہ منکرین کی کتابوںمیں بہی اس طرح کی کوئی بات ذکر نہیں ہوئی کہ کب آپ کی وفات ہوئی کونسا دن تہا کونسی تاریخ تہی اور کیاسن تہا کب آپ کی تشیع جنازہ ہوئی کون لوگ آپ کی تشیع جنازہ میں شریک ہوئے؟ کہاں دفن ہوئے؟ کس شہر میں دفن ہوئے؟
لہٰذا ان تمام چیزوں کے پیش نظریہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ آپ کا وجومبارک باقی ہے اور آپ دشمنوں کی نگاہوں سے مخفی ہیں اور آپ اپنی زندگی کی محافظت کررہے ہیں ۔
قارئین کرام ! امام علیہ السلام کی غیبت کے دو مرحلہ تہے ۔
۱۔ آپ کا لوگوں کی نظروںسے مخفی ہوناجب خلیفہٴ وقت کے لشکر نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات کے وقت آپ کے گہر کا محاصرہ کر لیا آپ اسی وقت سے صرف اپنے معتمد نائبین سے ملاقات کرتے تہے اور انہی کے ذریعہ شیعوں کے مسائل اور مشکلوں کا جواب دیا کرتے تہے (امام علیہ السلام کی غیبت کایہ سلسلہ ۷۰ /سال تک جاری رہا اور اس زمانہ کو غیبت صغریٰ کہتے ہیں)
۲۔ آپ کا مکمل طور سے لوگوں کی نظروں سے غائب ہوجا نا چنانچہ اب کسی سے بہی ملاقات نہیں کرتے ۔[8]
کسی انسان کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ ( جبکہ امام مہدی کے وجوداور آپ کی غیبت اور آپ کی ادامہ حیات کے بارے میں یقین ہے ) کہ کیا کوئی انسان اتنی طولانی عمر پا سکتا ہے ؟ اور کیا عقل اس بات کو قبول کرتی ہے ؟
اس سوال کے جواب سے پہلے ہم قارئین کرام کے اذہان عالیہ کو گذشتہ مطلب کی طرف لے جانا چاہتے ہیں کہ اگر حقائق شرعی صحیح احادیث کے ذریعہ ثابت ہوجائیں تو چونکہ ہم مسلمان ہیں لہٰذا ان کا قبول کرنا ہمارے لئے ضروری ہے، چاہے ہمارے ذہن میں اس کا فلسفہ نہ بہی آئے اور اس بات کو سمجہنے سے قاصر رہیں۔
اور اگر کسی حکم کی حکمت اور علت نہ سمجہ پائیں تو اس کو انکارکرنے سے انسان بری الذمہ نہیں ہوسکتا بلکہ ہر حال میں اس پر یقین واعتقاد رکہنا ضروری ہے کیونکہ اسلام کے مسلم احکامات کا اس وجہ سے انکار کرنا صحیح نہیں ہے کہ یہ چیزیں ہماری سمجہ میں نہیں آرہی ہیں یا اس کی تاویل سے ہم قانع نہیں ہورہے ہیں۔
چنانچہ طول عمر اور سیکڑوں سال تک کسی کا زندہ رہنا محال نہیں ہے جیساکہ بعض لوگوں کا گمان ہے، بلکہ مورخین نے تاریخ بشریت کے ایسے بہت سے واقعات بیان کئے ہیں جن کی بہت زیادہ عمر رہی ہے، مثلاً حضرت آدم علیہ السلام نے ہزار سال کی عمر پائی۔
اسی طرح لقمان حکیم(صاحب نسور) نے ۳۵۰۰ سال عمر پائی، نیز جناب سلمان فارسی ۺ نے طویل عمر پائی جیسا کہ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ جناب سلمان فارسی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاصر تہے اور خلیفہ دوم کے زمانہ میں وفات پائی۔
اسی طرح بہت سے ایسے افراد تہے جنہوں نے سیکڑوں سال کی عمر کی، جن کے بارے میں بہت سے مورخین نے بیان کیا ہے خصوصاً جناب سجستانی صاحب نے زیادہ عمر کرنے والوں کو اپنی کتاب میں جمع کیا ہے جو ”المعمرون“ کے نام سے ۱۳۲۳ہ مطابق ۱۹۰۵ء میں مصر میں پہلی مرتبہ طبع ہو چکی ہے۔
قارئین کرام ! یہ تہا تاریخی پہلو جس کے ذریعہ کسی انسان کی طولانی عمر پانے کا اثبات کیا جاسکتا ہے۔
اب رہا قرآن کے ذریعہ استدلال، قرآن کریم کی گفتگو تمام مورخین اور روایوں سے زیادہ صادق اور بہترین دلیل ہے جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:
”جناب نوح علیہ السلام نے اپنی قوم میں ”۹۵۰“ سال تبلیغ کی اور خدابہتر جانتا ہے کہ تبلیغ سے پہلے اور طوفان کے بعد جناب نوح کتنے سال زندہ رہے۔
اس طرح جناب یونس علیہ السلام بطن ماہی میں طویل مدت تک باقی رہے اور اگر خدا کا لطف و کرم نہ ہوتا تو بطن ماہی میں قیامت تک باقی رہتے :
<فَلَوْلَا اِنَّہُ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ لَلَبَثَ فِیْ بَطْنِہ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ>[9
”پہر اگر یونس (خدا کی ) تسبیح (وذکر ) نہ کرتے تو روز قیامت تک مچہلی ہی کے پیٹ میں رہتے پہر ہم نے ان کو (مچہلی کے پیٹ سے نکال کر) ایک میدان میں ڈال دیا“
حضرت یونس کا شکم ماہی میں باقی رہنا یعنی قیامت تک زندہ رہنا اس طرح ان کے ساتہ مچہلی کا بہی اس طولانی مدت تک زندہ رہنا ثابت ہوتا ہے ۔
اس طرح اصحاب کہف کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
<وَ لَبِثُوا فِیْ کَہفِہمْ ثَلاٰثَ مِاٴَئةَ سَنِیْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعاً >[10]
”اور اصحاب کہف اپنی غارمیں تو تین سو برس سے زیادہ رہے “
اور یہ بہی معلوم نہیں کہ غار میں جانے سے قبل اور غار سے باہر نکلنے کے بعد کتنے سال زندہ رہے۔
اسی طرح ارشاد خدا وندی ہوتاہے :
< اٴَوْ کَالَّذِی مَرَّ عَلَی قَرْیَةٍ وَہِیَ خَاوِیَةٌ عَلَی عُرُوشِہَا قَالَ اٴَنَّی یُحْیِی ہَذِہِ اللہ بَعْدَ مَوْتِہَا فَاٴَمَاتَہُ اللہ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہُ قَالَ کَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اٴَوْ بَعْضَ یَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَی طَعَامِکَ وَشَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہْ وَانظُرْ إِلَی حِمَارِکَ وَلِنَجْعَلَکَ آیَةً لِلنَّاسِ وَانظُرْ إِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنشِزُہَا ثُمَّ نَکْسُوہَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہُ قَالَ اٴَعْلَمُ اٴَنَّ اللہ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ>[11]
”(اے رسول تم نے) مثلاً اس (بندے کے حال) پر بہی نظر کی جو ایک گاؤں پر سے (ہوکر) گزرا اور وہ ایسا اجڑا تہا کہ اپنی چہتوں پر ڈہے کر گرپڑا تہا یہ دیکہ کر وہ بندہ کہنے لگا اے اللہ اب گاؤں کو (ایسی) ویرانی کے بعد کیونکر آباد کرے گا اس پر خدا نے اس کو (مارڈالا) اور سو برس تک مردہ رکہا او رپہر اس کو جلا اٹہایا (تب) پوچہا تم کتنی دیر پڑے رہے ؟ عرض کی: ایک دن پڑا رہا یا ایک دن سے بہی کم ، فرمایا: نہیں ، تم (اس حالت میں) سو برس پڑے رہے ، اب ذرا اپنے کہانے پینے (کی چیزوں) کو دیکہو کہ ابہی تک خراب نہیں ہوئیں، اور ذرا اپنی سواری (گدہے) کو دیکہو کہ اس کی ہڈیاں ڈہیر پڑی ہیں،اور ہم اسی طرح تمہیں لوگوں کے لئے ایک نشانی بنانا چاہتے ہیں، پہر ان ہڈیوں کو دیکہو کہ ہم کس طرح جوڑ کر ان پر گوشت چڑہاتے ہیں، پہر جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی تو بیساختہ آواز دی کہ مجہے معلوم ہے کہ خدا ہر شے پر قادر ہے“۔
کہانے پینے کی چیزوں کاسوسال تک خراب نہ ہونا انسان کی طولانی عمر سے بہی زیادہ تعجب خیز ہے [12]
ان کے علاوہ مولفین سیرت و حدیث نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جناب خضر علیہ السلام جناب موسی علیہ السلام سے پہلے تہے اور آخر زمان تک باقی رہیں گے ۔
تو کیا جن باتوں کو قرآن مجید اور سنت نبوی بیان کررہی ہے ان تمام باتوں کی تصدیق کرنا ایک مسلمان پر واجب نہیں ہے ؟ یا ان باتوں کی تصدیق کرنا واجب نہیں ؟ اور اگر ہماری عقل ان باتوں کو نہ سمجہے توکیا ہمارے لئے ان چیزوں کا انکار کرنا صحیح ہے جس کے بارے میں آج کا علم کشف اسرار کرنے سے قاصر ہے۔؟
قارئین کرام ! امام مہدی کی غیبت کا موضوع بہی اسی طرح ہے لہٰذا مذکورہ نصوص ودلائل کے مطابق اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی تصدیق کرتے ہوئے آپ کی حیات پر اعتقاد رکہنا ضروری ہے۔
کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی شان میں خداوندعالم فرماتا ہے:
قارئین کرام ! تو کیا ڈاکٹر صاحب کو جناب نوح ،جناب یونس(علیہم السلام)،مچہلی اور اصحاب کہف پر موت کا حکم جاری نہ کرنا عقل کوگہودینے کے مترادف نہیں ہے ۔
< وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہویٰ اِنْ ہو الِاَّ وَحْیٌ یُوْحٰی>[13]
”اور وہ تو اپنی نفسانی خواہش سے کچہ بولتے ہی نہیں، یہ تو بس وحی ہے جو بہیجی جاتی ہے۔“
آپ کی باتوں پر عمل کرنے کے لئے حکم خدا ہے :
< وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہوا وَاتَّقُوا اللہ إِنَّ اللہ شَدِیدُ الْعِقَاب>[14]
”اور ہاں جو تم کو رسول دیدیں وہ لے لیاکرو، اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو اور خدا سے ڈرتے رہو، بے شک خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔“
لہٰذا (امام مہدی پر ) ہمارا ایمان و عقیدہ کوئی عجیب وغریب شی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسی چیز ہے جس کا سابقہ اسلام میں نہ ہو بلکہ یہ تو جناب نوح کی عمر اور جناب یونس کا شکم ماہی میں باقی رہنا یا سو سال تک کہانے کا خراب نہ ہونے پر ایمان کی طرح ہے ۔اب جبکہ قرآن واحادیث کے ذریعہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ انسان ہزاروں سال باقی رہ سکتا ہے اور گذشتہ امتوں میں اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں ۔بس یہ بات مافوق علم یا مافوق عقل نہیں ہے جیسا کہ آج کا علم بہی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان ہزاروں سال زندہ رہ سکتا ہے اگر اس کے بدن کی طاقت کو محفوظ رکہنے کے وسائل مہیا ہوجائیں ۔
چنانچہ آج کل کے ڈاکٹروں کا ماننا یہ ہے کہ جسم کے اہم اجزاء بی نہایت وقت تک باقی رہ سکتے ہیں اور انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ ہزاروں سال زندہ رہے اگر اس کے لئے ایسے عوارض پیش نہ آئیں جن سے ریسمان حیات قطع ہوجائے، اور ان کا یہ کہنا صرف ایک گمان ہی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے تجربات سے اس نتیجہ پر پہونچے ہیں ۔انسان ساٹہ ،ستر یاسو سال کی عمر میں نہیں مرتا مگر یہ کہ بعض عوارض کی بنا پر اس کے بعض اعضاء خراب ہوجاتے ہیں یا بعض اعضاء کا دوسرے اعضاء سے ربط ختم ہوجانے پر انسان کی موت واقع ہوتی ہے اور جب سائنس اتنی ترقی کرلے گا کہ ان عوارض کو دور کرسکے تو پہر انسان کا سیکڑوں سال زندہ رہنا ممکنات میں سے ہوجائے گا [15]
اس طرح ”جان روسٹن“ اپنے تجربیات اور کشفیات کی بنا پر قائل ہے کہ انسان کو سالم زندہ رکہنا کوئی محال کام نہیں ہے [16]
کیونکہ مشہورو معروف ماہرین نے جو گذشتہ صدیوں میں اکتشافات کئے ہیں ان سے یہ امید کی جاتی ہے کہ انسان ایک ایسا مرکب نسخہ تیار کرے گا جس سے مزید تحقیق کرنے کے بعد اس مرحلہ تک پہونچ سکتا ہے جیسا کہ ”براون سیکوارڈ“،” کسی کاریل“، ”فورنوف مینش بنکوف“، ”بوغو مولٹینر“اور ”فیلاتوف “وغیرہ نے تجربات کئے ہیں ۔
لیکن” روبرٹ ایٹنجر“ نے ابہی کچہ دنوں پہلے ایک بہترین کتاب بنام”کیاانسان کا ہمیشہ کے لئے زندہ رہنا ممکن ہے “ لکہی جس میں انسان کو مزید امیدوار کیا ہے اور یہ کہا یہ انسان جو زندہ ہے اور سانس لیتا ہے تو ان فیزیا ئیہ(وظائف اعضاء بدن) حصہ میں اپنی بقا کا مالک ہوجاتا ہے، یعنی انسان کے اعضاء وجوارح اگر ان پر کوئی مشکل نہ پڑے تو یہ طولانی مدت تک کام کرسکتے ہیں۔
ان تمام وضاحتوں کے بعد علاوہ جن میں انسان کا ہزاروں سال باقی رہنا ممکن ہے ،اور اگر انسانی خلیوں کو برف میں رکہ دیا جائے تو وہ خلیے محفوظ رہتے ہیں او راگر ان کو برف سے نکال کر مناسب گرمی دی جائے تو اس کی حرکت واپس آجائے گی۔اور جب حقیقت یہاں تک واضح ہوگئی اس کے علاوہ ہم عصر ماہرین نے بہی انسان کی طویل عمر کے امکان پر تاکید اور وضاحت کی ہے ، او ر ان وسائل کا پتہ لگانا جن کے ذریعہ سے انسان طولانی عمر حاصل کرسکتا ہے یہی ایک اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے جس کی وجہ سے انسان دنیاوی مشکلات کو دفع کرسکتا ہے،پس جب انسان کا حسب استعداد وطبیعت باقی رہنے کا امکان صحیح ہے تو پہر حضرت امام مہدی (عج) کا اتنے سال زندہ رہنا حسب طبیعت اور ارادہ الٰہی کی بدولت ممکن اور صحیح ہے۔
قارئین کرام ! آپ نے گذشتہ مطالب کو ملاحظہ فرمایا اور چونکہ آج کل کا یہ زمانہ جس میں ہم زندگی گذار رہے ہیں فکری اعتبار سے پر آشوب زمانہ ہے لہٰذا اس دور میں اس مصلح منتظر کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے جو صحیح راہ سے بہٹکی انسانیت کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرے۔ اور چونکہ عقل بشری (مسلم وغیر مسلم) ایسے مصلح منتظر کے وجود ضروری کا اقرار کرتی ہے، اگرچہ اس کے پاس آیات وروایات سے کوئی نص بہی موجود نہ ہو جیسا کہ انگریزی مشہور ومعروف فلسفی ”برنارڈشَو“ نے اس مصلح منتظر کے بارے میں اشارہ کیا ہے او راپنے ذاتی نظریات کو اپنی کتاب ”الانسان والسوپر مین“ میں بیان کیا ہے ، اس کا نظریہ ہے کہ یہ مصلح منتظر ایک زندہ اور صاحب جسم انسان ہے جن کا بدن صحیح وسالم ہے اور خارق العادة عقل کا مالک ہے وہ ایک ایسا اعلیٰ انسان ہے جس تک ایک ادنیٰ انسان جدوجہد کے ذریعہ ہی پہونچ سکتا ہے ، اوراس کی عمر ۳۰۰سال سے کہیں زیادہ طولانی ہے، اور وہ قدرت رکہتا کہ ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹہائے جس کو اس نے اپنی حیات میں حاصل کیا مثلاً اپنی زندگی میں تجربات کئے ہیں اور ان سے فائدہ اٹہاتا ہے تاکہ اپنے بدن کو صحیح وسالم رکہ سکے۔“[17]
چنانچہ جناب عباس محمود العقاد” برنارڈشو“ کی گفتگو پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں: ”موصوف کی باتوں سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ”سوپر مین شو“ کا وجود ومحال نہیں ہے اور ان کی دعوت دیناایک مسلم حقیقت ہے“ [18]
آئےے آخر کلام میں خداوندعالم کی بارگاہ اقدس میں عرض کریں: ”اللّٰہم انا نشکو الیک فقد نبینا، وغیبة ولینا وکثرة عدونا وقلہ عددنا وشدة الفتن بنا، وتظاہر الزمان علینا، فصلی علی محمد وآلہ واعنا علی ذلک بفتح منک تعجلہ، وبضر تکشفہ ونصر تعزّہ وسلطان حق تظہرہ“ اللّٰہم انصرہ نصراً عزیزاً وافتح لہ فتحاً یسیراً واجعلنا من انصارہ واعوانہ انک سمیع مجیب“ وآخردعونا ان الحمد للہ رب العالمین۔

_____________

[1] اس سلسہ میں ڈاکٹر احمد امین صاحب کا قول (اپنی کتاب المہدی والمہدویہ ص۱۰۸میں ) کتنا عجیب ہے ، وہ کہتے ہیں ابن خلدون کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر خبر واحد کی تائید عقل کے ذریعہ ہورہی ہے تو اس کو قبول کیا جائے گا، اور خبر کثیرہ کو چہوڑنا ضروری ہے اگر عقل ان کی تائید نہ کرے ،اسی وجہ سے اس نے مہدی و مہدویت کا انکار کیا کیوں کہ یہ سب کچہ حکم عقل کے خلاف ہے ۔
[2] حافظ گنجی شافعی کی کتاب ”البیان “ ص ۱۰۲تا ص۱۱۳پر رجوع فرمائیں ۔اس طرح شیخ قندوزی حنفی نے اپنی کتاب ینابیع المودة ص ۴۴۸ میں یہ روایت نقل کی ہے کہ سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اسلام (ص) نے ارشاد فرمایا : ”علی میرے وصی ہیں اور انہی کی نسل سے القائم المنتظر المہدی ہونگے جو ظلم و جور سے بہری دنیا کو عدل و انصاف سے بہر دیں گے، قسم اس پروردگار کی جس نے مجہے بشیر و نذیر بنا کر بہیجا کہ جو لوگ ان کی امامت کو ان کی غیبت کے زمانہ میں قبول کرلیں گے تو ان کے لئے باعث عزت و احترام ہے، یہ سن کر جابر بن عبدللہ انصاری کہڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ کے قائم کے لئے غیبت ہوگی؟ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا : قسم بخدا،ہاں ۔
[3] سورہ آل عمران آیت ۱۴۱
[4] ینابیع المودة ص۴۸۸۔
[5] ینابیع المودة ص ۴۹۵۔
[6] الحادی ج ۲ ص ۱۵۲۔
[7] ڈاکٹر احمد امین امام مہدی کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ شیعہ معتقد ہیں کہ امام مہدی غائب ہے اور اپنے شیعوں اور تابعین کو ہدایت کرتے ہیں تاکہ ان سے مظالم سے دور رہیں اور وہ پردہ کے پیچہے سے امرو نہی کرتے ہیں المہدی والمہدویہ ص ۱۰۹تا ۱۱۹ ۔
[8] سورہ صافات آیت ۱۴۳تا ۱۴۴۔
[9] سورہ کہف آیت ۲۵۔
[10] سورہ بقرہ آیت ۲۵۹۔
[11] قرآن مجید کی ان تمام واضح آیات کے بعد بہی ڈاکڑ احمد امین صاحب کہتے ہیں کہ انسان کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ اتنی طولانی عمر مخفی رہے یا زندہ رہے مگر یہ کہ خدا وند عالم اس پر حکم موت جاری کرے لیکن یہ کہ ان لوگوں کے گمان کے ذریعہ جنہوں نے اپنی عقل کو کہو دیا ہو (المہدی و المہدویة ص ۹۶)
[12] سورہ نجم آیت ۳تا ۴۔
[13] سورہ حشر آیت ۷۔
[14] مجلہٴ مقتطفہ سال ۵۹/ حصہ سوم۔
[15] اگرچہ محال کہنا صحیح نہیں ہے بلکہ بعید کہنا صحیح ہے کہ انسان کو زندہ رکہنا بعید نہیں ہے۔
[16] برنارڈ شو ، عباس محمود العقاد/ سلسلہ اقراء/ شمارہ ۸۹ ص ۱۲۴تا ۱۲۵۔
[17] برنارڈ شو ، عباس محمود العقاد/ سلسلہ اقراء/ شمارہ ۸۹ ص ۱۲۴تا ۱۲۵۔
[18] علامہ موصوف کی یہ کتاب پہلے الگ الگ حصوں میں چہپی تہی بعد میں ان کو ایک جگہ جمع کرکے چہاپا گیا ہے۔(مترجم

منبع ؛ اصول دین آیت اللہ مکارم شیرازی

 

 

 

 

 

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه